حدیث کی تعریف

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب علم, ‏اپریل 26, 2020۔

  1. طالب علم

    طالب علم عمر گزری مری کتابوں میں رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    کشمیر
    حدیث کی تعریف:
    حدیث: چار چیزوں کا نام ہے:
    ١ـ نبی پاکﷺنے زندگی میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے: وہ سب حدیث ہے۔
    ٢ـ آپؐ نے زندگی میں جو بھی کام کیا ہے: وہ حدیث ہے۔
    ٣ـآپﷺنے جن باتوں کو برقرار رکھا ہے: وہ بھی حدیث ہے۔ یعنی کسی مسلمان نے کوئی کام کیا، نبی پاکﷺنے اس کو دیکھا، یا وہ آپؐ کے علم میں آیا اور آپؐ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی بلکہ اس کو برقراررکھا، اس کی تائید فرمائی تو یہ بھی حدیث ہے۔
    ٤ـ نبی پاکﷺکی صفات یعنی ذاتی حالات بھی حدیث ہیں۔
    ان چار چیزوں کا نام حدیث ہے۔ اب ہر ایک کی مثال لیں:

    قولی حدیث کی مثال:
    بخاری کی پہلی حدیث ہے:اِِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّة: عمل کا نیت سے موازنہ کیا ہوا ہے، عمل نیت کے موافق ہوتا ہے، عبادت کی نیت ہے تو ثواب ملے گا، اور عبادت کی نیت نہیں ہے تو وہ محض عمل ہے، اس پر ثواب کچھ نہیں ملے گا۔
    حدیث کا تعلق عبادات سے ہے:
    یہاں کچھ لوگ پوچھتے ہیں: ایک شخص اس لئے چوری کرتا ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کرے، یا لوگ پوچھتے ہیں کہ پیسہ گھر میں تو رکھا نہیں جاسکتا، بینک میں رکھنا ضروری ہے، پس اگر کوئی بینک میں کھاتہ کھلواتا ہے اور کرنٹ اکاونٹ کے بجائے سیونگ اکاونٹ کھلواتا ہے تاکہ جو بینک سے انٹرسٹ ملے اس کو ثواب کی نیت کے بغیر غریبوں کو دیدے تو یہ اچھی نیتیں ہیں۔ اور حدیث میں ہے: انما الأعمال بالنیة: اعمال نیت کے موافق ہوتے ہیں، پس یہ جو بینک سے سود لے کر غریبوں کو دے رہا ہے یا غریبوں کی مدد کی نیت سے چوری کررہا ہے: اس کو ثواب ملنا چاہئے، اور یہ کام جائز ہونے چاہئیں؟
    میں اُسے جواب دیتا ہوں کہ غریبوں کے لئے آپ کو دبلا ہونے کی ضرورت نہیں، غریبوں کے خدا آپ نہیں، غریبوں کا خدا کوئی اور ہے، اور وہی ان کا رزاق ہے۔
    اور مذکورہ حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے ، معاصی اس کے دائرہ میں نہیں۔ عبادات میں اگر عبادت کی نیت ہے تو ثواب ملے گا اور اگر عبادت کی نیت نہیں ہے تو ثواب نہیں ملے گا۔
    اور حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے: اس کی دلیل اگلا جملہ ہے:وَِنَّمَا لِکُلِّ امْرِأٍ مَّانَویٰ:ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہے، مگر ابھی بات کلیر (واضح) نہیں ہوئی، اس لئے نبیﷺنے ہجرت کی مثال دے کر مضمون واضح فرمایا :
    ہجرت دور اول میں فرض تھی، اور بہت بڑی عبادت تھی، قرآن وحدیث میں اس کے بے شمار فضائل آئے ہیں، حضورﷺنے فرمایا: تین بندے ہجرت کرتے ہیں، وطن چھوڑ کر مدینہ آتے ہیں:
    ایک کیوں آیا ہے؟ اس لئے کہ وہ سچے دل سے مسلمان ہوا ہے، اور اسلام کا درخت ابھی نونہال ہے، اس کی آبیاری کی ضرورت ہے، اس لئے وہ مدینہ آیا ہے تاکہ دعوت وجہاد میں شریک ہو، دین سیکھے، اور ہر طرح دین کی خدمت کرے۔
    دوسرا کیوں آیا ہے؟ وہ اس لئے آیا ہے کہ اس کی گاؤں میں پرچون کی دوکان تھی،اب گاؤں کے لوگ مسلمان ہوکر ہجرت کرکے مدینہ جارہے ہیں، اور گاؤں کی آبادی گھٹ رہی ہے، اس لئے دوکان پھیکی پڑ رہی ہے، اس لئے اس نے سوچا کہ مدینہ منورہ کی آبادی بڑھ رہی ہے، پس میں مدینہ چلا جاؤں اور وہاں دوکان کھولوں تو دوکان خوب چلے گی۔ چنانچہ وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلا آیا۔ اور تیسرا کیوں آیا ہے؟ وہ ایک خاص عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، مگر وہ عورت ہجرت کرکے مدینہ جاچکی ہے، اب وہ سوچتا ہے کہ اگر میں وطن میں رہا تو نکاح نہیں ہوسکتا، چلو میں بھی مدینہ پہنچ جاؤں، اور اس عورت سے راہ ورسم پیدا کروں اور نکاح کرلوں، چنانچہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگیا۔
    نبیﷺنے فرمایا: پہلا شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کی ہے اس کی ہجرت مقبول ہے اور دینی عمل ہے، قرآن وحدیث میں اسی کے فضائل آئے ہیں، اور دوسرے اور تیسرے بندوں کو ہجرت کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، ان کی ہجرت دینی عمل نہیں ہے۔
    پس اگر حدیث کا سیاق پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے، معاصی اس کے دائرے میں نہیں ۔
    فعلی حدیث کی مثال:
    جب مسجد ِ نبوی میں منبر رکھا گیا تو نبیﷺنے منبر پر چڑھ کر نماز پڑھائی، سجدہ نیچے کرکے اگلی رکعت میں منبر پر چڑھ جاتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد ارشاد فرمایا: صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ: آپ لوگوں نے جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح نماز پڑھو۔ یہ جو آپؐ نے نماز پڑھ کر دکھائی ہے، یہ فعلی حدیث ہے۔
    تقریر نبوی کی مثال:
    مکہ میں تو پتھروں کے علاوہ کچھ نہیں، البتہ اسّی کلو میٹر پر طائف ہے، وہاں کھیت ہیں، باغات ہیں، اور ساڑھے چارسو کلو میٹر پر مدینہ منورہ ہے، وہاں بھی باغات اور کھیت ہیں۔ جب نبیﷺہجرت کرکے مدینہ آئے تو مدینہ میں بیع سلم (بدھنی بیع) کا رواج تھا۔ ابھی کھجور پر پھول بھی نہیں آئے ہوتے تھے کہ کھجوریں بیچ دیتے تھے، بھاؤ طے ہوجاتا تھا، مدت طے ہوجاتی تھی، قیمت تاجر اسی وقت دیدیتا تھا، اور باغ والا وقت ِ مقررہ پر کھجوریں دیتا تھا، اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ شریعت کے اصول سے یہ بیع صحیح نہیں، کیونکہ مبیع کا وجود نہیں، جبکہ صحت ِ بیع کے لئے مبیع کا وجود ضروری ہے، اور مبیع: بائع کی ملکیت میں اور بائع کے قبضہ میں ہونا بھی ضروری ہے، نیز اس کا مقدور التسلیم ہونا بھی ضروری ہے، جبھی بیع درست ہوگی، ورنہ نہیں۔ اور کھجوروں کی بیع سلم میں ابھی درختوں پر پھول بھی نہیں آئے، جب کھجوروں کا وجود ہی نہیں تو ملکیت کا کیا سوال؟ اور جب ملکیت نہیں تو قبضہ کا کیا سوال؟ اس لئے شریعت کی اصول سے یہ بیع باطل ہے۔
    جب نبیﷺکے علم میں یہ بیع آئی تو آپؐ نے صحابہ کو اس بیع سے منع نہیں کیا، بلکہ فرمایا:مَنْ أَسْلَمَ مِنْکُمْ فَلْیُسْلِمْ فِیْ کِیْلٍ مَعْلُوْمٍ أَوْ وَزْنٍ مَّعْلُوْمٍ ِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُوْمٍ: جب تم سلم کرو تو تمام تفصیلات طے کرلو، پیمانہ یا وزن طے کرلو اور مدت بھی طے کرلو تاکہ آئندہ کوئی نزاع نہ ہو، غرض:حضورﷺنے شرائط تو بڑھائیں، مگر سلم سے منع نہیں کیا۔ پس یہ حدیث بن گئی، اور اس کا نام تقریری حدیث ہے۔
    بیع سلم کے جواز کی حکمت:
    جب اسلام کے اصول سے بیع سلم صحیح نہیں: تو پھر حضورﷺنے اس کو کیوں برقرار رکھا اس کا جواب یہ ہے کہ بیع سلم میں اگرچہ بائع کے پاس مبیع نہیں ہوتی، مگر مارکیٹ میں ہوتی ہے، پس جب مارکیٹ میں مبیع موجود ہے تو اگر اس کے باغ میں مبیع ( کھجوریں) نہ بھی پیدا ہوگی تو وہ مقررہ وقت پر مارکیٹ سے خرید کر دیدے گا۔چنانچہ خاص جگہ کی پیداوار کی سلم میں شرط لگانا درست نہیں، غرض مارکیٹ میں مبیع کے وجود کو بائع کی ملکیت میں موجودمان لیاگیا ہے، اور یہ ایک طرح کا حیلہ ہے۔
    اور یہ حیلہ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ اس میں عظیم فائدہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی سرمایے کے بغیر بڑے سے بڑا کاروبار کھڑا کرسکتا ہے۔
    مثال کے طور پر:ایک شخص کو بنیان بنانے کا کارخانہ قائم کرنا ہے، اس کے لئے لاکھوں روپیوں کی مشینوں کی ضرورت ہوگی، مگر سرمایہ اس کے پاس نہیں ہے، البتہ لوگوں میں اس کا اعتبار ہے، اس نے دوکانداروں سے معاملہ کیا، اس نمبر کا سوت، یہ سائز وغیرہ تمام تفصیلات طے کیں اور قیمت بھی طے کی اور کہا: چھ مہینے کے بعد سپلائی کروں گا اور ہر مہینہ ایک ہزار پیس دوں گا۔ چنانچہ کسی نے دس ہزار پیس خریدے، کسی نے پچاس ہزار، اور اس نے سب سے پیسے اسی وقت لے لئے، سلم میں ثمن مجلس عقد ہی میں دینا ہوتا ہے۔ پندرہ لاکھ جمع ہوگئے۔ وہ مشینیں لایا، کارخانہ کھڑاکیا اور پروڈکشن شروع ہوگیا، اور مقررہ وقت پر سپلائی شروع کردی۔ سال دو سال میں سب کے پاس مال پہنچ گیا اور اس کا کارخانہ فری ہوگیا۔ یہ بیع سلم کا فائدہ ہے۔ اس لئے شریعت نے اس کو برقرار رکھا ہے، اور آج مشینی دور میں بے شمار چیزوں کا سلم ہوسکتا ہے، ہر وہ چیز جس کی جملہ تفصیلات طے ہوسکتی ہوں، اور اس کا مارکیٹ میں وجود ہو: اس کی بیع سلم درست ہے۔
    اوصاف نبوی کی مثال:
    نبی پاکﷺکے ذاتی حالات اوصاف کہلاتے ہیں، مثلاً: آپؐ کے بال ایسے تھے: نہ بالکل سیدھے تھے، نہ بالکل گھونگھریالے، درمیانی کیفیت لئے ہوئے تھے، سیدھے تھے، مگر کچھ گھونگھریالاپن تھا، دندانِ مبارک ایسے تھے: سامنے کے اوپر کے دانتوں میں ذرا کشادگی تھی، جب آپؐ گفتگو فرماتے تو ان کے درمیان سے ایک نور سا نکلتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ سب حدیثیں ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں