حکایت اس ماں کی جس کا لڑکا پانی میں گر گیا تھا

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏مارچ 2, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حکایت اس ماں کی جس کا لڑکا پانی میں گر گیا تھا

    ایک ماں کا بچہ گہرے پا نی میں گر گیا اور ماں بیچاری مامتا کی ماری تڑپ اٹھی تھی ۔ بچہ حیرانی وپریشانی کے عالم میں ہاتھ پا ؤں مار رہا تھا ۔ پانی اس کی گر دن کو چھو رہا تھا پا نی کا ریلا اس کو آگےہی آگے بہا کر لے جا رہا تھا جب ماں نے دیکھا تو وہ بھی پیچھے پا نی میں کود پڑی اور جلدی سے بچے کو بہتے پا نی میں سے نکال لیا اسے گود میں لیا اور دودھ پلایا
    یا رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر آپ ﷺ ماں سے کہیں زیادہ مشفق اور مہر بان ہیں ، میں بھی گناہوں کی ندی میں ڈوبنے لگا ہوں ، مہر بانی فر ما کر مجھے نکال لیجئے میں گناہوں لے گر داب میں حیران وپر یشان ہو کر پھنسا پڑا ہو ں ۔ میری حالت اس بچے کی طرح ہے جو پا نی میں ڈوب چلا ہو ، میں اس پریشانی میں ہا تھ پاؤں ما ر رہا ہوں ۔
    اے اپنے بچوں پر شفقت کر نے والے نبی ! مہر بانی فر ما کر غرق ہو نے والے اپنے بچوں کو بچا لیجئے ۔ ہماری اس جان پر رحم کیجئے جو آپ سے دو ر ہو کر جو گہرے پا نی میں ڈوب رہی ہے ۔
    اپنی مہر بانی کی پستان سے ہمیں دودھ پلا ئیے اور اپنی مہر بانی کادستر خوان ہمارے آگےسے نہ کھینچئے۔ آپ ﷺ ہر طرح کے وصف اور ادراک سے با لا تر ہیں اور وصف کر نے والے کے وصف سے پا ک ہیں ۔ آپ ﷺ کے مقام عالیہ پر کسی کو دسترس اور رسائی نہیں ہے ہم آپ ﷺ کی خاک کی بھی خاک ہیں ۔ آپ ﷺ کے یار اور اور اصحاب ہی آپ ﷺ کی خاک تھے اور با قی سارا عالم تیری اس خاک کی بھی خاک ہے ۔ جو بھی تیرے اصحاب اور تیرے یا روں کی خاک نہیں ہے وہ تیرے دوستوں کا دشمن ہے ۔ سب سے اول حضرت ابو بکر ؓ اور آخر میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں آپ کے چاروں یا ر صدق وصفا کے کعبہ کے چار رکن ہیں ۔
    ایک ان میں سے صدق میں آپ کا ہمراز اور وزیر تھا اور دوسرا عدل وانصاف میں رو شن سورج تھا تیسرا شرم وحیا کا دریا تھا ور چو تھا با ب العلم اور با ب السخاوت تھا ۔
    جو کوئی آپ کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہے وہ آپ کے بعددشمنی کا بیج بو تا ہے اور جو دل وجان سے آپ کے آل کا مطیع ہو گیا وہ تیرے ہی راستہ پر صحیح جا رہا ہے ۔ سب سے آخر میں امام مہدی آئیں گے جو آل مرتضیٰ میں سے ہو ں گے ۔یہ تمام ایمان کے رکن اور آلِ مصطفیٰ ہیں ۔
    (منطق الطیر )
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اور با ب السخاوت تھا ۔
    جو کوئی آپ کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہے وہ آپ کے بعددشمنی کا بیج بو تا ہے اور جو دل وجان سے آپ کے آل کا مطیع ہو گیا وہ تیرے ہی راستہ پر صحیح جا رہا ہے ۔ سب سے آخر میں امام مہدی آئیں گے جو آل مرتضیٰ میں سے ہو ں گے ۔یہ تمام ایمان کے رکن اور آلِ مصطفیٰ ہیں ۔(منطق الطیر )
    محمد نبیل خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت زبردست جزا ک اللہ
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 3, 2015
    محمد نبیل خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    جناب احمد قاسمی صاحب :
    یہ سب کیا ہے؟؟؟
    "یا رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر آپ ﷺ ماں سے کہیں زیادہ مشفق اور مہر بان ہیں ، میں بھی گناہوں کی ندی میں ڈوبنے لگا ہوں ، مہر بانی فر ما کر مجھے نکال لیجئے میں گناہوں لے گر داب میں حیران وپر یشان ہو کر پھنسا پڑا ہو ں ۔ میری حالت اس بچے کی طرح ہے جو پا نی میں ڈوب چلا ہو ، میں اس پریشانی میں ہا تھ پاؤں ما ر رہا ہوں ۔
    اے اپنے بچوں پر شفقت کر نے والے نبی ! مہر بانی فر ما کر غرق ہو نے والے اپنے بچوں کو بچا لیجئے ۔ ہماری اس جان پر رحم کیجئے جو آپ سے دو ر ہو کر جو گہرے پا نی میں ڈوب رہی ہے ۔


    کیا "رب" کو چھوڑ کر یہ رسول اللہ ﷺ سے مانگنا نہیں؟؟؟ کیا شریعت محمدیہ اس کی اجازت دیتی ہے؟
    محمد نبیل خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جناب من یہ حکایت من وعن منقول ہے "منطق الطیر مصنف حضرت فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے اس کتاب کے مترجم ہیں "حکیم مطیع الرحمن نقشبندی"۔
    مناجات مقبول مؤلف حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کتاب قریب الختم "قصیدہ مناجاتیہ درج ہے اس میں کچھ اشعار اس طرح ہیں"رسول اللہ فا ر حمنی فانی۔ غریب ھائم ولی الحیام۔ اے خدا کے رسول آپ مجھ پر رحم فر مادیں۔کیونکہ میں ایک پردیسی پیاسا اور مریض ہوں ،کچھ اشعار کے بعد کچھ اس طرح ہے" اغثنی یا رسول اللہ انی۔لمبغبون وقنطی العظام۔ اے خدا کے رسول آپ میری فریاد رسی فر مایئے کیونک میں نقصان رسیدہ ہوں۔اور بڑے بڑے درباروں سے مایوس ہو کر واپس آیا ہوں۔حضرت قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نعت کے یہ بول"نبی اکرم شفیع اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو۔تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو۔شکستہ کشتی ہے تیز دھارا نظر سے روپوش ہے کنارا۔نہیں کوئی ناخدا ہمارا خبر تو عالی مقام لے لو۔مندرجہ بالا عربی اردو اشعار میں وہی صورت نظر آتی ہے جو حضرت فرید الدین عطار رحمۃ اللہ کی حکایت میں ہے۔ان اشعار میں اگر کسی تاویل کی گنجائش ہو گی تو اس حکایت میں ہو گی ورنہ تو اشعار اور حکایت پر وہی حکم لگ سکتا ہے"یہ سب کیاہے؟کیا "رب" کو چھوڑ کر یہ رسول اللہ ﷺ سے مانگنا نہیں؟؟؟ کیا شریعت محمدیہ اس کی اجازت دیتی ہے؟"۔میری جو سمجھ میں آیا عرض کردیا باقی اہل علم وقلم جا نیں۔
  6. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    محترم: بندہ نے یہ پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ سے (مصیبت )میں مانگنا جائز ہے یا نہیں؟؟؟اگر جائز ہے تو کیا شیخ عبد القادر گیلانی کو ان الفاظ سے پکارنا درست ہوگا "یا شیخ عبدالقادر شیئا للہ''؟یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان الفاظ سے پکارنا درست ہوگا "اغثنی یا علی"؟؟؟
    اگر شریعت محمدیہ اس کی اجازت دیتی ہے تو حوالہ نقل کریں ۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جناب عالی ہم نے کسی بات کا دعوی تو نہیں کیا کہ دلیل ہمارے ذمہ ہو جو بات میں نے جہاں سے نقل کی اس کا حوالہ دے دیا ۔بات ختم ہو گئی ۔
    Last edited: ‏مارچ 7, 2015
  8. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    محترم : اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے ،آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے شرک وبدعات کی جتنی ترویج ہو رہی ہے اس میں احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم ایسی کوئی بات یا تحریر نقل نہ کریں جس سے اہل بدعت کو کوئی فائدہ ہو ۔ جن بزرگوں کی کتابوں کا جناب نے حوالہ دیا وہ "عقیدہ" کے لحاظ سے بہت پختہ تھے۔لیکن آج کے لوگ ان کا اور ہی مطلب اخذ کریں گے جس سے بچنا بہت ضروری ہے۔ اس لئے بندہ نے بھی اس پر کچھ عرض کر دیا بحث کرنا میرا مقصد بھی نہیں تھا
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں