حافظ نور الدین الہیثمیؒ اور امام ابوحنیفہؒ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏اکتوبر 3, 2017۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    تمہید۔

    متاخرین میں سے ایک اہل علم ہیں ۔حافظ نور الدین الہیثمی شافعیؒ م۸۰۷ھ۔
    جن کے بارے میں بعض کا خیال ہے کہ وہ امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے ۔
    ان کے بارے میں کچھ گفتگو کرنی ہے ۔

    زندگی رہی تو باقی متقدمین کے بارے میں بھی الگ الگ بات کریں گے ۔آج کل کے اہل علم و قلم کو بھی چاہیے کہ اس بارے میں مضامین لکھیں ۔ تاکہ عوام اور اہل علم ۔دومختلف آراء رکھنے والوں ، یا آپس میں تنقید کرنے والے ،دونوں کے بارے میں حسن ظن کا رویہ اپنائیں ۔

    متقدمین میں کچھ اُن وجوہات جِن کا تمہید میں ذکر کیا گیا ہے ۔۔خصوصاََ معلومات غلط پہنچنے کی وجہ سے ، بعض محدثین نے تنقید کی ۔

    لیکن متاخرین تک چونکہ معلومات کافی حد تک پہنچ جاتی رہیں تو اُن میں تقریباََ اجماع و اتفاق ہوگیا تھا کہ اُن پر تنقید کرنا غلط رویہ ہے ۔
    جن میں جمہور احناف کے علاوہ حفاظ مزیؒ ، ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ ، ذہبیؒ ، السبکیؒ ،ابن عبد الہادیؒ ،کیکلدی علائیؒ ،ابن ناصر الدین دمشقیؒ، الحسینیؒ ، سبط ابن العجمی ؒ ،عراقیؒ ، شاطبیؒ، ابن حجرعسقلانیؒ ، سخاویؒ ، اور بہت سے حضرات جن کا نام لینا بھی طوالت کا باعث ہوگا ، تقریباََ تمام حضرات ۔۔۔امام صاحب کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے اور تنقید کو بُرا سمجھتے تھے ۔

    اِکا دُکا کے بارے میں آج کل کے بعض حضرات (وہ جو فروعی مسائل میں تشدد کا رویہ رکھتے ہیں ) کا خیال ہے کہ ، نہیں وہ امام صاحب کے بارے میں اچھا رویہ نہیں رکھتے تھے ۔

    حافظ نور الدین ہیثمیؒ کے بارے میں یہ رائے بیان کی جاتے ہے ۔ ظاہر ہے کچھ بنیاد ہوتی ہے تو تب ہی بات کی جاتی ہے ۔

    انہوں نے اپنی مشہور کتاب مجمع الزوائد میں کچھ ایسا انداز رکھا ہے کہ جس سے شُبہ ہوتا ہے کہ شاید اُن کا خیال امام صاحبؒ کے بارے میں اتنا اچھا نہیں تھا ۔ یہ شُبہ ، اور شاید کا لفظ اس لئے بولا کہ کہیں بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا ۔اسلئے کہ کہیں بھی انہوں نے امام صاحب کا نام نہیں لیا ۔

    یہ تو آج کل کے بعض حضرات اپنے مسلکی تشدد کے مزاج کی وجہ سے جوش و خروش سے اس کا اظہار کرتے ہیں ۔جن میں سرفہرست تو سلسلہ صحیحہ و ضعیفہ کے مصنف ہیں ۔جو چونکہ خود فقہ حنفی اور امام صاحب کی طرف سے دل میں کافی تنگی رکھتے تھے ۔اس لئے اس بات کا خوب اظہار کیا ۔ اور ان کے بعض شاگرد (بلکہ مقلد)جن میں طبرانی کبیر کے ایک محقق بھی شامل ہیں ۔ ان کا رویہ بھی تقلیداََ یہی ہے ۔کچھ دوسرے حضرات بھی شاید بعض کے پروپیگنڈا کے اثر سے یا بعض متقدمین کی تنقید والی آراء کے اثر سے ۔۔ہیثمیؒ کو بھی اُن میں سے سمجھتے ہیں ۔ مثلاََ مسند ابی حنیفہ کی تخریج و تحقیق کرنے والے مولانا لطیف الرحمٰن بہرائجی ۔

    انہوں نے بھی ایک روایت کی تخریج میں ہیثمیؒ کا ایک روایت پر حکم (جس میں ایک راوی کو ضعیف کہا گیا ہے )نقل کرکے کہا ہے کہ ۔۔اسلوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شایداُن کا اشارہ امام صاحب کی طرف ہے ۔

    ہیثمیؒ نے مجمع الزوائد میں مسند احمد ، مسند ابی یعلی ، بزار ، اور معاجم ثلاثہ طبرانی کی روایات جو صحاح ستہ پر زائد تھیں اُن کو جمع کیا ہے ۔

    مسند بزار میں غالباََ امام صاحب ؒ کی روایت نہیں ہے ۔ مسند احمد میں ۱۔مسند ابی یعلی میں ۳یا ۴ ، اور معاجم طبرانی میں کم و بیش ۳۰ روایات ہیں ۔ اُن سب پر مجمع الزوائد میں حکم لگایا گیا ہے۔کسی ایک روایت میں بھی ہیثمیؒ نے امام ابوحنیفہؒ کا نام نہیں لیا ۔ بلکہ غالباََپوری کتاب میں ہی ان کا نام نہیں ہے ۔ بس ایک روایت جس کے متن میں ان کاذکر ہے ۔ ایک واقعہ کے ضمن میں ۔وہ آگے آجائے گی ۔

    جب جمہور متاخرین کے سامنے جب متقدمین کی آراء موجود تھیں ۔ اور انہیں زیادہ معلومات کا موقع بھی مل گیا ۔ اس بنیاد پراوراس کے علاوہ کئی وجوہات کی بنیاد پر تقریباََ جمہور متاخرین کی رائے امام صاحب کے بارے میں اچھی تھی ۔
    تو پھر کیا حسن ظن کا تقاضا نہیں تھا کہ
    جب ہیثمیؒ کا طرز عمل واضح نہیں ۔تو حسن ظن اپنا کر دیکھا جائے اور اُن کی رائے بھی جمہور کے قریب نظر آرہی ہو تو
    حسن ظن رکھنا چاہیے ۔۔۔
    یا جو معمولی شک ہے اس کی بنیاد پر ۔۔۔اپنے مسلکی مزاج کی تائید کے لئے ۔۔۔بات کو منفی بنا دیا جائے ۔
    اور اتنا منفی رنگ دیا جائے کہ ہیثمیؒ کے ذمہ وہ بات لگادی جائے ۔جس کا وہم و گمان بھی نہ ہو۔ اس کا آگے ذکر آئے گا۔

    معاجم ثلاثہ طبرانیؒ ۔۔۔ان کتب میں ہیں جن کو بعض علماء کتب احادیث کے طبقہ ثالثہ میں سے سمجھتے ہیں ۔
    اور عموماََ معاجم طبرانیؒ میں کافی نادر اسانید بھی ہوتی ہیں جو دوسری کتب میں کم ہوتی ہیں ۔چناچہ اس میں بہت سی احادیث ضعیف سند سے بھی ہوتی ہیں ۔

    اسی لئے ہیثمیؒ نے جو اکثر اُن اسانید پر ضعف کا حکم لگایا ہے جن میں اتفاق سے امام صاحب ؒ والی مرویات بھی ہیں ۔

    اور یہ کوئی امام صاحبؒ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سلسلہ سند میں امام صاحب ؒ سے نیچے بھی بہت راوی ہوتے ہیں ۔

    اور پہلے مجھے صرف اچھا گمان تھا ۔۔پھر الحمد لِلہ سب روایات کو دیکھ کر مزید اطمینان ہوا کہ ۔۔کسی بھی روایت میں یہ وضاحت نہیں کہ وہ روایت امام صاحبؒ کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
    اور اس میں کوئی ایسا راوی ہوتا ہے ۔ جس پر نام لے کر مجمع الزوائد میں کہیں جرح یا تنقید ہوتی ہے ۔ جس سے یہ گمان قوی ہوتا ہے کہ اُن کا اشارہ امام صاحب کی طرف نہیں ہے ۔
    اور اس لئے بھی کی اُن میں اکثر روایات کتاب الآثار ابی حنیفہؒ میں موجود ہیں ۔ جن میں نیچے کی سند کی ضرورت ہی نہیں ۔

    اور بعض روایات پر ہیثمیؒ کے اسلوب پر ہی جانا ہے ۔تو پھر امام صاحبؒ کی ثقاہت ہی نکلتی ہے ۔ جس کاذکر اِن شاء اللہ آخر میں کریں گے ۔

    سب سے پہلے وہ روایات ، جن پر زیادہ شبہ ہوتا ہے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    مسند احمد میں ایک حدیث ہے امام ابوحنیفہؒ کی وہ یہ ہے ۔

    23027 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا أَبُو فُلَانَ
    [قَالَ عَبْدُ اللهِ ابْنُ أَحْمَدَ] : كَذَا قَالَ: أَبِي لَمْ يُسَمِّهِ عَلَى عَمْدٍ، وَحَدَّثَنَاهُ غَيْرُهُ فَسَمَّاهُ، يَعْنِي أَبَا حُنَيْفَةَ،
    عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ: " اذْهَبْ؛ فَإِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ "


    ہیثمیؒ نے غاية المقصد فى زوائد المسند میں بھی نقل کی ہے ۔

    اور مجمع الزوائد میں اس کے بارے میں کہا۔

    763 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ ۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ، وَمَعَ ضَعْفِهِ لَمْ يُسَمَّ.


    حافظ ہیثمیؒ کا مجمع الزوائد میں طریق کار جو نظر آتا ہے وہ یہ کہ وہ حدیث کی جو سند بیان کی گئی ہے اسی پر حکم لگاتے ہیں۔
    شواہد یا تخریج سے بحث نہیں کرتے ۔

    اور امام احمد ؒ نے جو حدیث مسند احمد میں روایت کی ہے اس میں امام احمدؒ نے نام نہیں لیا ۔
    یہ عبد اللہ جو امام احمدؒ کے بیٹے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دوسرے اس نام کی تعیین ۔ابوحنیفہ ۔ سےکرتے ہیں ۔
    دوسروں کی سند نہ تو عبداللہ بن احمد نے ذکر کی ہے ۔ اور نہ ہیثمیؒ نے کوئی اشارہ کیا ہے ۔

    اب مسند احمد کی حدیث میں امام احمد کے جو الفاظ ہیں وہ ابوفلان، یا ابوفلانہ کے ہیں ۔
    اور ہیثمیؒ نے اسی پر حکم لگایا ہے کہ
    امام احمدؒ کی سند میں راوی کا نام نہیں لیا گیا اور اس کا تعیین نہیں ہوسکا ۔ چاہے عبد اللہ بن احمد اس کا تعیین کر رہے ہوں ۔ ضروری نہیں کہ ان کی بات صحیح ہو ۔اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ

    امام احمد ؒ کے بعض اقوال ہیں جن میں یہ ہے کہ انہوں نے ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب سے کوئ روایت نہیں کی ۔۔
    ممکن ہے انہی اقوال کی وجہ سے ہیثمیؒ اس کے تعیین میں متردد ہوں ۔
    چناچہ اس کو مجہول سمجھتے ہوں ۔
    وہ اقوال یہ ہیں ۔ مثلاََ

    قال ابن هانئ: سمعته يقول: تركنا أصحاب الرأي، وكان عندهم حديث كثير؛ لأنهم معاندون للحديث، لا يفلح منهم أحد.
    قال ابن هانئ: وسئل عن أبي حنيفة، يروى عنه؟
    قال: لا.
    قيل: فأبو يوسف؟
    قال: كأنه أمثلهم، ثم قال: كل من وضع الكتب فلا يعجبني، ويجرد الحديث.
    "مسائل ابن هانئ"
    قال زياد بن أيوب: سألت أحمد بن حنبل عن الرواية عن أبي حنيفة وأبي يوسف؛ فقال: لا أرى الرواية عنهما.


    جن کا خلاصہ یہی ہے کہ امام احمد نے فرمایا کہ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ اور ابویوسفؒ سے روایت نہیں کی ۔
    اسکی وجہ یہ ہے امام احمدؒ کے خیال میں وہ احادیث کی مخالفت کرتے تھے ۔ اگرچہ ان کے پاس بہت زیادہ حدیثیں تھیں۔
    اور دوسری وجہ یہ کہ وہ کتابیں لکھتے تھے ۔ یعنی مراد فقہی اقوال و آراء ہیں ۔

    امام احمد کے اقوال اور نظریہ کی وضاحت آگے کریں گے
    ابھی ہیثمیؒ کے متعلق بات ہو رہی ہے کہ وہ
    یہی سمجھتے ہوں کہ امام احمد ؒ نے ان سے روایت نہیں کی ۔ یہ کوئی اور راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔
    چناچہ انہوں نے بھی کوئی تعیین نہیں کیا ۔

    اور فرمایا کہ وَفِيهِ ضَعِيفٌ، وَمَعَ ضَعْفِهِ لَمْ يُسَمَّ
    یعنی اس میں کوئی راوی ضعیف ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔

    لم یسم کی اگر ہیثمیؒ تعیین نہ کریں تو یہ ان کے نزدیک مجہول ہوتا ہے ۔ اور مجہول ضعیف ہوتا ہے ۔
    ان دونوں الفاظ کا مجمع الزوائد میں بکثرت استعمال ہے ۔
    اور ہر جگہہ ایسا ہی استعمال ہے کہ فلاں سند میں ایک راوی کا نام نہیں لیا گیا اور باقی رجال ثقہ ہیں ۔

    فلاں سند کے راوی صحیح کے راوی ہیں سوائے ایک کے جو مجہول ہے ۔

    اور ایک جگہہ انہوں نے صراحتاََ بھی فرمایا ہے کہ ۔ لم یسم ۔ سے مراد مجہول ہے ۔

    1468 - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَاصِمِ۔۔۔۔۔۔۔
    وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ۔۔۔۔ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، فَهُوَ مَجْهُولٌ.


    اور مجہول ہونا ضعف کی وجہ ہوتی ہے ۔
    ایک جگہہ صراحتاََ مجہول کی وجہ سے حدیث کو ضعیف نقل کہا ۔

    11425 - وَعَنْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ جَعْفَر۔۔۔عَنْ عَمِّهِ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ وَخَبَرُهُ سَاقِطٌ.


    ایک اور جگہہ مجہول کو ضعیف نقل کیا۔

    18022 - وَعَنْ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَمْعَانُ الْمَالِكِيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.


    خلاصہ یہ کہ راوی کا نام نہیں لیا گیا اور ہیثمیؒ نے اس کا تعیین نہیں کیا ۔ اور نام نہیں لیا گیا تو ظاہر ہے کہ مجہول ہے اور مجہول ہے تو پھر یہ سند ضعیف ہے ۔

    شاید کوئی کہے کہ اس بیچارے کے پاس حسن ظن رکھنے کے لئے بس صرف یہی ہے ۔اور ہیثمیؒ نے امام صاحب ؒ کی زوائد میں جو تیس کے قریب روایات ہیں ۔ ان سب کو تقریباََ ضعیف ہی قرار دیا ہے ۔۔
    تو ٹھیک ہے ایسا ہے اور ان سب پر ایک ایک کر کے ان شاء اللہ آگے گفتگو آرہی ہے ۔
    ابھی ایک لائن میں اس کا یہ جواب ہے کہ کسی ایک بھی جگہہ ہیثمیؒ نے تعیین نہیں کی کہ یہ روایت امام صاحب کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ کہیں بھی نام نہیں لیا ۔

    اور اللہ کے فضل سے ایک روایت ایسی ہے جس میں امام ابوحنیفہؒ ہیں اس کی انہوں نے صراحتاََتحسین کی ہے ۔ مزید ایک دو اور روایات سے بھی کچھ ثقاہت ہی نکلتی ہے وہ ان شاء اللہ آخر میں پیش کریں گے ۔

    اس لئے ہمارے پاس حسن ظن کے لئے تائید موجود ہے ۔

    اور حافظ ہیثمیؒ کی عبارات میں تعارض نہ آئے ۔ اس لئے حسن ظن کرنا ہی بہتر ہے ۔
    واللہ اعلم ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    امام احمدؒ کی عبارات کی وضاحت

    اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ مسند احمد کی حدیث میں ہمارے نزدیک امام ابوحنیفہؒ ہی متعین ہیں ۔ تعیین ظاہر کرنے سے ہی نظریہ کا پتا چلتا ہے ۔
    اور یہ حدیث کتاب الآثار ابو حنیفہؒ بروایت محمدؒ میں ایک لمبی روایت کا جزء ہے ۔ اور مسانید ابی حنیفہؒ میں اس کو بہت سے شاگرد امام صاحب سے روایت کرتے ہیں ۔

    تو امام احمدؒ نے نام کیوں نہیں لیا ۔اور یہ جو اقوال ابوحنیفہؒ اور اہل رائے کے بظاہر خلاف ہیں ۔
    ان کی توجیہہ کے لئے ۔۔۔۔المسودة في أصول الفقه ، جو اصول فقہ حنبلی کی معروف کتاب ہے ، آل تیمیہ کے تین بڑے حنبلی ائمہ کی کتاب ہے جس میں ایک شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ بھی ہیں ۔۔۔ کی عبارت کو دیکھیں ۔

    فى قول أحمد: "لا يروى عن أهل الرأى"
    تكلم عليه ابن عقيل بكلام كثير قال في رواية عبد الله أصحاب الرأى لا يروى عنهم الحديث
    قال القاضي وهذا محمول على أهل الرأى من المتكلمين كالقدرية ونحوهم.
    قلت ليس كذلك بل نصوصه في ذلك كثيرة وهو ما ذكرته في المبتدع
    أنه نوع من الهجرة فانه قد صرح بتوثيق بعض من ترك الرواية عنه كأبي يوسف ونحوه ولذلك لم يرو لهم في الامهات كالصحيحين.


    المسودة في أصول الفقه
    المؤلف: آل تيمية [بدأ بتصنيفها الجدّ: مجد الدين عبد السلام بن تيمية (ت: 652هـ) ، وأضاف إليها الأب، : عبد الحليم بن تيمية (ت: 682هـ) ، ثم أكملها الابن الحفيد: أحمد بن تيمية (728هـ) ]


    یعنی مفہوم کچھ اسطرح ہے کہ۔۔۔
    امام احمد کا قول کہ اہل الرأی سے نہ روایت کرو ، پر ائمہ حنابلہ نے تشریحات کی ہیں ۔ قاضی (ابی یعلیؒ مراد ہیں غالباََ جو مشہور حنبلی امام ہیں ) کہتے ہیں کہ امام احمد کے اس جملہ کا مطلب ہے کہ وہ اہل رأی جو قدری وغیرہ ہوں یعنی اہل بدعت سے ہوں ۔

    اس پر مصنف فرماتے ہیں کہ نہیں بلکہ امام احمد ؒ کی بہت سی عبارات ہیں بلکہ رائے کا استعمال ایک عیب ہے اس وجہ سے امام احمدؒ نے جن کی توثیق کی ہے ان سے بھی روایت نہیں کی مثلاََ ابویوسف ؒ وغیرہ ۔ اور اسی وجہ سے امہات کتب اور صحیحین میں بھی ان سے روایا ت نہیں ہیں ۔

    اسی طرح امام شافعیؒ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ وہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے ۔ ان کو بہت سے شعر یاد تھے اور وہ شعر سنا رہے تھے ۔ مجلس کے اختتام پر امام شافعیؒ نے سننے والے سے فرمایا کہ میری اس بات کا کسی صاحب حدیث سے ذکر نہ کردینا ان کے لئے ایسی باتیں ناقابل برداشت ہوتی ہیں ۔

    یعنی امام احمد ؒ کا ان سے نہ روایت کرنا ضعف کی وجہ سے نہیں بلکہ (بعض) اصحاب حدیث کے نزدیک بعض چیزیں عیب کی قسم سے ہوتی ہیں جن میں اہل رایٔ میں سے ہونا بھی ہے

    ان دو مثالوں کے بعد عرض ہے کہ امام احمد ؒ جو شروع میں امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے بارے میں سخت رائے رکھتے تھے۔۔تو یہ اقوال اسی دور کے ہیں ۔ اور اس دور میں بھی ان کی تنقید ضعف راوی کی نہیں تھی ۔ بلکہ ایسی رائے جو حدیث کے مخالف ہو ، یا احادیث کے ساتھ اپنے اقوال و آراء بھی لکھنا ،۔۔۔وجہ تھی۔

    اور ایسا چونکہ خلاف واقعہ تھا اس لئے ہمیں امید ہے کہ بعد کو انہوں نے اس سے بھی رجوع کر لیا تھا ۔
    اور ائمہ حنابلہ قاضی ابی یعلیؒ وغیرہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ امام احمدؒ کے قول کا مطلب اہل رائ میں سے جو بدعت والے ہیں قدریہ وغیرہ وہ مراد ہیں ۔تو وہ بھی یقیناََ امام احمدؒ کی دوسری عبارات سے واقف ہوں گے ۔ بس وہ ان کے نزدیک غیر صحیح یا مرجوح ہوں گی ۔اور ان کے نزدیک بھی امام احمدؒ اہل رائ جو صحیح والے ہیں یعنی امام ابوحنیفہؒ وغیرہ اُن سے روایت کرنا صحیح ہے ۔

    اور امام احمد ؒ کا رجوع کرنا بھی کچھ باتوں سے ظاہر ہوتا ہے ۔
    مثلاََ بعض ائمہ نے ان سے اس بارے میں باقاعدہ بات کی تھی ۔

    حافظ ابن ابی العوامؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے، اور حافظ ذہبیؒ بھی ان سے نقل کرتے ہیں

    نُصَيْرَ بْنَ يَحْيَى الْبَلْخِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لأَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلَ:
    مَا الَّذِي تَنْقِمُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ؟
    قَالَ: الرَّأْيَ،
    قُلْتُ: فَهَذَا مَالِكٌ أَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِالرَّأْيِ؟
    قَالَ: " بَلَى، وَلَكَنْ رَأْيُ أَبِي حَنِيفَةَ خُلِّدَ فِي الْكُتُبِ،
    قُلْتُ: فَقَدْ خُلِّدَ رَأْيُ مَالِكٍ فِي الْكُتُبِ، قَالَ: أَبُو حَنِيفَةَ أَكْثَرُ رَأْيًا مِنْهُ، قُلْتُ: فَهَلا تَكَلَّمْتُمْ فِي هَذَا بِحِصَّتِهِ وَهَذَا بِحِصَّتِهِ؟ ! فَسَكَتَ "


    مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ۔

    نصیر بن یحیی بلخیؒ نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا ۔
    ’’آپ کو ان صاحب (ابوحنیفہ) پر آخر اعتراض کیا ہے ؟
    احمدؒ: ’’رائے‘‘ (یعنی وہ رائے کا استعمال کرتے ہیں)
    نصیرؒ: یہ مالکؒ ہیں کیا وہ رائے کا استعمال نہیں کرتے ۔
    احمدؒ : بالکل کرتے ہیں ۔ لیکن ابوحنیفہ کی رائے کتابوں میں لکھ لی گئی ہے ۔
    نصیرؒ: وہ تو مالکؒ کی بھی رائے کتب میں لکھ لی گئی ہے ۔
    احمدؒ : لیکن ابوحنیفہ ان سے زیادہ رائے کا استعمال کرتے ہیں ۔
    نصیرؒ: اچھا تو پھر جتنا اِن کا حصہ ہے اِن پر کلام کریں اور جتنا اُن کا حصہ ہے اُن پر کلام کیوں نہیں کرتے ؟
    اس پر امام احمدؒ خاموش ہوگئے ۔

    اور بھی کئی باتیں ہیں ۔جو رجوع کا باعث بنی ہوں گی۔ ابھی چونکہ موضوع نہیں ۔ اس لئے طوالت کا باعث ہوگا۔
    اور بعد میں جب رجوع کرلیا ہوگا تو پھر ان سے روایت بھی کی ۔
    امام ابو یوسف ؒ سے بھی روایت مجالس دینوریؒ میں صحیح سند سے موجود ہے ۔
    اور جو نام نہیں لیا تو وہ بھی بعض اصحاب الحدیث کی وجہ سے جو صاحب رائے کا نام سن کر بدک جاتے تھے ۔
    ابھی امام احمدؒ کے بارے میں گفتگو نہیں کرنی تھی اس لئے صرف ایک عبارت نقل کر کے ختم کرتا ہوں ۔
    حافظ ذہبیؒ مناقب میں صحیح سند سے نقل کرتے ہیں ۔

    قَالَ ابْنُ كَأْسٍ: ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: " لَمْ يَصِحَّ عِنْدَنَا أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، هُوَ مِنَ الْعِلْمِ بِمَنْزِلَةٍ! فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! هُوَ مِنَ الْعِلْمِ، وَالْوَرَعِ، وَالزُّهْدِ، وَإِيثَارِ الدَّارِ الآخِرَةِ بِمَحَلٍّ لا يُدْرِكُهُ فِيهِ أَحْمَدُ، وَلَقَدْ ضُرِبَ بِالسِّيَاطِ عَلَى أَنْ يَلِيَ الْقَضَاءَ لأَبِي جَعْفَرٍ فَلَمْ يَفْعَلْ "

    امام احمدؒ کے شاگرد امام ابوبکر مروزیؒ ۲۹۲ھ (جو خود بھی ثقہ حافظ الحدیث تھے) نے امام احمد ؒ کو فرماتے سنا کہ’’ہمارے نزدیک یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ابوحنیفہؒ نے قرآن کو مخلوق کہا ہے ۔
    ابوبکر مروزیؒ نے کہا ۔ اے ابوعبداللہ(یعنی امام احمدؒ) الحمد لِلہ، اُن(ابوحنیفہ) کا علم میں بڑا مقام ہے ۔
    اس پر امام احمدؒ بولے
    سبحان اللہ ۔ وہ علم میں ، پرہیزگاری ،دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے میں ایسے مقام پر فائز تھے کہ جس پر کوئی نہیں پہنچ سکا ۔
    ان کو ابوجعفر(منصور) کے زمانے میں عہدہ قضاء قبول کرانے کے لیے کوڑوں سے زخمی کیا گیا ۔ لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے ۔

    خطیب بغدادیؒ نے صرف پہلا جملہ نقل کیا ہے ۔ آگے کی عبارت جس میں ابوبکر المروزیؒ اور امام احمد ؒ نے امام ابوحنیفہؒ کی انتہائی تعریف کی وہ نقل نہیں کی ۔ وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔
    لیکن امام ابوحنیفہؒ کے ترجمہ میں امام احمدؒ کے آخری عمر کا ایک قول نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ اوپر والی تعریف امام احمدؒ نے آخری دور میں ہی کی تھی۔ کیونکہ ان دونوں میں کوڑے پڑنے پر تبصرہ ہے ۔

    یعنی امام احمدؒ آخری دور میں امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں اچھی رائے بلکہ بہت اچھی رائے کے ہی قائل ہوگئے تھے ۔

    وقال النخعي: حَدَّثَنَا إبراهيم بن مخلد البلخي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن سهل بن أبي منصور المروزي، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّد بن النضر، قال: سمعت إِسْمَاعِيل بن سالم البغدادي، يقول: ضرب أَبُو حنيفة على الدخول في القضاء فلم يقبل القضاء، قال: وكان أَحْمَد بن حنبل إذا ذكر ذلك بكى وترحم على أبي حنيفة، وذلك بعد أن ضرب أَحْمَد.

    یعنی جب امام ابوحنیفہ کوکوڑوں سے مارا پیٹا گیا ۔تو امام احمد اس کو یاد کر کے رو پڑتے اور امام ابوحنیفہؒ کے لئے دعائے رحمت کرتے اور یہ امام احمدؒ کو خود جب اسی آزمائش سے گزرنا پڑ ا یعنی ان کو بھی زدوکوب کیا گیا ۔۔یہ اس کے بعد کی بات ہے ۔

    اسی لئے مشہور حنبلی عالم سلیمان نجم الدین الطوفی حنبلیؒ 716هـ جو ذہبیؒ ، ابن تیمیہؒ کے ہمعصرہیں ،
    نے اصول فقہ پر اپنی کتاب شرح مختصر الروضة میں جو لکھا ہے وہ بالکل صحیح ہے کہ آخر میں جو امام احمدؒ سے صحیح بات منقول ہے وہ ان (امام ابوحنیفہؒ) کے بارے میں اچھا قول اور تعریف ہی ثابت ہے ۔
    جیسا کہ ہمارے اصحاب(حنابلہ) میں سے ابوالوردؒ نے اپنی کتاب اصول الدین میں ذکر کیا ہے ۔
    وَآخِرُ مَا صَحَّ عَنِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِحْسَانُ الْقَوْلِ فِيهِ، وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ. ذَكَرَهُ أَبُو الْوَرْدِ مِنْ أَصْحَابِنَا فِي كِتَابِ «أُصُولُ الدِّينِ»

    واللہ اعلم۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ۲۔حدیث ابی یعلی ۱

    1413 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ الحديث…..

    یہ حدیث ترمذی ؒوغیرہ میں ہے اس لئے یہ زوائد میں شامل نہیں ۔غالباََ اسی لئے المقصد العلي في زوائد أبي يعلى اور مجمع الزوائد میں ذکر نہیں کی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۳۔حدیث ابی یعلی ۲

    1612 - قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ وَأَنَا حَاضِرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ أَكْلِ الْأَرْنَبِ؟ فَقَالَ: ادْعُ لِي عَمَّارًا، فَجَاءَ عَمَّارٌ، فَقَالَ: حَدِّثْنَا حَدِيثَ الْأَرْنَبِ يَوْمَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَهْدَى أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْنَبًا فَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنِّي رَأَيْتُ دَمًا، فَقَالُ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ» ، ثُمَّ قَالَ: «ادْنُ فَكُلْ» ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: «صَوْمُ مَاذَا؟» ، قَالَ: أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، قَالَ: «فَهَلَّا جَعَلْتَهَا الْبِيضَ»

    اس پر ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    6056 - عَنْ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.


    یہ حدیث طبرانی فی الکبیر میں ممکن ہے ہو بہرحال مجھے نہیں ملی ۔ اور ابو یعلی میں ہے ۔
    حافظ ہیثمیؒ کی جرح بہت مبہم ہے اور معلوم نہیں ضعف کی وجہ کیا ہے ۔
    اور خاص امام ابوحنیفہؒ پر تو اعتراض بالکل نہیں ہوسکتا کیونکہ ہیثمیؒ نے مسند ابی یعلی کے زوائد پر الگ سے جو کتاب لکھی ہے مقصد العلی ۔اس میں اس حدیث کی سند بیان کی ہے اس میں ابو حنیفہؒ کا نام ہی نہیں ۔

    632 - قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ وَأَنَا حَاضِرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلا سَأَلَهُ عَنْ أَكْلِ الأَرْنَبِ.

    چناچہ بات اور زیادہ مبہم ہے ۔
    علل دارقطنی میں اس روایت کی سند میں کافی اختلاف بتایا گیا ہے ۔ ممکن ہے ہیثمیؒ نے اس کی وجہ سے حکم لگایا ہو۔

    یا پھر ۔۔ہیثمی ؒ میزان الاعتدلال ذہبیؒ پر ہی اکثر اعتبار کرتے ہیں ۔جیسا کہ ان کے مقدمہ سے بھی کچھ ظاہر ہوتا ہے ۔ اور کتاب سے بھی ۔ اور میزان میں اس روایت کے ایک راوی ابن حوتکیہ کے بارے میں ذہبی ؒ نے فرمایا ہے ۔لایعرف ۔ اس لئے ممکن ہے ہیثمیؒ نے اسی پر اعتماد کیا ہو۔اور راوی کو مجہول سمجھ کر حکم لگایا ہو۔

    واللہ اعلم۔

    ویسے یہ حدیث ضعیف نہیں ہے ۔کتاب الآثار میں ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۴۔حدیثابی یعلی ۳

    5086 - حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» ، فَأَمَّا الْعَجُّ: فَالتَّلْبِيَةُ، وَأَمَّا الثَّجُّ: فَنَحَرُ الْبُدْنِ
    [حكم حسين سليم أسد] : إسناده حسن

    مجمع الزوائد میں یہ حکم لگایا گیا ہے ۔

    5378 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَجُلٌ ضَعِيفٌ.

    کوئی وضاحت نہیں کہ کس کو کہا ہے ۔ اس میں ایک راوی ہیں ابو ہشام الرفاعی
    یہ مسلم کے راوی ہیں اس لئے ہیثمیؒ نے اگرچہ کئی جگہہ ان کی روایات کے بارے میں رجالہ رجال الصحیح فرمایا ہے ۔
    لیکن صحیح کے رجال ہونا ضروری نہیں کہ ہر روایت پر اس کا اثر ہو ۔ ظاہر ہے صحیحین کے بعض رجال پر بھی جرح موجود ہے ۔ اور یہ حدیث تو صحیحین کی نہیں ہے ۔
    اور ان راوی پر کتب رجال میں بہت زیادہ جرح موجود ہے ۔
    ۔حتی کے امام بخاریؒ کا قول یہاں تک موجود ہے ۔قال البخاري رأيتهم مجمعين على ضعفه۔
    اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی تقریب میں لیس بالقوی کہا ہے ۔
    اس لئے ہوسکتا ہے ان کی طرف اشارہ ہو ۔
    ہمارے نزدیک وہ ضعیف نہیں ہیں ۔ ویسے حدیث کتاب الآثار میں ہے ۔
    یہ مشکل مقام ہے ۔ لیکن کوئی دلیل یا وضاحت نہیں جس سے واضح ہو کہ خاص اِس حدیث میں ہیثمیؒ کا اشارہ کس کی طرف ہے ۔ بالکل مبہم ہے ۔
    واللہ اعلم۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۵۔ ابو یعلی ۴

    5268 - حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا كَذَبْتُ مُذْ أَسْلَمْتُ إِلَّا كِذْبَةً، كُنْتُ أَرْحَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الطَّائِفِ، فَقَالَ: أَيُّ رَاحِلَةٍ أَعْجَبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: الطَّائِفِيَّةُ الْمُنَكَّبَةُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُهَا، قَالَ: فَلَمَّا رَحَلَهَا فَأَتَى بِهَا، قَالَ: «مَنْ رَحَلَ لَنَا هَذِهِ؟» ، قَالُوا: رَحَلَ لَكَ الَّذِي أَتَيْتَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ، قَالَ: «رُدُّوا الرَّاحِلَةَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ»

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    15566 - «وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.


    کوئی وضاحت نہیں کہ کیا اعتراض ہے ۔
    بلکہ شوافع محدثین کے اصول میں اس میں چونکہ انقطاع ہے امام ابوحنیفہؒ کے استاذ الہیثمؒ اور حضرت عبداللہؓ کے درمیان ۔
    اس لئے یہی وجہ ہوگی۔ البتہ طبرانی کی سند دوسری ہے اور متصل ہے

    ۶۔معجم کبیر ۱

    10366 - حدثنا أحمد بن رسته الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا الحكم بن أيوب عن زفر بن الهذيل عن أبي حنيفة عن معن بن عبد الرحمن عن أبيه عن عبد الله بن مسعودؓ قال :

    اس پر اعتراض کی وجہ جو نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ
    اس سند میں ایک راوی ہے محمد بن المغیرہ ۔
    ہیثمیؒ نے ایک جگہ نام لے کر اس پر جرح کی ہے ۔

    13120 -
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الشَّهْرُزُورِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.


    چناچہ اس وجہ سے ہیثمیؒ کے نزدیک ضعیف ہوگی۔
    یہاں تک تو بات ہیثمی ؒ کی طرف سے مکمل ہوگئی ۔

    لیکن یہاں ہیثمیؒ سے راوی کے تعین میں وہم ہوا ہے ۔ کیونکہ طبرانی کی اس روایت میں انہوں نے محمد بن المغیرہ الشہرزوری کو ضعیف کہا ہے ۔ حالانکہ طبرانی کی سند میں الشہرزوری نسبت نہیں ہے ۔

    إبراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا النعمان

    اور یہ راوی محمد بن المغیرہ الشہرزوری ہے بھی نہیں ۔
    اسی طرح پہلی روایت میں بھی نہیں ۔
    اس بارے میں انہوں نے غالباََ میزان الاعتدال ہی پر اعتبار کیا ہے ۔ جہاں شہر زوری کا ترجمہ ہے ۔

    اصل میں یہ راوی محمد بن المغیرہ اصبہانی ہیں ۔ جن کا ترجمہ طبقات اصبہان ، تاریخ اصبہان میں ہے ۔
    جس میں یہ واضح ہے کہ النعمان ان کے شیخ ہیں ۔
    اور شاگرد بھی اصبہانی ہی ہیں ۔
    اور ان کے بارے میں وہاں تعریف منقول ہے ۔ صاحب عبادة وتهجد
    اور ابن حبان
    ؒ نے ثقات میں ذکر کیا ہے ۔
    مُحَمَّد بن الْمُغيرَة الْأَصْبَهَانِيّ يروي عَن النُّعْمَان بن عبد السَّلَام ۔۔۔۔۔
    یعنی یہ راوی ثقہ ہے ۔

    اور محمد بن المغیرہ الاصبہانی ؒ کتاب الآثار ابی حنیفہ بروایت زفر کے ایک نسخہ کی سند کے راوی ہیں ۔
    جیسا کہ طبقات اصبہان میں ہے ۔
    أَحْمَدُ بْنُ رُسْتَةَ بْنِ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ
    كَانَ عِنْدَهُ السُّنَنُ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زُفَرَ، عَنْ أَبِي حُنَيْفه

    احمد بن رسته کے پاس السنن تھی جس کو وہ محمد یعنی ابن مغیرہ اصبہانی عن حکم عن زفر کے واسطہ سے امام صاحب سے روایت کرتے تھے۔
    اور یہ طبرانی کی روایت بھی اسی کی ہے ۔
    اور یہ کتاب الآثار کے باقی نسخوں میں بھی ہے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ۷۔معجم صغیر ۱
    الْقُبْلَةَ فی الصوم کی ایک حدیث ہے وہ صحاح میں ہے اس لئے زوائد میں نہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۸۔معجم صغیر ۲

    104 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ أَبُو بَكْرٍ الْخَزَّازُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ إِلَّا مُصْعَبٌ وَالنَّجْمُ هُوَ الثُّرَيَّا

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    6492 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاهَةُ».
    6493 - وَفِي رِوَايَةٍ: " «مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ أَوْ جَفَّتْ» ".
    رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَلَفْظُهُ: " «إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ» ".
    وَرَوَى الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ. وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.


    یہاں پر انہوں نے امام ابو حنیفہ والی سند پر حکم ہی نہیں لگایا ۔اس لئے اس پر بھی گفتگو نہیں ہوسکتی ۔

    نوٹ ۔ یہی وہ حدیث ہے جس پر جناب البانی صاحب نے اپنے دل میں چھپا راز ظاہر کیا اور دل میں جمع شدہ بھڑاس نکالی۔(اللہ ان کی مغفرت کرے اور درگزرفرمائے )
    اسی کی اکثر سلفی علماء و طلباء اندھی تقلید کرتے ہیں ۔ اندھی یعنی بغیر سوچے سمجھے ، اس لئے کہ اس میں انہوں نے یہ بنیاد فراہم کی کہ جو بھی جرح ہو چاہے عقیدہ پر ہو ، اس کو حفظ پر محمول کرنا ہے ۔اور جو جو توثیق ہو اس کو صرف فقہ پر محمول کردو، اس کی تقلید ۔

    حتیٰ کہ حافظ ابن حجرؒ نے تقریب میں جو فقیہ کہا ہے اس کو جرح بنانے کے لئے مفہوم مخالف بناکر اسے بھی حفظ کی جرح بنا دیا گیا ۔ آدمی جب کسی خاص اثر میں کوئی کام کررہا ہو تو وہ باقی چیزوں سے کیسے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اس کی مثال یہاں ملتی ہے ۔کہ چلیں حافظ ابن حجرؒ کا وہ قول جس میں انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کو ایسے ائمہ جیسا کہا ہے جن پر جرح اثر انداز ہی نہیں ہوسکتی ۔یہ بات جس کتاب میں ہے۔جواہر الدرر، وہ بعد میں چھپی ۔

    اسی طرح حافظ ؒ نے اپنی مشہور کتاب فتح الباری میں بھی ایک جگہہ امام صاحب کی توثیق بیان کی ہے ۔

    رِوَايَةُ الْعَدْلِ لَيْسَتْ بِمُجَرَّدِهَا تَوْثِيقًا فَقَدْ رَوَى أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَثَبَتَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَكْذَبَ مِنْهُ۔۔۔فتح الباری ۹۔۱۱۳

    چلیں وہ بھی دور کہیں ہے ۔

    یہ کتاب تقریب جس کتاب سے ماخوذ ہے یعنی تہذیب التہذیب وہ تو سامنے ہے ۔ جس میں صرف توثیق ہی ہے ۔ پھر کیوں اس سے آنکھیں بند کرلیں ۔
    اور فقیہ کا اپنی مرضی کا مفہوم مخالف لے کر اس کو بھی جرح بنا ڈالا۔

    اسی طرح حافظ ذہبیؒ کی بھی تعریف کو فقہ پر محمول کردیا ،
    حتیٰ کہ اُن کا تذکرۃ الحفاظ میں بغیر جرح ذکر کرنا بھی اس پر اثر نہیں کرسکتا ۔

    اور افسوس تقلید کرنے والوں پر جو ایسی چیز کی بھی تقلید کرلیتے ہیں ۔
    سب نہیں کرتے جو اندھی تقلید نہ کرے وہ نہیں کرتے ۔

    مثلاََ شیخ عبد اللہ بن بازؒ جو مزاجاََ متشدد بھی ہیں اور تقریب التہذیب پر تعلیقات میں کئی جگہہ حافظؒ سے اختلاف بھی کیا ہے
    لیکن امام ابوحنیفہؒ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں ۔

    ۲۷۸۔ ت س . النعمان بن ثابت الكوفي ، ابوحنيفة الامام......
    قال سماحة الشيخ : ونقل في تهذيب التهذيب عن جمع من الأئمة توثيقه والثناء عليه ، ولم ينقل عن أحد منهم تضعيفه .
    (حرر في ٢٨/١٢/١٤١١ھ )
    نكت تقريب التهذيب ابن باز 178-179


    شیخ ابن بازؒ نے واضح فرمایا کہ ۔ حافظ ابن حجرؒ نے اپنی کتاب تھذیب التھذیب میں ائمہ کی ایک جماعت سے ان کے بارے میں صرف توثیق و ثناء ہی نقل ہی کی ہے ۔ اور کسی ایک سے بھی تضعیف نقل نہیں کی ۔

    اسی حدیث پر شیخ شعیب الارنوؤط ؒ نے شرح مشکل الآثار میں مختصر الفاظ میں معترض کی غلطی واضح کی ۔ (شاید اسی جرم میں وہ متعصب حنفی قرار پائے ۔حالانکہ ان کا حنفی ہونا کوئی پکی بات نہیں چہ جائیکہ متعصب)
    دکتور عبد المعطی امین قلعجی نے جامع المسانید، ابن کثیرؒ ج۳۴ص۶۰ پہ کسی اور حدیث کے ضمن میں جواب دیا۔
    اور اسی حدیث پر مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ نے معترض کی علمی انداز سے غلطی واضح کی ۔
    اور ان سے بھی کچھ زیادہ ہی بڑھ کر مولانا عبد الرشید نعمانیؒ نے جواب دیا ۔
    بات کچھ دوسری طرف نکل گئی ۔ ابھی حافظ ہیثمیؒ کی بات ہورہی تھی ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۹،۱۰۔معجم اوسط و کبیر

    5239 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: نَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، كَانَ كَعِدْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    2148 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ غَيْرُ مُتَّهَمٍ بِالْكَذِبِ.


    اورمعجم کبیرسے نقل کرکے

    3387 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مِنْ ضَعْفِ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.


    جناب البانی صاحب مرحوم نے اس روایت میں بھی اپنی روایتی نفرت کا اظہار کیا ۔ معلوم نہیں شاید ان کو شروع زندگی میں والد جو حنفی تھے ان کی طرف سے کوئی سختی کا سامنا کرنا پڑا ، یا کسی اور حنفی کی طرف سے کچھ تکلیف پہنچی ہو اور اس کے رد عمل میں کچھ زیادہ ہی تعصب اور تشدد کا رویہ رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے ۔
    اور ان کی بغیر سوچے سمجھے تقلید کرنے والوں کو سمجھ عطا فرمائے۔
    مثلاََ وہ اس حدیث کو اپنے سلسلہ ضعیفہ میں لائے ہیں ۔ اور ضعیف قرار دیا ہے ۔ اور جوش و خروش سے باقی راویوں کو ثقہ کہا ہے اور امام صاحب کو ضعف کی وجہ قرار دیا ۔
    یہاں تک تو ظاہر ہے ان کا نظریہ تھا ۔لیکن ان کو اتنا اصرار ہے کہ علامہ عراقی ؒ کی اس حدیث کے بارے میں لم یصح کوساتھ ہی اسطرح ذکر کیا کہ جیسے انہوں نے بھی امام صاحب کی وجہ سے لم یصح کہا ہے ۔ اورکہا کہ ہیثمیؒ نے بھی امام صاحب کی طرف اشارہ کیاہے ۔

    تفرد به إسحاق".
    قلت: وهو ابن يوسف الواسطي؛ وهو ثقة، وكذلك سائر رجال الإسناد؛ غير أبي حنيفة رحمه الله؛ فإن الأئمة قد ضعفوه۔۔۔۔۔ ولذلك؛ قال الحافظ العراقي:
    "لم يصح"؛ كما نقله الشوكاني (3/ 16) .
    وقد أشار إلى تضعيف أبي حنيفة الحافظ الهيثمي بقوله عقب الحديث:
    "رواه الطبراني في "الكبير"؛ وفيه من ضعف [في] الحديث".

    یہ ائمہ قد ضعفو ، پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں اس پر علماء کچھ اظہار کر چکے ہیں جیسا کہ گزرا ۔ ابھی بس ایک جملہ کہنا ہے کہ احادیث و رجال میں ان کا طرز عمل اکثر جگہہ جیسے وہ ظاہر بھی کرتے ہیں وہ اپنے زعم میں تحقیقاََ ہے ۔ یعنی محدثین کی تحقیق پر صرف اعتماد نہیں بلکہ خود اس کی تحقیق کرنا ۔

    لیکن امام صاحبؒ پر جرح کرنے والوں کی بالکل تحقیق نہیں کرنی بلکہ تقلید کرنی ہے ۔البتہ تشریح کرنی ہے اپنی مرضی کی ۔ اور ان کی ثقاہت بیان کرنے والوں کی تحقیق بھی اور تشریح اور معانی بھی اپنے بیان کرنے ہیں ۔

    اوپر ان کے طرز کو ملاحظہ کیجئے کہ ایک تو اپنا نظریہ بیان کیا ہے تو اس میں عراقیؒ اور ہیثمیؒ کو بھی مقید کر رہے ہیں ۔
    اورپاس دلیل بھی کوئی نہیں ۔ اوپر جو میں نے نقل کیا ہے انہوں نے اپنی روایتی نفرت و تعصب کا مظاہرہ کیا وہ اس عبارت کے بعد ہے۔
    اگر (بالفرض تھوڑی دیر کے لئے مان لیا جائے کہ ہیثمیؒ نے امام صاحبؒ کو ضعیف کہا ہے ، تو نام کیوں نہیں لیا۔
    تو پھر حسن ظن کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ یوں کہا جائے کہ ادباََ انہوں نے نام نہیں لیا ۔ لیکن کَیا کیا جائے بدگمانی کا جس سے وہ ہیثمیؒ کے ذمہ عجیب بات لگاتے ہیں ۔

    وكأنه لم يتجرأ على الإفصاح باسمه؛ اتقاء منه لشر متعصبة الحنيفة في زمانه، كفانا الله شر التعصب وأهله!!

    اس طرح کے جملے قابل تبصرہ نہیں ہوتے ۔اس لئے ترجمہ کی بھی ضرورت نہیں ۔ ویسےبھی مرحوم وفات پاچکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور درگزر فرمائے ۔

    پہلے عراقیؒ پر مختصر بات کرتے ہیں پھر ہیثمیؒ پر ۔

    عراقیؒ سے جو لم یصح نقل کیا وہ شوکانی سے نقل کیا ہے اور شوکانیؒ نے معلوم نہیں کہاں سے نقل کیا ۔
    البتہ طرح التثریب عراقی میں یہ الفاظ ہیں ۔
    وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ

    ادھر کوئی وضاحت نہیں کی کہ اس میں کس وجہ سے ضعف ہے ۔ جو اپنی مرضی کا استدلال کرنا چاہتا ہے اسے دلیل پیش کرنی چاہیے ۔ اور جہاں تک بات ہے کہ انہوں نے امام صاحب کی وجہ سے ضعیف کہا تو یہ بالکل غلط ہے ۔

    اس کی تشریح کے لئے علامہ عراقیؒ کی رائے امام صاحب ؒ سے متعلق معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    طرح التثریب دراصل ۔۔ حافظ زین الدین عراقیؒ ۸۰۶ھ نے احاديث احكام كا ايك متن لكھا ۔
    اور اس کی شرح شروع کی جو طرح التثریب ہے ۔
    اور باقی ساری کتاب ان کے بیٹے ولی الدین عراقی ۸۲۶ھ نے لکھی ہے ۔
    اور دونوں شوافع کے بڑے علماء میں سے ہیں اور امید ہے کہ یقیناََ جو نظریہ باپ کا ہے بیٹے کا بھی ہوگا۔
    اگرچہ یہ کتاب دونوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔

    لیکن اوپر والی حدیث کی عبارت بیٹے حافظ ولی الدین عراقیؒ کی ہے ۔جیسا کہ وہ کچھ صفحات پہلے اپنے والد کا تذکرہ کرتے ہیں اوران سے نقل بھی کرتے ہیں ۔ قال والدی، ذکرہ والدی ۔ کہہ کر۔
    اور حافظ ولی الدین عراقیؒ ۸۲۶ھ کا نظریہ ان کی ایک اورکتاب
    شرح جمع الجوامع میں کچھ اس طرح ہے ۔
    جمع الجوامع السبکی شافعیؒ کی مشہور اصول فقہ کی کتاب ہے ۔جس کی کئی بڑے ائمہ نے شروح لکھی ہیں ۔جن میں عراقیؒ بھی ہیں ۔اس میں حافظ السبکیؒ ائمہ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں ۔

    ص: وأَنَّ الشَّافِعِيَّ ومَالِكًا وأَبَا حَنِيفَةَ وَالسُّفْيَانَيْنِ وأَحْمَدَ وَالأَوْزَاعِيَّ وإِسْحَاقَ ودَاوُدَ وسَائِرَ أَئِمَّةِ المسلمين علَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ.

    کی شرح میں علامہ ولی الدین عراقیؒ ۸۲۶ھ فرماتے ہیں ۔
    ش: خِلاَفًا لِمَنْ حَمَلَهُ التَّعَصُّبُ وَالْجَهْلُ علَى القَدْحِ فِي بعضِهم، ومنَاقِبُهُمْ مأَثورةٌ، وفضَائِلُهُمْ مشهورةٌ، ومَنْ طَالَعَ التّوَاريخَ تَيَقَّنَ ذَلِكَ، ويَكْفِي فِي انتشَارِ عِلْمِهِمْ وتَقَرُّرِ جَلاَلَتِهِمْ علَى مَدَى الأَزمَانِ، وذلك لاَ يَقْدِرُ أَحَدٌ علَى أَنْ يَصْنَعَهُ لِنَفْسِهِ ولاَ لِغيرِهِ.
    الغيث الهامع شرح جمع الجوامع ص۷۹۲۔۷۹۳
    ولي الدين أبي زرعة أحمد بن عبد الرحيم العراقي 826هـ


    یہ امام صاحب ؒ کی دوسرے ائمہ کے ساتھ اتنی بلند پایہ توثیق ہے کہ اس کے بعد بھی کوئی سمجھتا ہے کہ حافظ عراقیؒ نے امام صاحب کی وجہ سے اس پر اعتراض کیا ہے تو پھرمزید بات کی ضرورت نہیں ۔

    اب ضرورت تو نہیں کہ وضاحت کی جائے عراقی ؒ کے نزدیک ضعف کی وجہ کیا ہوگی ۔؟پھر بھی تکمیل بحث کے لئے ،
    اندازہ یہ ہے کہ
    اصل میں یہ حدیث طبرانی اوسط میں مرفوع ہے ۔ اور کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہؒ سے ابویوسفؒ اور محمد بن حسنؒ دونوں نے موقوف بیان کی ہے ۔
    شاید اسی لئے طبرانی ؒ نے یہ الفاظ بیان کئے ہیں کہ
    تفرد بہ اسحاق الازرق،
    کئی محدثین ہیں جو روایت میں موقوف و مرفوع کا اختلاف ہو تو اس پر جرح کرتے ہیں ۔

    مثلاََ سلسلہ ضعیفہ میں ہی اسحاق الازرقؒ ہی کی ایک روایت ہے ۔

    - " إنما هو بمنزلة المخاط والبزاق، وإنما يكفيك أن تمسحه بخرقة، أو إذخرة. (يعني المني) ".

    اس روایت کو شیخ البانی نے

    منكر مرفوعا.

    کہا ہے ۔ اور آگے دارقطنی و بیہقی سے اس پرجرح نقل کی ہے کہ

    رواه الدارقطني (46) والبيهقي (2 / 418) من طريق إسحاق بن يوسف الأزرق: أخبرنا شريك عن محمد بن عبد الرحمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فذكره،
    وقال الدارقطني: " لم يرو هـ غير إسحاق الأزرق عن شريك (يعني مرفوعا) ، محمد بن عبد الرحمن هو ابن أبي ليلى ثقة في حفظ شيء ". وقال البيهقي: " ورواه وكيع عن ابن أبي ليلى موقوفا على ابن عباس، وهو الصحيح ".


    یعنی اسحاق الازرق نے شریک سے مرفوع روایت کی ہے اور وکیع نے موقوف اور وکیع کی روایت صحیح ہے ۔

    آگے شیخ البانی نے اس روایت کے تین علل میں سے تیسرا علل بھی یہی بیان کیا ہے ۔

    الثالثة: تفرد إسحاق الأزرق بروايته عن شريك مرفوعا، وهو - أعني الأزرق - وإن كان ثقة، فقد خالفه وكيع وهو أو ثق منه، ولذلك رجح روايته البيهقي

    یعنی اس حدیث میں تیسری علت یہ ہے کہ اسحاق الازرق نے شریک سے مرفوعا روایت کی ہے اور وکیع نے موقوف ۔ اگرچہ اسحاق ثقہ ہیں لیکن وکیع سے زیادہ نہیں ۔ اسی لئے بیہقی نے اس کو ترجیح دی (بلکہ اسکی تصحیح کی)

    آگے البانی صاحب نے اس نظریہ سے اگرچہ اختلاف کیا ہے لیکن بیہقی اور دارقطنی کا تو نظریہ سامنے آگیا۔ اسی لئے البانی صاحب نے اس روایت پر شروع میں منکر مرفوعا کا حکم بھی لگایا ہے ۔

    غور کریں کہ اسحاق الازرق ؒکے ثقہ ہونے میں اختلاف نہیں ۔
    ان کے بارے میں ذہبی ؒ نے ان کے ترجمہ میں یہاں تک نقل کیا ہے کہ

    وكان من أعلم الناس بشريك۔
    یعنی شریک سے روایت کرنے میں سب سے زیادہ اعلم ہیں ۔
    اور یہ روایت شریک سے ہی ہے

    پھر بھی بیہقیؒ اور شاید دارقطنیؒ بھی اس کے مقابلے میں موقوف کو صحیح کہہ رہے ہیں
    تو پھرممکن ہے ۔۔۔ امام ابو حنیفہؒ کی روایت میں بھی ہو سکتا ہے عراقی کو یہی اعتراض ہو کہ ان کے سب سے بڑے شاگرد امام ابویوسف ؒ اور امام محمدؒ امام ابو حنیفہؒ سے موقوف روایت بیان کر رہے ہیں ۔ اور یہ جو طبرانی اوسط کی روایت ہے اس میں اسحاق اس کو مرفوع بیان کررہے ہیں اور بقول طبرانی ؒوہ اس میں متفرد ہیں ۔تو پھر معمولی سا ضعف جو ظاہر کیا ہے وہ بھی یہی ہوسکتا ہے۔

    ایک اور بھی بات ہوسکتی ہے جو ہیثمیؒ کی عبارت کی ضمن میں آرہی ہے ۔

    نوٹ ۔ طبرانیؒ وغیرہ جن کے بھی نزدیک اسحاقؒ اس میں منفرد ہیں ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ مسانید ابی حنیفہؒ میں کئی اصحاب اس کو امام صاحب سے مرفوع اور کئی موقوف بیان کرتے ہیں ۔

    علامہ ہیثمیؒ کا بھی اشارہ امام صاحب کی طرف نہیں ہے ۔ بلکہ زیادہ ظاہر یہی ہے کہ کوئی اور وجہ ہے مثلاََ
    اس میں جو راوی ۔مہدی بن حفص ۔ ہے اس کی
    معاجم ثلاثہ اور مسند بزار میں اوپر والی روایت کے علاوہ
    ۲ حدیثیں نظر آئی ہیں ۔
    ایک
    3896 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا مهدي بن حفص ثنا علي بن ثابت عن الوازع بن نافع العقيلي عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس پر ہیثمیؒ نے جرح الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ راوی پر کی ہے جو متروک ہے ۔

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

    دوسری مسند بزار میں ہے ۔

    1354 -وَعَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ».
    رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَخْطَأَ فِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ. قُلْتُ: كَذَا قَالَ، وَيَأْتِي حَدِيثُ عَوْسَجَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِيهِ.


    جیساکہ ہیثمیؒ نے ہی کشف الاستار میں نقل کیاہے ۔
    اور مجمع الزوائد میں بھی یوں ہی نقل کیا ۔

    299 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ۔۔۔۔۔۔۔
    قَالَ الْبَزَّارُ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَخْطَأَ فِيهِ مَهْدِيٌّ.
    قُلْتُ: كَذَا قَالَ، وَيَأْتِي حَدِيثُ عَوْسَجَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِيهِ.

    حافظ ہیثمیؒ کی عادت ہے کہ سند پر حکم لگاتے ہیں اور علل ذکر کرتے ہیں ۔ یہاں پر انہوں نے روایت پر بزارؒ کی جرح جو مھدی بن حفص پر ہے کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی اضافہ بھی نہیں کیا ۔ یعنی اس علت پر وہ ان کی موافقت کر رہے ہیں ۔

    اب آپ دیکھیں کے میرے علم کے مطابق جو کل تین احادیث ہیں مہدی بن حفص کی، ان تینوں کی کم از کم تصحیح ہیثمیؒ نے نہیں کی ۔ اور ایک میں واضح ان کی خطا کرنے میں بزارؒ کی موافقت بھی محسوس ہورہی ہے ۔

    ابھی راقم سطور کو مہدی بن حفص کو ضعیف نہیں ثابت کرنا ،
    وہ ثقہ ہی ہوں گے جیسے خطیبؒ اور دارقطنیؒ سے منقول ہے ۔
    لیکن سب کا نتیجہ ایک جیسا نہیں ہوتا ۔ تو ہوسکتا ہے ہیثمیؒ کا اُن کے بارے میں نظریہ وہ نہ ہو جو اِن کا ہے ۔
    آخر کو حافظ ابن حجرؒ نے بھی تو تقریب میں مہدی بن حفص کو صرف مقبول درجہ کا کہا ہے ۔ جو کہ نیچے کا درجہ ہے ۔ حتی کہ بقول ان کے یہ ایسا راوی ہوتا ہے جو متابعت کا محتاج ہوتا ہے ۔(یہ حافظؒ کا قاعدہ کلی نہیں اکثری ہے )

    ان باتوں سے بس یہ بتانا مقصود ہے کہ
    جو صاحب،اپنے نظریہ میں کسی پرانے عالم کو بھی مقید کرنا چاہتے ہیں ،وہ غور کریں کہ یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ ہیثمیؒ کی جرح اس راوی پر ہو جس کی احادیث کی تصحیح انہوں نے نہیں کی۔ اورجس کی طرف نام لے کر خطا منسوب کی ہے ۔
    اور جس کا نام بھی نہیں لیا ۔ اور عنقریب آئے گا کہ اس کی توثیق و تحسین بھی کی ہے ۔ ۔وہ کیوں مراد لیا جائے؟۔
    کیوں ان کے ذمہ وہ بات لگا رہے ہیں جو ان سے ثابت نہیں؟

    آخر میں اس حدیث کے بارے میں ایک اور عجوبہ بھی دیکھتے جائیں کہ جناب البانی صاحب نے اس حدیث کو سلسلہ ضعیفہ میں ذکر کیا اور ضعیف کہا پھر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دوسرے شواہد بیان کرکے آخر میں لکھا۔

    ثم أخرج ابن أبي شيبة مثله عن عائشة، وابن مسعود، وكعب بن ماتع، ومجاهد، وعبد الرحمن بن الأسود موقوفاً عليهم.
    والأسانيد إليهم كلهم صحيحة - باستثناء كعب -، وهي وإن كانت موقوفة؛ فلها حكم الرفع؛ لأنها لا تقال بالرأي؛ كما هو ظاهر.

    یعنی ایسی روایات کئی صحابہؓ سے موقوفاََ صحیح ہیں۔
    اور ان کا حکم مرفوع کا ہے کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی ۔

    اس تناقض کا کیا کریں ۔ جب یہ موقوف صحیح ہے اور حکماََ مرفوع بھی ہے پھر اس کو ضعیفہ میں ذکر ہی کیوں کیا ۔
    ایسا کیوں لگتا ہے کہ کسی ایک شخص کی طرف سے کچھ سینہ میں تنگی ہے ۔

    وجہ اوپر کی سطور میں کچھ بتائی گئی ہے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ____________

    ۱۱۔حدیث معجم اوسط ۔۲


    1602 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا بِشْرٌ قَالَ: نا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي دَرَاهِمْ، فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً، وَصَنَعُوا لَهُ مِنْهَا طَعَامًا، فَأَخَذَ مِنَ اللَّحْمِ شَيْئًا لِيَأْكُلَهُ، فَمَضَغَهُ سَاعَةً لَا يُسِيغُهُ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُ هَذَا اللَّحْمِ؟» فَقَالُوا: شَاةٌ لِفُلَانٍ، ذَبَحْنَاهَا حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُهَا، فَنُرْضِيهِ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى»

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں۔

    6870 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى «۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِشْرٌ الْمَرِيسِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

    یہاں پر اعتراض بشر مریسی پر ہے کسی اور راوی پر نہیں کیا ۔
    اور اس میں ہیثمیؒ سے وہم ہوگیا ہے کہ بشر سے مراد بشر مریسی ہیں ۔ اگرچہ وہ بھی ابویوسفؒ کے شاگرد ہیں لیکن یہاں پر بشر سے مراد بشر بن ولید ہیں ۔ جیسا کہ مسانید ابی حنیفہؒ میں ہے ۔

    اور وہ ہیثمیؒ کے نزدیکبِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَنَدِيُّ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ ۔ہیں ۔یعنی توثیق کی طرف ہی رجحان ہے ۔اور باقی راوی بھی ہیثمیؒ کے نزدیک ثقہ ہی ہوں گے کیونکہ انہوں نے کسی اور پر کلام نہیں کیا ۔

    اور یہ حدیث کتاب الآثار بروایت ابویوسف میں ہے ۔

    ___________

    ۱۲۔حدیث معجم اوسط ۔۳

    1605 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا بِشْرٌ قَالَ: نا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادٍ إِلَّا أَبُو حَنِيفَةَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ سُفْيَانَ: مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ: أَبُو يُوسُفَ "

    صحاح ستہ میں ہے ۔ چناچہ زوائد میں نہیں ہے ۔

    ____________

    ۱۳۔حدیث معجم اوسط ۔۴

    1819 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا أَبُو سُلَيْمَانَ الْجَوْزَجَانِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ بِلَالٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»

    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَهْبٍ إِلَّا بِلَالٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو حَنِيفَةَ "

    یہ حدیث سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں ہے ۔ اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہونی چاہیے ۔ لیکن کے نسخہ میں راوی جابر بن عبداللہؓ کی بجائے جریر بن عبداللہ ہے ۔
    مجمع البحرین فی زوائد معجمین طبرانی میں بھی یہی سند ہیثمیؒ نے نقل کی ہے اور جابرؓ کی جگہہ جریر نقل کیا ہے ۔
    محقق کا کہنا ہے کہ یہاں طبرانی اوسط کے مخطوطہ کا صفحہ موجود نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس حدیث کو معجم اوسط میں نہیں دیکھا۔ لیکن معجم اوسط جو چھپی ہوئی ہے اس میں یہ موجود ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے ۔

    مجمع الزوائد میں یہ عبارت ہے ۔

    2853 - وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ».
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ.


    اس روایت کی سند میں کچھ تصحیف ہے ایک تو جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ یہ جابرؓ سے طبرانی میں ہے ۔ اور ہیثمیؒ اس کو جابر ؓ کی بجائے جریر نقل کرتے ہیں ۔ایک اور راوی کے نام میں بھی کچھ مسئلہ لگ رہا ہے ۔جو امام ابوحنیفہؒ سے راوی ہیں ۔ محمد بن اسحاق ۔ یہ کون ہیں ۔

    اگرمحمد بن اسحاق امام المغازی ہیں تو وہ اگرچہ مسانید میں امام صاحب سے روایت کرتے ہیں ،لیکن یہاں وہ نہیں ہیں ۔ یہ تصحیف ہےیا معجم اوسط کے نسخہ میں ہی کچھ مسئلہ ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ روایت کتاب الآثار کی ہے ۔ اور مسانید میں اس کی بہت سی اسانید ہیں ۔اور اس سند میں امام محمد بن الحسن ہیں ۔ محمد بن اسحاق نہیں ۔

    اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ طبرانیؒ کے معاجم میں امام صاحب ؒ کی جتنی بھی مرویات ہیں ۔

    غالباََ ساری حافظ ابو نعیم اصفہانیؒ نے اپنی مسندابی حنیفہؒؒ میں اپنے شیخ طبرانیؒ سے نقل کی ہیں ۔ اور یہ روایت بھی ان میں سے ہے ۔ اور اسی سند سے ہے ۔ اور اس میں امام محمد بن الحسن ہی ہیں ۔اور صحابی جابرؓ ہیں ۔

    ہوسکتا ہے مجمع البحرین زوائد معجمین ، اور مجمع الزوائد دونوں کے مخطوطوں میں غلطی ہو ۔

    لیکن ایسا اس لئے نہیں لگ رہا ۔ کیونکہ جیساکہ پہلے یہ کہا گیا کہ یہ روایت جابرؓ سے صحاح میں ہے تو زوائد میں نہیں ہونی چاہیے ۔لیکن ہے ۔اور جریر سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیثمیؒ نے اس کو اوسط کے جس نسخہ سے نقل کیا ہے ۔ اس میں کچھ تصحیف یا غلطی تھی ۔اور سند یہ تھی ۔

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا أَبُو سُلَيْمَانَ الْجَوْزَجَانِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ بِلَالٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جرير بن عبدالله ......
    چناچہ انہوں نے اس کو زائد روایت سمجھا اور اسی پر حکم لگایا ہے شاید ۔
    واللہ اعلم ۔

    اگر اس پر لگایا ہے تو پھر اس میں ایک اعتراض یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اس میں محمد بن اسحاق کو امام مغازی سمجھے ہوں ۔
    اور وہ اس میں عن سے روایت کر رہے ہیں ۔ ہیثمیؒ نے لاتعداد جگہوں پر ان کی تحدیث کو صحت کے لئے لازمی فرمایا ہے ۔
    2017 - وَعَنْ ۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ عَنْعَنَهُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ
    2067 - عَنْ ۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.


    یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے اور ہو سکتاہے تصحیف کی وجہ سے تعین نہ کرسکے ہوں ۔

    واللہ اعلم ۔

    اگر یہ بھی نہ ہوتو
    اس میں راوی بلال ہیں ان پر بعض حضرات مثلاََ دارقطنی ؒ ، ابن قطانؒ نے جہالت کی جرح کی ہے ۔
    اور حافظ ابن حجر نے مقبول قرار دیا ہے ۔
    ایک یہ راوی بھی ہو سکتے ہیں ۔
    شاید ہیثمیؒ کی رائے میں یہ راوی ہوں خصوصاَََ اس لئے کہ بقول ان کے وہ میزان ذہبیؒ پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں ۔ اور میزان میں بلال پر جرح ہے ۔
    بہرحال کوئی وضاحت نہیں کہ کیوں ضعیف ہے ۔ کون ضعیف راوی ہے ۔
    یہ سب ہیثمیؒ کی طرف سے احتمالات پیش کئے گئے ہیں ۔
    ورنہ روایت کتاب الآثار کی ہے ضعیف بالکل نہیں ہے ۔

    _____________________

    ۱۴ ، ۱۵۔حدیث معجم اوسط ۔۵، معجم کبیر ۳

    3161 - حَدَّثَنَا بَكْرٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ: نا أَبُو حَنِيفَةَ النُّعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ الْمَوْتَ أَنِّي أُرِيتُكِ زَوْجَتِي فِي الْجَنَّةِ»

    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادٍ إِلَّا أَبُو حَنِيفَةَ وَمِسْعَرٌ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو مُعَاوِيَةَ

    98 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا أبو معاوية محمد بن خازم عن أبي حنيفة النعمان بن ثابت عن حماد عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إنه ليهون علي الموت اني أريتك زوجتي في الجنة )

    ایک معجم اوسط کی اور دوسری معجم کبیر کی روایت ہے ۔

    ہیثمیؒ سے غالباََ یہ حدیث چھوٹ گئی ہے حالانکہ یہ زوائد میں سے ہے ۔ یہ دوسری سند اور ہم معنی الفاظ کے ساتھ مسند احمد میں بھی ہے ۔ جس کے بارے میں ابن کثیرؒ تاریخ میں فرماتے ہیں ۔ تفرد بہ احمد ۔ وہ بھی ذکر نہیں کی۔

    اس حدیث پر شیخ شعیب اور ان کے رفقاء کو مسند احمد کے حاشیہ میں اعتراض ہے ۔ ان کے اعتراض میں وزن نہیں ہے ۔

    امام ابوحنیفہؒ والی سند میں ان کو امام حمادؒ اور ان کے تفرد پر اعتراض ہے جو کہ بالکل غلط ہے ۔ اور مسند احمد کی روایت میں راوی کے مجہول ہونے کا شکوہ کرتے ہیں ۔ جبکہ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں ۔ اسنادہ لا باس بہ۔

    بہرحال ہیثمیؒ سے یہ روایت غالباََ چھوٹ گئی ہے ۔

    ____________

    ۱۶۔حدیث معجم اوسط ۔۶

    3314 - حَدَّثَنَا الْبَخْتَرِيُّ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ قَالَ: نَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُرُوجِ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ

    یہ بھی ذکر نہیں کی شاید اس لئے کہ اس سے ملتی جلتی روایت ابن عمر ؓ سے ہی صحاح میں ہے ۔

    لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهُ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ۔۔۔۔۔۔۔

    ____________

    ۱۷۔حدیث معجم اوسط ۔۷

    3723 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ ۔۔۔۔۔۔

    3724 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فِي الِاسْتِخَارَةِ»
    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ إِلَّا الْمَسْعُودِيُّ "


    یہ دوسری سند اس لئے نقل کی ہے کہ حافظ ہیثمیؒ نے اس میں سے دوسری کو نقل کیا ہے ۔پہلی نقل ہی نہیں کی ۔

    3673 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا إِنَّهُ قَالَ فِي الصَّغِيرِ: " «فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَاصْرِفْ عَنِّي الشَّرَّ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِقَضَائِكَ» ".
    وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ رَجُلٌ ضَعْفٌ فِي الْحَدِيثِ.


    استخارہ کی روایت کو معاجم ثلاثہ کی طرف منسوب کیا ہے ۔
    کبیر کی سند امام صاحب والی نہیں ہے ۔
    اوسط کی ایک سند امام صاحب والی ہے ، دوسری سند اور ہے ۔ اور وہ جو دوسری ہے وہی صغیر میں ہے ۔وہ بھی امام صاحب والی سند نہیں ۔یعنی انہوں نے امام صاحب والی سند نقل ہی نہیں کی ۔اس لئے یہ بھی بحث سے خارج ہے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ___________

    ۱۸۔حدیث معجم اوسط ۔۸

    4079 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: نا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ رُشَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ، فَنَهَاهُ وَأَمَرَهُ، فَقَتَلَهُ»

    ہیثمیؒ نے ۲ جگہہ اس کو نقل کیا ہے

    12165 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ» ".

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفٌ.

    15466 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ» ".

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

    اس میں بھی کوئی واضح نہیں کیا کہ کونسا شخص ضعیف ہے ۔
    اس میں ایک راوی حسن بن رشید ہیں ۔ ان پر ایک حدیث میں انہوں نے جرح کی ہے ۔

    4896 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» ".
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ رُشَيْدٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.


    اس میں مجمع الزوائد میں حسین بن رشید ہے لیکن محقق فرماتے ہیں کہ صحیح حسن بن رشید ہے کیونکہ طبرانی فی الکبیر میں حسن بن رشید ہے

    11449 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ رُشَيْدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»

    چناچہ کوئی پتہ نہیں کس کی وجہ سے ضعف ہے ۔جب نام لے کہ ایک راوی پر جرح ہے تو پھر شک بھی اسی پر جائے گا۔

    معجم اوسط کی اس روایت کی سند کے بارے میں
    حافظ ابن حجرؒ نے الامالی المطلقہ۱۔۱۹۷پر فرمایا ہے ۔

    تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ
    قُلْتُ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَشَيْخُهُ مَجْهُولٌ
    لَكِنْ لِهَذَا الْمَتْن الَّذِي رَوَاهُ شَوَاهِدٌ


    پھر ہیثمیؒ کا اشارہ بھی اُن کی طرف ہوسکتاہے ۔

    نوٹ۔ یہ راوی امام ابوحنیفہؒ سے نیچے کے ہیں ۔
    اور مسانید ابی حنیفہؒ ، تمہید ابن عبد البرؒ اور کچھ دوسری کتب میں نیچے کے راویوں میں بھی مختلف اسانید ہیں اور شواہد ہیں ۔ بہرحال ابھی یہ موضوع سے خارج ہے ۔

    ___________

    ۱۹۔حدیث معجم اوسط ۔۹

    4361 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْقِرَبِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الذُّهْلِيُّ قَالَ: نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَوَجَدْتُ بِهَا أَبَا حَنِيفَةَ، وَابْنَ أَبِي لَيْلَى، وَابْنَ شُبْرُمَةَ، فَسَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا وَشَرَطَ شَرْطًا؟ قَالَ: «الْبَيْعُ بَاطِلٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ» ، ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ» ، ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ جَائِزٌ» فَقُلْتُ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، ثَلَاثَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْعِرَاقِ اخْتَلَفْتُمْ عَلَيَّ فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ. فَأَتَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا قَالَا 4361 - م حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَشَرْطٍ، الْبَيْعُ بَاطِلٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ» ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا قَالَا
    4361 - م حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَأُعْتِقَهَا، الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ» ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا قَالَا:
    4361 - م حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً وَشَرَطَ لِي حُمْلَانَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ جَائِزٌ»
    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَابْنِ شُبْرُمَةَ إِلَّا عَبْدُ الْوَارِثِ "


    ہیثمیؒ فرماتے ہیں

    6386 - وَعَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعْدٍ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَقَالٌ.

    یہاں پھر شک پیدا ہو سکتاہے کہ تین فقہا کےطریق میں سے بھی اس پر اعتراض کیا جس میں ابوحنیفہؒ ہیں ۔
    لیکن نہیں ، دوسرے مقامات سے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے ۔

    یہ عبد اللہ بن عمروؓ کا طریق دراصل ایک مشہور طریق عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ہے ۔اوراس طریق کے بارے میں بحث مشہور ہے۔ بعض اس کو قبول کرتے ہیں بعض اعتراض کرتے ہیں ۔اعتراض انقطاع اور ارسال کا ہے ۔

    ہیثمیؒ بھی اعتراض ہی کرتے ہیں ۔ مجمع الزوائد کے دوسرے مقامات سے اس کی وضاحت ہوتی ہے ۔

    263 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.

    348 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " كُفْرٌ بِامْرِئٍ "، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.

    393 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.

    5445 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ (عَنْ جَدِّهِ)، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ وَقَالَ: " إِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّةً فَعُمْرَةً».
    رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، وَثَّقَهُ ابْنُ
    حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ: خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ. وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.


    ان سب سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس طریق کی تصحیح نہیں کرتے۔ بلکہ وھو مرسل ، اور ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ. کہہ کر اعتراض کرتے ہیں ۔ چناچہ پچھلی روایت پر بھی اس طریق یعنی عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی وجہ سے ہی اعتراض ہوگا۔ کیونکہ اس طریق پر انہوں نے تصریحاََ اعتراض کیا ہے ۔

    ___________

    ۲۰۔حدیث معجم اوسط ۔۱۰


    4489 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَارُ التُّسْتَرِيُّ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُوجِبُ الْمَاءَ إِلَّا الْمَاءُ؟ فَقَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ، وَغَابَتِ الْحَشَفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، أنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ»

    یہ حدیث کتاب الاثار کی ہے ۔اور یہ سنن ابن ماجہ میں ہے ۔ چناچہ زوائد میں شامل نہیں ۔

    ___________

    ۲۱۔حدیث معجم اوسط ۔۱۱


    4490 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَارُ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ»

    یہ ہیثمیؒ نے ذکر نہیں کی ۔

    ___________

    ۲۲۔حدیث معجم اوسط ۔۱۲


    4777 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ قَالَ: ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ زَكَرِيَّا الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَرَجِ الَّذِينَ يُحْرِجُونَ أُمَّتِي إِلَى الظُّلْمِ»

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    9204 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

    دوسری جگہوں سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اسماعیل بن یحیی راوی ان کے نزدیک ضعیف ہے ۔

    ___________

    ۲۳۔حدیث معجم اوسط ۔۱۳


    7142 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ، نَا خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبُو مُطِيعٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ»
    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ إِلَّا أَبُو مُطِيعٍ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ "


    ہیثمیؒ فرماتے ہیں

    10646 -
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.


    معلوم نہیں کس کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ مجمع الزوائد میں دوسری جگہہ پر امام صاحب ؒ کے شاگر ابو مطیعؒ پر ہیثمیؒ نے سخت جرح نقل کی ہے۔چناچہ اس حدیث میں بھی یہی وجہ ہوگی ۔یا کوئی اور جو معلوم نہیں ۔

    (ابو مطیعؒ پر جرح قابل قبول نہیں ، لیکن ابھی اس سے بحث نہیں )

    ___________

    ۲۴۔حدیث معجم کبیر ۔۴


    7277 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا يعقوب بن حميد ثنا حاتم بن إسماعيل عن النعمان بن ثابت عن يعلى بن عطاء عن عمارة بن حديد عن صخر الغامدي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اللهم بارك لأمتي في بكورها

    ہیثمیؒ نے کئی صحابہؓ سے یہ روایت مجمع الزوائد میں نقل کی ہے ۔ لیکن اوپر والی ابوحنیفہؒ کی سند جو صخر الغامدی ؓ سے روایت ہے وہ نقل نہیں کی کیونکہ یہ غالباََ سب سے مشہور طریق ہے جو سنن میں موجود ہے ۔

    ______________

    ۲۴،۲۵۔حدیث معجم کبیر ۔۴،۵

    3767 - حدثنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقري ثنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم : عن أبي عبد الله خزيمة عن النبي صلى الله عليه و سلم في المسح على الخفين : للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن وللمقيم يوم وليلة

    3768 - حدثنا أحمد بن رسته الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا الحكم بن أيوب عن زفر بن الهذيل عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن أبي عبد الله الجدلي : عن خزيمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في المسح على الخفين للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن

    یہ دونوں طریق بھی مشہور حدیث کے ہیں جو صحاح میں ہے ۔ زوائد میں نہیں ہے ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    __________

    ۲۶۔حدیث معجم کبیر ۔۶


    4354 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا سليمان بن عبد الجبار ثنا عبيد الله بن موسى ثنا أبو حنيفة عن أبي حصين عن ابن رافع بن خديج : عن رافع عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه مر بحائط فأعجبه فقال : لمن هذا ؟ قلت : هو لي قال : من أين لك هذا ؟ قلت : استأجرته قال : لا تستأجره بشيء

    معلوم نہیں یہ حدیث مجمع الزوائد میں ملی نہیں ۔ حالانکہ یہ زوائد میں سے ہے ۔
    یہ حدیث کتاب الآثار ابو یوسفؒ ، مسانید ابی حنیفہؒ اور کچھ دوسری کتب میں بھی ہے ۔

    کتاب الخراج میں بھی امام ابویوسفؒ نے اس کو روایت کیاہے
    واحتج أبو حنيفة ومن كره ذلك بحديث أبي حصين عن ابن رافع بن خديج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہرحال ہیثمیؒ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
    واللہ اعلم۔

    __________

    ۲۷۔حدیث معجم کبیر ۔۷


    4387 - حدثنا عبدان بن أحمد حدثنا أحمد بن الحباب الحميري ثنا مكي بن إبراهيم ثنا أبو حنيفة عن سعيد بن مسروق عن عباية بن رفاعة : عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه و سلم أن بعيرا من إبل الصدقة ند فطلبوه فلما أعياهم أن يأخذوه رماه رجل بسهم فأصاب مقتله فسألوه عن أكله فأمرهم بأكله فقال : إن لها أوابد كأوابد الوحش فإذا خشيتم منها شيئا فاصنعوا به مثل ما صنعتم بهذا ثم كلوه

    ہیثمیؒ نے کہا۔

    6042 - وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَهَذَا أَبْيَنُ أَيْضًا.
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مِنْ ضَعْفٍ.


    ضعف کی وجہ معلوم نہیں ۔شاید کسی راوی کا حال وہ نہ جانتے ہوں ۔مثلاََ۔۔۔۔اس میں أحمد بن الحباب الحميري راوی ہیں ان کی توثیق میں ابن حبان ؒ منفرد ہیں ۔
    بعض ائمہ ان کی منفر توثیق سے متفق نہیں ہیں ۔
    ہیثمیؒ اگر متفق بھی ہوں ۔لیکن ہوسکتاہے کہ ان کی نظر سے نہ گزرا ہو کہ ان حبان نے ان کی توثیق کی ہے ۔ یعنی اس کو وہ مجہول سمجھتے ہوں ۔ ۔
    جیسے ایک راوی ہے عَبْد الرَّحْمَن بْن الْفضل بْن موفق اس کی توثیق میں ابن حبان منفرد ہیں ۔ اور ہیثمی ؒ فرماتے ہیں
    عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ

    اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ محدثین کئی وجوہات سے بلکہ کہنا چاہیے اجتہاد سے کئی جگہہ ایک قاعدہ قبول کرتے ہیں اور دوسری جگہہ قبول نہیں کرتے ۔
    جب یہ احتمال ہے تو پھر واضح نہیں ہے کہ اس روایت کو ہیثمیؒ نے کس وجہ سے ضعف کی طرف مسنوب کیا ہے ۔
    وجہ معلوم نہیں ہے ۔

    نوٹ۔ یہ حدیث ضعیف بالکل نہیں ہے مسانید ابی حنیفہ میں کئی مشہور شاگر امام صاحب سے روایت کرتے ہیں ۔
    اور یہ زفرؒ وغیرہ کے روایت کردہ نسخہ کتاب الآثار میں ہے ۔

    __________

    ۲۸۔حدیث معجم کبیر ۔۸


    6536 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن عثمان بن كرامة ثنا عبيد الله بن موسى عن أبي حنيفة عن يونس عن أبيه عن الربيع بن سبرة عن أبيه سبرة قال : نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن متعة النساء يوم فتح مكه

    یہ نہیں ذکر کی ۔صحاح و سنن میں ہے ۔

    __________

    ۲۹۔حدیث معجم کبیر ۔۹


    6565 - حدثنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقري ثنا أبو حنيفة عن أبي الزبير عن جابر : أن سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي قال : يارسول الله أخبرنا عن ديننا هذا كأننا خلقنا له الساعة في شيء نعمل ؟ أفي شيء تثبت فيه المقادير وجرت فيه الأقلام أم في أمر مستأنف ؟ قال : بل فيما تثبت فيه الأقلام قال سراقة : ففيم العمل يارسول الله ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعملوا فكل عامل ميسر لما خلق له وقرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى - بلاإله إلا الله - فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى - قال : لا إله إلا الله - فسنيسره للعسرى

    یہ بھی ذکر نہیں کی۔ اس روایت کے دوسرے طریق ذکر کئے ہیں ۔
    صحیح مسلم میں بھی ہے ۔ کتاب الآثار کی روایت ہے ۔

    ___________

    ۳۰۔حدیث معجم کبیر ۔۱۰


    9272 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن ابن مسعود : أنه صلى بأصحابه في داريه بغير إقامة وقال : إقامة المصري تكفي

    9273 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن الثوري عن حماد عن إبراهيم : أن ابن مسعود و علقمة و الأسود صلوا بغير أذان ولا إقامة

    قال سفيان : كفتهم إقامة المصر

    ہیثمیؒ نے سفیانؒ اور ابوحنیفہؒ دونوں کی روایت سے متعلق یہ فرمایا۔

    1913 - رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.


    یعنی اس روایت پر کوئی جرح نہیں فرمائی سوائے اس کے کہ ابراہیم ؒ نے ابن مسعودؓ سے نہیں سنا ۔

    شاید وہ اس روایت سے واقف نہیں ہیں کہ ابراہیمؒ اگر کئی شاگردوں سے روایت سنیں تو براہ راست ابن مسعودؓ کا نام لیتے ہیں ۔ ان کی مرسل ، مسند سے زیادہ قوی ہوتی ہے ۔

    بہرحال اس کے علاوہ ہیثمیؒ کے نزدیک ان روایات میں اور کوئی علت نہیں۔

    ___________

    ۳۱۔حدیث معجم کبیر ۔۱۱


    9664 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن علقمة قال : سئل ابن مسعود عن العزل فقال : لو أخذ الله ميثاق نسمة في صلب رجل ثم أفرغه على صفا لأخرجه من ذلك الصفا فإن شئت فأتم وإن شئت فلا تعزل

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    7579 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ عَلَى نَسَمَةٍ فِي صُلْبِ رَجُلٍ، ثُمَّ أَخْرَجَهُ عَلَى الصَّفَا لَأَخْرَجَهُ مِنْ ذَلِكَ الصَّفَا، فَإِنْ شِئْتَ فَأَتِمَّ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَعْزِلْ.
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ ضَعِيفٌ لَمْ أُسَمِّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.


    معلوم نہیں کون ضعیف ہے ۔
    ۱۔ امام ابوحنیفہؒ کے استاذ ۔۔۔حمادؒ کے بارے میں ہیثمیؒ نے نام لے کر ایک جگہہ کہا ہے کہ
    وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ حَمَّادَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
    لیکن ایک دوسری جگہہ ان کی روایت کو وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ بھی کہا ہے ۔

    ۲۔ اسحاق بن ابراہیم کی بھی حدیث کے بارے میں بھی دوسرے مقام پر وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ کہا ہے ۔

    باقی رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
    اس جملہ کا کیا مطلب ہے ؟۔

    ایک مطلب تو یہ ہے کہ صحیحین کے رجال ہیں ۔
    یہی مطلب عموماََ لیا جاتا ہے ۔
    لیکن یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ باقی رجال صحیح کے جیسے ہیں ۔

    اس روایت میں دوسرا مطلب ہی نظر آرہا ہے ۔ کیونکہ اس میں امام صاحبَ کے علاوہ عبدالرزاقؒ کے شاگرد اسحاق بن ابراہیمؒ بھی صحیح کے رجال میں سے نہیں ہیں ۔

    اگر کوئی کہے کہ وہ صحیح ابوعوانہؒ کے رجال میں سے ہیں جیسا کہ ذہبیؒ نے فرمایا ہے ۔
    پھر تو امام ابوحنیفہؒ بھی صحیح ابوعوانہؒ کے رجال میں سے ہیں ۔

    اب یہ رجل ضعیف کون ہے ۔

    کبھی محدثین ثقہ پر بھی بعض جگہہ پر جرح کرتے ہیں ۔ یعنی اس کے بعض طریق میں کچھ نکارت یا ضعف ہوتا ہے ۔ وہ راوی مطلق ضعیف نہیں ہوتا ۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اسحاق بن ابراہیم الدبریؒ جو عبد الرزاق ؒ سے راوی ہیں ان پر بعض محدثین کی جرح ہے اور عبد الرزاقؒ سے روایت کرنے میں ہی ہے ۔جو کہ میزان ذہبی۔ اور لسان المیزان میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

    اگرچہ محدثین مصنف عبد الرزاقؒ کی روایات کو مستثنا کرتے ہیں ۔ اور اوپر والی روایت مصنف میں موجود ہے ۔

    کئی حضرات نے تو نقل کیا ہے کہ اسحاق نے مصنف بھی اس وقت سنی جب عبد الرزاق پہ اختلاط کا دور آگیا تھا۔ بہرحال یہ رائے کا بھی اختلا ف ہوسکتا ہے ۔ سب کو معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی روایت مصنف میں ہے یا نہیں ۔

    اس بات کی تائید کے لئے کہ اس میں اعتراض اسحاق بن ابراہیم کی روایت پر ہے دو مثالیں ہیں ۔

    ایک حافظ ابن صلاحؒ نے مقدمہ میں فرمایا ہے ۔
    وجدت فيما رُوي عن الطبراني عن إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق أحاديث استنكرتُها جدا

    یعنی حافظ ابن صلاح فرماتے ہیں کہ طبرانی میں انہوں نے اسحاق بن ابراہیم کی عبد الرزاق سے روایات پائی ہیں جن میں بہت زیادہ نکارت پائی جاتی ہے ۔

    اب یہ اوپر والی روایت بھی طبرانی کی ہے ۔
    دوسرا یہ کہ اسحاق بن ابراہیمؒ کو رجال الصحیح (یعنی وہ راوی جو صحیح راویوں جیسے ہیں ، جیساکہ اس کی تشریح گزری)
    میں سے کہنے کے باوجود نام لے کر بھی دو جگہہ تنقید موجود ہے ۔اور امام صاحب پر نام لے کر کہیں بھی جرح نہیں ۔

    311 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ،
    وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَبِي إِسْحَاقَ.


    1134 - وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ، ……

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فَقَالَ: عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِمَارَةَ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَوَهِمَ فِي اسْمِهِ، وَالصَّوَابُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ. وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

    اس میں ایک روایت میں ان کی طرف وہم کی نسبت کی ہے ۔
    اور پہلی روایت میں حدیث پر حکم لگانے میں بس اتنا کہا کہ اس میں اسحاق الدبریؒ ہیں ۔ وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ
    اس پر واضح
    حکم اس لئے نہیں لگایا کہ یہ ہیں تو ثقہ بعض احادیث میں نکارت یا ضعف کا خدشہ ہے ۔
    شاید اسی لئے مذکورہ حدیث جس پر بحث کی جارہی ہے ۔میں بھی ان کا نام نہیں لیا ۔

    جب اتنا احتمال ہے تو استدلال نہیں ہوسکتا کہ اشارہ امام صاحب کی طرف ہے ۔

    نوٹ ۔ یہ حدیث ضعیف بالکل بھی نہیں ہے ۔ کتاب الآثارابی حنیفہؒ بروایت ابویوسفؒ ، محمد بن الحسن ،حسن بن زیادؒ وغیرہ میں موجود ہے ۔ اور عبد الرزاقؒ بھی امام صاحب کے شاگرد ہیں اور اکثر روایات کتاب الآثار کی ہی روایت کرتے ہیں ۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ___________

    ۳۲۔حدیث معجم کبیر ۔۱۲


    9686 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال قال عبد الله بن مسعود : في البكر يزني بالبكر : يجلدان مئة وينفيان سنة

    ہیثمیؒ نے فرمایا۔
    10593 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي الْبِكْرِ يَزْنِي بِالْبِكْرِ يُجْلَدَانِ مِائَةَ جَلْدَةٍ وَيُنْفَيَانِ سَنَةً.
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.


    اس میں بھی اوپر والی سند ہے چناچہ جو بحث اوپر کی گئی ہے وہ ساری اس پر بھی منطبق ہورہی ہے ۔

    ___________

    ۳۳۔حدیث معجم کبیر ۔۱۳


    9762 - حدثنا عبيد العجلي ثنا أبو كريب ثنا عبد الحميد الحماني عن مسعر بن كدام و أبي حنيفة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء أن عبد الله قال : يعذب الله عز و جل قوما من أهل الإيمان فيخرجهم بشفاعة الشافعين ثم قال : هؤلاء الذين لا تنفعهم شفاعة الشافعين

    یہ حدیث ذکر نہیں کی ۔اس سے ملتی جلتی روایت نقل کی ہے جس میں امام صاحب نہیں ہیں ۔

    ___________

    ۳۴۔حدیث معجم کبیر ۔۱۴


    9893 - حدثنا أحمد بن رستة الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا الحكم بن أيوب عن زفر بن الهذيل عن أبي حنيفة عن حماد عن شقيق بن سلمة عن ابن مسعود قال : كانوا يقولون : السلام على الله السلام على جبريل السلام على رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ولا تقولوا السلام على الله فإن الله هو السلام ولكن قولوا التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله

    یہ ذکر نہیں کی۔
    یہ سنن کبریٰ النسائیؒ وغیرہ میں ہے ۔
    کتاب الآثار ابی حنیفہ کی روایت ہے ۔

    ___________

    ۳۵۔حدیث معجم کبیر ۔۱۵


    10188 - حدثنا هاشم بن مرثد الطبراني ثنا محمد بن إسماعيل بن عياش حدثني أبي ثنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يسلم عن يمينه وعن يساره

    یہ حدیث بھی صحاح ستہ میں ہے اس لئے ذکر نہیں کی۔

    ___________

    ۳۶۔حدیث معجم کبیر ۔۱۶


    12390 - حدثنا عمرو بن أبي طاهر بن السرح المصري ثنا يوسف بن عدي ثنا عبد الرحيم بن سليمان عن النعمان بن ثابت أبي حنيفة عن حماد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بضعفة أهله ليلا إلى جمع و قال لهم : ( لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس )

    یہ روایت سنن میں ہے ۔ ذکر نہیں کی۔
    کتاب الآثار کے بعض نسخ میں ہے ۔

    ___________

    ۳۷۔حدیث معجم کبیر ۔۱۷


    681 - حدثنا أحمد بن رسته الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا الحكم بن أيوب عن زفر عن أبي حنيفة عن حماد عن ابراهيم عن أبي عبد الله الجدلي عن عقبة بن عمرو و أبي موسى الأشعري أنهما قالا : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر أحيانا أول الليل ووسطه ليكون سعة للمسلمين

    ہیثمیؒ نے فرمایا۔

    3479 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي مُوسَى أَنَّهُمَا قَالَا۔۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.

    کوئی وضاحت نہیں کونسا شخص ضعیف ہے ۔ اس میں محمد بن المغيرة ہیں ۔ہیثمیؒ نے ان پر نام لے کر جرح کی ہے ۔ ان پر بات ہو چکی ہے ۔
    یہ حدیث بھی کتاب الآثار ابی حنیفہ کی ہے ۔

    ___________

    ۳۸۔حدیث معجم کبیر ۔۱۸


    75 - حدثنا إسحاق بن داود الصواف التستري ثنا يحيى بن غيلان ثنا عبد الله بن بزيغ عن أبي حنيفة عن أبي إسحاق الشيباني عن عامر الشعبي عن مسروق عن عائشة قالت : أعطيت سبعا لم يعطها نساء النبي صلى الله عليه و سلم كنت من أحب الناس إليه نفسا وأحب الناس إليه أبا وتزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم بكر ولم يتزوج بكرا غيري وكان جبريل ينزل عليه بالوحي وأنا معه في لحاف ولم يفعل ذلك لغيري وكان لي يومين وليلتين وكان لنسائه يوم وليلة وأنزل في عذر من السماء كاد أن يهلك بي فئام من الناس وقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم بين سحري ونحري

    ہیثمیؒ نے کہا۔

    15312 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أُعْطِيتُ ۔۔۔۔۔
    قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مَتْنٌ ضُعِّفَ.


    اس کے راویوں پر اعتراض نہیں کیا ۔ متن پر کچھ اعتراض ہے ۔ وہ کیا ہے معلوم نہیں ۔
    اس لئے یہ بھی بحث سے خارج ہے ۔

    حدیث کتاب الآثار میں بھی ہے اور ضعیف بالکل نہیں ۔ اور نہ ہی متن میں کچھ مسئلہ لگ رہا ہے ۔ اس کے ہم معنی الفاظ کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ جن کی ذہبیؒ نے تلخیص مستدرک اور سیر اعلام میں تصحیح کی ہے ۔ بہرحال ابھی اس سے بحث نہیں ۔

    ___________

    ۳۹۔حدیث معجم کبیر ۔۱۹


    87 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن أبي حنيفة عن الهيثم أو أبي الهيثم شك أبو بكر : أن النبي صلى الله عليه و سلم طلق سودة تطليقة فجلست في طريقه فلما مر سألته الرجعة و أن تهب قسمها منه لأي أزواجه شاء رجاء أن تبعث يوم القيامة زوجته فراجعها وقبل ذلك

    ہیثمیؒ نے فرمایا۔

    15343 - وَعَنِ الْهَيْثَمِ - أَوْ أَبِي الْهَيْثَمِ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

    وضاحت نہیں کی ۔ ظاہر ہے کہ چونکہ انقطاع و ارسال ہے اس لئے ضعف کی طرف منسوب کیا ۔

    ______________

    ۴۰،۴۱۔حدیث معجم کبیر ۔۱۹،۲۰


    895 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا أبو حنيفة ( ح )
    وحدثنا أحمد بن رسته الأصبهاني ثنا محمد بن المغيرة ثنا الحكم بن أيوب عن زفر بن الهذيل عن أبي حنيفة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن فاطمة بنت أبي حبيش قالت :
    : يا رسول الله إني استحاض ولاينقطع عني الدم قال : دعي الصلاة أيام حيضتك فإذا ذهب أيام حيضتك فاغتسلي وتوضئي لك صلاة


    ہیثمیؒ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ سنن میں یہ غالباََ ہے اور اس کے ہم معنی ہیثمیؒ نے مسند احمد کی روایت کا ذکر کیا ہے ۔

    واللہ اعلم۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    204
    موصول پسندیدگیاں:
    196
    صنف:
    Male
    ___________

    ۴۲۔حدیث معجم اوسط ۔۱۲


    4492 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَارُ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ خَالَتِهَا»

    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطِيَّةَ إِلَّا أَبُو حَنِيفَةَ، وَلَا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيغٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ "


    ہیثمیؒ نے فرمایا۔

    7380 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ آخَرُ لَا يُذْكَرُ.

    اس روایت میں جن راویوں پر اعتراض ہے ایک عطیہ ہیں جن کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ ایک اور بھی ضعیف ہے جس کا ذکر نہیں کیا۔

    لیجئے کسی خاص رنگ کی عینک لگا کے دیکھنے والوں کو تو وہی نظر آئے گا جو ان کے ذہن میں ہے ۔ بلکہ جو وہ چاہتے ہیں ۔

    لیکن دلیل کے ساتھ دیکھیں تو بات کچھ اس طرح ہے کہ صحابیؓ کے علاوہ اس میں ۵ راوی ہیں ۔ایک عطیہ کا ذکر کردیا ۔ باقی ۴ رہ گئے ۔ ان میں ایک ضعیف ہے جس کا نام نہیں لیا۔

    یحیی بن غیلان مسلم کے راوی ہیں ۔ان پر تو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ پھر بھی ہیثمیؒ سے ان کی توثیق ہونی چاہیے ۔
    عبد اللہ بن عمر الصفار
    عبد اللہ بن بزیع
    ابو حنیفہ

    معجم اوسط طبرانی کی ایک اور حدیث کی سند میں اتفاق سے ابوحنیفہؒ کے علاوہ باقی تینوں ہیں

    4488 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَارُ التُّسْتَرِيُّ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»

    ہیثمیؒ اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں ۔

    6913 -وَعَنْ جَابِرٍ ۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.


    لیجئے ایک تو انہوں نے عبداللہ بن عمر الصفار ، اور
    یحیی بن غیلان کی توثیق کردی اور واضح کردیا کہ کمزوری عبداللہ بن بزیع میں ہے ۔ دوسری جگہہ ان کو صراحتاََ بھی ضعیف کہا ہے ۔

    6798 -
    وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.


    اب دوبارہ دیکھیں کہ اس روایت میں بقول ہیثمی ؒ یہ علل ہیں ۔

    وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ آخَرُ لَا يُذْكَرُ

    ۱۔ عطیہ کچھ ضعیف ہیں ۔ اور ان کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
    ۲ ۔ ایک دوسرا راوی بھی ضعیف ہے جس کا ذکر نہیں کیا ۔
    اور وہ مجمع الزوائد کے دوسرے مقام سے ثابت ہوا کہ ابن بزیع ہے جس کو نام لے کر ہیثمیؒ نے ضعیف کہا ہے ۔

    چناچہ ثابت ہوا کہ مذکورہ حدیث میں ان کا اشارہ امام صاحب کی طرف نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے علاوہ علت کا نہ ہونا ، اورباقی راویوں سے سکوت بلکہ دوسرے مقامات پر ابوحنیفہؒ سمیت سب کی توثیق یہاں بھی ثقاہت ہی کی تائید کرتی ہے ۔

    نوٹ ۔ امام ابوحنیفہؒ کی عطیہؒ سے یہ روایت اگرچہ کتاب الآثار میں نہیں ہے ۔ عبداللہ بن بزیع ان سے نیچے کے راوی ہیں ۔ وہ بھی کوئی اتنے کمزور راوی نہیں ہیں بقول دارقطنیؒ کمزور ہیں قابل ترک نہیں لين ليس بمتروك
    اور مسند ابی حنیفۃ میں ایک اور سند بھی بیان کی گئی ہے ۔ جو شاید عبد اللہ بن بزیع کی متابعت ہوسکتی ہو۔
    یہ تو امام ابوحنیفہؒ سے نیچے کی سند کے بارے عطیہ والے طریق کی بات ہے ۔
    ورنہ یہ کتاب الاثار میں ہے اس میں تو عطیہ بھی نہیں اگرچہ وہ امام صاحب کے نزدیک غالباََ ثقہ ہیں۔

    ___________

    ۴۳۔حدیث معجم اوسط ۔۱۳

    2020 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رُسْتَهِ بْنِ عُمَرَ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ: نا الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَزِينٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ ذَا طَعَامٍ يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ، وَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصَلِّي، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ، فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: عَلِمْتُ مَا حَزِنْتَ لَهُ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الْأَذَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَخْبَرَنَا بِمِثْلِ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، فَمُرُوا بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ بِذَاكَ»

    لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ إِلَّا أَبُو حَنِيفَةَ "

    ہیثمی فرماتے ہیں ۔

    1853 - «وَعَنْ بُرَيْدَةَ ۔۔۔۔۔
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

    یعنی اس روایت میں ایسا راوی ہےجس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اوروہ ثقہ ہے ۔

    یہاں پر اُن حضرات جن کو ہر جگہہ مبہم انداز سے ضعیف کہا جانے والا راوی ابوحنیفہ ہی نظر آتا ہے ، اُن کو پوری اجازت ہے کہ مبہم کا نتیجہ نکالیں ۔

    نکالیں تب بھی ، نہ نکالیں تب بھی ابوحنیفہؒ اس میں ثقہ ہی ثابت ہو رہے ہیں ۔

    لیکن چونکہ کسی خاص شخص کے لئے نہیں بلکہ حُسن ظن کے لئے بحث کی جارہی ہے ۔ اس لئے ہیثمیؒ کی طرف سے احتمالات پیش کریں گے ۔

    ۱۔ اس میں ایک راوی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ہیں جن کے بارے میں اسی سند سے ایک اور حدیث میں راقم نے ذکر کیا تھا کہ ہیثمیؒ نے ان کو محمد بن المغیرہ الشہرزوری سمجھ لیا ۔ جو کہ ضعیف ہے ۔ تو پھر یہاں کیوں کلام نہیں کیا۔

    ایسا ہے کہ اتنی بڑی علمی خدمت (یعنی مجمع الزوائد) جب کی جائے تو جو سالوں پر محیط ہوتی ہے ۔

    یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہہ ہی اُس راوی کے بارے میں اُن سے غلطی ہو جائے ۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس روایت میں انہوں نے صحیح تعیین کیا ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اُن پر کلام ہی نہیں کیا ۔

    ایسی غلطی تو حافظ ذہبیؒ جیسے متقن ،اور بقول حافظ ابن حجرؒ نقد رجال میں انتہائی مہارت رکھنے والے سے بھی ممکن ہے ۔جیسے تلخیص مستدرک میں عبدالرحمٰن بن اسحاق نامی راوی کی ایک جگہہ وہ صحیح تعیین کرتے ہیں ، ایک جگہہ نہیں کر سکے ۔

    راقم کے خیال میں یہاں امام زفرؒ کی طرف اشارہ ہے جن پر ابن سعدؒ اور عقیلیؒ کی مبہم سی جرح ہے جسے حفاظ ذہبیؒ و ابن حجرؒ وغیرہ نے بھی رد کیا ہے ۔

    اور تیسرے متکلم فیہ اگر ابوحنیفہؒ ہی مراد لینے ہیں تو ہمیں اس سے انکار نہیں کہ بعض نے اُن پر کلام کیا ہے ۔ جو کہ تحقیق کی رو سے صحیح نہیں اس لئے ممکن ہے حافظ ہیثمیؒ نے یہاں انہی کی صراحتاََ توثیق بیان کی ہے کہ بعض نے اُن پر کلام کیا ہے حالانکہ وہ ثقہ ہیں ۔

    الغرض اس روایت سے بھی امام صاحب کی ہیثمیؒ کی طرف سے توثیق ہی ثابت ہوتی ہے ۔

    واللہ اعلم۔

    ___________

    ۴۴۔حدیث معجم اوسط ۔۱۴

    3943 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا إِسْرَائِيلُ، عَنِ النُّعْمَانِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سُدَيسَةَ، مَوْلَاةِ حَفْصَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَقَدْ نَذَرْتُ أَنْ أَدُفَّنَّ بِالدُّفِّ إِنْ قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذِ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَانْطَلَقْتُ بِالدُّفِّ إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ، فَغَطَّيْتُهُ بِكِسَاءٍ، فَقُلْتُ: أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُهَابَ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَلْقَى عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ»

    لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا النُّعْمَانُ وَهُوَ أَبُو حَنِيفَةَ
    ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ إِلَّا إِسْرَائِيلُ، تَفَرَّدَ بِهِ: الْفَضْلُ بْنُ مُوَفَّقٍ " وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ سَيَّارٍ النَّصِيبِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَلَمْ يَذْكُرِ النُّعْمَانَ

    ہیثمیؒ فرماتے ہیں ۔

    14442 - عَنْ سُدَيْسَةَ مَوْلَاةِ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمْ يَلْقَ عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ» ".
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي تَرْجَمَةِ سُدَيْسَةَ، مِنْ طَرِيقِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْهَا، وَلَا نَعْلَمُ الْأَوْزَاعِيَّ سَمِعَ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ.

    وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سُدَيْسَةَ، وَهُوَ الصَّوَابُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
    14443 - وَعَنْ سُدَيْسَةَ - مَوْلَاةِ حَفْصَةَ - عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَقَدْ نَذَرْتُ أَنْ أَزْفِنَ بِالدُّفِّ إِنْ قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ: فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ، إِذِ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَانْطَلَقْتُ بِالدُّفِّ إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ فَغَطَّيْتُهُ بِكِسَاءٍ، فَقُلْتُ: أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُهَابَ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَلْقَى عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ» ".

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

    طبرانی کبیر کی سند میں امام ابوحنیفہؒ نہیں ہیں ۔اوسط کی سند میں ہیں ۔

    ہیثمیؒ نے طبرانی کبیر کی سند پر طبرانی اوسط کی روایت کوترجیح دیتے ہوئے صواب بھی فرمایا ہے ۔

    پھر اسناد کو حسن فرمایا ہے ۔

    پھر مزید فرمایا ہے کہ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ نامی راوی کو وہ نہیں جانتے باقی رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

    یعنی باقی سند حسن ہے ۔

    یہ شک نہ ہو کہ سند میں النعمان کا ذکر ہے اور شاید ہیثمیؒ کوئی اور راوی نہ سمجھے ہوں ۔
    نہیں ، بلکہ انہوں مجمع البحرین زوائد المعجمین ۶۔۲۴۴پر طبرانی کی باقی عبارت بھی نقل کی ہے
    جس میں النُّعْمَانُ وَهُوَ أَبُو حَنِيفَةَ ، موجود ہے ۔

    اب یہ حدیث دوسری کے مقابلے میں صواب بھی ہے ،

    اور اس کی سند حسن ہے ۔
    اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
    یہ امام ابوحنیفہؒ والی سند ہے ۔

    والحمد لِلہ على ذلك ۔

    اللہ کے فضل سے یہ مختصرمطالعہ اختتام کو پہنچا ۔ جیسا کہ شروع میں کہا گیا تھا کہ اس بحث میں بدگمانی بھی کی جاسکتی ہے ۔ لیکن راقم نے حُسن ظن اور نیک گمان کو پیش نظر رکھ کرہی دیکھا ہے ۔ تاکہ تمام ائمہؒ کا احترام ہی دل میں آئے ۔

    اللهم أرنا الحق حقاً، وارزقنا اتِّباعه، وأرنا الباطل باطلاً، وارزقنا اجتنابَه
    اللھم صل علی محمد
    وازواجہ وذريته واصحابہ و بارک وسلم۔
    وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    -----------------------
    Last edited: ‏اکتوبر 9, 2017
  11. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    ما شاء اللہ کام تو بہت عمدہ ہے لیکن میں طرز سمجھ نہیں پا رہا. اگر آپ تھوڑی وضاحت کر دیں تو آسانی ہو جائے گی.

اس صفحے کو مشتہر کریں