حکایت:عالم کا در جہ عابد سے ہزار گنا زیادہ ہے

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏نومبر 16, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عالم کا در جہ عابد سے ہزار گنا زیادہ ہے​

    ایک دانشور اور عالم بیٹے نے باپ سے عرض کیا اے باپ ان واعظوں کا رنگین ودلچسپ کلام مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا ہے اسلئے کہ میں ان حضرات کے عمل کو ان کے اقوال کے مطابق نہیں پاتا ہوں یعنی یہ جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے ( دوسروں کو دنیا چھوڑ نے کی تعلیم دیتے ہیں اور خود سونا چاندی ، غلہ اکٹھا کرتے ہیں ) جو عالم ایسا ہو کہ اس کا کہنا ہی کہنا ہو اس پر کچھ عمل نہ کرتا ہو ایسا شخص جو کہے گا کسی پر اثر نہ ہوگا .عالم وہ ہوتے ہیں کہ خود برائی نہ کرے اور نیکی میں لگا رہے اور عالم وہ کہلانے کے لائق نہیں کہ خلقت کو وعظ ونصیحت کرتا رہے اور خود اس پر عمل نہ کرے .اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ''تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھلائے بیٹھے ہو '' جو عالم کہ جسم پروری اور خواہشات نفسانی کے پورا کرنے میں لگا ہو وہ خود گمراہ ہے کسی کی کیا رہبری کرے گا .

    باپ نے فر مایا اے بیٹے! محض اس غلط خیالی کی وجہ سے نصیحت کر نے والوں کی نصیحت سے منہ پھیرنا اور عالموں کو گمراہ جاننا اور معصوم عالم کی طلب میں علم کے فائدوں سے محروم رہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک اندھا ایک رات کیچڑ میں پھنس گیا تھا اور کہہ رہاتھا آخر کسی مسلمان کو تو فیق نہیں کہ ایک چراغ میرے راستہ میں رکھ دے .ایک خوش مزاج عورت نے سنا اور کہا جب تو چراغ دیکھ ہی نہیں سکتا تو چراغ سے کیا خاک دیکھ لے گا اس طرح وعظ ونصیحت کی مجلس بزاز کی دکان کے مانند ہے جب تک نقد نہ دے گا سامان نے لے سکے گا سو اس جگہ جب تک عقیدت نہ لے جائیگا سعادت نہ حاصل کرے گا.شیخ سعدی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں

    گفت عالم بگوش جاں بشنو×در نماند بہ گفتش کردار .
    باطل ست انچہ مدعی گوید ×خفتہ را خفتہ کے کند بیدار
    مرد باید کہ گیر د اندر گوش× در بنشت ست پند بر دیوار​


    عالم جو فر مائے دل کے کانوں یعنی توجہ سے سنو اگر چہ اس کا عمل اسکے قول کے مطابق نہ ہو .
    مدعی جو یہ کہتا ہے کہ غافل غافل کو بیدار نہیں کرسکتا یعنی نیکی اور خیر کی طرف تو جہ نہیں دلا سکتا سب غلط اور جھوٹ ہے آدمی کو چاہئے کہ نصیحت حاصل کرے اگر چہ دیوار پر لکھی ہو .
    شیخ سعدی مزید فر ماتے ہیں ایک اللہ والا صوفیا کی صحبت کے عہد کو توڑ کر خانقاہ چھوڑ کر مدرسہ میں آگیا یعنی طالب علمی اختیار کرلی میں نے اس سے کہا عالم اور عابد میں تو نے کیا فرق دیکھا کہ عابدوں کو چھوڑ کر عالموں کی غلامی اختیار کی اس عابد نے کہا وہ صوفی موج سے صرف اپنی کملی باہر لے جاتا ہے یعنی صرف اپنی ذات کو بچاتا ہے اور یہ عالم ہر ڈوبتے کو نکالنے اور بچانے کی کو شش کرتا ہے اس لئے عالم کا مرتبہ عابد سے ذیادہ ہے .
    فایدہ : علما ء کے وعظ ونصیحت کو عقیدت کے ساتھ سننا چاہئے تاکہ اس سے فائدے حاصل ہوں .علماء کے عمل کی طرف دھیان نہ دینا چاہئے ورنہ علم کے فوائد سے محروم رہ جاؤگے اس لئے کہ علماء معصوم نہیں ہوتے . عالم کا در جہ عابد سے ہزار گنا زیادہ ہے . ( گلستاں)


  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین

  3. رجاء

    رجاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,198
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عالم تو عالم ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اگر عالم کے عمل میں کمی ہے تو بھی اس کی باتیں سن کر خدا ضرور ٰاد آجاتا ہے ۔

    جزاک اللہ خیرا
  5. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ۔۔۔ یہ مت دیکھو کہ کون کہ رہا ہے ‘ بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہ رہا ہے اور کس کی کہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    جزاک اللہ

اس صفحے کو مشتہر کریں