حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وعظ

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اپریل 20, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وعظ​
    کہتے ہیں ایک روزحضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے پا عجیب وغریب حالت میں تشریف لائے ،موٹے اون کا لباس، سر اور مونچھوں کےبال منڈے ہوئے ، چہرےکا رنگ متغیر، آنکھوں سے آنسوں رواں ،بھول وپیاس سے نڈھال ،ہونٹ خشک ،سلام کے بعد فرمایا ! الحمد للہ میں نے بحکمِ خدا دنیا کو اس مقام پر رکھا اور اس پر فخر نہیں کرتا ۔اے بنی اسرائیل ! دنیا کو حقیر جانو دنیا کو حقیر جانو وہ تمہار ے پاس ذلیل ہو جائے گی ،خبردار ! آخرت کو حقیر ومعمولی مت سمجھنا ورنہ تمہارے دلوں میں ذلیل دنیا کی محبت وعظمت پیدا ہو جائے گی جو ہر وقت انسان کو فتنہ وفساد کی طرف مائل کرتی ہے ۔
    اگر تم میری دوستی چاہتے ہو تو دل میں دنیا سے نفرت وعداوت پیدا کرنی ہو گی اس کے بغیر میری دوستی ممکن نہیں۔
    اے بنی اسرائیل مسجدوں کو اپنا گھر بناؤ ( ذوق وشوق کے ساتھ مسجدوں میں وقت گزارو جس طرح گھر میں گزارتے ہو)۔
    قبرستان کو جائے قیام سمجھو (کہ مرنے کے بعد طویل قیام کی جگہ یہی ہے )جانوروں کی طرح دنیا میں رہو ( ان کا گھر ہو تا ہے نہ در)
    آسمانوں کے پرندوں کو دیکھو نہ کھیتی کرتے ہیں نہ تجارت اور اللہ ان کو (پیٹ بھر ) روزی دیتا ہے ۔اے بنی اسرائیل موٹا جھوٹا کھاؤ اور پہنو اور یقین کرو کہ اس پر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتے چہ جائیکہ عمدہ اور بہترین نعمتیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں