حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الھیشمی شافعی کا تعارف

'سیرت سلف صالحین' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 21, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الھیشمی شافعی کے تعارف سے متعلق تفصیل درکار ہے۔ یہ وہی شخصیت ہیں جن کی کتاب مجمع الزوائد و منبع الفوائد مشہور ہے۔
    ان کی اسی کتاب میں انکا تعارف بھی موجود ہے اگر کوئی بھائی اس کا اردو ترجمہ کر دے (صرف تعارف کا) تو بڑی مہربانی ہوگی۔
  2. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مقدمہ میں تعارف موجود ہے
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    بھائی ترجمہ تو کوئی عالم ہی کرسکتا ہے ۔
    البتہ مختصر معلومات یہ ہیں ۔

    حافظ ابو الحسن نور الدین علی بن ابو بکر الھیثمیؒ ہیں ۔
    ولادت ۷۳۵ھ ۔۔۔ وفات ۸۰۷ھ ۔

    مشہور شافعی محدث زین الدین عراقیؒ م۸۰۶ھ کے شاگرد ہیں اور ان کی صحبت میں بہت زیادہ رہے ہیں ۔ سفر و حضر میں بھی اکثر ان کے ساتھ رہتے تھے ۔ حتیٰ کہ ان کی بیٹی سے شادی بھی کی ۔

    آپ کے مشہور شاگردوں میں صاحب فتح الباری حافظ ابن حجرؒعسقلانی م۸۵۲ھ اور صاحب عمدۃ القاری حافظ بدر الدین عینیؒ م۸۵۵ھ ہیں ۔ اور بھی ان کے شاگرد ہیں ۔

    آپ نے جو کتب تصنیف کی ہیں وہ زیادہ تر کتب احادیث سے جو صحاح ستہ پر زائد احادیث تھیں ان کو جمع کیا ہے ۔
    جن میں ۔ زوائد معاجم طبرانی ۔ اور زوائد مسند احمد ، زوائد مسند بزار ، زوائد مسند ابی یعلی وغیرہ ہیں ۔
    ثقات پر حافظ عجلیؒ کی کتاب کو بھی مرتب کیا ہے ۔ یہ کتابیں چھپی ہوئی ہیں ۔

    ان زوائد کی کتب میں وہ احادیث پر حکم نہیں لگاتے ۔

    پھر ان کی سب سے مشہور تالیف مجمع الزوائد ہے جس میں ان تمام کتب زوائد جن کا اوپر نام لیا گیا ہے کو اکٹھا کیا اور ابواب فقہ پر جمع کیا ۔ اس میں احادیث پر حکم بھی لگاتے ہیں ۔

    ان کی تحقیق پر علماء اعتماد کرتے ہیں ۔ آج کل کا معاملہ اور ہے آج کل تو پرانے علماء کی اہمیت ختم ہوگئی ہے
    اور موجودہ دور کے محققین پر اعتماد کیا جاتا ہے جو افسوس ناک بات ہے ۔

    بہرحال علامہ ہیثمیؒ کی تحقیق یعنی احادیث پر حکم لگانے پر اعتماد کرنا چاہیے ۔

    لیکن ایک تو وہ شافعی ہیں ۔ اور بعض جگہہ کچھ اوہام بھی ہیں ۔ جس سے کوئی عالم نہیں بچ سکتا ۔ اس معاملے میں پھر دوسرے ائمہ کی بات کو ترجیح بھی دی جاسکتی ہے ۔

    واللہ اعلم۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اوہام کے معاملے میں یاد آیا کہ غیر مقلدین امام کے پیچھے قرات کو فرض سمجھتے ہیں اور حضرت عبادہ بن صامت کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں اس کی سند میں مکحول کو بھی وہم ہوگیا تھا۔ جس کی وجہ سے حدیث بدل گئی اس وہم کا تذکرہ فتاوی ابن تیمیہ میں مذکور ہے۔ اگر کوئی صاحب اس کا ترجمہ کردے تو بہت ہی اچھا ہو
  5. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    یار بھائی۔اب ان بحثوں میں دل نہیں لگتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی فرقہ واریت کی موجب بنتی ہیں ۔
    اب یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے مخالف کو اس بات پر قائل کریں کہ اختلاف کو تسلیم کرلیں ۔اور ایک دوسرے کو غلط نہ کہیں ۔ ظاہر ہے اس مسئلہ میں تو ائمہؒ میں بھی تو اختلاف ہے ۔
    البتہ علمی حوالے سے اس میں موجود مسائل ڈسکس ہو سکتے ہیں ۔
    دلائل کو دیکھنےکے لئے اور جو بات آپ نے ذکر کی ہے ۔ احسن الکلام ، مولانا سرفراز صفدرؒ کی نیٹ پر دیکھ لیں ۔ اس میں سب کچھ ہے ۔
  6. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    Search tag: ھیشمی شافعی

اس صفحے کو مشتہر کریں