حضرت تھانوی کا ایک واقعہ

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏فروری 18, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حضرت تھانوی کا ایک واقعہ
    بیوی کے گر جانے سے نماز توڑنا​
    ابھی پرسوں کا واقعہ ہے میں صبح کی سنتیں پڑھ رہا تھا کہ بڑے گھر سے دوڑتا ہوا آدمی آیا یہ خبر لایا کہ گھر میں بی بی صاحبہ کوٹھے کے اوپر سے گر گئی ہیں میں نے خبر سنتے ہی فورا نماز توڑدی ۔یہاں تو سب سمجھدار لو گ ہیں شائد بعض نا واقف لوگ اپنے دل میں اس وقت یہ کہتے ہوں گے کہ ہائے بیوی کے واسطے نماز توڑ دی ۔بیوی سے اتنا تعلق ہے کہ خدا کی عبادت کو اس کے لئے قطع کر دیا (توڑ دیا)بے شک اس وقت کوئی دکاندار پیر ہوتا وہ ہر گز نماز نہ توڑتا کیونکہ اس سے جاہل مریدوں کی نظروں میں سبکی ہوتی ہے ۔مگر الحمد للہ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی کیا کہے گا ۔اگر کسی کی نظر میں اس فعل سے میری سبکی ہوتی ہے تو وہ شوق سے کوئی دوسرا شیخ تلاش کر لے۔ جب خدا کا حکم تھا کہ نماز اس وقت توڑ دو تو میں کیا کرتا اس وقت جاہلوں کی نظروں میں بڑا بننے کیلئے میں حکم خدا وندی کو چھوڑ دیتا؟ ظاہر ہے کہ جب بیوی کوٹھے(چھت)پر سے گری تو اس کی چوٹ کو شوہر ہی ہلکا کر سکتا ہے اور وہی دریافت کر سکتا ہے کہ چوٹ کہاں لگی کہاں نہیں لگی ۔خصوصا اس صورت میں جبکہ گھر کے اندر سوائے ایک نا سمجھ بچی اور ایک معذور بڑھیا کے کوئی امداد کرنے والابھی نہ تھا ۔اور امداد کرنے والے ہوں بھی تو کوٹھے سے گر جانا بعض دفعہ ہلاکت ( اور موت) کا سبب ہو جاتا ہے ۔فورا ہی کوئی تدبیر ہو جائے توزندگی کی آس ہوتی ہے اس لئے بھی مجھ کو فورا جانا ضروری تھا ۔اس لئے میں نے شرعا نماز توڑ دینا اور فورا جاکر ان کی خبر گیری کرنا ضروری سمجھا۔
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  3. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    1500 کتابوں کے مصنف ،میرے روحانی پردادا ،حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا
    شاہ اشرف علی تھانوی صاحب نوراللہ مرقدہ وجعل الجنۃ مثواہ ،طاب اللہ ثراہ
    کے سیکڑوں اصلاحی ومفید مواعظ ،حالت ،واقعات اور فرمودات میں سے ایک سبق آموزواقعہ ذکر کرنے کا
    شکریہ مولانا قاسمی صاحب۔ یجزیک ربی خیرا
  4. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    واقعی اللہ والوں کے ہر کام میں اللہ اور اسکے رسول صلی للہ علیہ وسلم کی سنت شامل ہوتی ہے
  5. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,110
    موصول پسندیدگیاں:
    336
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بہت بہت شکریہ ۔ ۔

    ایک مسئلہ ذہن میں آ رہا ہے کہ کیا ایسے موقع پر ( اگر نفل یا سنت ) نماز کو توڑنے کی ضرورت پیش آئے تو کوئی کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا ؟ ؟ ؟
  6. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    کوئی کفارہ اداکرنا نہیں پڑیگا
  7. شرر

    شرر رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    97
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    نفل نماز توڑنے سے اسکی قضا تو کرنی پڑےگی مگر کفارہ کچھ نہیں آتا۔
  8. آصف رضا

    آصف رضا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    48
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آپکی تحریر کو پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا شرعی مسئلہ بھی سیکنھے کو ملا ۔شکریہ۔
  9. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,110
    موصول پسندیدگیاں:
    336
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ ۔۔۔ محترم مجیب صاحب و محترم شرر صاحب
  10. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  11. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته ...
    مفید معلومات ہے ۔۔۔
    جزاك الرحمن الجنه...

اس صفحے کو مشتہر کریں