حکایات وواقعات

'افکارِ قاسمی شمارہ 7 جون 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 1, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    حکایات وواقعات : سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی ؒ
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد عدیل غزالی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    سید کا احترام
    حضرت جنید بغدادی فنون سپہ گری میں یکتائے زمانہ اور پہلوانی میں بے مثال تھے ،ایک بار ایک شخص آیا اور با دشاہ سے کہا : میں شاہی پہلوان (جنید) سے لڑوں گا ، باشاہ نے کہا کہ ہمارا پہلوان بڑا زبردست ہے اور تم دبلے پتلے ، بھلا اس سے کیا لڑوگے ؟ مگر وہ نہ مانا ، خیر دنگل ہوا ، جب حضرت جنید تال ٹھونک کر اکھاڑے میں اترے اور سلامی ہوئی تو اس شخص نے چپکے سے ان کے کان میں کہدیا !!
    "میں سید ہوں آگے آپ کو اختیار ہے "
    حضرت جنید لڑتے لڑتے گر پڑے ، ہر طرف تالیاں، بادشاہ نے نہ مانا اور دوبارہ کشتی ہوئی ، پھر بچھڑ گئے ، تیسری بار کشتی ہوئی تو اس میں حضرت جنید چاروں خانہ چت ہو گئے ،اس شخص کو با دشاہ نے انعام دے کر رخصت کیا ، اور حضرت جنید کو تنہائی میں بلا کر پوچھا ، سچ کہو کیا بات تھی؟
    حضرت جنید نے صورتحال بیان کر دی ، بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا کہ مجمع عام میں اپنی ذلت کو گوارا کر کے سید کی لاج رکھی ، اسی رات حضرت جنید سیدا لکا ئنات حضور اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئء ، آپ نے شاباشی دیتے ہوئے فر مایا : تو نے ہماری اولاد کے ساتھ حسن سلوک کیا تو ہم بھی تمہیں اس کا اچھا صلہ دیں گے۔
    صبح ہو ئی تو شاہی ملازمت سے استعفا دیدیا اور فقراء کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ،بالاخر اپنے ماموں سر سقطیؒ سے بیعت ہوئے ۔

    ابھی یہ بچہ ہے

    ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی ؒ کو با دشاہ وقت نے کسی مسئلہ کی تحقیق کیلئے طلب کیا، ان کے ہمراہ حضرت شبلیؒ بھی تھے با دشاہ نے حضرت جنید سے سخت کلامی کی ، چونکہ حضرت شبلیؒ اس وقت جوان تھے اور نئی فقیری کا جوش تھا ، غصہ آگیا، قالین پر بنے ہوئے شیر کو تھپکی دی ، وہ سچ مچ شیر بن کر ابھرنے لگا ، حضرت جنیدؒ نے توجہ ڈالی تو اصلی حالت میں لوٹ گیا ، بادشاہ نے پھر گستاخی کی تو حضرت شبلیؒ پھر تھپکی دی ،اسی طرح تین بار ہوا آخر دفعہ میں بادشاہ نے شیر کو اٹھتے ہوئے دیکھ لیا ،ڈر کے مارے بد حواس ہو گیا ، فورا تخت سے اتر کر حضرت جنیدؒ کے قدموں میں گر پڑا ۔
    حضرت جنیدؒ نے فر مایا آپ اس لڑکے کی بات کو ذہن سے نکال دیں یہ ابھی بچہ ہے ،آپ کو جو سمجھ میں آیا ،آپ نے وہ کیا اور ہمیں جو لازم ہے وہ ہم نے کیا : کہ اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور امیر وقت کی ۔ الغرض با دشاہ نے اپنا قصور معاف کرایا اور عزت واکرام سے رخصت کیا ۔
    حضرت شبلیؒ کی وجہ تسمیہ یہ کہ " شبلی" کے معنیٰ ہیں شیر کا بچہ ، جب سے یہ واقعہ پیش آیا ،اس وقت سے ان کا لقب "شبلی" شیر والا ہو گیا ،ورنہ ان کا اصلی نام تو ابو بکر تھا ، آپ حضرت جنید ؒ کے مرید بھی ہیں اور ہمشیرہ زاد بھائی بھی ۔

    جا جنید کی یہی کرامت ہے

    شیخ ابو بکر واسطی جو ایک زبر دست عالم تھے وہ حضرت جنیدؒ کی خدمت میں پہنچے ، سال بھر کے بعد واپسی کی اجازت چاہی ، حضرت جنیدؒ نے فر مایا: یہ کیا نہ آپ نے آنے کی غرض بتائی اور نہ ہم نے کچھ اپنی سنائی اور آپ جانے بھی لگے؟ تو انہوں نے کہا حضرت ! میں بیعت کے ارادے سے حاضر ہوا تھا مگر پورے ایک سال میں آپ کو کوئی کرامت نہیں دیکھی ، بس نماز روازہ وتہجد واشراق اور درس وتدریس ، بس وہی عالموں کا سارا رنگ وڈھنگ آپ میں تو کوئی فو قیت وامتیاز نظر نہ آیا ، تو چارونا چار واپسی کی اجازت چاہی ، حضرت جنید کو جلال آگیا اور فر مایا: آپ نے سال بھر میں جنید سے کوئی کام سنت رسول ﷺ کے خلاف سرزد ہوتے دیکھا ؟
    ابو بکر نے کہا نہیں ، تو بڑے جوش کے ساتھ اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے فر مایا :جا جنید کی یہی کرامت ہے ۔
    کیا چوٹ وتا ثیر تھی اس جملے میں کہ شیخ ابو بکر دیوانہ وار جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے ،اور چھ ماہ بعد واپس ہوئے تو حضرت جنیدؒ نے پھر وہی بات پو چھی کیا آپ نے جنید سے اس پورے سال میں کو ئی امر خلاف سنت رسول ﷺ دیکھا؟ انہوں نے کہا نہیں ،پھر آپ نے ہاتھ جھٹکتے ہوئے فرمایا: جا جنید کی یہی کرامت ہے ، پھر وہ بیخود ہو کر بیابان کی طرف دیوانہ وار چلتے بنے اور تیسری بار جب چھ ماہ بعد واپسی ہوئی تو پھر وہی ارشاد فر مایا ،اس مرتبہ شیخ ابو بکر نے کہا: حضرت ! میں آپ میں کوئی چیز سنت رسول ﷺ کے خلاف نہیں پاتا ، یہ کہنا تھا کہ حضرت جنیدؒ انہیں سینے سے لگا لیا اور خرقہ ٗ خلافت عطا کر کے رخصت کیاَ (ماخوذ ریاض الجنہ، مئی ۲۰۱۳؁ء )
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں