جہیز کی شرعی حیثیت ۔کا بقیہ

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاسمی, ‏اپریل 30, 2011۔

  1. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    کیا کوئی صورۃجوازکی ہے؟​

    (۱)ہاں اگرلڑکی ایسے گھر میںجا رہی ہے جہاں اس کی ضروریات زندگی کی فراہمی مشکل ہے تو کیا ایسی صورۃ میں لڑکی کے گھر والے خانگی ضروریات پوری کر سکتے ہیں ۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نےجب اپنی صاحبزادی کا نکاح ایک ایسے متقی شخص کیا جو انتہائی مالی اعتبار سے غریب تھے اور ازدوجی زندگی گزارنے کیلئے ان کے ہاں کو ئی سامان مو جود نہ تھا تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کی ضرورتوں کے پیش نظر شادی کے بعد چند خاص گھریلو سامان کو خاموشی سے بغیر کسی کو دکھائے ہوئے بھجوادیا تھا ۔اسطرح بغیر طلب وسوال اور مانگ ومطالبہ کے تحفہ وتحائف،خوشی سے دینا لینا اور انسانی رشتہ سے کسی کی ضرورت کو پوری کر دینا شرعا واخلاقا کوئی برائی نہیں بلکہ انسانیت کا حق ادا کرنا،اسکی اشاعت اور اس کو فروغ دینا اور خدا کے ہاں کوئی عمل پیش کرنا ہے ،یہی ایک صورت ہے جس کا جواز نکل سکتا ہے ۔
    اما اذا کان بلا سوال ولا عن عدم رضایۂ فیکون ھدیۃ فیجوز۔ یعنی لین دین بغیر مانگ ومطالبہ کے ہوجو اس بنا پر نہ ہو کہ وہ بغیر کچھ لئے شادی کر نے پر رضامند نہیں ہے تو جائز ہے اور ایسا خوشی کالینا دینا ہدیہ کہلائیگا،،شادی اور شریعت۔
    اس سلسلہ میں دار العلوم دیو بند کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں!
    اگلے ماہ میری شادی ہونے والی ہے، میر ا سوال جہیز کے بارے میں ہے۔ میں نے سسرال والوں سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے،اگر وہ بغیر مطالبہ کے کوئی چیز دیدیں تو کیا میں اسے قبول کرسکتاہوں؟
    جہیز کا مطالبہ کوئی شریفانہ فعل نہیں ہے، آپ نے اچھا کیا کہ سسرال والوں سے کوئی مطالبہ نہیں کیا، بلکہ اگر وہ بغیر مانگے بھی کوئی سامان دیں تو اسے بھی منع کردینا چاہیے کیوں کہ عموماً لوگ نام ونمود کے طور پر یا رواج کے دباوٴ میں دیتے ہیں، اس کے باوجود بھی اگر وہ نہ مانیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ جو ضرورت کا سامان آپ دینا چاہتے ہیں وہ کسی اور موقع پر دیدیجیے۔دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
    ایک یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ لڑکا اگر چہ مالی حیثیت رکھتا ہے اسکے باوجود شادی کے موقع پر سسرال والے کچھ دینا چاہتے ہیںتو کیا یہ لینا جائز ہے؟
    تو یہاں بھی دارالعلوم دیو بند کے یہ فتوے ملاحظہ فرمائیں۔
    (۱)میں اپنی بیٹی کے نکاح پر اپنی خوشی سے ضروریات زندگی کا کچھ اسباب اپنی بیٹی کو دینا چاہتا ہوں۔ دولہا والے یہ کہہ کر اس کو منع کرتے ہیں کہ یہ جہیز ہے اور جہیز دین کے خلاف ہے اور وہ سختی سے یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کچھ بھی سامان تحفہ میں یا صلہ رحمی میں یا جہیز میں دیا تو ہم اس کو واپس کردیں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ (۱)اس موقع پر اپنی بیٹی کو ضروریات زندگی کا کچھ اسباب دینا درست ہے یا نہیں؟ (۲)کیا میرا اپنی بیٹی کو اس کے نکاح پر دیا ہوا ضروریات زندگی کا سامان (تحفہ، ہدیہ، جہیز) دولہا والوں کا واپس لوٹانا درست ہے؟
    جب دولہا والے کچھ بھی سامان لینے سے سختی سے منع کررہے ہیں تو آپ کیوں زبردستی دیناچاہتے ہیں، اگر آپ اپنی بیٹی ہی کو کچھ دیناچاہتے ہیں تو خاص شادی کے موقع پر نہ دے کر کسی دوسرے موقع پر جب ضرورت ہو، اس وقت دیدیجیے، شادی کے موقع پر دینے سے نسبت دولہا کی طرف ہوگی اور وہ اسی سے بچنا چاہتے ہیں تو بلاوجہ کسی کو کیوں متہم کرتے ہیں، جہیز دینا کوئی فرض وواجب نہیں ہے، پھر اس موقع پر دینے میں بالعموم نمائش اور رسم کی پابندی مقصود ہوتی ہے، لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
    (۲)سوال :جلد ہی میری شادی ہورہی ہے۔ لڑکی والوں سے کہہ دیا گیا ہے ، لیکن وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کم از کم نارمل جہیز لینا ہی پڑے گا، جیسے ، بیڈ، الماری وغیرہ۔ میں کچھ بھی نہیں چا ہتا ہوں، میں تذبذب میں ہوں کہ کیا کروں؟ کیا ان سامانوں کو لینا گناہ ہوگا؟ اگر ہاں!تو براہ کرم، میری مدد کریں۔
    جواب :اگر چند سامان وہ اپنی بیٹی کو دینا چاہتے ہیں، آپ کی طرف سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں تو لینے سے انکار پر مصر نہ ہوں، بلکہ صرف اس قدر کہیں کہ خاص شادی کے دن لانا میرے ذمہ ضروری نہ ٹھہرایا جائے بعد میں جب مناسب ہوگا میں لے آوٴں گا۔ آپ کے اوپر گناہ نہ ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔

    جہیز میں دئیے ہوئے سامان کا مالک کون ہو گا ۔ بیوی یا شوہر؟​

    تو اس سلسلہ میں فرمایا گیا ،، بطور جہیز شادی میں ملے ہوئے سامان کی مالک اور متصرف تنہا عورت ہے اور اس کو خرچ اور استعمال کرنے کا ازروئے شرع پورا پوراحق حاصل ہے، مرد کو عورت کی اجازت کے بغیر تصرف خرچ کرنا ،اپنے استعمال میں لانااور اس سے فائدہ جائز نہیں ہے اور نہ سسرال والے عورت کو ان سامانوں سے روک سکتے ہیں۔ (غایۃ الاوطار وشامی)بحوالہ شادی اور شریعت۔




  2. بلال جٹ

    بلال جٹ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    201
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    ماشاءاللہ بھائی اج ٹائم نکال کر اچھی طریقہ سے پڑھابہت اچھا لکھا
    :->~~ :->~~
  3. تانیہ

    تانیہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    346
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan

    [​IMG]
    جزاک اللہ
    بہت اچھی شیئرنگ ہے بہت مفید اور معلوماتی
    ہم لوگ اکثر ایک چیز کو ناپسند تو کرتے ہیں اور اسکے خلاف بولتے بھی ہیں لیکن اس برائی کو ختم کرنے کے لیئے کوئی عملی کوشش نہیں کرتے
    اللہ تعالی ہم سبکو راہ ہدایت پہ چلنے کی توفیق دے ...آمین
  4. سیما

    سیما وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,131
    موصول پسندیدگیاں:
    4
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت ہی اچھی شیئرنگ ہے
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    وفقك الله في الدارين ورزقنا وإياك حلاوة الإيمان

اس صفحے کو مشتہر کریں