جہیز کی شرعی حیثیت

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاسمی, ‏اپریل 29, 2011۔

  1. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    جہیز کی شرعی حیثیت​

    جہیز کے معنیٰ ،،تیار کئے سامانوں کے آتے ہیں،،جو عرف میں لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں دئیے جاتے ہیں۔
    اور اسکے جواز میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ استدلال باطل اور ثبوت کالعدم ہے ۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ سوّوا بین اولادکم۔اپنی اولادوں میں برابر کا برتاؤ رکھو۔
    اگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے وقت آنحضرت ﷺنے جوسامان دیا تھا اسکو جہیز مان لیا جائے آپ ﷺ کے قول اور فعل میں تضاد لازم آئیگا۔نعوز باللہ ثم نعوذ با اللہ ایسا ہو ہی نہیں سکتاکیونکہ کتب اسلامی کےجائزہ سے یہ بات صاف ہے کہ آنحضور ﷺ نے اپنی تین صاحبزادیوں کو جہیز کے نام پر کچھ سامان نہ دیاتھا۔ تو اب لازمی طور پر ماننا پڑے گا جو کچھ بھی آپ نے سیدہ بتول کو دیاوہ جہیز نہ تھا ۔پھر کیا تھا آئیے! ذرا جائزہ لیں !
    حضرت ابو طالب کے انتقال کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سر پرستی آنحضور ﷺ نے لی کیونکہ حضرت علی آنحضور ﷺ سے چھوٹے بھی تھے اور سرپرستی اور ضروریات کو پورا کر نےوالا حضور ﷺ کے علاوہ کوئی اور تھا بھی نہیں۔چنانچہ آپ ﷺ حضرت علی کو اپنے ساتھ رکھتے ،اور ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھتے اور ہر طرح کی دیکھ ریکھ کرتے یہاں تک کہ جب حضرت علی جوان ہو گئے تو اپنی صاحبزادی کا نکاح بھی کر دیا اور جب رخصتی کا وقت آیا تو بطور سرپرست ضروریات زندگی کے لئے چند خاص خاص گھریلو سامان کا انتظام بھی آپ کو کرنا پڑا ۔اس انتطام کی روداد بھی سن لیجئے ۔
    (۱) آنحضور ﷺ نے حضرت علی سے قبل از نکاح دریافت فرمایا کہ تمھارے پاس کچھ ہے انہوں نے جواب دیا کہ ایک گھوڑا اور ایک زرہ میرے پاس مو جود ہے ۔
    آپ ﷺ نے فرمایا گھوڑا تو تمھارے لئے ضرورت کی بہت اہم چیز ہے البتہ ذرہ بیچ کر اسکی قیمت لے آؤ ۔حضرت علی نے حضرت عثمان غنی کے ہاتھوں چار سو اسی درہم میں اپنی ذرہ بیچ دی اور قیمت لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے ۔
    (۲) آپ ﷺ نے اسی وقت حضرت بلال اور حضرت انس کی والدہ ام سلیم کو بلوایا اور انہین کچھ رقم بناؤ سنگار ،عطر اور خوشبو وغیرہ لانے کیلئے دی اور بقیہ رقم گھریلو ضروریات کے انتظام کیلئے حضرت بلال کو عنایت کی۔زرقانی علی المواہب۔
    (۳)آپ ﷺ کے حسب الحکم حضرت بلال اور حضرت ام سلیم نے بناؤ سنگار کے سامانوں کے ساتھ مزید مندرجہ ذیل چیزیں ،،سونے کیلئے بان کی ایک چار پائی،کھجور کی پتیوں سے بھرا ہو چمڑے کا گدا ،پانی کا مشکیزہ، ایک چھاگل ۔مٹی کے دو گھڑ ے اور چکی کے دو پاٹ کا نظم کیا۔یہی وہ کل سامان تھے جس کو آپ ﷺ نے حضرت علی کی رقم سے انتظام فرمایا جس میں آپ ﷺ کھلے طور پر صرف منتظم کی حیثیت سے نظر آرہے ہیں۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو سامان دیا گیا تھاوہ آپ ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں دیا تھا بلکہ زوجین کی وقتی ضرورتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے آنحضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رقم سے اس کا انتظام فرمایا تھا اور کیوں نہ فرماتے جب کہ آپ ﷺ ہی دونوں طرف سے مربی اور بچپن سے پرورش کرتے چلے آتے تھے ۔
    لیکن آج جو سامان لڑکی والوں کی طرف سے دیا جاتا ہے مثلا بستر، برتن، بیڈ، اور دیگر لوازمات کیا یہ سب لڑکے والوں کے پاس پہلے سے موجود نہیں ؟ ہر ایک کے پاس موجود ہے پھر ان سامان دئیے جانے کی ضرورت کیا ہے ؟ دیگر سامانوں کاتو اس مصلحت کے پیش نظر دینا بھی جائز نہیںاور نہ اس کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نکاح سے ثبوت ملتا ہے پھر یہ جہیز کی لعنت کہاں سے آئی اسلام میں اس کا ثبوت ہے؟ ہر گز نہیں،، اس لئے شرعی نقطۂ نطر سے سامانوں کا دینا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی شریعت میں اس کا کوئی حکم ملتا ہے ۔
    یہ تشریحات پکار پکار کر کہتی ہیں جہیز ایک غیر اسلامی فعل اور قبیح رسم ہے اسلام سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ۔
    شادیوں میں سادگی درکار ہے ۔۔۔ باقی جو کچھ ہے وہ بیوپار ہے ۔
    حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،،یہ چیز نہایت مذموم ہے کہ مرد عورتوں کی دولت پر نظر رکھے اور زیادہ سے زیادہ ! جہیز کی لالچ کریں،،
    سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،،جب کوئی نکاح کرنے والا شخص یہ معلوم کرےکہ اسکی بیوی کیا لائی ہے تو یہ سمجھ لو کہ وہ شخص چور ہے،،
    امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نکاح نکاح ہونا چاہئے نہ کہ جوا اور تجارت ۔مہر کی زیادتی سے نکاح کےمقاصد مجروح ہو تے ہیں اور شوہر کے مطالبۂ زر سے بھی۔
    جاری ہے۔
  2. تانیہ

    تانیہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    346
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید اور معلوماتی ہے
    بہت شکریہ
    جہیز کا مطلب کیا ہے اسکی ضرورت یہ سب نظرانداز کر کے اج اسکو بطور جوا اور تجارت ہی لیا جاتا ہے بہت سی لڑکیاں صرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر کی دہلیز پہ بیٹھی رہتی ہیں
    بہت اچھی شیئرنگ کی آپ نے
    ہمیں مزید کا انتظار رہے گا
  3. سرحدی

    سرحدی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    91
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ قاسمی بھائی، حقیقت میں ہم نے نکاح کو اتنا مشکل کردیا ہے کہ اس کو انجام دینا ہمارے لیے مشکل ہوگیا ہے. نیز معاشرے میں فرسودہ رسم و رواج نے اتنی جگہ بنالی ہے کہ ہم اپنے اصل دین کی طرف دیکھتے ہی نہیں ہیں. غیروں کے طور طریقے اور رسم و رواج میں ایسے ڈوبے ہیں کہ گھر میں بیٹھی ہوئی بہن ، بیٹی اس انتظار میں کوئی بندوبست ہو تو ہمارا بھی کچھ ہوجائے. کئی ایک کو میں نے دیکھا کہ جو جہیز کی وجہ سے اپنا گھر نہ بناسکیں، اسی طرح لڑکوں کی طرف سے بھی اتنا انتظام کیا جاتا ہے کہ اس کے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور پھر بعد میں فیملی ممبران لڑکے سے کہتے ہیں بیٹا جی شادی تو ہوگئی لیکن دو تین لاکھ کا قرض ہے ، اس کو ادا کرنا ہے اب یہ تیری ذمہ داری ہے، لڑکا بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو شادی کیوں کی؟؟
    اسی طرح دو باتیں الگ الگ کہ: جب شادی آسان ہوگی تو زنا مشکل ہوگا کیوں کہ پھر اس کی ضرورت نہیں رہے گی اور جب نکاح کو مشکل بنادیا جائے گا تو معاشرتی برائیاں خود بخود جنم لیں گی. . .
    اس لیے اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ ایک اہم دینی حکم کو پورا کرنے کے لیے جتنی سادگی سے کام لیا جائے گا اتنا ہی پرسکون ماحول میسر آئے گا.
    جزاک اللہ بہت اچھی پوسٹ ہے
  4. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    شکریہ قاسمی صاحب!
    آپ نے بہت مفید معلومات شئیرکی ہیں- جزاک اللہ
    مجھے امید ہے کہ آپ اس طرح کی مفید معلومات دیتے رہیں گے-
    اللہ تعالٰی ہم سب کو جہیز کی لعنت سے محفوظ رکھے ( آمین )
  5. بلال جٹ

    بلال جٹ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    201
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    واہ نایس
    قاسمی بھای بہت اچھی معلومات ملیں اور شکریہ
    بہت اچھا لکھا ہے ماشاءاللہ سے :->~~ :->~~
  6. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
    مفید معلومات پر آپ کا شکریہ
    الله يجزاك كل خير و بارك الله فيك ....

اس صفحے کو مشتہر کریں