حرمین شریفین کاتحفظ

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 22, 2018۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,729
    موصول پسندیدگیاں:
    205
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حرمین شریفین کاتحفظ
    مفتی ناصرالدین مظاہری
    حجازمقدس ہماری عقیدتوں کامرکزاورمحورہے اس لئے اہل حجازکو حالات اورکیفیات سے روشناس کرانا اور اپنا درددل اورفکرونظراُن کے سامنے رکھنابھی ایک ذمہ داری ہے۔
    تالاب کی ساری مچھلیاں خراب نہیں ہوتیں…پوری فصل خراب نہیں ہوتی …اسی طرح ملک کے سارے لوگ خراب نہیں ہوتے …بس کچھ لوگ اورکچھ نظرئیے ہرماحول اورمعاشرہ میں ضرورہوتے ہیں جواپنے کرداروعمل کی گندگی سے دوسروں کی بدنامی کاذریعہ بن جاتے ہیں،لہٰذانہ توتالاب کی ساری مچھلیاں ضائع کی جاسکتی ہیں…نہ ہی پوری کی پوری فصل پھینکی جاسکتی ہے اورنہ ہی تمام اہالیان ملک کوسب وشتم کانشانہ بنایاجاسکتاہے۔
    بہت سے لوگ جذبات میں ہی سہی حدودسے تجاوزکرجاتے ہیں اورنوبت گالیوں تک پہنچ جاتی ہے جو ظاہرہے کسی بھی ماحول اورسنجیدہ معاشرہ کے لئے شرمناک ہے۔
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادگرامی نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    احبواالعرب لثلاث:لانی عربی والقرآن عربی وکلام اہل الجنۃ عربی(شعب الایمان)
    تین باتوں کی وجہ سے تم عربوں سے محبت کرو(۱)میں عرب سے ہوں(۲) قرآن کریم عربی زبان میں ہے(۳)جنتیوں کی زبان عربی ہے۔
    نیتوں کارازاوربھیداللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں،ہربات کہنے کاایک طریقہ ہوتاہے ،دوااگرکڑوی ہوتواس میں شیرینی کی ملاوٹ کردی جاتی ہے،بات جوسچ ہوتی ہے وہ یقیناکڑوی ہوتی ہے لیکن وہی سچی بات اگرسنجیدگی اوراخلاقی دائرہ میں کہی جائے تواثراندازبھی ہوتی ہے۔
    بہت سے لوگ صرف نقداورتنقیدہی کرناجانتے ہیں ،ان کے ناقدانہ چشمے کی یہ ’’خوبی‘‘ ہوتی ہے کہ انھیں اچھائیاں نظرنہیں آتی ہیں صرف برائیوں سے سروکارہوتاہے جواسلامی نقطہ نظرسے غلط ہے۔
    اسلام ہم سے یہ تقاضاکرتاہے کہ حسنِ اخلاق،حسنِ سیرت اورحسن کردارکاخوگربن کردوسروں کوراہ راست بتائی اورسجھائی جائے توکوئی وجہ نہیں ہے کہ قبول نہ کی جائے۔
    دل سے جو بات نکلتی ہے اثرکرتی ہے
    پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تویہاں تک ارشادفرمادیاہے:لاتسبواالعرب فانی اناالعرب: عربوں کوگالی مت دوانھیں برامت کہو،ان کوسب وشتم کانشانہ مت بناؤکیونکہ میں بھی عربی ہوں۔
    قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒکامشہورشعرہے۔
    امیدیں لاکھوں ہیں لیکن بڑی امیدہے
    کہ ہو سگان مدینہ میں میرانام شمار
    ہمارے اسلاف اوراکابرکوارض مقدس کی ایک ایک چیزسے پیاررہاہے،حتی کہ وہاں کی گٹھلیاں، کنکرپتھر، پیڑپودے،جانوراورپرندے،گردوغبارسب چیزیں مکرم ومحترم رہی ہیں وہ وہاں کی خاک پاک کوسرمہ کی جگہ استعمال کرگئے…انہوں نے وہاں کی گٹھلیاں بھی ضائع نہیں ہونے دیں اوران کابُرادہ بنواکراستعمال کیا،ہرمسلمان کو الحمدللہ عرب کی ایک ایک انچ سے محبت اورعقیدت ہے اورہونی چاہئے ۔
    ہمیں اس پہلوپربھی غورکرناچاہئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب اللہ رب العزت نے مخلوقات کو پیدافرمایاتوان میں بنوآدم کومنتخب فرمایا،بنوآدم میں سے عربوں کومنتخب فرمایا،پھرعربوں میں سے قریش کو پھر قریش میں سے بنوہاشم کوپھربنوہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایالہٰذامجھے بہترین لوگوں میں سے منتخب کیاگیا ہے ۔
    اس حدیث شریف کے آخری جملے بطورخاص یہ ہیں:
    فمن احب العرب فبحبی احبہم ومن ابغض العرب فببغضی ابغضہم۔
    ’’جس نے عربوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اورجس نے عربوں سے بغض رکھاتواس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔
    حضرت سلمان فارسی ؓکومخاطب بناکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یاسلمان لاتبغضنی فتفارق دینک،قال قلت یارسول اللّٰہ ،کیف ابغضک وبک ہدانی اللّٰہ ؟قال،لاتبغض العرب فتبغضنی ۔
    حضرت سلمان فارسیؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اے سلمان !مجھ سے بغض نہ رکھناورنہ دین سے ہاتھ دھوبیٹھوگے،میں نے عرض کیااے اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتاہوں حالانکہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطافرمائی ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا:اگرتم عربوں سے بغض رکھوگے تومجھ سے بغض رکھوگے۔
    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کومخاطب بنانے میں ممکن ہے رسول اللہ ﷺ کے پیش نظریہ مصلحت ہوکہ مستقبل میں سرزمین فارس سے ہی کچھ فتنے اورفتنہ پردازایسے اٹھیں گے جونعوذباللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھیں گے…ارض مقدس سے نفرت ہوگی…عربوں سے مزاحم اورمتصادم ہوں گے…خودکومسلمان جتلائیں اوربتلائیں گے اورخلاف اسلام کام کریں گے…مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ جن کاہدف اورنشانہ ہوگا…خدام حرمین سے دشمنی میں پیش پیش ہوں گے…اسلام کواسلام کی تلوارسے کاٹنے اورخلیج کومزیدگہراکرنے میں آگے آگے رہیںگے… نبی کے دشمن اللہ کے بھی دشمن ہوں گے اورجواللہ ورسول اللہ کادشمن ہواِن شاء اللہ خواری وذلت اس کامقدربنے گی۔
    بہت سے لوگ عربوں سے کاروبارکرتے ہیں اورایشیائی ملکوں میں عربوں کی خریداری کاتناسب کافی بڑھاہواہے،ایکسپورٹ امپورٹ کسی بھی کاروبار کی بنیادہوتی ہے ،تجارت میں دھوکہ دیناشرعاًجائزنہیں ہے ، فریب کی اسلام میں اجازت نہیں ہے،اب سنئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہے :
    من غش العرب لم یدخل فی شفاعتی ولم تنلہ مؤدتی۔
    جس نے عربوں کودھوکہ اورفریب دیاوہ میری شفاعت کامستحق نہ ہوگااورمیری محبت اورکرم سے بھی محروم رہے گا۔
    مذکورہ احادیث سے یہ نہ سمجھاجائے کہ عرب سے صرف موجودہ سعودی عرب مرادہے ایسانہیں ہے ، شام، فلسطین، یمن،اردن ،کویت،عراق وغیرہ بھی عرب کاحصہ ہیں، شام اوریمن وغیرہ کی فضیلت میں مستقل کتابیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجودہیں۔
    اختلاف رائے کاہونانہ توعجیب ہے نہ ہی جرم تاہم اپنی رائے کوحق اوردرست سمجھ کرباقی تمام آراء کومستردکردینا’’جرم‘‘ ہے۔عرب آج بھی ہرسنجیدہ بات اورمشورہ کودل وجان سے مانتے اوراس پرعمل کرتے ہیں اوراس کے بے شمارشواہد اورنظائر موجودہیں ۔
    ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم متانت اورسنجیدگی کے ساتھ جوبات حق اورسچ سمجھ رہے ہیں اس کوبذریعہ مکاتبت ومراسلت شاہان عرب تک پہنچائیں…براہ راست پہنچاناممکن ناہوتواپنے ملک کے سفارت خانہ سے رابطہ کریں…انھیں یقین دلائیں کہ ہمارارشتہ دوچارصدی قدیم نہیں چودہ سوسالوں سے قائم ہے…ہم کل کی طرح آج بھی اورآج کی طرح کل بھی آپ کی ہرآوازپرلبیک کہنے کیلئے تیارہیں …ہم حرمین شریفین کے خلاف اٹھنے والی ہرتحریک کوختم کرنے کاجذبہ رکھتے ہیں…ہم اسلام دشمنوں کی کسی بھی تحریک کی آنچ بھی وہاں تک نہیں پہنچنے دیں گے…کعبہ کاتحفظ،مسجدحرام کی حرمت ،مسجدنبوی کاتشخص،روضۂ مقدسہ کی آبرو، مدینہ منورہ کاوقاراِن سب چیزوں کی حفاظت ہی کے لئے تواللہ تعالیٰ نے اسلام کوکرۂ ارضی پرپھیلادیاہے تاکہ جوجہاں ہے وہیں سے جس طرح بھی ممکن ہوحفاظتی تدابیر اختیارکرے۔
    یوں توپوری دنیامیں مسلمان سب سے زیادہ مشق ستم بنے ہوئے ہیں لیکن پوراعرب اسلام دشمنوں کے نشانہ پرہے ،یہودی اورامریکی سازشیں کسی کل اورکروٹ سوچنے اورسمجھنے کاموقع نہیں دیناچاہتی ہیں۔چنانچہ آپ نقشہ اٹھائیں اوردیکھیں تواسرائیل کے قرب وجوارکے ملکوں فلسطین،اردن، عراق،شام،مصر، ترکی،قبرص اورسوڈان،صومال ،یمن وغیرہ جتنے بھی عرب ممالک ہیں وہ سب کسی نہ کسی آزمائش سے دوچارہیں کہیں اقتدارکی تبدیلی… توکہیں جمہوریت کی دستک…کہیں تیل کی لڑائی توکہیں ظالمانہ ماحول…کہیں خودملک کے سربراہ کے ذریعہ چیرہ دستی اورکہیں دوسرے ملکوں کے اشتراک سے بمباری…کہیں کچھ مسلم ممالک کے امریکہ میں داخلہ پرپابندی توکہیں عرب ممالک سے متصل اسلام دشمن ممالک سے دوستانہ ماحول یہ سب حالات امریکہ محض اس لئے پیداکررہاہے تاکہ دشمنوں میں انتشارکی فضابرقراررکھ کراسرائیل کوسکون سے رکھ سکے اوروہ اپنی اس حکمت عملی میں فی الحال کامیاب ہے ۔
    امریکہ نے سعودی عرب کے تمام پڑوسی ملکوں سے دوستانہ تعلقات اِس قدرمضبوط کرلئے ہیں اوراُن کے اعصاب پراتنی قوت کے ساتھ اثراندازہوچکاہے کہ عربوں کی کسی بھی طرح کی اسرائیل سے مزاحمت پرامریکہ تھوڑی ہی دیرمیں ارض مقدس کے گرداپناگھیرا تنگ کرسکتاہے ،یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ امریکی فوجی سعودی عرب سمیت قرب وجوارکے تقریباتمام ممالک میں موجودہیں۔
    حالات بڑے دھماکہ خیزہیں شاہ سلمان کی بصیرت اورحکمت عملی کواللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے کیونکہ دشمن کمین گاہوں میں بیٹھاتاک اورگھات میں صرف موقع کے انتظارمیں ہے …حرمین شریفین کی حفاظت ہرمؤمن کافرض ہے اور ہمیں اپنے قبلہ وکعبہ کی حفاظت کے لئے بہرصورت تیاررہناچاہئے…ارض مقدس کواپنی دعاؤں میں فراموش نہ کریں کیونکہ یہ ایمان کاتقاضا…حالات کاتقاضا …اور…وقت کاتقاضاہے۔
    بہرحال پوراعرب ہماری عقیدتوں اورمحبتوں کامرکزومحورہے، اس کے ایک ایک چپہ سے ہماری تاریخ ورشتۂ ایمانی پیوستہ اوروابستہ ہے…اس کی ایک ایک بستی تاریخ اسلام کی اولوالعزم ہستیوں کے لازوال کارناموں کی شاہد ہے…اس ارض مقدس کوصحابۂ کرام نے اپنے خون سے شادابی بخشی ہے …اور…آج بھی سوادگلشن کی حقیقت کاسراغ لگانے والوں کویہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ یہاں شہدائے کرام خاک وخون میں تڑپے ہیں…یہاں فزت ورب الکعبۃ کانعرہ لگایاگیاہے…یہ وہ سرزمین ہے جودنیا کاسب سے وسط حصہ…سب سے بابرکت علاقہ اورسب سے افضل وبرترخطہ ہے…لاکھوں لوگوں کے ہاتھ یومیہ اُس ارض پاک کی سلامتی کیلئے اٹھتے ہیں … یہاں ہزارہاانبیائے کرام آرام فرماہیں…لاکھوں صحابہ اپنی قبروں میں حیات ہیں…بے شمار بندگان خداوند الحاح وزاری کے ساتھ روزانہ دست بہ دعاہوتے ہیں…کعبۃ اللہ، مسجدحرام،مسجدنبوی،مسجداقصیٰ وغیرہ وہ یادگارایمانی شعائرہیں جن کودیکھنے سے بھی ایمان میں قوت اورتازگی کااحساس ہوتاہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ حرمین شریفین کے تحفظ اورتشخص کیلئے ہی اپنی نسلوں کوتیارکرنا چاہئے…اسی کی خاطرہماری صبح اوراسی کی خاطرہماری شام ہونی چاہئے…اسی کیلئے شبانہ روزکی محنت اوررات دن کی مشقت اٹھانی چاہئے…اس کی عظمت اوروقار کے لئے ہراس قربانی کے لئے ہمیں تیار رہناچاہئے جس سے ہم حرمین شریفین کی حفاظت کرسکیں…جوکام سعودی عرب اوردیگرمسلم ممالک کے کرنے کا ہے وہ کررہے ہیں… وہ دنیابھرمیں غریب ممالک ومملکتوںکی امدادوتعاون کیلئے جانے جاتے ہیں…ان کی تجوریاں غریبوں کی معاونت…مدارس کے تعاون…مساجدکی بناء اوراصلاحی تحریکات کے لئے کھلی ہوئی ہیں… وہ انسانی بنیادوں پرایسے ایسے کام کررہے ہیں جن کی معترف اسلامی سلطنتیں ہی نہیں غیرمسلم حکومتیں اوررعایابھی ہیں…بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایشائی ممالک میں پینے کے پانی کے لئے جوسرکاری سطح پرنل اورہینڈپمپ لگائے جاتے ہیں وہ عرب حکمرانوں کی مرہون منت ہیں …یہ حقیقت بھی شایدلوگ نہیں جانتے کہ غریب ممالک کی مدداورامدادی پیکیج کاسلسلہ بھی مدتوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ہم بحیثیت مسلمان نہ توعربوں سے کوئی اختلاف کریں…نہ ان سے بداخلاقی سے پیش آئیں …نہ ان کو تنقیدکانشانہ بنائیں …نہ ان کی شان میں گستاخی کریں…نہ ان سے الجھنے کی کوشش کریں…نہ ان کونیچادکھاکراپنی عقبیٰ بربادکریں… نہ عربوں کے دشمنوں کاآلۂ کاربنیں …اور…عربوں سے دشمنی رکھنے والوں کوبھی اپنادشمن تصورکریںکیونکہ دشمن کادشمن دوست ہوتاہے۔
    مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں کہ
    ’’اے عربو!اسلامی دنیا تمہارا احترام کرتی ہے اس کی قدر کرو، اسلامی غیرت اورانسانی ہمدردی کے باقی ماندہ اثاثہ کو لے کر اٹھو !دنیا تمہاری منتظر ہے کہ تم اسے اس بیسویں صدی کی جہالت سے نکالو، جس نے اسے پامال اورمشرق ومغرب کو مسموم کردیا ہے ،قیادت اور ہدایت کے اپنے دیرینہ منصب ومقام کی طرف لوٹو!آفاق کی وسعتوںمیں دعوت اسلامی کا فریضہ انجام دو اورکامیابی وکامرانی ہر معرکہ میںتمہارے ہم رکاب ہوگی ۔‘‘
    ایک ہوں مسلم کی حرم کی پاسبانی کے لئے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
    (مارچ۲۰۱۷ء )
    ٭٭٭
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں