حیاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم - 63 سال - ایک جھلک

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏اپریل 19, 2016۔

  1. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    208
    موصول پسندیدگیاں:
    200
    صنف:
    Male
    حیاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم - 63 سال - ایک جھلک
    از: مفتی محمد راشد ڈسکوی - جامعہ فاروقیہ کراچی
    Download pdf

    سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ ﷺ کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت
    ربیع الاول ،عام الفیل ۔بمطابق اپریل ۵۷۱ ءمیں ہوئی،۔
    آپ ﷺ کی ولادت سے چند مہینے پہلے آپ ﷺ کے والد ِمحترم ”عبد اللہ “کی وفات ہو گئی،۔
    آپ کے دادا جان ”عبد المطلب“ کی طرف سے آپ ﷺ کا اسمِ گرامی ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب“ ہے ،
    اور آپ کی والدہ محترمہ ”آمنہ کی طرف سے آپ کا نام ”احمد“ تجویز ہوا۔ ابولہب کی آزاد کر دہ باندی ”ثویبہ رضی اللہ عنہا“کے چند دن دودھ پلانے کے بعدشرفاء ِقریش کی عادت کے مطابق آپ ﷺ کو ”حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی رضاعت میں دے کر
    مضافاتِ مکہ میں بھیج دیا ، اس وقت آپ ﷺ آٹھ دن کے تھے۔
    ولادت کے چوتھے سال شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، موٴرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا،
    ایک: زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس،
    دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری: ۱۳/۴۸۱)۔
    تیسری بار: واقعہٴ بعثت کے وقت پیش آیا۔ (مسند أبي داوٴد الطیالسي، ص: ۲۱۵)
    اور چوتھی بار : واقعہٴ معراج کے موقع پر۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: ۳۴۹)۔
    بعض نے پانچویں بار کا شق صدر بھی ذکر کیا ہے؛ لیکن وہ صحیح قول کے مطابق ثابت نہیں ہے۔ (سیرة مصطفی ﷺ: ۱/۷۵) ۔
    آپ تقریبا چھ سال تک ”حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا “کی پرورش میں رہے۔
    ولادت کے چھٹے سال آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے اپنے میکے میں ایک ماہ کا قیام کیا، وہاں سے واپسی پر مقام ابواء میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہوئیں۔(شرح المواہب للزرقانی: ۱/۱۶۰)۔
    ولادت کے ساتویں سال آپ اپنے دادا عبد المطلب کی تربیت میں پروان چڑھتے رہے۔
    ولادت کے آٹھویں سال ”دادا محترم “کا انتقال ہو گیا،پھر آپ اپنے چچا ”ابو طالب“ کی پرورش میں آ گئے۔ (طبقات ابن سعد: ۱/ ۷۴)۔
    ولادت کے بارھویں سال آپ نے اپنے چچا کے ساتھ شام کے پہلے تجارتی سفر میں شرکت کی، اسی سفر میں بحیرہ راہب نے
    آپ ﷺ کی نبوت کی پیش گوئی بھی دی۔ (الخصائص الکبری: ۱/ ۸۴)۔
    ولادت کے چودہویں سال یا پندرہویں سالاور بعض روایات کے مطابق بیسویں سال عربوں کی مشہور لڑائی ”حرب الفجار“ پیش آئی، اس جنگ میں آپ اپنے بعض چچاوٴں کے اصرار پر شریک تو ہوئے؛ لیکن، قتال میں حصہ نہیں لیا۔ (روض الانف: ۱/۱۲۰)۔
    ولادت کے سولہویں سالمیں آپ نے اہل مکہ کے (پانچ خاندانی معاہدے) ”حِلف الفضول“ نامی معاہدے میں شرکت کی۔
    ولادت کے پچیسویں سال آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال لے کر تجارت کا دوسرا سفر شام کی طرف کیا ، سفر سے واپسی پر اس سفر میں پیش آنے والے واقعات ، تجارتی نفع اور آپ ﷺ کے اخلاق وواقعات سن کر
    دو مہینہ اور پچیس روز کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو نکاح کا پیغام بھجوا کر آپ سے نکاح کر لیا۔(طبقات ابن سعد: ۱/۸۳)۔
    ولادت کے پینتیسویں سالآپ ﷺ نے بیت اللہ کی ہونے والی تیسری تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اپنے دست ِاقدس سے
    نصب فرما کر خانہ جنگی کے لیے کمر بستہ قبائل قریش کے درمیان باہمی محبت والفت پیدا فرما دی اور اس کٹھن مرحلے کو
    بحسن وخوبی انجام تک پہنچایا۔ (سیرت ابن ہشام: ۱/۶۵)۔
    حیات طیبہ کے انتالیس سالوں میں آپ ﷺ کا کردار ایسا بے مثال رہا کہ اپنے تو اپنے؛ بلکہ غیروں کی زبان پر
    آپ ﷺ کے بارے میں تھا کہ آپ ﷺ صادق اور امین ہیں۔
    ولادت کے چالیسویں سال میں آپ ﷺ نے زیادہ وقت غار حرا میں گزارا، یہاں ہی آپ کے سر پر نبوت کا تاج رکھاگیا۔

    نبوت کے پہلے سال
    غارِ حرا میں آپ ﷺ پر سورہ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں،(شرح المواہب: ۱/۲۰۷)۔
    باتفاق موٴرخین آپ کو نبوت اتوار کے دن عطا ہوئی؛ لیکن مہینہ کے بارے میں موٴرخین کا اختلاف ہے،
    ابن عبد البرکے نزدیک آٹھ ربیع الاول کو نبوت سے سرفراز ہوئے،
    اس قول کی بنا پر بہ وقت بعثت آپ کی عمر چالیس سال تھی؛
    جب کہ ابن اسحاق کے قول کے مطابق سترہ رمضان کو آپ کو نبوت ملی،
    اس قول کے مطابق بوقتِ بعثت آپ کی عمر چالیس سال اور چھ ماہ تھی۔
    حافظ ابن حجرنے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (فتح الباری، کتاب التعبیر: ۱۲/ ۳۱۳)۔
    نبوت کے دوسرے سال میں آپ ﷺ خفیہ تبلیغ فرماتے رہے،
    اسی سال حضرت خدیجہ، حضرت ورقہ بن نوفل، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت ابو بکر صدیق،
    حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت عفیف کندی، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت خالد بن سعید،
    حضرت عثمان بن عفان،حضرت عمار، حضرت صہیب، حضرت عمرو بن عنبسہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم اجمعین
    آپ ﷺ پر ایمان لائے ۔یہ سب اور کچھ دیگر حضرات صحابہ سابقین اولین صحابہ کہلاتے ہیں۔
    نبوت کے تیسرے سال آپ ﷺ کے متبنیٰ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت اسامہ کی ولادت ہوئی۔
    نبوت کے چوتھے سال آپ ﷺ کو علی الاعلان دعوت ِ دین دینے کا حکم ہو ا ، جس کی بنا پر کفار خصوصاً قریش کی طرف سے بھی کھلم کھلا دشمنی، اور بغض وعداوت کا مظاہرہ ہونے لگا
    اوراسی سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی۔
    نبوت کے پانچویں سال حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہو ئے ،
    اسی سال حبشہ کی طرف پہلی اور دوسری ہجرت ہو ئی،
    پہلی ہجرت میں گیارہ مرد اور پانچ عورتیں شامل تھیں۔ (فتح الباری: ۱/۱۸۰) ۔
    اور دوسری ہجرت میں چھیاسی مرد اور سولہ عورتیں شامل تھیں۔ (سیرة ابن ہشام: ۱/۱۱۱)
    اسی سال حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو ابو جہل ملعون کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی،
    یہ اسلام کی خاطر شہید ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
    نبوت کے چھٹے سال حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما مشرف بہ اسلام ہو ئے اور ان کی برکت سے مسجدِحرام میں
    نماز اعلانیہ ادا کی گئی۔(شرح المواہب : ۱/۲۷۶)۔
    نبوت کے ساتویں سال مقاطعہٴ قریش کا واقعہ پیش آیا، آپ علیہ السلام کے ساتھ بنو ہاشم اور بنو مطلب شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے، اسی دوران آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ولادت ہو ئی۔(روض الانف: ۱/۲۳۲)۔
    نبوت کے آٹھویں سال مشرکینِ مکہ کے مطالبہ پر شق ِقمر کا بے مثال معجزہ رو نما ہوا، (البدایہ والنہایہ: ۳/ ۱۱۸)۔
    نبوت کے نویں سال میں بھی شعب ابی طالب میں ہی محصور رہے۔
    نبوت کے دسویں سال مقاطعہ ختم ہوا (طبقات ابن سعد: ۱/۱۳۹) اور اسی سال آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا ۔ان کے انتقال کے تقریبا ً تین یا پانچ دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا،
    حضور ﷺ نے اس سال کو عام ُالحزن قرار دیا (شرح المواہب : ۱/۲۹۱)۔
    اسی سال آپ ﷺ کا نکاح حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے ہوا،
    اور اسی سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے نکاح میں آئیں؛ لیکن رخصتی نہیں ہوئی۔
    اور اسی سال واقعہٴ طائف بھی پیش آیا(البدایہ والنہایہ: ۳/۱۳۵)۔
    نبوت کے گیارہویں سال مدینہ سے آنے والے حاجیوں میں سے آپ ﷺ کی دعوت سے تقریبا ً چھ آدمی مشرف بہ اسلام ہوئے، اس سے انصار کے اسلام کا آغاز ہوا(البدایہ والنہایہ: ۳/۱۴۸)۔
    نبوت کے بارھویں سال آپ ﷺ کو معراج ہوئی اور اسی موقع پر امت پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔
    اسی سال بیعت عقبہٴ اولیٰ ہوئی۔ اس میں ۱۲ اَفراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ (شرح المواہب: ۱/۳۱۶)۔
    نبوت کے تیرھویں سال بیعت عقبہ ٴ ثانیہ ہو ئی ،جس میں ۷۳ مرد اور ۲ عورتوں نے اسلام قبول کیا ۔
    اسی سال مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ۔
    اسی سال قریش نے نعوذبا للہ آپ ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آکر آپ ﷺ کو قریش کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہاں سے ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے پر آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

    حیاتِ نبوی ﷺ کا مدنی دور

    جناب نبی اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد کی حیاتِ مبارکہ کا دور ”مدنی دور“ کہلاتا ہے، جو کہ بڑا تابناک دور ہے،
    جس میں آپ علیہ السلام کی اَن تھک کوششوں، محنتوں اور قربانیوں کے سبب اسلام کو غلبہ نصیب ہوا،
    آپ علیہ السلام کی جانثار جماعتِ قدسیہ کے سرفروشوں نے اسلام کی نشر واشاعت کے لیے آپ علیہ السلام کے اشاروں پر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا-رضی اللہ عنہم اجمعین-آپ علیہ السلام کے اس بے مثال دور کا نقشہ کھینچنے کی منظر کشی اتنی طویل ہے کہ شاید کئی ضخیم مجلدات بھی اس موضوع کو اپنے میں نہ سما سکیں،
    ذیل میں بہت ہی اختصار کے ساتھ ہجرت کے بعد کی زندگی کو اشارةً بطورِ ایک جھلک کے پیش کیا جاتا ہے۔

    ہجرت کا پہلا سال:
    آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تین دن تک غار ِثور میں رُوپوش رہنے کے بعد یکم ربیع الاوّل مدینہ کی جانب ہجرت کی،
    اسلام کی پہلی مسجد مسجد ِقباء کی بنیاد رکھی ،
    مدینے کے یہودی اور آس پاس کے رہنے والے قبیلوں سے امن اور دوستی کے عہد نامے لکھائے گئے۔
    اسی سال حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
    اسی سال مسجد نبوی کی بھی تعمیر کی گئی۔اذان واقامت کی ابتداء بھی کی گئی۔
    انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک مثالی بھائی چارہ قائم ہوا، جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں مل سکتی۔
    اسی سال شوال میں حضرت عائشہرضی اللہ عنہا کی رخصتی بھی ہو گئی۔
    ہجرت کے دوسرے سال مسلما نوں پر جہا د فرض ہوا ،
    رمضان کے روزے ،زکوٰة، صدقةالفطر اور عیدین کی نمازیں فرض ہوئیں۔
    مسجد اقصیٰ کے بجا ئے بیت اللہ کو جہت ِقبلہ قرار دیاگیا ۔
    فاطمةالزہرا رضی اللہ عنہاکا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔
    آپ ﷺ کی لخت جگر حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہاکا وصال بھی اسی سال ہوا۔
    حق وباطل کا پہلا غزوہ بدر بھی اسی سال پیش آیا۔
    ہجرت کے تیسرے سال آپ ﷺ کا حضرت حفصہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہاسے اور اس کے بعد حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔
    حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی ،
    آپ کی لخت جگر حضرت اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہاکا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح ہوا۔
    گستاخان ِرسول کعب بن اشرف اور ابو رافع کو جہنم رسید کیاگیا۔
    اسی سال غزوہٴ اُحد کا واقعہ پیش آیا۔
    ہجرت کے چوتھے سال بنو نظیر کی جلاوطنی ہوئی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی،
    اسی سال آپ ﷺ کا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔
    اور شراب کے حرام ہونے کا حکم بھی اسی سال نازل ہوا۔
    ہجرت کے پانچویں سال شرعی پردہ کا حکم نازل ہوا، زنا کی سزا کا حکم ہوا،
    صلاة الخوف کی مشروعیت ہوئی، تیمم کی اجازت ملی،
    واقعہٴ اِفک ہوا اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں سورة النور نازل ہوئی۔
    آپ ﷺ کا حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے اور حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہاسے نکاح ہوا۔
    غزوئہ خندق، غزوئہ بنی مصطلق اور غزوہٴ بیر معونہ پیش آیا، جس میں۷۰ حفاظ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کیا گیا۔
    ہجرت کے چھٹے سال مالدار مسلمانوں پر(ایک روایت کے مطابق)حج فرض ہوا۔سورة الفتح نازل ہوئی۔
    اسی سال حدیبیہ کی صلح ہوئی،
    آپ ﷺ ۱۴۰۰ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوئے، صلح حدیبیہ سے واپسی کے بعد دیگر ممالک کے بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ فرمائے۔اسی سال مدینہ منورہ میں قحط پڑا جو آپ ﷺ کی دعا سے دور ہوا۔
    ہجرت کے ساتویں سال غزوئہ خیبر پیش آیا۔ اس غزوہ سے واپسی پر لیلة التعریس کا واقعہ پیش آیا، جس میں پورے لشکر کی نماز فجر قضا ہو گئی۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
    ایک یہودی عورت زینب بنت حارث کی طرف سے آپ ﷺ کو زہر دینے کی کوشش کی گئی،
    آپ ﷺ کا حضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان، حضرت میمونہ بنت حارث، اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنهن سے نکاح ہوا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ کی آخری زوجہ ہیں۔
    ہجرت کے آٹھویں سال حضرت خالد بن ولید اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہما مشرف بہ اسلام ہوئے،
    آپ ﷺ نے عمرہ القضاء فرمایا ، غزوہ موتہ اور فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا۔
    حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔غزوئہ حنین وطائف ہوا۔
    حضرت ابوبکر ؓکے والد ابو قحافہ رضی اللہ عنہنے اسلام قبول کیا۔
    اسی سال آپ ﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔
    ہجرت کے نویں سال غزوہٴ تبوک پیش آیا اور اس غزوہ سے واپسی پر منافقین کی بنائی ہوئی مسجد ضِرار کو منہدم کردیا گیا۔
    رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول کی موت ہوئی۔
    اس سال ستر/۷۰ سے زائد وفود آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
    سورة التوبہ نازل ہوئی۔
    اسی سال آپ ﷺ نے اپنی ازواج سے ایلا کیا اور قسم کھائی کہ ایک مہینہ تک تمہارے قریب نہیں آوٴں گا۔ اسی سال آپ ﷺ گھوڑے سے گرے، جس کی وجہ سے دائیں پہلو اور پنڈلی پر خراش آئی، اسی سال حج فرض ہوا،
    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر الحج بنا کر تین سو افراد کے ساتھ حج کے لیے بھیجا گیا۔
    ہجرت کے دسویں سال مسیلمہ کذاب نے اور اسود عنسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔
    حجۃالوادع کے موقع پر آپ ﷺ نے خطبہ دیا۔
    اس خطبے میں آپ ﷺ کی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن موجود تھیں، جن کی تعداد ۹تھی۔
    اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد (ایک لاکھ)سے متجاوز تھی۔
    اس موقع پر اسلام کے سارے اصول سمجھا دیے گئے۔ جاہلیت کی رسموں کو اور شرک کی باتوں کو ملیامیٹ فرما دیا
    اور امت کو الواداع کہتے ہوئے پوری امتِ مسلمہ بلکہ پوری کائنات کو یتیم کرتے ہوئے
    اپنے محبوبِ حقیقی اللہ جَلَّ جلالُہ سے جاملے۔
    إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون․
    اللہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد وبارک و سلم
    اللھم صل علٰی محمد و ازواجه امھات المؤمنين و ذريته و اهل بيته و اصحابه اجمعين
    Last edited: ‏اپریل 19, 2016
    اشماریہ اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین۔ کام کی چیز شیئر کی ہے۔
    مولانانورالحسن انور اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں