جواب ضرور دیں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از اُلفت خان, ‏جولائی 16, 2012۔

  1. اُلفت خان

    اُلفت خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    52
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    ان سوالوں کے جواب دیں

    1۔ کوئی اللہ سے دعا یا کوئی شے مانگے لیکن قبول نہ ہو تو اگر وہ شخص دعا مانگنا چھوڑ دے تو وہ گناہگار تو نہیں کہلائے گا؟
    2۔ جب تمام معاملات مقدر ہیں تو انسان گناہ کے بعد جوابدے نہیں ہوگا؟
    3۔ زنا سے بچنا چاہے اور شادی کرنا چاہے جو نہ ہو اگر وہ زانی ہوجائے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ آپکو اجر عظیم دے کہ آپ نے بہت اہم باتیں دریافت کی ہیں آجکل ہم لوگ علمائے دین سے مسائل دریافت نہیں کرتے جو معاشرے میں بے راہ روی کا سبب بن رہی ہے۔

    میں کوئی عالم نہیں ہوں جو ذہن میں آرہا ہے وہ جواب لکھ رہا ہوں اصل جواب علمائے دین کا ہی مانا جائے۔ میں بس گستاخی اس لئے کررہا ہوں کہ ابھی تک کسی عالم کا جواب نہیں آیا ہے۔

    1۔ آپ نے لکھا کہ دعا مانگے اور قبول نہ ہو تو آپکی تحریر کا پہلا حصہ ہی غلط ہے وہ اس طرح کہ ہر شخص کی دعا تین صورتوں میں سے ایک صورت میں قبول ہوجاتی ہے۔
    ا۔ یا تو اس کو وہ ہی چیز مل جاتی ہے جو وہ مانگتا ہے۔
    ب۔ یا اس پر آنیوالی کوئی پریشانی، مصیبت اس دعا کے بدلے ہٹا دی جاتی ہے۔
    ج۔ یا اس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کر لی جاتی ہے۔
    دعا کا حکم تو رب العالمین نے رحمۃ العالمین کو بھی دیا ہے تو اس طرح یہ حکم فرض ہوا اور نہ مانگنے والا گناہ گار ہوگا۔

    2۔ غالباََ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی کسی نے یہ ہی سوال کیا تھا تو امام علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اپنی ایک ٹانگ اٹھا اس نے اٹھائی آپ نے پھر فرمایا کہ اب دوسری اٹھا اس نے کہا کہ نہیں اٹھا سکتا ہوں۔ جناب ایک ٹانگ اٹھانا آپکے اختیار میں اور دوسری اٹھانا اختیار میں نہیں ہے اس طرح نیکی اور بدی کا راستہ بتادیا گیا ہے عمل خود کرنا ہوتا ہے۔

    3۔ شادی کن وجوہ پر نہیں ہوتی؟ پہلے وہ وجوہات سامنے ہوں تو جواب دیا جاسکتا ہے۔
    جس معاشرے میں شادی (غیر ضروری رسومات اور نمود نمائش) مہنگی ہوگی وہاں زنا سستا ہوگا۔ اس لئے نکاح کی سنت کو اپنائیں رسوم و رواج سے جان چھڑائیں۔
    چلیں آپ کی بات مان لی جائے کہ زانی گناہ گار نہیں ہوگا تو قرآن کہتا ہے کہ زانی مرد زانی عورت کے لئے اور زانی عورت زانی مرد کے لئے ہے۔ اگر زنا کے بعد اسکی کہیں شادی ہوجائے تو آپ خود قرآنی حکم سے ہدایت لے لیں۔

    واللہ اعلم
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,867
    موصول پسندیدگیاں:
    915
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
  4. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    استاد جی تسلی بخش جواب دیا ہے
  5. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    جی جناب تسلی بخش ہے
  6. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب مسلمان دعا کرتا ہے بشرطیکہ قطع رحمی یا کسی گناہ کی دعا نہ کرے تو حق تعالیٰ شانہ کے یہاں سے تین چیزوں میں اسے ایک ضرور ملتی ہے یا خود وہی چیز ملتی ہے جس کی دعا کی یا اس کے بدلہ میں کوئی برائی یا مصیبت ہٹا دی جاتی ہے یا آخرت میں اسی قدر ثواب اس کے حصہ میں لگا دیا جاتا ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ بندہ کو بلا کر ارشاد فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں نے تجھے دعا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی ۔ وہ عرض کرے گا کہ مانگی تھی اس پر ارشاد ہو گا کہ تو نے کوئی دعا ایسی نہیں مانگی جس کو میں نے قبول نہ کیا ہوتو نے فلاں دعا مانگی تھی کہ فلاں تکلیف ہٹا دی جائے میں نے اس کو دنیا میں پورا کر دیا تھا اور فلاں غم کے دفع ہونے کی دعا کی تھی مگر اس کا اثر کچھ تجھے معلوم نہیں ہو میں نے اس کے بدلے میں فلاں اجر و ثواب تیرے لئے متعین کیا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو ہر ہر دعا یاد کرائی جائے گی اور اس کا دنیا میں پورا ہونا یاآخرت میں اس کا عوض بتلایا جاوے گا ۔اس اجر و ثواب کی کثرت کو دیکھ کر وہ بندہ اس کی تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی پوری نہ ہوئی ہوتی کہ یہاں اس کا اس قدر اجر ملتا ۔ غرض دعا نہایت ہی اہم چیز ہے ۔ اس کی طرف سے غفلت بڑے سخت نقصان اور خسارہ کی بات ہے ۔ اور ظاہر میں اگر قبول کے آثار نہ دیکھے تو بد دل نہ ہونا چاہیے
  7. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ امر بھی نہایت ضروری اور قابل لحاظ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے کچھ شرائط بھی وارد ہوئی ہیں کہ ان کے فوت ہونے سے بسا اوقات دعا رد کر دی جاتی ہے۔ منجملہ ان کے حرام غذا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دعا رد ہوجاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بہت سے پریشان حال آسمان کی طر ف ہاتھ کھینچ کر دعا مانگتے ہیں اور یا رب یا رب کرتے ہیں مگر کھانا حرام ، پینا حرام ، لباس حرام ایسی حالت میں کہاں دعا قبول ہو سکتی ہے ۔

    مؤرخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں مستجاب الدعا لوگوں کی ایک جماعت تھی ۔ جب کوئی حاکم ان پر مسلط ہوتا اس کے لئے بد دعا کرتے وہ ہلاک ہو جاتا ۔ حجاج ظالم کا جب وہاں تسلط ہوا تو اس نے ایک دعوت کی جس میں ان حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہوچکے تو اس نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بد دعا سے محفوظ ہو گیا کہ حرام کی روزی ان کے پیٹ میں داخل ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہمارے زمانہ کی حلال روزی پر بھی ایک نگاہ ڈالی جائے جہاں ہر وقت سود تک کے جواز کی کوششیں جاری ہوں، ملازمین رشوت کو اور تاجر دھوکہ دینے کو بہتر سمجھتے ہوں ۔

    اب دیکھ لیں دعا قبول کیوں نہیں ہوتی۔
  8. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,867
    موصول پسندیدگیاں:
    915
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India

اس صفحے کو مشتہر کریں