حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏دسمبر 30, 2011۔

  1. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ (پیدئش: 80ھ) کی شہرت زیادہ ترامام مجتہد کی حیثیت سے ہے۔ لیکن علمائے حدیث نے آپ کو محدثین میں بھی ذکر کیا ہے، محدثین کا ذکر اس عنوان سے کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں سے احادیث سنیں اور ان سے آگے فلاں فلاں نے روایت لیں، حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی یہ پیرایہ تعارف موجود ہے،
    حافظ ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللہ (سنہ 463ھ) لکھتے ہیں:

    "قد قال الامام علی بن المدینی ابوحنیفہ روی عنہ الثوری وابن المبارک وحماد بن زید وہشام ووکیع وعباد بن العوام وجعفر بن عون وھو ثقہ لاباس بہ وکان شعبہ حسن الرای فیہ"۔
    (روی حماد بن زید عن ابی حنیفۃ احادیث کثیرۃ، الانتقاء:۱۳۰)

    ترجمہ:
    امام علی بن المدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ، حمادبن زید رحمہ اللہ، ہشام رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ، عباد بن عوام رحمہ اللہ، جعفر بن عون رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ سے حدیث روایت کی ہے، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ثقہ تھے ان سے روایت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور شعبہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

    حافظ شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

    "وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن ھرمز الاعرج وعدى بن ثابت وسلمۃ بن كھيل وابي جعفر محمد بن علي وقتادۃ وعمرو بن دينار وابي اسحاق وخلق كثير..... وحدث عنہ وكيع ويزيد بن ھارون وسعد بن الصلت وابوعاصم وعبد الرزاق وعبيد اللہ بن موسى وابو نعيم وابو عبد الرحمن المقرى وبشر كثير، وكان اماما ورعا"۔
    (تذکرۃ الحفاظ:168:1)

    ترجمہ: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے عطاء، نافع، عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، سلمہ بن کہیل، ابی جعفر، محمدبن علی، قتادہ، عمرو بن دینار، ابی اسحاق اور بہت سے لوگوں سے حدیث روایت کی ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے وکیع، یزید بن ہارون، سعد بن صلت، ابوعاصم، عبدالرزاق، عبیداللہ بن موسیٰ، ابونعیم، ابوعبدالرحمن المقری اور خلق کثیر نے روایت لی ہے اور ابوحنیفہ امام تھے اور زاہد پرہیزگار تھے۔

    ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ اہلِ مکہ کے محدث اور مفتی عطاء بن ابی رباح سے کس کس نے حدیث راویت کی ہے؟:
    "وعنہ ايوب وحسين المعلم وابن جريج وابن اسحاق والاوزاعي وابو حنيفۃ وھمام بن يحيى وجرير ابن حازم"۔
    (تذکرۃ الحفاظ:92:1)

    خطیب تبریزی، صاحب مشکوٰۃ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:

    "سمع عطاء بن ابی رباح وابااسحاق السبیعی ومحمد بن المنکد رونا فعاوہشام بن عروۃ وسماک بن حرب وغیرہم وروی عنہ عبداللہ بن المبارک وکیع بن الجراح ویزید بن ہارون والقاضی ابویوسف ومحمد بن الحسن الشیبانی وغیرہم"۔
    (الاکمال:624)

    ترجمہ: ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے عطا بن رباح اور ابواسحاق السبیعی اور محمدبن المنکدر اور ہشام بن عروہ اور سماک بن حرب وغیرہ حضرات سے روایت لی اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے عبداللہ بن مبارک اوروکیع بن الجراح اور یزید بن ہارون اور قاضی ابویوسف اور محمد بن حسن الشیبانی وغیرہ حضرات نے روایت لی ہیں ۔
    حضرت عبدالرحمن المقری (213ھ) جب آپ سے روایت کرتے توفرماتے مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جو (فن حدیث میں) بادشاہوں کا بادشاہ تھا، خطیب بغدادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    "کان اذاحدث عن ابی حنیفۃ قال حدثنا شاہنشاہ"۔

    آپ رحمہ اللہ کے اساتذہ وتلامذہ ان کے علاوہ بھی بہت سے تھے، آپ نے بلند پایہ محدثین سے محدثین کے طور پر روایات لیں اور آگے محدثین کے طرز پر انہیں محدثین سے روایت کیا، آپ کے تلامذہ میں سے عبداللہ بن مبارک اور وکیع بن الجراح کے تذکرے کتب رجال میں دیکھیں، یہ حضرات فنِ حدیث میں اپنے وقت کے آفتاب وماہتاب تھے، ان جیسے اکابر محدثین کا حدیث میں آپ کی شاگردی کرنا اس فن میں آپ کی عظمتِ شان کی کھلی شہادت ہے، یہ صحیح ہے کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرح مکثرین روایت میں سے نہ تھے؛ لیکن اس سے آپ کے علمِ حدیث میں کمزور ہونے کا شبہ کسی جاہل کوبھی نہ ہوسکے گا، محدثین آپ کے ذکر کے بغیرآگے نہ چلتے تھے، مشکوٰۃ شریف حدیث کی کتاب ہے جس میں ایک روایت بھی آپ سے منقول نہیں؛ مگرخطیب تبریزی "الاکمال فی اسماء الرجال" میں آپ کے ذکر کے بغیر آگے نہیں چل سکے، آپ کے وفور علم کی شہادت آپ کودینی پڑی اور ظاہر ہے کہ ان دنوں علم سے مراد علم حدیث ہی لیا جاتا تھا۔
    مصنف مذکور لکھتے ہیں:
    "والغرض بایراد ذکرہ فی ہذا الکتاب وان لم نرد عنہ حدیثاً فی المشکوٰۃ للتبرک بہ لعلو رتبتہ ووفور علمہ"
    (الاکمال فی اسماء الرجال:624)

    ترجمہ: اورغرض اس کتاب میں آپ کا ذکرلانے سے یہ ہے کہ اگرچہ ہم مشکوٰۃ میں اُن سے کوئی حدیث نہیں لائے ہیں کہ آپ کے ذکر سے برکت حاصل ہوجائے، یہ آپ کے علوِمرتبہ اور وفور علم کی وجہ سے ہے۔

    وفورِ علم سے مرادِ حدیث کا علم وافر نہیں تو اور کیا ہے؟ رہا فقہ تویہ علم اسی وقت بنتا ہے جب یہ حدیث پر مرتب ہو اسے علم حدیث لازم ہے؛یہی نہیں کہ آپ نے محدثین کے طرز پر روایات لیں اور آگے روایت کیں؛ بلکہ روایتِ حدیث اور راویوں کے صدق وکذب پر بھی آپ کی پوری نظر تھی، امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ایک مسئلے پر گفتگو ہوئی اور دونوں طرف سے احادیث سند کے ساتھ پڑھی گئیں توآپ نے دونوں طرف کے راویوں پر تبصرہ فرمایا اور باوجود یہ کہ دونوں طرف کے روات ثقہ تھے، آپ نے راویوں کے علو فہم پر بحث شروع کردی (سند الانام فی شرح مسند الامام:20) اور دونوں طرف کے راویوں کا نام لے لے کر بتایا کہ حماد بن ابی سلیمان زہری سے افقہ ہیں اور فلاں فلاں سے افقہ ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس سے واضح ہے کہ آپ راویوں پر تنقیدی نظر رکھتے تھے،

    ایک دوسری جگہ راویوں کے صدق وکذب پر آپ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

    "مارایت احداً افضل من عطاء"۔
    (تذکرہ:92:1)

    میں نے عطاء بن ابی رباح سے زیادہ اچھا (راوی) کسی کو نہیں دیکھا...... اور یہ بھی فرمایا:

    "مالقیت فیمن لقیت اکذب من جابر الجعفی"۔
    (تہذیب التہذیب:483)

    میں جن لوگوں سے ملاہوں ان میں جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کسی کو نہیں پایا۔


    حافظ ابنِ حجر نے زید بن عیاش کے بارے میں آپ کی رائے نقل کی ہے "انہ مجہول" (تہذیب التہذیب:424:4) طلق بن حبیب پر آپ نے اس کے عقیدہ کی رو سے جرح کی ہے "کان یری القدر" (الجواہر المضیہ:30:1) محدثین ہی راویوں پر اس درجہ تنقیدی نظر رکھتے ہیں،

    حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    "قال ابوحنیفۃ رایت ربیعہ واباالزناد وابوالزناد افقہ الرجلین"۔
    (تذکرہ:127:1)

    ترجمہ:ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے ربیعہ اور ابوالزناد دونوں کودیکھا، ابوالزناد زیادہ فقیہ تھے۔


    محدثین کا آپ کے متعلق اس قسم کی آراء کا اظہار کرنا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ آپ رواۃ حدیث کے فہم ودرایت پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے، حضرت سفیان الثوری رحمہ اللہ کے علمی مرتبہ اور شانِ علم حدیث سے کون واقف نہیں، اتنے بڑے محدث کے بارے میں آپ سے رائے لی گئی کہ ان سے حدیث لی جائے یا نہیں؟ امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    "عبد الحميد قال: سمعت أباسعد الصاغاني يقول: جاء رجل إلى أبي حنيفة فقال: ماترى في الأخذ عن الثوري؟ فقال: اكتب عنه ماخلا حديث أبي إسحاق عن الحارث عن علي، وحديث جابر الجعفي"۔
    (کتاب القرأۃ للبیہقی:134)

    ترجمہ: عبدالحمید الحمانی کہتے ہیں میں نے ابوسعدصاغانی کوکہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص امام ابوحنیفہ کے پاس آیا اور پوچھا سفیان ثوری سے روایت لینے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان سے حدیث لے لو؛ ماسوائے ان حدیثوں کے جنھیں وہ ابواسحاق عن الحارث کی سند سے روایت کریں یاجنھیں وہ جابر جعفی سے نقل کریں۔

    غور کیجئے جب حضرت امام سفیان ثوری جیسے محدث کے بارے میں بھی آپ سے رائے لی جارہی ہےتو آپ کا اپنا مقام حدیث میں کیا ہوگا؟ اجتہاد واستنباط یاتطبیق وترجیح میں تومجتہدین آپ سے اختلاف کرسکتے ہیں؛ لیکن کسی مقام پریہ کہہ دینا کہ یہ حدیث حضرت امام کونہ پہنچی ہوگی ہرگز درست نہیں؛ اس دور میں یہ بعض الظن اثم کے قبیل میں سے ہے، محدث جلیل ملاعلی قاری احیاء العلوم کی ایک عبارت پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    "فالظن بأبي حنيفة أن هذه الأحاديث لم تبلغه ولوبلغته لقال بها قلت هذا من بعض الظن فإن حسن الظن بأبي حنيفة أنه أحاط بالأحاديث الشريفة من الصحيحة والضعيفة، لكنه مارجح الحديث الدال على الحرمة أوحمله على الكراهة جمعا بين الأحاديث وعملا بالرواية والدراية"۔
    (سندالانام:52)

    الحافظ اور الحجۃ کے درجے کے محدثین توبہت ہوئے؛ لیکن بہت کم ہوئے جن کا علم تمام احادیث کومحیط مانا گیا ہو، حضرت امام ان کبارِ محدثین میں سے ہیں، جن کاعلم تمام احادیثِ صحیحہ اور ضعیفہ کومحیط مانا گیا، ایک مرتبہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق پوچھا گیا توفرمایا کہ ثقہ میں ثقہ ہیں، ایک مرتبہ فرمایا حدیث فقہ میں اور سچے ہیں اور دین کے بارے میں قابلِ اعتماد ہیں۔
    (تاریخ بغداد خطیب:419اور420:13)

    امام ابوداؤد فرماتے ہیں:

    "ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
    (تذکرہ“160:5)

    ترجمہ:بے شک ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام تھے۔



    حضرت سفیان بن عیینہ (198ھ) کس پائے کے محدث تھے یہ اہلِ علم سے مخفی نہیں، آپ کوفہ آئے توعلماء حدیث تب آپ سے حدیث سننے کے لیئے تیار ہوئے، جب حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے آپ کے محدث ہونے کی تصدیق کی، آپ نے فرمایا: یہ شخص عمرو بن دینار کی روایات کا سب سے بڑا عالم ہے، اس پر علماء سفیان بن عیینہ کے گرد جمع ہوگئے، حضرت سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "قدمت الکوفۃ فقال ابوحنیفۃ ہذا اعلم الناس بحدیث عمروبن دینار فاجتمعوا علی فحدثتھم"۔
    (الجواہرالمضیئۃ:30:1)

    سفیان بن عیینہ کومحدث بنانے میں بڑے بڑے محدثین کی محنتیں ہوئیں؛ مگراس میں سبقت حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔

    حضرت سفیان خود کہتے ہیں:
    "اوّل من صیرنی محدثا ابوحنیفۃ"۔
    (الجواہر نقلاً عن ابن خلکان:103:1)

    ترجمہ:جسں نے سب سے پہلے مجھے محدث بنایا ابوحنیفہ تھے۔


    حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں محدثِ حرم حضرت سفیان کوفی تھے، اب آپ خود سمجھ لیں کہ آپ نے حضرت امام سے کس قدر استفادہ کیا ہوگا، آپ مسلکاً بھی حنفی تھے۔
    (الجواہر:250:1)

    یحییٰ بن زکریا ابی زائدہ کی جلالتِ علم سے کون واقف نہیں، حافظ ذہبی رحمہ اللہ انہیں "الحافظ الثبت المتقن الفقیہ" (تذکرہ:246:1) لکھتے ہیں، آپ حضرت امام کے شاگرد تھے اور بقول حضرت امام طحاوی رحمہ اللہ حضرت امام کے اُن پہلے دس اصحاب میں سے تھے جوتدوین علم میں آپ کے ساتھ بیٹھے، فن حدیث کے ان جیسے اکابر کا حضرت امام سے یہ قریبی رابطہ بتلاتا ہے کہ حضرت امام فن روایت میں بھی ان جبالِ علم کے شیخ تھے اور اکابر محدثین نہ صرف ان کے علم حدیث کے قائل تھے؛ بلکہ ان سے اپنے محدث ہونے کی سند لیتے تھے۔


    حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا نظریہ حدیث


    حضرت امام حدیثِ منقول پر عمل کرنے سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ کثیرتعداد متقی لوگ اس حدیث کواِس صحابیؓ سے روایت کرتے ہوں، یہ روایت کرنا لفظاً ضروری نہیں، خبرِواحد اپنی جگہ معتبر ہے؛ لیکن اُن کے ہاں اس کا عمل میں آیا ہوا ہونا ضروری تھا، جوحدیث معمول بہ نہ رہی ہو؛ اِس سے ان کے ہاں سنت ثابت نہیں ہوتی، سنت کے ثابت ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ اس پر عمل بھی ہوتا آیا ہو، امام مالکؒ کانظریۂ حدیث بھی تقریباً یہی تھا، وہ حدیث کی بجائے سنت پر زیادہ زور دیتے تھے؛ مؤطا میں بار بار سنت کا لفظ لاتے ہیں اور اس سے صحابہؓ وتابعینؒ کا تواتر عمل مراد ہوتا ہے جب فتنے پھیلے اور جھوٹ کا بازار گرم ہوا تومحدثین روایت اور اسناد کے گرد پہرہ دینے لگے، اِن بدلے ہوئے حالات میں حدیث سے تمسک بذریعہ اسناد ہونے لگا اور تواتر عمل کی اس طرح تلاش نہ رہی جس طرح پہلے دور میں ہوتی تھی، اس نئے دور کے مجدد حضرت امام شافعیؒ ہیں؛ لیکن اس میں شک نہیں کہ پہلے دور میں حدیث کی بجائے سنت کوزیادہ اہمیت دی جاتی تھی، حافظ شمس الدین الذہبیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کانظریۂ حدیث اُن کے اپنے الفاظ میں اس طرح نقل کرتے ہیں:
    "آخذ بکتاب اللہ فمالم اجد فبسنۃ رسول اللہ والاثار الصحاح عنہ التی فشت فی ایدی الثقات عن الثقات فان لم اجد فبقول اصحابہ اٰخذ بقول من شئت...... وامااذا انتہی الامرالی ابراہیم والشعبی والحسن والعطاء فاجتہد کمااجتہدوا"۔
    (مناقب ابی حنیفۃ للذہبی:20)

    ترجمہ: میں فیصلہ کتاب اللہ سے لیتا ہوں جواس میں نہ ملے اسے حضورﷺ کی سنت اور ان صحیح آثار سے لیتا ہوں جوحضور سے ثقہ لوگوں کے ہاں ثقات کی روایت سے پھیل چکے ہوں، ان میں بھی نہ ملے تومیں صحابہ کرامؓ سے لیتا ہوں اور جس کا فیصلہ مجھے اچھا (قوی) لگے لے لیتا ہوں..... اور جب معاملہ ابراہیم نخعیؒ، علامہ شعبیؒ، حضرت حسن بصریؒ اور عطاء بن ابی رباحؒ تک پہنچے تومیں بھی اس طرح اجتہاد کرتا ہوں جس طرح ان پہلوؤں نے اجتہاد کیا تھا۔
    حضرت امام یہاں آثارِ صحیحہ کے عملاً پھیلے ہوئے ہونے پر زور دے رہے ہیں اور یہی اُن کا نظریہ حدیث تھا،

    حضرت علامہ عبدالوہاب الشعرانیؒ (973ھ) لکھتے ہیں:

    "وقد کان الامام ابوحنیفۃ یشترط فی الحدیث المنقول عن رسول اللہ قبل العمل بہ ان یرویہ عن ذٰلک الصحابی جمع اتقیاء عن مثلہم"۔
    (المیزان الکبریٰ للشعرانی:62:1)

    ترجمہ: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ حضورﷺ سےنقل شدہ حدیث کومعمول بہ ٹھہرانے سے پہلے یہ ضروری ٹھہرائے تھے کہ اسے اس صحابیؓ سے ان جیسے نیک لوگوں کی ایک جماعت نے روایت کیا ہو۔
    محقق ابن الہمامؒ (861ھ) کی حضرت امام کے اس اصل پر گہری نظر تھی، آپؒ تصریح کرتے ہیں کہ جب کوئی صحابیؓ اپنی روایت کردہ حدیث پر عمل نہ کرے اس کے خلاف فتوےٰ دے تو وہ روایت ازخود حجت نہ رہے گی؛ کیونکہ اس کے ساتھ تواترِ عمل ثابت نہیں ہوسکا، حضرت امام کا یہ نظریہ بیشک نہایت سخت ہے، روایت کے ساتھ راوی کا عمل ساتھ ساتھ چلے، ایسے راوی توصحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی بہت کم ملیں گے، حضرت امامؒ تواتر عمل کے اس حد تک قائل تھے کہ وہ اس کی تائید میں ان روایات وآثار سے مدد لیتے تھے، جواپنی جگہ مرسل ہوں؛ مگرعملاً اتصال رکھتے ہوں، آپؒ کی املاء کردہ کتاب الآثار اور امام مالکؒ کے مؤطا میں آپؒ اسی نظریہ کوجگہ جگہ کارفرما پائیں گے، حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
    "أنہ کان یذھب فی ذلک الی عرضھا علٰی مااجتمع علیہ من الاحادیث ومعانی القرآن فماشذ من ذلک ردہ وسماہ شاذاً"۔
    (الموافقات للشاطبی:26:3)

    ترجمہ:امام صاحبؒ ایسے موقع پر اس روایت کواس موضوع کی دوسری احادیث اور قرآنی مطالب سے ملاکر دیکھتے جوروایت اس مجموعی موقف سے علیٰحدہ رہتی آپؒ اسے (عمل میں) قبول نہ کرتے اور اس کا نام شاذ Isolated رکھتے۔

    حضرت امام کے نظریہ حدیث میں یہ اصول بھی کار فرما ہے کہ آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کوبھی نظرانداز نہ کیا جائے، اُن کے ہاں آثارِ صحابہ اور ضعیف حدیث کے ہوتے ہوئے اجتہاد اور قیاس سے کام نہ لینا چاہئے، اپنی رائے پر ضعیف حدیث اور آثارِ صحابہ کوترجیح دینی چاہیے، یہ صرف حضرت امام کی ہی رائے نہ تھی، کل فقہاء عراق اسی نظریہ کے تھے، علامہ ابنِ حزمؒ نے اس پر فقہاء عراق کا اجماع نقل کیا ہے؛ ضعیف حدیث سے یہاں وہ روایت مراد نہیں، جس کا ضعف انتہائی شدید قسم کا ہویا وہ موضوع ہونے کے بالکل قریب جاچکی ہو، متکلمین کا جوطبقہ مسائل ذات وصفات میں تاویل کی راہ چلا حضرت امام اس مسلک کے نہ تھے، اس باب میں آپ محدثین کی روش پرتھے اور آیات صفات پر بلاتاویل ایمان رکھتے تھے،

    حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ) آپ کا تعارف ان الفاظ میں کراتے ہیں:

    "هوالامام أبوحنيفة واسمه النعمان بن ثابت التيمي مولاهم الكوفي، فقيه العراق، وأحد أئمة الاسلام، والسادة الاعلام، وأحد أركان العلماء، وأحد الائمة الاربعة أصحاب المذاهب المتنوعة"۔
    (البدایہ والنہایہ:107:1)

    علامہ ذہبیؒ (748ھ) آپ کے لیئے امام اعظم کا لقب اختیار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

    ".....کان اماماً ورعاً عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان"۔
    (تذکرہ:158:1)

    الامام اعظم، فقیہ العراق، حضرت امام متورع، عالم، عامل، متقی اور کبیرالشان تھے۔


    امام مکی بن ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ اعلم اہل الارض تھے
    (مقدمہ اوجزالمسالک:60)
    یعنی کرۂ ارضی کے اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے، علم ان دنوں علمِ حدیث کوہی کہا جاتا تھا، علامہ ابنِ خلدونؒ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ علم حدیث کے بڑے مجتہدین میں سے تھے (مقدمہ ابنِ خلدون:445) اور لکھتے ہیں کہ فقہ میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ کوئی دوسرا ان کی نظیر نہ تھا اور ان کے تمام ہمعصر علماء نے ان کی اس فضیلت کا اقرار کیا ہے خاص طور پر امام مالکؒ اور امام شافعیؒ نے (مقدمہ:448)
    امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن سعید القطان (198ھ) فرماتے ہیں کہ
    “ ہم خدائے قدوس کی تکذیب نہیں کرتے، ہم نے امام ابوحنیفہؒ سے بہتر رائے اور بات کسی سے نہیں دیکھی
    (تہذیب التہذیب:449:10)
    آپ بھی حضرت امام کے قول پر فتویٰ دیتے تھے،

    حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:
    "کان یحییٰ القطان یفتی بقول ابی حنیفہ ایضا"۔
    (تذکرہ:282:1)

    یہ اِس درجہ کے امام تھے کہ امام احمدؒ فرماتے ہیں:

    "مارأیت بعینی مثل یحییٰ بن سعید القطان"۔
    (تذکرہ:275:1)

    میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ بن سعید کی مثال کسی کو نہ دیکھا۔



    اِس درجے کے عظیم القدر محدث کا فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کی پیروی کرنا اور اُن کے قول پر فتوےٰ دینا اس با ت کا پتہ دیتا ہے کہ حضرت امامؒ حدیث وفقہ میں کتنا اونچا مقام رکھتے تھے،
    عبداللہ بن داؤدؒ کہتے ہیں:

    "جب کوئی آثار یاحدیث کا قصد کرے تو (اس کے لیئے) سفیانؒ ہیں اور جب آثار یاحدیث کی باریکیوں کومعلوم کرنا چاہے توامام ابوحنیفہؒ ہیں"۔
    (سیرالاحناف:29)

    امام مسعر بن کدامؒ (155ھ) کی جلالتِ قدر سے کون واقف نہیں، شعبہ کہتے ہیں ہم نے اُن کا نام مصحف (قرآن) رکھا ہوا تھا، یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں میں نے حدیث میں ان سے زیادہ ثابت کسی کونہیں پایا، محمد بن بشرؒ کہتے ہیں میں نے اُن سے دس کم ایک ہزار احادیث لکھیں، یہ مسعربن کدامؒ حضرت امامؒ کے ہم سبق تھے، آپؒ کہتے ہیں:

    "طلبت مع ابی حنیفۃ الحدیث فغلبنا واخذنا فی الزھد فبرع علینا وطلبنا معہ الفقہ فجاء منہ ماترون"۔
    (مناقب ابی حنیفۃ للذھبی:27)

    ترجمہ: میں نے اور ابوحنیفہؒ نے اکٹھے حدیث پڑھنی شروع کی وہ ہم پر غالب رہے اورعلم حدیث میں ہم سب طلبہ سے بڑھ گئے، ہم زہد وسلوک میں پڑے تو اس میں بھی وہ کمال پر پہنچے اور ہم نے اُن کے ساتھ فقہ پڑھنا شروع کیا تواس میں بھی وہ اس مقام پر آپہنچے جو تم دیکھ رہے ہو۔


    مسعر بن کدامؒ جیسے محدث کی یہ شہادت حضرت امام کے علم حدیث میں اسبق ہونے کی ایک کھلی دلیل ہے، کم از کم پانچ لاکھ احادیث بیک نظر آپ کے سامنے ہوتی تھیں، آپ نے اپنے بیٹے حماد کوجن پانچ حدیثوں پر عمل کرنے کی وصیت کی ان کے بارے میں فرمایا کہ میں نے یہ پانچ لاکھ احادیث سے انتخاب کی ہیں، وصیت نمبر19 کے تحت لکھتے ہیں:

    "ان تعمل بخمسۃ احادیث جمعتھا من خمس مائۃ الف حدیث"۔
    (وصیۃ الامام الاعظم لابن حماد:65)

    ترجمہ:ان پانچ احادیث کو خاص طور پر معمول بہ بنانا، میں نے انہیں پانچ لاکھ احادیث سے چنا ہے۔
    (1)"وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"
    اورہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہو۔
    ( بخاری، كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مَاجَاءَ إِنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالْحِسْبَةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَانَوَى،حدیث نمبر:52، شاملہ، موقع الإسلام۔)

    2)"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"
    ( ترمذی، كِتَاب الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب فِيمَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُضْحِكُ بِهَا النَّاسَ،حدیث نمبر:2239، شاملہ، موقع الإسلام۔)

    (3)"لَايُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ"
    تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنےبھائی کے لیےوہی پسند نہ کرے جواپنےنفس کو پسند ہے۔
    (بخاری،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب مِنْ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَايُحِبُّ لِنَفْسِهِ،حدیث نمبر:12، شاملہ، موقع الإسلام۔)

    (4)"إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ"
    بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں۔
    (مسندِاحمد،أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ،حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:17649، شاملہ، موقع الإسلام۔)

    (5)"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"
    مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
    (مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب بَيَانِ تَفَاضُلِ الْإِسْلَامِ وَأَيُّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ،حدیث نمبر:58، شاملہ، موقع الإسلام۔)



    حضرت امام اعظم رحمہ اللہ کی تابعیت


    حضورِاکرمﷺ کی وفات کے وقت جوعمرحضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تھی حضرت امامؒ تقریباً اسی عمر کے تھے کہ حضورﷺ کے کئی صحابہؓ موجود تھے،حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ (87ھ)، سہل بن سعد ساعدیؓ (91ھ)، حضرت انس بن مالکؓ (93ھ)، حضرت عبداللہ بن بسرؓ المازنی (96ھ)، حضرت عامر بن واثلہ الاسقعؓ (102ھ) اِس وقت زندہ تھے، حضرت عامرؓ کی وفات کے وقت حضرت امامؒ کی عمر22/سال کی تھی اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ تورہتے ہی کوفہ میں تھے،

    حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:
    "مولدہ سنۃ ثمانین رای انس بن مالکؓ غیرمرۃ لماقدم علیہم الکوفۃ"۔
    (تذکرہ:158:1)

    ترجمہ:حضرت امامؒ کی پیدائش سنہ80ھ میں ہوئی، آپؒ نے حضرت انس بن مالکؓ (93ھ) کوجب وہ کوفہ گئے توکئی دفعہ دیکھا۔

    حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضورؐ سے گیارہ برس کی عمر میں روایت لے سکتے ہیں توحضرت امامؒ، حضرت انسؓ سے حدیث کیوں نہ سن سکتے تھے، یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ آپؒ نے حضرت انسؓ کی بارہا زیارت کی ہو اور اُن سے احادیث نہ سنی ہوں، نہ حضرت انسؓ کے بارے میں تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی مجالس میں احادیث نہ پڑھتے ہوں، یہ علیٰحدہ بات ہے کہ امام نے انہیں روایت نہ کیا ہو۔

    انواراسلام
  2. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا ساہج بھائی بہت ہی معلوماتی اور مفید پوسٹ کرنے پر شکریہ ۔ ۔
  3. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  4. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    بہت ہی خوب جناب
  5. رجاء

    رجاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,198
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین

اس صفحے کو مشتہر کریں