جنات کا پیدائشی دوست ( علامہ لاہوتی پراسراری )

'متفرق مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 15, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,705
    موصول پسندیدگیاں:
    809
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
  2. مفتی رضوان یونس،

    مفتی رضوان یونس، وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    129
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ
    الغزالی پر شروع کئے گئے سلسلے بعنوان جنات کا پیدائشی دوست کو ختم کر دینا بہتر ھے
    اس مضمون کو احقر نے اول تاآخر پڑھا اور لایعنی پایا
    جنات کا پیدائشی دوست نامی کتاب میں اکثر باتیں ایسی ھیں جن کا شریعتِ مطھرہ سے دور دور تک بھی تعلق نہیں اور اکثر ایسی باتیں موجود ھیں جو قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی تعلیمات کے خلاف ھیں
    فقط واللہ اعلم


    چند گزارِشات

    کتاب ایسے بے سروپا اور فضول واقعات پر مبنی ھے جن سے نا کوئی دنیاوی فائدہ ھے نا اُخروی
    اور صاحبِ تحریر نے جو لکھا کہ اس پراسرار دنیا کو سمجھنے کے لئے بڑا حوصلہ اور حلم چاہئیے تواحقر معلوم صرف یہ کرنا چاھتا ہے کہ حوصلہ اور حلم کیسا مطلوب ھے ؟ ایسا حوصلہ اور حلم جو شریعت کے تابع ھو یا وہ حوصلہ اور حلم جو شریعت کو تابع بنا کر چلے؟
    اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اپنے بنائے ھوئے بندوں کے لیے تمام کی تمام ھدایات و تعلیمات پہنچا دیں اور انسانوں کی زندگیوں کا کوئی بھی ایسا رخ نہیں جس کے بارے میں کوئی واضح رھنمائی نا ھو ایک مسلمان کے لیے قرآن کریم و احادیثِ مبارکہ کے ھوتے ھوئے کچھ بھی پراسرار نہیں ھوتا
    عملیات جو کہ شریعت کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں اُن کو اختیار کرنا بطورِ سبب کے جائز ھیں لیکن ایسے عملیات و واقعات جو کہ محض پراسرار ھی ھو اُن سے اجتناب ہی بہتر ھے ویسے بھی کسی بھی شئے کے لیے پراسرار کہ دینا یہ بھی ایک دلیل ھے کہ اس شئے کا شریعتِ مطھّرہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اگر تعلق ھوتا تو ھم کو سمجھ آتا نا کہ پراسرار ھوتا
    عملیات میں جو کچھ بھی ھو تعویذات و نقوش وغیرہ یہ سب مؤثر بالذات نہیں ھیں مطلب اپنی ذات کے اعتبار سے فائدہ پہنچانے والی نہیں بلکہ یہ بطورِ سبب کے ھے اگر اللہ تعالٰی کی مشیت یہی ھوئی کہ تعویذات و نقوش سے فائدہ ھو تو ھو گا وگرنہ نہیں
    تعویذات ھو یا نقوش فلیتے ھو یا دھونیاں دعوت ھو یا عزیمت جنات ھو یا مؤکل عمل ھو یا دم چلّہ ھو یا حصار یا پڑھائیاں وغیرھم یہ سب اپنے فوائد و نقصان میں اللہ رب العزت کے امر کی محتاج ھیں جب ایسا ھے اور یقیناً ایسا ھی ھے تو کہاں کوئی دعوٰی کرے جیساکہ غلط قسم کے عاملین کا پسندیدہ مشغلہ ھے کہ ہر کام کے ھو جانے کا دعوٰی اُن کی نوکِ زبان پر ھو گا
    عملیات میں جو سب سے خطرناک اور بیہودہ سلسلہ ھے وہ ھے مریض کے مرض کی تشخیص کے دوران مریض پر سحر جادو و عمل کروانے والوں کے نام بتانا
    ارے اللہ کے بندوں جب عملیات ھے ھی سارے کا سارا ظنِّیات میں سے اور تشخیص بھی ایک ظن ہے تو آپ ظنِّیات کے ذریعے سے کسی کا بھی یقین سے کیسے نام لے سکتے ھیں آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ھے کہ اس ہی شخص نے سحرجادو تعویذات کروائیں ھیں ؟
    کیا آپ کے پاس گواہ موجود ھیں جو اس بات کی گواہی دیں کہ جی جناب اس شخص نے یہ سب کروایا یا کیا ھے جب ایسا کچھ نہیں اور حقیقتاً ایسا کچھ نہیں تو کیوں لوگوں پر الزام لگاتے ھو اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کرتے ھو کیا اللہ تعالٰی کا خوف نہیں کیا اِن سب باتوں کا حساب نہیں دینا ؟
    کیا اس طرح کے عمل و تشخیص کرنے والوں کے پاس جا کر کسی کا بھلا بھی ھوتا ھوگا یا خسرالدنیا والآخرہ
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں