حدیث کے سلسلے میں احتیاط

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہری, ‏جنوری 7, 2016۔

  1. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ناظم ای فتاوی ٹیم ممبر

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حدیث رسول ﷺ کے سلسلے میں ایک مرض عام ہوتا جا رہاہے ،اور یہ بیماری بے امامے مقتدیوں سے امپورٹ ہو رہی ہے،بیماری کا نام ہے ’’ضعیف‘‘
    اس لفظ کے ذریعہ ائمۂ کرام نے ان لوگوں کا راستہ مسدود کیا تھا جن سے احادیث گھڑنے کا خطرہ لاحق تھا ،ائمۂ کرام کی چھان پھٹک نے ان کو جتلا دیا کہ یہاں تو ضعف کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے گا،وضع واختراع کا تو کہاں گذر ؟
    لیکن آج کل کے بے امامے مقتدی اس لفظ کو بلا واسطہ حدیث رسول ﷺ کے استخفاف کی خاطر استعمال کرتے ہیں ،خبردار!ضعیف سے ضعیف ترین حدیث بھی عزت و تکریم کے معاملے میں صحیح ترین حدیث کے ہم پلہ ہے،وہ استنباط کے اعتبار سے ضعیف ہے نہ کہ اکرام واحترام کے معاملے میں،ہوشیار !وہ آقاﷺ سے منسوب ہے،خذہ بالنواجذ،خذہ بالنواجذ،خذہ بالنواجذ،۔
    Last edited: ‏جنوری 7, 2016
    اشماریہ اور ارشاد احمد غازی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ارشاد احمد غازی

    ارشاد احمد غازی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    57
    موصول پسندیدگیاں:
    30
    صنف:
    Male
    مشکور ہیں ہم جزا ک اللہ فی ادارین

اس صفحے کو مشتہر کریں