حضرت والا رحمہ اللہ کی اپنی شاعری

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از خادمِ اولیاء, ‏اگست 21, 2013۔

  1. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    [align=center]زمیں میری ہو جیسے آسماں میں


    کہاں پھرتے ہو فکرِ این و آں میں
    کبھی آئو تو بزمِ دوستاں میں
    اگر ہے برق و باراں اس جہاں میں
    کرو فریاد اپنے آشیاں میں
    مزہ پاتے ہو کیوں اس کے بیاں میں
    کوئی تو بات ہے دردِ نہاں میں
    مزہ پایا جو صحرا کی فغاں میں
    نہیں پایا مزہ وہ گلستاں میں
    وہ ظاہر ہوگیا اس کی زباں میں
    اثر پنہاں تھا جو زخم نہاں میں
    نہیں پایا چراغِ راہِ منزل
    مگر بس عاشقوں کی داستاں میں
    عطائے خالقِ دونوں جہاں ہے
    اثر پاتے ہو جو میرے بیاں میں
    رہے لپٹا گلوں کے دامنوں سے
    اگرچہ خار ہے وہ گلستاں میں
    سنا تو سب نے میری داستاں کو
    اثر پایا نگاہِ دوستاں میں
    نہ پوچھو لذتِ فریادِ سجدہ
    زمیں میری ہو جیسے آسماں میں
    کوئی پوچھے یہ جاکر باغباں سے
    گذرتی ہے تری کیسے خزاں میں
    اگر ہے ربط خلّاقِ چمن سے
    تو اخترؔ ُگل لیے ہوگا خزاں میں​

    مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں​

    زباں سے تو اے دوست شہبازیاں ہیں
    بہ باطن مگر آہ خفاشیاں ہیں
    حقارت سے مت دیکھ ان عاصیوں کو
    کہ توبہ کی برکت سے درباریاں ہیں
    جو پر ہیز کرتا نہیں معصیت سے
    انہیں راہ میں سخت دشواریاں ہیں
    گناہوں کے اسباب سے دور ہو گے
    تو منزل میں ہر وقت آسانیاں ہیں
    دوائے دل سالکاں عشق حق
    دلوں میں بہت گرچہ بیماریاں ہیں
    رہ حق میں ہر غم سے کیوں ہے گریزاں
    رہ عشق میں کب تن آسانیاں ہیں
    یہ خون تمنا کا انعام دیکھو
    جو ویرانیاں تھیں وہ آبادیاں ہیں
    فدا ان کی مرضی پہ اپنی رضا کر
    فقیری میں دیکھے گا سلطانیاں ہیں
    ترے ہاتھ سے زیر تعمیر ہوں میں
    مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں
    جو پیتا ہے ہر وقت خون تمنّا
    اسی دل پہ نسبت کی تابانیاں ہیں
    تجلی ہر ایک دل کی اخترؔ الگ ہے
    مہربانیاں، جیسی قربانیاں ہیں​


    حضرت والا کی تربیت کی اہم باتیں
    مے کدہ میر کا ہے ٹنڈوجام
    اور صحرا وہاں کا ہے گُل زار
    میر آفت ہے صورت گلفام
    ترک صورت کرو یہ ہیں سب خار
    ایسی عشرت کہ جس سے ہو کلفت
    اپنی حسرت ہے اس سے بہتر یار
    خار کھاتے ہیں میر کیوں گل سے
    دے گی کیا ان کو وادی پُرخار
    جب ملے مے حلال کی، پی لے
    پڑ نہ پیچھے حرام کے زنہار
    چند حسرت بھرے دلوں کے ساتھ
    خوب گذریں گے تیرے لیل و نہار​

    حسن سے بیزاری اور اختر کی تیماری داری
    حسن سے جس کے میر تھے سرشار
    اس کی صورت سے اب ہیں کیوں بے زار
    عشق فانی کے لطف خواب ہوئے
    سر پہ ہے بار معصیت کا سوار
    ان کی نظروں میں میر ہیں رُسوا
    دین و ایماں کیا تھا جن پہ نثار
    میر رہتے ہیں عشق کے بیمار
    مجھ کو پاتے ہیں اپنا وہ تیمار
    ان بتوں کو نہ دیکھ تو زنہار
    عقل کھو دے گا ورنہ تو اے یار
    عشق لے چل بجانب صحرا
    حسن والوں سے قلب ہے بے زار​

    نہ کر توہین تو تاثیر آہ بے زبانی کی

    جسے بخشی ہے دولت حق نے اپنی رازدانی کی
    محبت ہو نہیں سکتی اسے دنیائے فانی کی
    بدلتا ہے کبھی جغرافیہ ایسا حسینوں کا
    کہ تاریخیں بدل جاتی ہیں جس سے حسن فانی کی
    جنازہ حسن کا جب دفن ہو پیری کی قروں میں
    سنوں کیا آہ ان کی داستاں عہد جوانی کی
    میں اب تاریخ ان کے حسن کی کس طرح دہرائوں
    نہیں وقعت ہے کوئی حسن رفتہ کی کہانی کی
    نہ ہوتا بد گماں ناداں کبھی اہل محبت سے
    جو ہوتی آگہی ظالم کو کچھ درد نہانی کی
    رہا تا عمر وہ محروم اہل دل کی صحبت سے
    کہ جس نے کبر کے باعث ہمیشہ بدگمانی کی
    ہزاروں بستیاں ویران ہیں از آہ مظلوماں
    نہ کر توہین تو تاثیر آہِ بے زبانی کی
    نہیں پاتا شفا دکتور خود اپنی دوائوں سے
    کرے ہے جستجو دکتور بھی دکتور ثانی کی
    بدون صحبت مرشد تجھے کیسے شفا ہوگی
    نہیں جب شیخ اوّل جستجو کر شیخ ثانی کی
    ہمارے پھول پھل جو دیکھتے ہو دیکھنے والو
    ہمارے شیخ نے اخترؔ کے دل میں باغبانی کی
    [/align]
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    دعوت حق کے واسطے محفل دوستاں ملی​



    عشق بتاں کے کرب سے غفلت دوجہاں ملی
    ذکر خدا کے نور سے فرحت دو جہاں ملی
    اے مرے خالق جہاںتجھ پہ فدا ہو میری جاں
    لذت ذکر سے ترے راحت دو جہاں ملی
    جو بھی فدا ہے دوستو! خالق کائنات پر
    اس کی خزاں میں بھی مجھے خوشبوئے بوستاں ملی
    دیکھ کے میری چشم تر سن کے ہماری آہ کو
    ان کو ہمارے عشق کی مفت میں داستاں ملی
    آپ کی یاد اے خدا حاصل کائنات ہے
    آپ کے نام سے مجھے نعمت دو جہاں ملی
    اخترؔ بے نوا کو بھی تیرے کرم سے اے خدا
    دعوت حق کے واسطے محفل دوستاں ملی
    [align=center]
    درد دل کا امام ہوتا ہے


    جذب جس کا امام ہوتا ہے

    راہ میں تیزگام ہوتا ہے
    دل سے ان کا غلام ہوتا ہے

    عشق جس کا امام ہوتا ہے
    جس کا رہبر نہ ہو تو

    پھر اُس کا نفس بھی بے لگام ہوتا ہے
    دوستو! دردِ دل کی مسجد میں

    درد دل کا امام ہوتا ہے
    یہ کرامت ہے شیخِ کامل کی

    فیض طالب کا عام ہوتا ہے
    رائیگاں آہ تو نہیں ہوتی

    فضل اس پر بھی تام ہوتا ہے
    کار فرما تو لطف ہے اُن کا

    ہم غلاموں کا نام ہوتا ہے
    عالمِ غیب کے ہیں جام و سبو

    جام اُن کا ہی جام ہوتا ہے
    گر نہ ہو دوستو کرم ان کا

    عمر بھر عشق خام ہوتا ہے
    اشک باری پہ فضل باری ہو

    تب کہیں جا کے کام ہوتا ہے
    گر مُربی نہ ہو کوئی اُس کا

    عشق بھی بے نظام ہوتا ہے
    ذکر و تقویٰ کے نور سے اخترؔ

    نورِ نسبت تمام ہوتا ہے

    گر خدا چاہے تو پہلے عاشق ابرار ہو​


    عشق کا اے دوستو! ہم سب کا یہ معیار ہو
    متبع سنت ہو اور بدعت سے بھی بیزار ہو
    اتباع سنت نبوی سے دل سرشار ہو
    نورِ تقویٰ سے سراپا حاملِ انوار ہو
    عاشقِ کامل کی بس ہے یہ علامت کاملہ
    جاں فدا کرنے کو ہر دم سر بکف تیار ہو
    عشق سنت کی علامت ہر نفس سے ہو عیاں
    خواہ وہ رفتار ہو، گفتار ہو، کردار ہو
    صحبت مرشد سے نسبت تو عطا ہوگی مگر
    اجتناب معصیت ہو ذکر کی تکرار ہو
    عشقِ کامل کی علامت یہ سنا کرتا ہوں میں
    آشنائے یار ہو بے گانۂ اغیار ہو
    ہے یہی مرضی خدا کی ہم مٹادیں نفس کو
    گرچہ وہ سارے جہاں کا بھی کوئی سردار ہو
    اس کی صحبت سے نہیں کچھ فائدہ ہوگا کبھی
    بے عمل کوئی محبت کا علمبردار ہو
    جب کسی بندہ پہ ہوتا ہے خدا کا فضل خاص
    دم میں وہ ذوالنور ہوگا گرچہ وہ ذوالنار ہو
    عمر بھر کا تجربہ اخترؔ کا ہے یہ دوستو
    گر خدا چاہے تو پہلے عاشقِ ابرار ہو



    [/align]

اس صفحے کو مشتہر کریں