حضرت مولانامحمدیوسف پٹیل(کناڈا)

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏اکتوبر 16, 2017۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سلسلۂ اویسیہ نقشبندیہ کے ترجمان:
    حضرت مولانامحمدیوسف پٹیل(کناڈا)
    مفتی ناصرالدین مظاہری استاذومدیرماہنامہ آئینۂ مظاہرعلوم سہارنپور
    اِن انگلیوں نے اپنی مختصرسی عمر میں سیکڑوں اکابر…علماء اورصلحاء کے تذکاروتذکرے لکھے…بے مثال علمی ہستیوں کی بوقلم زندگیوں کے عکس ومناظرکانظارہ کرایا…اذکروامحاسن موتاکم پرعمل کرنے کی اللہ احکم الحاکمین نے باربارسعادت بخشی…لذتوں کوبدمزگی سے…قربتوں کوفرقتوں سے…مسرتوں کوغموں سے…آس کویاس سے …یافت کوزیاں سے…ہست کوبودسے…واہ کوآہ سے…آہ کوکراہ سے…کراہ کوآنکھوں سے …آنکھوں کوپلکوں سے…پلکوں کواشکوں سے…اشکوںکوتقاطرسے… تقاطرکوزمین سے …زمین کومٹی سے… اور…مٹی کوانسان سے جونسب اورنسبت ہے اس کوکون جھٹلاسکتاہے…اس سے کس کوراہ فرارمل سکتی ہے…کس کومجال انکارہوسکتی ہے…کچھ نہیں:بس سچ صرف وہ ہے جو’’کلام الٰہی‘‘میں موجودہے …جس کاایک ایک حرف صدق وصداقت کاآئینہ دارہے…جس کاایک ایک پیام نویدجانفزاہے…جس کی ایک ایک آیت آیۂ رحمان ہے…جس کاایک ایک حکم …حکم لازوال ہے…جس نے کشتوں کے پشتوں کی تاریخ بیان کی…جس نے فراعنہ کی زندگیاں پیش کیں…جس نے عمالقہ وجرہم کے خوفناک قصے محض اس لئے سنائے تاکہ بے بصیرتوں کوعبرتوں کاسامان مل سکے۔ان ہذہ تذکرہ فمن شاء اتخذالیٰ ربہ سبیلا۔​
    وفات العلماء:
    پوراایک سال ہوچکاہے جب دارالعلوم دیوبندکے ناموراستاذبحرالعلم حضرت مولانانعمت اللہ ا عظمی کی زبان مبارک سے دوران درس یہ الفاظ نکل گئے:یہ سال علماء کی وفات کاسال ہوگا،حتیٰ کہ دارالعلوم بھی متاثرہوگا‘‘
    بس پھرکیاتھا’’ان من عباداللہ من لواقسم علی اللہ لابرہ‘‘ ( بلاشبہ اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جواگرکسی چیزپرقسم لے لیں تواللہ تعالیٰ اس کوضرورپورافرمائے)تسبیح کے درمیان کادھاگہ اگرٹوٹ جائے توموتی کیسے گرتے ہیں ؟یہ منظرسبھی نے دیکھاہے، بالکل اسی طرح علماء کرام،صوفیاء عظام بالخصوص محدثین حضرات اس تیزی سے دنیاسے رخصت پذیرہوئے ہیں کہ بڑے بڑے مدارس کے خانہ ہائے حدیث پرویرانیوں کی حکمرانی ہوگئی،جیسے کسی بچہ کی موت پرماں کی گودسونی ہوجاتی ہے بالکل ویسے ہی روئے زمین اللہ والوںسے خالی ہوگئی ، حضرت مولاناسلیم اللہ خانؒ،حضرت مولاناعبدالحق اعظمیؒ،حضرت مولاناریاست علی بجنوریؒ،حضرت مولاناشیخ نسیم احمدغازی مظاہریؒ،حضرت مولاناشیخ احمدبدات،حضرت مولاناشیخ محمدیونس جونپوریؒ اوربہت سے اہم علماء کارخصت ہوجاناامت کاگویا’’یتیم‘‘ہوجاناہے۔
    مجھے یادہے بیسویں صدی کے اواخرکی بات ہے بالکل یہی کیفیت تھی جب اسلاف واکابرایک ایک کرکے اتنی تیزی سے گئے تھے کہ پوروں پرگننامشکل ہوگیاتھا،چنانچہ عارفِ وقت حضرت مولاناقاری سیدصدیق احمدباندویؒ،حضرت مولاناانعام الحسن کاندھلویؒ، حضرت مولاناوحیدالزمان کیرانویؒ،حضرت مولاناسیداسعدمدنیؒ،حضرت مولاناقاضی اطہرمبارک پوریؒ،حضرت مولانا رشیدالدین حمیدیؒ وغیرہ بہت سی شخصیات نے رخت سفرباندھاتھا۔پھرفقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسینؒکے انتقال پرملال کے اریب قریب بھی یہی کیفیت پیداہوگئی تھی چنانچہ حضرت مولاناسیدانظرشاہ کشمیریؒ،حضرت مولانافضیل احمدقاسمیؒ،حضرت مولاناصفی اللہ خان جلال آبادیؒ،حضرت مولانامصطفی بھیسانویؒ،حضرفت مولاناسیدوقار علی بجنوریؒ،حضرت مولانامحمدحنیف مظاہریؒ،حضرت مولاناخورشیدعالم قاسمیؒ،حضرت مولاناابوبکرغازی پوریؒ،حضرت مولاناقاری امیرحسن مظاہری ہردوئیؒ،حضرت مولاناامیراحمدمظاہر ی للیانویؒ،حضرت مولانامحمداسلم مظاہریؒ،حضرت مولاناحکیم محمدعرفان الحسینی،حضرت مولاناخیرالرحمن احمدآبادیؒ،حضرت مولاناحامدعلی خان سیتاپوریؒ اوردیگربہت سے علماء نے مفارقت کاداغ دیاتھا۔
    اب پھررفتنی کاایک ایساتسلسل چل پڑاہے کہ ہرنئے دن کے ساتھ ایک نئی خبر،ہرنئی صبح کوایک دل خراش newsسماعتوں سے ٹکراتی اوردلوں کوپاش پاش کرتی چلی جاتی ہے۔
    مولانامحمدیوسف پٹیل :
    شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدیونس جون پوریؒکی رحلت سے نکلنے والے آنسؤوں کی نمی ابھی آنکھوں میں محسوس ہی ہورہی تھی کہ سلسلہ اویسیہ نقشبندیہ کے ترجمان ،مشہورعالم دین جناب مولانامحمدیوسف پٹیل بھی اچانک رحلت فرماگئے۔ان للّٰہ مااخذولہ مااعطی وکل شئی عندہ باجل مسمی فلتصرولتحتسب۔
    بدنیاگرکسے پایندہ بودے
    ابوالقاسم محمدزندہ بودے
    ایک ہنستا،کھلکھلاتا،مسکراتا،بادنسیم کے ماننداٹھکیلیاں کرتا،خودبھی بادصبح گاہی کی طرح خوش وخرم اوردوسروں کے چہروں پربھی خوشیاں دیکھنے کی عادت،جہاں چلے جائیں سب پرچھاجائیں،بات کریں توپھول جھڑیں،مسکرائیں تومثل گلاب اورخاموش ہوں توسورج مکھی،ہونٹ ہلائیں توکتابوں،بزرگوں اورمثالوں کے انبارلگادیں خاموش ہونے پرآئیں تومن صمت نجیٰ کے پیکرمجسم بن جائیں،علماء کے درمیان ہوں تومتعلم بن جائیں،چھوٹوں کے درمیان ہوں تومعلم نظرآئیں،کسی بھی موضوع پرتقریرکافن،ہرسوال کاتسلی بخش جواب دینے کاہنر،غصہ میں آئیں توچہرہ مثل انار:
    جاتارہاوہ ذوق بھراتھاجوقلب میں
    غائب ہواوہ ذہن جوحاضردماغ تھا
    میں سلسلہ اویسیہ کاسالک نہیں ہوں پھربھی اِس سلسلہ کادل سے معترف ہوں کیونکہ میں نے اپنے استاذشیخ الادب حضرت اقدس مولانا اطہرحسین ؒکواس سلسلہ کی تعریف میں رطب اللسان دیکھاہے،اب جب میرے استاذمحترم ہی اس سلسلہ کی تعریف کررہے ہیں تومجھے نہ تومزیدکچھ فضائل جاننے کی ضرورت رہ جاتی ہے نہ ہی کسی شک اورابہام کی گنجائش۔
    آنکھوں میں بس کے دل میں سماکرچلے گئے:
    حضرت شیخ الادب ؒنے ایک بارسلسلہ کے عظیم بزرگ حضرت مولانااللہ یارخانؒ (مؤلف :دلائل السلوک)کاتذکرہ کیااورپھر فرمایاکہ میراجی چاہتاہے کہ’’ میں مولاناکے پاس جاؤں اورپاس انفاس کروں‘‘یہ اُس وقت کی بات ہے جب راقم السطورکولفظ ’’انفاس‘‘سے بھی واقفیت نہ تھی سوچتاتھاکہ انفاس ،نفس کی جمع ہے توپھر’’پاس انفاس‘‘ کیاچیزہے؟شیخ الادب ؒنہایت بارعب شخصیت تھے ،اُن سے اُس زمانہ میں سوال کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔(بعدمیں خودمولانانے ہی شفقت ومروت کاوہ معاملہ فرمایاکہ میں نے مظاہرعلوم کی چہاردیواری میں شایدسب سے زیادہ ان ہی سے اکتساب فیض کیاہے)پھردسیوں سال بعدایک دن دفترمظاہرعلوم میں سناگیاکہ سلسلہ اویسیہ نقشبندیہ کے ایک بڑے بزرگ حضرت اقدس احسن بیگ صاحب مدظلہ پاکستان سے تشریف لارہے ہیں، ہمارے اِس دیارمیں چونکہ نہ تو’’اللہ یارخان‘‘ جیسے ناموں کاچلن ہے ناہی ’’بیگ ‘‘وغیرہ کےلاحقہ کامعمول، اس لئے اس لاحقہ پرتھوڑی دیرتک سوچتارہاکہ یہ کیاچیزہے ؟بہرحال پھریہ کہہ کراپنے آپ کوسکون دینے میں کامیاب ہوگیاکہ شایدکوئی برادری ہوگی۔
    پھرحضرت احسن بیگ تشریف لائے توگویا’’آنکھوں میں بس کے دل میں سماکرچلے گئے‘‘کیاعجیب بزرگ ہیں،خوبصورت وجیہ، پرکشش،بارعب،ذکرخدامیں زبان ہروقت مصروف ،تسبیح پرانگلیاں ہمہ وقت رینگتی ہوئی، اللہ اللہ سے ان کی زبان ہمہ وقت ہلتی ہوئی، صاف محسوس ہوتاکہ بات کے درمیان بھی ذکرکررہے ہیں۔
    دیکھناتقریرکی لذت کہ جواُس نے کہا:
    مسجداولیاء (دفتروالی مسجد)میں بین العشائین حضرت احسن بیگ مدظلہ کاخطاب ہوناتھا،مجھے تعجب ہورہاتھاکہ اتنے سارے لوگ کشاں کشاں کیونکربغیرکسی اعلان و اشتہار کے کہاں سے آتے جارہے ہیں اورپھرمغرب بعدمتصلاًحضرت والاکابیان ہوا،پوری مسجدانسانی ہجوم سے بھری ہوئی،سامعین پرایساسناٹاگویاپہلی بارکوئی نئی اورانہونی بات سن رہے ہیں ،مجمع پرایک کیف اورکیفیت طاری،بہتوں کی آنکھوں سے آنسوجاری ،ہرفردگوش برآواز،تقریرکیاتھی دل کھول کررکھ دیا،عجائبات کے پردے ہٹادئے گئے، غرائبات کے نقشے سامنے رکھدئے گئے،جوبات بھی ارشادفرمائی دل پراثراندازہوئی،تقریرکے بعددعاکرائی اورواللہ !کیاعجیب وغریب دعاتھی،دل کھنچتا اورڈولتا محسوس ہورہاتھا۔
    کشف یاکرامت:
    مجھے رہ رہ کربچھتاوابھی ہورہاتھاکہ کاش میں پروگرام سے پہلے حضرت احسن بیگ مدظلہ سے اپنے والدماجدنظام الدین مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی درخواست کردیتاتوممکن ہے اللہ اپنے اس محب ومحبوب کی دعاقبول کرلیتااورمیرے والدماجدکابیڑہ پارلگ جاتا،ابھی میں اپنے دل میں یہ سوچ ہی رہاتھاکہ فوراًحضرت والاکی اگلی دعازبان مبارک سے نکلی:رب ارحمہماکماربیانی صغیرا‘‘یقین جانئے مجھے روناآگیاکہ یااللہ یہ کیابزرگ ہیں ادھرمیں اپنے والدماجدکے لئے دعاکی درخواست نہ کرپانے کاملال کررہاہوں اورادھراللہ تعالیٰ حضرت والاکی زبان سے وہ کلمات جوخالص والدین کے لئے ہی خوداللہ پاک نے اپنے کلام میں ارشادفرمائے اداکرادئے۔
    دعاختم ہوئی تومیرے دل پراطمینان کی ایک مسرت آمیزخوشی تھی اوراللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات رحمت سے پرامیدبھی اللہ نے ضرورمیرے والدصاحب پرکرم کامعاملہ کیاہوگا،میں نے دعاکے بعداپنے دوست ،نوجوان عالم،سلسلۂ اویسیہ کے سالک اورحضرت احسن بیگ مدظلہ کے مسترشدمفتی محمدراشدندوی مظاہری( الف لام) سے یہ واقعہ بتایاتووہ بھی خوشی سے نہال ہوگئے ۔
    میں نہیں کہہ سکتاکہ بیگ صاحب مدظلہ کے ’’بیگ‘‘ میں اورکیاکیاکرامات موجودہیں،کہنے کوتووہ اصطلاحی عالم نہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ عالم جوسندیافتہ ہومگرکسی مصلح، مرشداوراللہ والے سے مربوط نہ ہوتواس کابہکنا،بھٹکنا،راہ راست سے ہٹ جانا،راندہ وآوارہ ہوجاناسب کچھ ممکن ہے لیکن جن کواہل اللہ کی صحبت مل جائے ،جنہیں ایک مضبوط آستانہ اورحِصنِ حَصِین میں جگہ مل جائے تواُن کے بہکنے کے امکانات نہایت کم ہوجاتے ہیں۔
    احسن بیگ صاحب کے تمام مناظراَحسن ہیں :
    اُن کوجن کی صحبت ملی وہ بڑوں کے تربیت یافتہ،عظیم نسبتوں کے حامل،عجیب حالات وکرامات رکھنے والے،زندہ دل،زندہ فکر،زندہ دماغ،علوم نبویہ وروحانیہ سے مالامال ،دین کے پیام بر،سلوک کے پیغام بر،اسلاف کی تعلیمات کے خوگر،روحانیات کے نامہ بر،توپھران کی صحبتوں کااثراحسن صاحب میں کیو نکرنہ آتا،آیااورجم کرآیا،چھایااورجم کرچھایا:
    یہ رتبہ بلندملاجس کومل گیا
    ہرمدعی کے واسطے دارورسن کہاں
    مولانامحمدیوسف پٹیل بڑوں کے درمیان توچھوٹے تھے لیکن چھوٹوں کے درمیان بڑے تھے،اُن کاوجوداپنے آپ میں محمود،ان کی گفتگومسعود،اِسی مجمع میں اِدھرسے اُدھرچلتے پھرتے،ملتے ملاتے،ہنستے ہنساتے،بات کرتے،رکتے روکتے نظرآئے ،پہلی ملاقات،اجنبیت کااحساس،خودسلسلہ سے یک گونہ ناواقفیت،نئی شکل،نیالہجہ،اس ملاقات میں توصرف مصافحہ تک ہی بات محدودرہی لیکن پھرجب اگلاسفرہوا اوراس میں حضرت احسن بیگ تشریف نہیں لائے تومولانامحمدیوسف پٹیل آئے اوراپنے ہمراہ نورانی چہروں والی پوری جماعت لائے۔
    شیخ منہاج :
    چنانچہ شیخ منہاج بھی آئے جوعصری علوم کے ماہراورروحانی سلسلہ کے غواص ہیں اوربلاشبہ اس آیت کریمہ کامصداق ہیں وَعِبَادُالرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًاوَّاِذَاخَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْاسَلٰمًا وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدً اوَّقِیَامًا (الفرقان رکوع ۶)اور اللہ کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی اور انکساری سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل مخاطب ہوتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور جو راتیں سجدوں او رقیام میں گزارتے ہیں ۔
    شیخ نجم الحسن صدیقی:
    اس جماعت میں شیخ نجم الحسن صدیقی بھی تھے جوسچے تاجر،امانت دار،مخلص ،صاحب دولت وثروت ہونے کے باوجوداللہ کے لئے دردرکی خاک چھاننے اورگھرگھرتک سلسلہ کی آوازپہنچانے میں مست ومگن نظرآتے ہیںجوصحیح معنوں میں اللہ نے چاہاتو التاجرالصدوق مع النبیین والصدیقین والشہدا میں محشورہوں گے۔
    شیخ عمرحیات مدظلہ:
    میری عقیدتوں کامحورجناب شیخ عمرحیات بھی تھے جن کی عمرحیات کے آخری پڑاؤاورآخری منزل پرہے پھربھی تازہ دم،حوصلہ مند،فکرمند،عزم وعزیمت کاکوہ ہمالہ،خاکساری وفروتنی کانمونہ ،میراجی چاہتاکہ میں ان کوٹکٹکی باندھ کردیکھتارہوں،وہ ہاتھ دیں اورمیں ان ہاتھوں کواپنی آنکھوں سے ملوں وہ بولیں اورمیں قرطاس وقلم کوحرکت دوں مگرکیاعجیب شخص ہیں بہت کم بات کرتے ہیں ،جب بات کرتے ہیں توصرف اللہ ورسول کی باتیں بتاتے ہیں،میں نے توکوئی دنیوی گفتگوان کی زبانی سنی نہیں اورجب تک ان کودیکھااللہ کی یادآتی رہی گویاوہ اذارؤاذکر اللہ کامصداق ہیں کہ جب ان کے چہروں پر نگاہ پڑے تو خد اتعالیٰ یاد آئے ، ظاہرہے خد اکی یاد اس لئے آتی ہے کہ اللہ والے ہر وقت اورہمہ وقت ذکراللہ میں مشغول رہتے ہیں ،اللہ والوں کی یہ صفت خودباری تعالیٰ نے یوں ارشادفرمائی ہے:یَذْکُرُوْنَ اللہَ قِیَامًاوَّقُعُوْدًاوَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ خدا تعالیٰ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے کرتے رہتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ۔
    کسی شاعرنے ایسی ہی جماعت اورجمعیۃ کے لئے کہاتھا ؎
    خدایادآئے جن کودیکھ کروہ نورکے پتلے
    نبوت کے یہ وارث ہیں یہی ہیں ظل سبحانی
    کام پرتوجہ دو:
    مجھے یادآیاددیوبندمیں ایک صاحب اِن حضرات کولے کرگئے اورخوشی خوشی اپنی خدمات اورکارگزاری جواس سلسلہ میں انھوں نے انجام دی اس کاذکرکیااورخاص طورپرایک بینرکی طرف توجہ مبذول کرائی ،حضرت اقدس عمرحیات مدظلہ نے خفگی کااظہارکرتے ہوئے فرمایاکہ ’’بینرشینرچھوڑواورصرف کام پرتوجہ دو‘‘ظاہرہے کہ ان خدارسیدبرگزیدہ نفوس کوبینروں سے کیاواسطہ،جاہ وشہرت سے کیاعلاقہ،ریاوسمعہ سے کیامناسبت،دکھاواسے کیامطلب یہاں توہرچیزمیں اخفاہی اخفاہے حتی کہ ذکرکے تمام لطائف اورتمام طریقے زبان سے اداکرنے کی بجائے سانس سے کرائے جاتے ہیں کیونکہ زبان سے ذکراگرکیاجائے توقریب والوں کوپتہ چل جائے گالیکن اگرصرف دل اورسانس سےذکرکیاجائے توکسی کوبھی معلوم نہ ہوسکے گاہاں جس ذات والاصفات کے لئے یہ ساری محنت کی جارہی ہے اسے ایک ایک حرکت اورسکون کاپتہ ہے۔نحن اقرب الیہ من حبل الورید۔
    انجمن فرشتوں کی:
    ذراغورکریں یہ فرشتہ صفت نورانی چہرے،جن کی زبانیں ذکرالہٰی میں مصروف،جن کی صبحیں الااللہ کی ضربوں سے شروع،جن کی شامیں اللہ اللہ سے ہری،جن کی سماعتیں آہ سحرگاہی سے تازہ ،جن کی نظریں منبرومحراب سے تابندہ، جن کے قلوب پاس انفاس سے زندہ، جن کے بال پراگندہ،جن کاحال مجنونانہ،جن کاقال عاشقانہ توپھراِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا عَیْنًا یَّشْرَبُ بِہَاعِبَادُاللہ یُفَجِّرُوْنَہَا تَفْجِیْرًا (الدہر)کامصداق یہ نہ ہوں گے توکون ہوگا؟۔
    بلاشبہ اولیاء اللہ قیامت کے دن ایسے پیالوں سے پیئیں گے جن میں کافور ملاہوا ہوگا کافور کا بہشت میں ایک چشمہ ہے جس سے بہشتی پئیں گے اورخوب نہائیں گے۔
    وَدَانِیَۃًعَلَیْہِمْ ظِلٰلُہَاوَذُلِّلَتْ قُطُوْفُہَاتَذْلِیْلًا وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰنِیَۃٍمِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا قَوَارِیرْامِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْہَاتَقْدِیْرًا(پ۲۹)
    اور ان پر بہشتی درختوں کے سائے جھکے ہوں گے اور ان پر جو برتن پھیرے جائیں گے وہ چاندی کے ہوں گے جن کو خدام جنت نے ٹھیک اندازے کے مطابق بنالیا ہوگا ۔
    فَوَقٰہُمُ اللہ شَرَّذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا وَجَزٰہُمْ بِمَاصَبَرُوْاجَنَّۃً وَّحَرِیْرًا مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَاعَلَی الْاَرَآءِکَ لاَ یَرَوْنَ فِیْہَاشَمْسًاوَّلَازَمْہَرِیْرًا(پ۲۹)
    پس اولیاء اللہ کو خداتعالیٰ نے قیامت کے دن جہنم کے شر سے بچالیا اور ان کو تروتازگی اور خوشی دیدی ان کے صبر کی جزا ان کو جنت ملی ہے اور ریشم والی پوشاک وہاں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھیں گے نہ اس میں سورج دیکھیں گے اور نہ سردی ۔گویا أعِددت لِعِبَاديَ الصَّالحين فِيهَا مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ۔جنت میںجنتیوں کے لئے جونعمتیں تیارکی گئی ہیں ان کونہ کسی آنکھ نے دیکھانہ کسی کان نے سنانہ ہی کسی کے دل میں ان نعمتوں کاخیال گزراہوگاحتی کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا من يدخل الجنة ينعم لا يبأس لا تبلى ثيابه ولا يفنى شبابه۔
    نہ توکوئی رنج وغم ،نہ فکروہم،نہ ملال ،نہ ختم ہونے والی نعمتیں،لمبے لمبے سائے،خوشبودارخوش ذائقہ پھل اورفروٹ،میوہ جات،نہ ان کے کپڑے میلے ہوں گے نہ ہی ان کی جوانی ڈھلے گی۔
    بہرحال:ذاکرین وشاغلین کی پوری جماعت آئی،نورانی چہرے،پیشانیوں پرنشان سجدہ،آوازمیں پستی،اندازمیں خلو،طبیعت میں انکساری،لہجہ میں سادگی،گویانورونکہت میں ڈوبی ایک ایسی نورانی جماعت تھی جن کودیکھ کرخدایادآجائے۔
    کچھ اشکالات اورجوابات
    اس سفرمیں مولاناسے تعارف ہوااورخوب ہوا،سینہ سے لگالیا،دیرتک ہاتھ تھامے رہے،کچھ علمی اورکچھ غیرعلمی بات کرتے رہے،ذکرکی مجلس میں شرکت اورساتھ میں کھاناکھانے کی دعوت دی اورپھرحجابات ختم ہوئے،تکلفات کابسترسمیٹ کررکھدیا،بالکل دوستوں کی طرح ملے،بہت سے سوالات کئے ،سنجیدگی کے ساتھ جوابات دئے چنانچہ میں نے پوچھ لیاکہ مولاناتصرف کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟سوال سنناتھاکہ مولاناٹیپ ریکارڈرکے مانندشروع ہوگئے چونکہ مولانااحمدیوشع سعیدی مظاہری نے تعارف میں میرے بارے میں مبالغہ آرائی کردی تھی اورکہہ دیاتھاکہ انھیں مظاہرعلوم کی تاریخ معلوم ہے تومولانانے یہیں کے ایک بزرگ حضرت مولاناخلیل احمدمحدث سہارنپوریؒکاواقعہ سنایا۔
    حضرت مولاناخلیل احمدمحدث سہارنپوریؒتصرف:
    میرٹھ کے ایک عالم پر یہ کیفیت طاری ہوئی کہ خودکشی کو جی چاہتا ہے،چاقو اٹھاتے ،کنواں میںجھانکتے کہ بس کسی طرح مرجاؤں، ذکرسے بھی طبیعت اچاٹ ہو گئی، انہوں نے حضرت مولانا خلیل احمد ؒ سہارنپوریؒکو خط لکھا،حضرت نے جواب دیا کہ آپ نے مجھے اس کام کا اہل کیوں کرسمجھا؟ بہت پریشان ہوئے تو میرٹھ سے دیوبند آئے، دیوبند سے سہارنپور اور سہارنپور سے تھانہ بھون جانے کا ارادہ کیا ،مولانا تھانوی کے پاس، مگر تھانہ بھون جانے والی گاڑی نہیں ملی،چھوٹ گئی، اس لئے مجبوراً مدرسہ مظاہر علوم آئے ،حضرت سہارنپوری نے سینہ سے لگایااپنے پاس بٹھایابات چیت کی پھرفرمایاتعجب ہےتم نے ایسا کیوں لکھا بھلا میں اس کا اہل کہاں، انہوں نے ذرا ہمت سے کام لیااور کہا کہ حضرت اگر کوئی کہے کہ آپ اس کے اہل نہیں تو اعتراض تو حضرت گنگوہی پر ہوگا کہ انہوں نے نا اہل کو خلیفہ بنایا،آپ کو جس در سے سب کچھ ملا ہےمیں نے بھی وہیں پرورش پائی ہے میں مستحق رحم ہوں میرے حال پر رحم کیجئےتو فرمایا اچھا، اس کے بعد ذکر بتلایا، تیرہ تسبیح میں تھوڑے سے تغیر کے ساتھ اور فرمایا کہ اخیر شب میں تہجد کےوقت یہ ذکر اتنے زور سے کرنا کہ مجھ تک اس کی آواز پہنچے، مدرسہ کے قریب مولانا کا مکان تھا،انہوں نے کہا چھوڑدیجئے مجھ سے نہیں ہوگا یہ ذکر ،مولانا سہارنپوری نے فرمایا گھبراؤ نہیں جو کچھ کررہےہوکرتے رہو۔
    رات کے اخیرحصہ میں انہوں نے ذکر کیا پھر صبح نماز کےبعد حجرہ میں چلےگئے اور ان سے کہہ دیا کہ یہاں دروازہ کےقریب بیٹھ جاؤ آنکھیں بند کرکے؛ چنانچہ وہ بیٹھ گئے وہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا اندر بیٹھے ہوئے کیا کررہے تھے،جس سے مجھے اپنا قلب زخمی محسوس ہورہا تھا اور اس میں پیپ بھری ہوئی ہے اور حضرت دبادبا کر وہ پیپ نکال رہے ہیں میں کبھی کبھی چونک پڑتا دیکھتا کہ حضرت تو یہاں نہیں ہیں وہ تو اندر ہیں، اشراق کی نماز پڑھ کر حجرہ سے باہر نکلے اور مسکرا کر فرمایا کیا حال ہے؟انہوں نے عرض کیا الحمدللہ ٹھیک ہے۔
    اشراق کے بعد میں نے حضرت سے عرض کیا کہ میں تھانہ بھون جاناچاہتاہوں، فرمایا: کہ ضرور ہو آؤ لیکن واپسی میں ایک روز یہاں کے لئے اور رکھنا کیونکہ ابھی کورس مکمل نہیں ہواہے،خامی رہ گئی ہے، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا خامی رہ گئی ہے خیر میں تھانہ بھون گیا اور اگلے روز واپس آگیا اور بجائے ایک دن کے دودن حضرت کے پاس سہارنپور ٹھہرا ،اب محسوس ہوتا تھا کہ قلب میں کوئی چیز بھری جارہی ہے جس سے طاقت پیدا ہورہی ہے گویا پہلی حاضری میں قلب کوصاف کیا گندگیوں سے اور دوسری حاضری میں قوت بھری روشنی بھری اس کے بعد فرمایا اب اطمینان ہے جاؤ۔
    اس قسم کے بہت سے سوالات وقتاًفوقتاًکرتااورمولاناسادگی کے ساتھ جواب دیتے چنانچہ لگے ہاتھوں ایک سوال اوراس کاجواب اورلکھتاچلوں:
    لطائف کی حقیقت:
    سوال:لطائف کی کیاحقیقت ہے؟
    جواب: انسان کے جسم میں ایک جگہ ہے جس کو’’محلِ نور‘‘یعنی لطیفہ کہتے ہیں ، اسی کو نفس ناطقہ بھی کہتے ہیں یہ ایک جوہر ہے جو مادہ سے خالی ہوتا ہے اس کا نام قرآن میں بھی ہے (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ ۔
    ایک موقع پرمولاناکے ساتھ شہرمیں حاجی انورصاحب کے مکان پردعوت کےلئے جارہاتھاگاڑی میں مجھے مولاناکی رفاقت نصیبت ہوگئی تومیں نے پوچھاکہ لطائف کی کتنی اقسام ہیں فرمایا:
    اہل تصوف کے یہاں لطائف کی الگ الگ تعدادرہی ہے ہمارے حضرت (حضرت اقدس اللہ یارخانؒ)نے اپنی کتاب میں تمام اقوال تفصیل کے ساتھ ذکرکئے ہیں اوراخیرمیں فرمایاہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ لطائف کی کل تعدادپانچ ہے اورہرلطیفہ کااثر،رنگ اورمقام الگ الگ ہے چنانچہ قلب کافعل ذکرہے،روح کاحضور،سری کامکاشفہ،خفی کاشہود،فناکامعائینہ پھرحضرت نے مزیدلکھاہے کہ یہ تعدادبھی محض اوصاف کی وجہ سے ہے ورنہ اصل اورحقیقی لطیفہ توقلب ہے۔
    انتقال سے چندماہ قبل بھی بغرض انعقادِمجالس سہارنپورتشریف لائے یہاں عموماًان کے میزبان مولانااحمدیوشع سعیدی ہی ہوتے لیکن چونکہ مولانااحمدیوشع سعیدی کویہاں کاذمہ داربنایاگیاہے اس لئے عام طورپرمجالس کی ترتیب،قیام کانظم اوردیگرانتظامات مولانااپنے رفقائے ذکرسے بعدمشورہ طے کرتے ،بہرحال مولاناتشریف لائے اورمولانااحمدیوشع کے سامنے والامکان مستعارلیکرمجالس ذکرمنعقدکی گئیں اورمولاناپورے شرح وانبساط کے ساتھ روزآنہ بعدنمازمغرب تاعشابیان اوراجتماعی ذکرفرماتے۔کاش کہ مولاناکے بیانات کتابی شکل میں شائع ہوجائیںتوایک طرف توسلسلہ کی بہترین ترجمانی کابہترین مجموعہ لوگوں کے ہاتھ لگے گادوسری طرف حضرت مولاناکاوہ فیض جوان کی حیات میں جاری ہواتھاوہ مرنے کے بعدبھی جاری رہے گا۔
    کناڈاکی شہریت:
    عجیب خوبیوں کے مالک تھے ،اسراروحکم کی وافرمعلومات رکھتے تھے ،ہندوستان کے صوبہ گجرات میں پیداہوئے،وہیں کے بعض مدارس میں تعلیم کی تکمیل ہوئی،کچھ دن ہندوستان میں ہی رہے پھرنقل مکانی اختیارکرکے امریکہ،افریقہ وغیرہ کئی ملکوں میں دینی تعلیم کاموقع ملا،اخیرمیں کناڈامیں شہریت اختیارکرلی اوروہیں مکی مسجدمیں تقریباًبیس سال تک امام وخطیب رہے۔
    کچھ کناڈاکے بارے میں
    کناڈا کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہونے کے باوجود وہاں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور ایسا لگتاہے کہ اس خطے میں بہت تاخیر سے اسلام پہونچا ہے ، 1871 کی مردم شماری میں وہاں صرف 13یورپی النسل مسلمان پائے گئے تھے،1901 اعداد و شمارکے مطابق 300 سے 400 مسلمان کناڈا میں آباد تھے جو عرب اور تک تارکین تھے،مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر کناڈا کی نئی حکومت نے تارکین کی آمد پر پابندی لگا دی جس سے سال 1911 سے 1915 تک کناڈا میں مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی ،1951 میں مسلمانوں کی تعداد 1800 تھی جبکہ 1971 میں یہ 5800 تک پہنچ گئی اس کے بعد 1981 کے اندازے کے مطابق ملک 98000 مسلمان ہو چکے تھے۔1991 میں ملک میں253265تک پہنچ گئی۔ 2001 میں کینیڈا 579000 مسلمان تھے ،2006 کے تخمینہ آبادی میں یہ تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی اور 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہوچکی ہے ،ان دنوں مسلمانوں وہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہیں،انٹاریواور کیوبک جیسے صوبوں میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔1934 میں سب سے پہلے وہاں ایک مسلم تنظیم قائی ہوئی تھی ، 1938 میں کناڈا میں پہلی مسجد تعمیر ہوئی اور 1983 میں سرزمین بہار سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد مظہر عالم نے وہاں الراشد اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے نام سے پہلا مدرسہ قائم کیا جس کا اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور صحیح افکار کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ہے ۔
    کناڈاکے لوگ رحم دل،منصف مزاج،حقیقت پسندواقع ہوئے ہیں،انھیں تعصب سے نفرت ہے،حقائق کوتسلیم کرتے ہیںچنانچہ آج دس لاکھ سے زائدمسلمانوں کاوہاں پرہونااس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں نے شعور،بیدارمغزی اوراسوۂ نبوی کواختیارکرکے اپنی جگہ بنائی ہے۔مولانامحمدیوسف پٹیل فرمایاکرتے تھے کہ ہم لوگ اتوارکے دن جب چرچ میں جگہ کم پڑجاتی ہے تواپنی مساجدکھول دیتے ہیں اسی طرح جمعہ کے دن جب مساجدتنگ محسوس ہوتی ہیں توعیسائی اپنے چرچ کھول دیتے ہیں۔
    کناڈامیں اسلام اورمسلمان ہندوستان سے زیادہ پرسکون:
    میں نے ایک دن پوچھ لیاکہ حضرت آپ ایک عیسائی ملک میں رہتے ہیں وہاں تواسلام اورمسلمان نہایت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاررہے ہوں گے؟فرمایاایسانہیں ہے بلکہ وہاں کے مسلمان آپ کے ہندوستان سے زیادہ محفوظ اورمامون ہیں،عیسائی حکومت ضرورہے لیکن احترام مذاہب ان کے یہاں بھی بہت پایاجاتاہے پھرہم لوگ ان کے رسم ورواج میں کبھی حائل نہیں ہوتے اورمائل بھی نہیں ہوتے،عیسائیوں کے لئے اتوارکادن بالکل ایساہی ہے جیسے اپنے مذہب میں جمعہ کادن،اس لئے اتوارکوان کے چرچ میں بھیڑبہت ہوجاتی ہے،ایسے مواقع پرہم لوگ اپنی مساجدکے گیرج اورصحن کاحصہ ان کے لئے کھول دیتے ہیں تاکہ انھیں دقت نہ ہولیکن جب جمعہ کا دن آتاہے تووہ بھی اپنے چرچ کھول دیتے ہیں کیونکہ جمعہ کے دن عموماًنمازیوں کی تعدادمیں معتدبہ اضافہ ہوجاتاہے۔
    مولانانے یہ بھی بتایاکہ کناڈامیں ہردس منٹ کے فاصلے پرایک مصلیٰ (یعنی نمازپڑھنے کے لئے مخصوص جگہ)واقع ہے،ہرمسجدیاچرچ کے لئے ضروری ہے کہ گاڑیوں کے کھڑی کرنے کے لئے گیرج کانظم ہو،بلکہ جب تک گیرج کانظم نہ ہوتوعبادت خانہ بنانے کی منظوری نہیں ملتی۔
    تالیف قلب :
    اسلام میں تالیف قلب کی تعلیم دی گئی ہے تالیف قلب کہتے ہیں غیروں کواسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے ان کاتعاون کرنے کو،مولانانے بتایاکہ ہم لوگ رفاہی کام بھی خوب کرتے ہیں بلکہ اگران کے گیرج وغیر میں تعمیری کام کی ضرورت ہوتی ہے توہم لوگ اپنے روپوں سے ان کایہ کام کرادیتے ہیں جس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ وہ بھی انسانی بنیادوں پرہماراساتھ دیتے ہیں،آسانیاں فراہم کرانے کی کوشش کرتے ہیں،دین کے معاملہ میں حارج چیزوں کوسنجیدگی کے ساتھ ہٹانے میں اپنامخلصانہ تعاون پیش کرتے ہیں اوراس طرح دونوں مذاہب کے لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں پھرایسابھی ہوتاہے کہ اسلام کی صاف وشفاف تعلیمات سے انھیں واقف کرایاجاتاہے توبغورسنتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے مغربی میڈیاجواسلام پیش کرتاہے وہ نہایت منفی ہوتاہے جب کہ اسلام کی تمام ترتعلیمات نہایت مثبت ہیں۔
    اللہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کوبھی عقل وبصیرت اورتالیف قلب کی خاطرغیروں پربھی کچھ خرچ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔تاکہ اسلام کارفاہی پہلوغیروں کے سامنے آسکے ،غلط فہمیاں دورہوسکیں،اسلام پھیل سکے کیونکہ
    تقریرسے ممکن ہے نہ تحریرسے ممکن
    وہ کام جوانسان کاکردارکرے ہے
    Last edited: ‏نومبر 28, 2017
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں