حضرت مخدوم شیخ خیر الدین انصاریؒ دریا نثار

'بزرگانِ دین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 20, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,709
    موصول پسندیدگیاں:
    817
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حضرت مخدوم شیخ خیر الدین انصاریؒ دریا نثار
    آپ کی پیدا ئش افغانستان کے شہر ہرات میں ہوئی ۔آپ کے والد ماجد کا نام شیخ نظام الدین انصاری تھا۔ جو کہ مشہور زمانہ بزرگ قطب عالم شیخ جمالدین انصاری کے بیٹے تھے ۔اس طرح سے آپ حضرت شیخ ابو اسمعیل عبد اللہ انصاری کےقدس سرہ کی اولاد سے تھے۔
    حضرت مخدوم خیر الدین نے ایک ایسے پاکیزہ اور صاف ستھرے ماحول میں آنکھ کھولی جو علم اور روحانیت سے معمور تھا۔ ہر طرف علم وفضل کے چرچے اور روحانیت کے تذکرے ہوتے اور تز کیہ نفس کی محفلیں جمتیں ۔ نیزآپ کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی پاکیزہ زندگی وحسن وکردار اور صاف اوصاف محمودہ کی بدولت آپ کو اپنی تر بیت کے لئے نہایت اچھا ماحول میسر آیا ۔ جس نے آ پ کو پا کیزہ سیرت حسن وکردار اور ا چھے اخلاق میں ڈھا ل دیا ۔ آپ نے اپنے خاندن کے مقتدر مشائخ اور چیدہ علماء وقت سے ظاہری علوم اور با طنی کمالات حاصل کئے ۔اگر چہ آپ اپنے خاندان کے ظاہری وباطنی کمالات سے مالا مال تھے لیکن خواب سے خوب تر کی تلاش میں آپ نے عالم رؤیا میں حسبِ ارشاد احمد مصطفیٰ ﷺ ہندوستان ہجرت فر مائی ۔آپ نے دہلی اور پھر اودھ کے قصبہ سدھور ضلع بارہ بنکی کو اپنا مستقر بنایا ۔
    دوران ہجرت متعددہ علماء ومشائخ کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔اور ان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوئے ۔قیام سدھور کے دوران آپ کو خبر ملی کہ قصبہ جائس میں کوئی صوفی بزرگ آئے ہیں اور لوگ جوق در جوق ان سے بیعت ہو رہے ہیں ۔وہ بزرگ حضرت خواجہ احد الدین جہانگیر اشرف سمنانی تھے ۔الغرض جب آپ جائس پہونچ کر حضرت سمنانیؒ کی خدمت حاضر ہوئے تو انہوں نے فر مایا خیر الدین بہت دیر سے آئے ہو ۔ خیر بیٹھو ۔ پھر وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے جو وہاں پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے ۔آپ ان کے کسی سوال کی بابت تشفی کر ارہے تھے ( اس طرٖ ف حالت یہ تھی کہ حضرت خیر الدین ؒ کو بھی کچھ مسائل میں تردد تھا ، جس جگہ بھی جاتے تھے حسبِ دلخواہ تشفی نہ پاکر لوٹ جاتے تھے) جب وپ لوگ چلے گئے تو حضرت سمنانیؒ کے پاؤں پکڑ لئے ۔اور مرید کرنے کی درخواست کی ۔انہوں نے فر مایا تم نے اپنے سوال تو ابھی نہیں کئے ۔ خیر الدینؒ نے فر مایا کہ تشفی ہو گئی ۔ میں تو حضور ﷺ کی کی ہدایت پر آپ ہی کی تلاش میں تھا ۔جواب ملا میں بھی تو تمہاری ہی تلاش میں تھا ۔ غرضیکہ پیر مر شد کی خدمت میں کچھ عرضہ قیام کے بعد قصبہ سدھور کی ولائت وخلافت لے کر سدھور واپس آگئے ۔ چونکہ مرشد نے سدھور میں قیام اور تبلیغ دین کا حکم دیا تھا اس لئے ان کی اجازت سے ہرات واپس گئےاور اپنے دادا حضرت قطب عالم شیخ جمال الدین اور والد شیخ نظام الدین اور پسر حضرت مخدوم شیخ علی او باز جو اس وقت طفل تھے اور خواتین خاندان کو لے کر سدھور واپس تشریف لائے ۔اور یہیں قیام فر مایا اور سلسلہ درس وتدریس اور تبلیغ دین میں مصروف ہو گئے ۔آپ کا مزار قصبہ سدھور کے جنوب مغرب اور مقام :امہٹ: پر واقع ہے ۔
    آپ کے ہاتھوں ہزارہا لوگ مسلمان ہو ئے اور قرب وجوار کے عوام وخاص آپ کے بے انتہا معتقد ومرید ہوئے۔
    جائے مدفن :۔ آ پ کا اصال سات صفر ۷۹۷؁ھ میں ہوا ۔آپ کے حکم کے بموجب آپ کو جائے قیام کے نزدیک یعنی متصل تالاب امہٹ اپنے والدیں ودادا کے مزارات کے نزدیک سپرد خاک کیا گیا ۔
    پیر مرشد کے نظر میں آپ کا مقام:ایک مرتبہ کچھ نا سمجھ لوگوں نے حضرت اشرف جہانگیر سمنانیؒ سے شکایت کہ شیخ خیر الدین ؒ وضو کر نے میں بے انتہا وقت لیتے ہیں اور پانی ضائع کرتے ہیں ،اس کے جواب میں پیر ومر شد نے فر مایا خیر الدین ہر وقت عالم سحو میں اللہ کے دیدار میں مستغرق رہتے ہیں اور اگر وضو میں آپ حوض کوثر بھی صرف کر ڈالیں تو عجب نہیں۔
    اس کے بعد اس کی تشریح فر ماتے ہوئے فر مایا کہ خیر الدین بوقت وضو ہر عضو اس وقت تک دھوتے رہتے ہیں جب تک از احکام الٰہی مقبولیت نہ حاصل ہو جائے ۔ یہی حال نمازکا ہے ۔ادائے نماز میں جب تک یہ الہام نہ ہوجائے کہ نماز قنول ہو گئی سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ۔حضرت پیر ومر شد شیخ احد الدین اشرف سمنانیؒ اس موقع پر آپ کو :دریا نثار: کے خطاب سر سر فراز فر مایا۔
    حضرت اشرف جہانگیر سمنانی تین مرتبہ ا پنے خلیفہ حضرت خیر الدین ؒ سے ملاقات کیلئے تشریف لائےاور انوار وکمالات بزرگانِ سلف سے سرفراز فر مایا۔
    کرامات وبرکات دریا نثار:(۱) حضرت خیر لادینؒ کے مزار کے ساتھ یہ کرامت وابستہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کلام پاک پڑھا اور لا پرواہی میں تلاوت کو معمول نہ بنایا اس طرح وہ صحیح تلاوت بھول بھول گیا اور پڑھنے میں دقت اور غلطیاں ہو نے لگیں اور شرم کے باعث کسی سے رجوع نہیں کر سکتا تو قرآن شریف لے کر مزار پر چلا جائے اور وہاں بیٹھ کر تلاوت کرے تو خود بخود روانی آ جاتی ہے اور غلطیوں سے مبرا ہو جاتا ہے۔
    ۲۔ سدھور کے قرب وجوار میں جب کسی کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو اولا تالاب امہٹ کے پانی کو بطور گھٹی پلاتے ہیں اور اگر تالاب خشک ہو تو اس کی مٹی پانی میں گھول کر پلا دیتے ہیں۔
    ۳۔ آپ کے پا ئنتی تالاب کے پنی سے غسل کر نے تمام جلدی امراض قطعی دور ہو جاتے ہیں اور جو بچے دو تین سال عمر ہو جانے کے با وجود بول نہیں پاتے اس تالا ب کا پانی پلانے سے بو لنے لگتے ہیں۔
    ۱۹۶۲ ؁ء میں متذکرہ تالاب میں یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ آپ کے مزار کے پائنتی کی طرف سے سفید دھار نکلتی معلوم ہو ئی ۔تھوڑی دیر میں سارا تالاب اصلی دودھ ہو گیا ۔ بلکہ موٹی موٹی بالائی بھی جمنے لگی۔ یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور ہزاروں لوگ جمع ہو گئے ۔ پہلے لوگوں نے بو تلوں میں بھرا پھر با لائی سمیٹی اور بعد میں مارے جوش کے تالاب میں اتر کر نہانے لگے ۔ چنا نچہ شام ہو تے ہوتے تمام تالاب پھر پانی ہو گیا ۔ایک بوتل دودھ کسی نے کٹوا دھام کے مہنت جگباتھ بخش داس کو دیا ۔وہ کا نگریس پا رٹی کے مقتدر رہنما تھے ۔انہوں نے اس بوتل کو سائینفکٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ چھتر منزل لکھنو جانچ کیلئے بھیجا ۔وہاں کے ٹیسٹ کر نے والوں نے اسے پھٹا دودھ قرار دیا ۔ چنا نچہ کرامات پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ۔والد صاحب قبلہ شیخ محمد انصاریؒ نے وہ ودھ پانی تبرکا ً نوش فر مایا ۔ نور الانوار جدید ۔مولف مخدوم زادہ اختر انصاری۔
    نوٹ:مجھے یاد پڑتا ہے ۸۰ اور ۹۰ کے درمیان اس تالاب سے متعلق دودھ والی کرامت کا ایک دن کیلئے بڑاشور اٹھا دن ڈھلے مجھے جو پانی دیکھنے کو ملا اس میں دودھ والی ایسی کوئی بات نہ تھی ۔اللہ بہتر جا نتا ہے ۔اب تو اس تالاب کی حالت بد سے بد تر کی ہے۔خواجہ مجذوب کیا خوب کہہ گئے۔ع:یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے (احمد قاسمی)
    حضرت شیخ خیر الدین قدس سرہ کے وصال کے بعد آپ کے بہت سے مریدوں اور معتقدین نے آپ کے مزار مبارک کے پاس چلہ کشی کر نے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے روحانی طور پر یہ کہہ کر منع کر دیا کہ زندگی میں بھی کسی کو مداخلت کی اجازت نہ دیتا تھا اور اب بھی مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ کو ئی میرے سکون میں مخل ہو ۔
    نوٹ: نور الانوار جدید کے مولف مخدوم زادہ اختر انصاری ہیں نارتھ ناظم آباد کراچی ہیں۔کتاب کی اشاعت ۲۰۰۳ ہے ۔بندہ کے تعلق اسی سر زمین سے ہے جن کا تذکرہ مبارک اس کتاب میں ہے ۔کتاب میں درج روایتوں کی تصدیق یق ،تکذیب میرے لئے مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے البتہ یہ بتلا یا جا سکتا ہے حضرت مخدوم کی قبر مبارک آج بھی موجود ہے۔مندرجہ بالا کرامات اور اسم مبارک کسی کو پتہ نہیں ، سچ کہا مجذوب ؒ نے۔ع: ہو ئے نا مور بے نشاں کیسے کیسے۔

    Last edited: ‏جولائی 12, 2015
    مولانانورالحسن انور نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    قاسمی صاحب زیدلطفہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے پاس تاریخی معلومات کابیش بہاخزانہ ہے مگرپلیزکوئی بھی تاریخی واقعہ جب ہمیں مطالعہ کے لئے دیں توکتاب اورماخذسے محروم نہ فرمائیں ممکن ہے اس کتاب ہی کوحاصل کرکے کچھ مزیدیواقیت وجواہرحاصل کرسکوں؟

اس صفحے کو مشتہر کریں