حضرت آدم علیہ السلام

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏مارچ 16, 2015۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    حضرت آدم علیہ السلام
    قرآن کریم
    قرآن کریم کا وجود انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس لیے کہ یہ ہماری دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہدایت موجود نہ ہو۔
    اس کا لفظ لفظ محفوظ ہے۔ اس میں بیان کردہ قصص عین واقعات کے مطابق ہیں۔ اس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اس نے لے رکھا ہے۔ اس میں بیان کردہ باتوں میں سے کسی ایک جز تک کا انکار یا تذبذب کرنے والا مومن نہیں رہ سکتا۔
    انسانیت کی ابتداء
    تمام مومنین کا اعتقاد ہے کہ تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ ڈارون کے نظریہ کے مطابق ایسا نہیں جس کا دعویٰ یہ ہے کہ موجودہ انسان اپنی ابتدائی تخلیق سے انسان پیدا نہیں ہوا بلکہ بہت سے مدارج طے کر کے انسانی شکل اختیار کی مگر مومنین ایسا ماننے پر تیار نہیں۔ ان کا یقین تو یہ ہے کہ خالق کائنات نے انسان اول آدم علیہ السلام کی شکل میں ہی پیدا کیا اور عالم مخلوق پر برتری عطا فرمائی۔
    فرمایا :بیشک ہم نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو تمام کائنات پر برتری عطا فرمائی۔ (بنی اسرائیل: 70)
    پیدائش آدم علیہ السلام
    اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک خاص قسم کی مٹی سے پیدا کیا۔ ان کا خمیر تیار ہونے سے پہلے ہی فرشتوں کے سامنے اعلان فرما دیا کہ عنقریب میں مٹی سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جسے بشر کہا جائے گا اور زمین پر ہماری خلافت کا شرف حاصل کرے گی۔ ساتھ ہی یہ حکم فرما دیا کہ جب وہ معرضِ وجود میں آجائے تو تم سب کے سبب اس کے سامنے سجدہ میں گر جانا۔ فرشتوں نے یہ سنا تو حیرت میں رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ اگر یہ بشر پیدا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ دن رات وہ تیری حمدو ثنا میں مصروف رہے اس کے لیے تو ہم حاضر ہیںجو ہر وقت تیری حمدو ثنا میں لگے رہتے ہیں ۔ فرشتوں نے جنوں کے کردار پر قیاس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو بشری مخلوق سے فتنہ و فساد کی بو آرہی ہے، تو خالق کائنات نے فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جس سے تم بے بہرہ ہو۔
    اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے آدم علیہ السلام کو تخلیق فرما کر روح پھونک دی۔ تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سجدے میں گر گئے مگر ابلیس جو جنوں کا ایک فرد تھا اپنے کو آدم علیہ السلام سے بہتر یقین کرتا ہوا سجدے میں نہ گیا ، انکار کر دیا۔ قرآن کریم اس بات کا گواہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے مردود کر دیا۔ ابلیس نے اپنی زندگی کی مہلت قیامت تک کے لیے طلب کی، اس کی یہ درخواست اللہ نے منظور کر لی۔ ابلیس کہنے لگا کہ جس آدم کی بدولت مجھے آپ کی بارگاہ سے راندگی ہوئی میں اس کی اولاد کو ہر طرف سے گھیر کر سبز باغ دکھا کر تیری ناشکری اور نافرمانیوں پر اکسائوں گا مگر تیرے مخلص بندے میرے پھندے میں نہ آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر کر دیا کہ جو بھی میری راہ چھوڑ کر تیری اتباع کرے گا میں اسے تیرے ساتھ جہنم میں ڈال دوں گا۔
    حضرت حواء
    آدم علیہ السلام ایک عرصے تک تنہا زندگی بسر کر تے رہے۔ اپنی زندگی میں خلا محسوس کرتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کو پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام اپنا ہمدم اور رفیق پا کر بے حد خوش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں سے فرمایا یہ میری جنت ہے اس میں بے شمار قسم کے پھل دار درخت ہیں جس درخت کا پھل کھانا چاہو کھا سکتے ہو صرف اس ایک درخت کا پھل نہ کھانا۔
    ابلیس نے بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے قسم کھائی ہوئی تھی۔ اس نے آدم علیہ السلام اور حواء کو اپنی چکنی چپڑی باتوں اور جھوٹی قسمیں اٹھا کر دونوں کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کر لیا۔ وہ وقتی طور پر بھول گئے کہ اس درخت کے قریب تک جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کر رکھا ہے۔ ۔۔۔ پھل کھاتے ہی بدن کے ستر سے محروم ہوگئے۔ درختوں کے بڑے بڑے پتوں سے ستر کو ڈھانپا اور اپنی لغزش پر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر معافی طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے معاف فر مادیا۔ ساتھ ہی فیصلہ سنا دیا کہ تم کو اور تمہادی اولاد کو ایک معین وقت تک زمین پر قیام کرنا ہوگا اور ابلیس بھی اپنے سازو سامان کے ساتھ تمہارے ساتھ رہے گا۔ جو بھی اس کی باتوں میں آگیا گمراہ ہو جائے گا اور جو مخلص ثابت ہو گا یعنی میری پناہ طلب کرتے ہوئے اس سے بچتا رہے گا تو اس کا اصلی وطن جنت ہمیشہ کے لیے ملکیت میں دے دی جائے گا۔ لہٰذا تم دونوں جائو اور زمین پر جا کر بسو۔ اس طرح انسانوں کے باپ اور اللہ تعالیٰ کے خلیفہ آدم علیہ السلام نے اپنی رفیقۂ حیات کے ساتھ زمین پر قدم رکھا۔
    آدم علیہ السلام اور حواء کی اولاد در اولاد سے یہ زمین آج آباد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں سے یہ بھی فرما دیا کہ میری طرف سے تمہاری نسل کے میں کوئی پیغامِ ہدایت آیا تو یاد رکھنا کہ جو کوئی میری ہدایت پر عمل کرے گا تو وہ بے راہ نہ ہوگا۔
    چند اہم مسائل
    ٭اللہ تعالیٰ نے صرف فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہو جائے تو تم سب سجدے میں گر جانا، ابلیس تو فرشتوں کی جنس میں داخل نہیں تو اس پر عتابِ الٰہی کیسا؟
    جواب یہ ہے کہ بلاشبہ ابلیس ملائکہ کی جنس سے نہ تھا مگرجب اللہ تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو وہ اس وقت مجلس میں موجود تھا۔ فرشتوں کے ساتھ تسبیح میں مشغول رہنے کی وجہ سے اس حکم کا مخاطب تھا۔
    ٭اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس کو مردود کرکے جنت سے نکال دیا تو اس نے آدم علیہ السلام کو کیسے بہکا دیا؟
    جواب یہ ہے کہ ابلیس نے جنت سے باہر رہ کر آدم علیہ السلام کے قلب میں وسوسہ ڈالا۔ سورت الاعراف کی آیت مبارکہ سے یہی ظاہر ہو رہا ہے۔
    ٭حواء کی پیدائش کیسے ہوئی؟
    جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی سورت النساء آیت نمبر 1میں صرف اس قدر مذکور ہے ’’اس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا‘‘(حواء کی پیدائش کی تفصیل نہیں بتائی گئی) مشہور یہ ہے کہ وہ آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کی گئیں۔
    ٭کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی اور رسول تھے؟
    جواب یہ ہے کہ وہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر اور نبی تھے۔ قرآن میں جگہ جگہ آیا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی واسطے سے آدم علیہ السلام سے کلام فرمایا اور مختلف احکام دیتا رہا۔ پس یہی نبوت کا خاصہ ہے۔
    آدم علیہ السلام کی عصمت
    ممنوعہ درخت کا پھل کھانا آدم علیہ السلام کی غلطی تھی نہ ہی گناہ بلکہ معمولی قسم کی لغزش تھی۔ قرآن مجید اس پر گواہ: ’’شیطان نے ان دونوں سے لغزش کرادی‘‘(البقرہ: 36)
    سور ت طٰہٰ اور الاعراف میں دو جگہ اس واقعہ کو وسوسہ کہا گیا۔
    قابیل و ہابیل
    یہ دونوں آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ان کا واقعہ آدم علیہ السلام کے واقعاتِ زندگی کا حصہ ہے۔
    نسل انسانی میں اضافہ کے لیے حواء علیہا السلام سے پہلے جڑواں بچے (لڑکا، لڑکی) پیدا ہونے والے بچوں کا اگلی دفعہ پیدا ہونے والوں سے باہمی نکاح کر دیتے، چنانچہ ان دونوں بھائیوں کا نکاح کرنے کے سلسلہ میں تنازع کھڑا ہو گیا۔ آدم علیہ السلام نے اس کے حل کے لیے دونوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرنے کا حکم دیا۔ ہابیل کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور قابیل کی رد کر دی۔ قابیل حسد کی آکر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیا میں جب بھی کوئی ظالم سے قتل ہوتا ہے تو اس کا گناہ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کی گردن پر بھی ضرور ہوتا ہے کیونکہ کرہ ارض پر وہ پہلا شخص تھا کی جس نے قتل کی ابتداء کی۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں