حیات النبی صلی الله علیہ وسلم کے دلائل

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از خادمِ اولیاء, ‏دسمبر 16, 2011۔

  1. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    1958 میں تقریبا جامعہ خیرالمدارس ملتان کے سالانہ جلسہ میں عنایت الله شاه بخاری رحمہ اﷲ نے عقیده حیات النبی صلی الله علیہ وسلم کے انکار کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا ، عام مسلمانوں کو گمراهی سے بچانے کے لیئے ، حضرت مولانا خیرمحمد جالندهری رحمہ اﷲ نے حضرت مولانا محمد علی جالندهری رحمہ اﷲ کو حکم دیا کہ وه اپنی تقریر میں بخاری صاحب کو نشانہ بنائے بغیر اس عقیده حقہ کی وضاحت کریں ، لہٰذا انهوں نے بڑے اچهے انداز اس کی وضاحت کی ، اور فرمایا کہ اسلاف دیوبند کثرہم الله سوادہم انبیا ء علیہم السلام کو ان کی قبور مبارکہ میں روح مع الجسد زنده تسلیم کرتے ہیں ، اور عند القبر سماع صلاة و سلام کا عقیده رکهتے ہیں ، اور 1400 سال سے پوری امت مسلمہ کا یہی عقیده تها اور آئنده بهی رہے گا ۔

    اس پرعنایت الله شاه صاحب نے برهمی کا اظہار کیا ، اسی موقع پر علماء کی ایک محفل رکهی گئ، تاکہ شاه صاحب کو مسلک حق مسلک دیوبند سمجهایا جائے ، لیکن شاه صاحب نے مسلک حق کو قبول کرنے کے بجائے ، اس مسئلہ کو پورے ملک میں اپنی تقریر کا مستقل موضوع بنا لیا ۔

    اس کے بعد علما ء کرام نے مختلف اوقات میں مصا لحت کی بڑی کو ششیں کیں ،لیکن خاطرخواه کامیابی نہ ہوئی ، پهراس کے بعد ان اکابر نے مصالحت کی تمام مساعی ترک کرکے مسلک حق کو شکوک سے بچانے کے خاطر جمیعت علماء اسلام کا ایک اجلاس طلب کیا ، جس میں محدث کبیر حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اﷲ کی تحریک اور دیگر اکابر علماء کی تائید سے امام اہل سنت حضرت مولانا سرفرازخان صفدر رحمہ اﷲ کو منتخب کیاگیا ، کہ وه قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں دلائل کے ساتهہ مسلک دیوبند کی ترجمانی کرتے ہوئے اس عقیده حیاتُ النبی صلی الله علیہ وسلم کو واضح کریں ، لہٰذا حضرت نے تسکینُ الصُدور فی تحقیقِ احوالِ الموتی فی البرزخ والقبور کے نام ایک عظیم کتاب لکهی اور تحقیق کا پوراحق ادا کردیا) اور اس کتاب پر اس وقت کے تمام قابل ذکر اکابر نے تصدیقات لکهیں ۔

    منکرین حیات النبی صلی الله علیہ وسلم کی پوری حقیقت واصلیت جا ننے کے لیئے ، اور عقیده حیات ُالنبی صلی الله علیہ وسلم اہمیت اور حقانیت جا ننے کے لیئے ( تسکینُ الصدور ) کا ضرور مطالعہ کریں ۔

    -1انبیاء علیہم السلام کی ارواح مبارکہ کا ان کے اجسام عنصری اصلی دنیوی کے ساتهہ تعلق ہے ، اوراس تعلق کی وجہ سے اجسام دنیویہ عنصریہ اصلیہ کی حیات کا عقیده متفق علیہ ہے ۔

    -2 اوریہ حیات ان کو اپنی قبورمبارکہ میں حاصل ہے ، اور چونکہ قبر عالم برزخ کا ایک حصہ ہے اس لیئے اس کو حیات برزخی بهی کها جاتا ہے ، اور چونکہ قبرمیں وہی اصلی دنیوی جسم زنده هے اس لیئے اس حیات کو حیات دنیوی یا اس کے مشابہ یا حِسی سے بهی تعبیر کیا جاتا ہے ۔

    -3 اور انبیاء علیهم السلام کی حیات فی القبرکا عقیده قرآن مجید کی آیات شہداء کے دلالتُ النص اور احادیث مبارکہ کے عبارتُ النص سے ثابت ہے۔

    -4 اور خود لفظ نبی کو دیکھ لیا جائے تو وه بهی حیات فی القبر کا تقاضہ کرتی ہے ، کیونکہ وصف نبوت نبی کے لیئے ثابت ہوتا ہے ، اورزنده کے لیئے نہ کہ مرده کے لیئے لہٰذا جس طرح وه اپنی دنیوی تکلیفی زندگی میں وصف نبوت کے مُتّصف تهے اسی طرح بعد الموت بهی متصف ہوں گے، جس طرح دنیا کی زندگی میں ان پر ایمان لانا فرض ہے اسی طرح اب بهی ان پر ایمان لانا فرض ہے ، اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ ان کے حیات فی القبر کو تسلیم کیا جائے ۔

    5 . حیات فی القبر کے اوپر صحابہ کرام رضی الله عنہم ، تابعین ، تبع تابعین ، اور جمیع امت مسلمہ کا اجماع ہے ، اور کسی بهی مسئلہ پر پوری امت کا اجماع واتفاق ہو تو وه کسی ایک آدمی یا جماعت کے انکار سے نهیں ختم ہو سکتا ، بلکہ انکار خود اس اجماع کے انکار کی وجہ سے دائره اہل سنت سے دور ہوجاتا هے۔

    الله تعالی علماءحق علماء دیوبند کو جزاء خیر دے کہ اس موضوع پر بهی کا فی شافی کتب ورسائل لکهہ کر امت مسلمہ کی ہدایت وراہنمائی کا بهرپور حق ادا کردیا۔

    اب اس کے بعد بهی کوئی شخص منکرین کے وساوس وشبہات سے متاثر ہوکر ان کی صف میں جا ملے ، تو یہ اس کی اپنی بد بختی هے ، علماء کرام نے تو حق بات واضح کرکے اپنا فریضہ پورا کردیا ۔
    محمد نبیل خان اور عامر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,320
    موصول پسندیدگیاں:
    47
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
    محمد نبیل خان اور عامر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,082
    موصول پسندیدگیاں:
    24
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    بہت ہی اچھا ہے


    بہت بہت شکریہ مجیب بھیا
    محمد نبیل خان اور عامر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    353
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بہت بہت شکریہ ۔ ۔ ۔
    محمد نبیل خان اور عامر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہمت افزائی اور عزت نوازی کا
    آپ تمام احباب کا شکریہ
    جزاکم اللہ خیرا
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,552
    موصول پسندیدگیاں:
    66
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی مفید مضمون ہے
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حوصلہ بڑحانے کا شکریہ سیفی بھائی
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. رجاء

    رجاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,198
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آمین۔ ولک ایضآ
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    ما شاء الله جزاك الله خيرًا ونفع الله بك ... زادك الله علما ونورا
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,559
    موصول پسندیدگیاں:
    759
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب ۔ جزاک اللہ خیرا
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    خادم اولیاء بھائی جان: آپ نے لکھا ہے کہ" 1958 میں تقریبا جامعہ خیرالمدارس ملتان کے سالانہ جلسہ میں عنایت الله شاه بخاری رحمہ اﷲ نے عقیده حیات النبی صلی الله علیہ وسلم کے انکار کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا"
    خطِ کشید الفاظ کی نسبت سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ تعالی کی طرف بلکل غلط ہے،میرے بھائی نے یہ بات کہاں سے نقل کی اسکا ماخذ کیا ہے؟ یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں ۔

    اپنی بات نقل نہیں کرتا راوالپنڈی کے معروف عالم حضرت مولانا محمد عبد المعبود صاحب (ان کا تعلق دوسرے فریق کے ساتھ ہے )نے اس جلسہ اور اس میں ہونے والی گفتگو اپنی کتاب "سوانح حیات مولانا غلام اللہ خان نور اللہ مرقدہ" میں نقل کی ہے۔ وہ اس کتاب کے ص 344÷345 پر لکھتے ہیں کہ
    "خیر المدارس(ملتان) کے سالانہ جلسہ 1958 میں سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری نے ارشاد فرمایا ۔"یہ نظریہ قظعا بے بنیاد ہے کہ معاذ اللہ ! انبیاء علیہم السلام کی ازواج مطہرات قبروں میں پیش کی جاتی ہیں اور وہ ان سے شب باشی کرتے ہیں۔یہ نظریہ قرآن وسنت اور اجماع صحابہ کے خلاف ہے۔جب کہ آیات قرآنیہ اور آحادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے ،انک میت کی آیت صاف دلالت کرتی ہے ، "
    اس سے بعض علماء کرام نے یہ بات نکالی کہ سید عنایت اللہ شاہ اور مولانا غلام اللہ خان حیات النبی کے قائل نہیں ہیں۔
    جی بھائی جان :آپ کی نقل کردہ بات اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے
    ۔ کیا احمد رضا خان کے اس غلط نظریہ کا رد کرنا "حیات النبی کا انکار کہلائے گا"؟؟؟شاہ صاحب کا اس غلط نظریہ کا رد کرنا درست تھا یا غلط؟؟؟

    بندہ بھی ایک بات عرض کرنا چاہتا ہے کہ 1958 کے سالانہ جلسہ میں ملتان کے جس" بندہ" نے احمد رضا خان کے عقیدہ حیات النبی والی چِٹ بھیجی تھی اور شاہ صاحب نے اسکا رد کیا تھا میں اُس "بندہ" سے خود ملا ہوں ، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے احمد رضا خان کا "ملفوظات " سے عقیدہ حیات لکھ کر پوچھا تھا کہ یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط تو شاہ صاحب نے اسی نظریہ کا رد کیا تھا ۔

    امید کرتا ہوں کہ ان دو واضع وضاحتوں کے بعد " سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ تعالی" ٰ پر مُنکر حیات النبی کا جھوٹا الزام نہیں لگایا جائے گا۔
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    خادم اولیاء بھائی جان نے لکھا ہے کہ"اسلاف دیوبند کثرہم الله سوادہم انبیا ء علیہم السلام کو ان کی قبور مبارکہ میں روح مع الجسد زنده تسلیم کرتے ہیں ، اور عند القبر سماع صلاة و سلام کا عقیده رکهتے ہیں"
    بھائی جان کیا یہ دونوں عقیدے علامہ خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اللہ کی "المہند" میں موجود ہیں؟ اگر ہیں تو پیش کریں ؟کیونکہ جناب نے ان دو عقیدوں کو تمام اسلاف دیوبند کی طرف منصوب کیا ہے۔
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    خادم اولیاء بھائی جان نے لکھا ہے کہ

    "حیات فی القبر کے اوپر صحابہ کرام رضی الله عنہم ، تابعین ، تبع تابعین ، اور جمیع امت مسلمہ کا اجماع ہے ، اور کسی بهی مسئلہ پر پوری امت کا اجماع واتفاق ہو تو وه کسی ایک آدمی یا جماعت کے انکار سے نهیں ختم ہو سکتا ، بلکہ انکار خود اس اجماع کے انکار کی وجہ سے دائره اہل سنت سے دور ہوجاتا هے۔"

    خطِ کشید الفاظ کو مد نظر رکھیں ،آپ نے "حیات النبی فی القبر" کے عقیدہ ( انبیا ء علیہم السلام کو ان کی قبور مبارکہ میں روح مع الجسد زنده تسلیم کرتے ہیں) کو تمام صحابہ کرام تابعین عظام وتبع تابعین کرام کی طرف منصوب کیا ہے؟
    اگر آپ اپنے اس دعوی میں سچے ہیں تو بندہ صحابہ کرام ،تابعین عظام وتبع تابعین کرام کے صرف چند نام لکھتا ہے،ان سے اپنا یہ عقیدہ ثابت کر دیں

    (1)سیدنا فاروق اعظم،سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان،رضی اللہ عنھم(2) امام اعظم امام ابو حنیفہ،امام ابراہیم نخعی،امام حسن بصری،رحمہ اللہ تعالیٰ(3)امام م مالک،امام بخاری،امام ابو یوسف،رحمہ اللہ۔

    جناب نے لکھا کہ اس عقیدہ پر صحابہ وتابعین وتبع تابعین وجمیع اُمت کا اجماع ہے،یہ فرمائیں کہ جمیع اُمت کے اجماع کا منکر اسلام سے خارج ہوتا ہے یا صرف دائرہ اہل سنت سے؟؟؟
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    خادم اولیاء بھائی جان نے لکھا ہے کہ

    "اس عقیده حیاتُ النبی صلی الله علیہ وسلم کو واضح کریں ، لہٰذا حضرت نے تسکینُ الصُدور فی تحقیقِ احوالِ الموتی فی البرزخ والقبور کے نام ایک عظیم کتاب لکهی اور تحقیق کا پوراحق ادا کردیا) اور اس کتاب پر اس وقت کے تمام قابل ذکر اکابر نے تصدیقات لکهیں ۔"
    کیا آپ اس کتاب کے تحقیقی عقائد سے متفق ہیں ؟اگر جوان "ہاں" میں ہو ت یہ عقیدہ و پڑھئے اور سر دُھنئے:
    " تمام مُردے عام اس سے کہ وہ مومن ہوں یا کافر ،علم،شعور،ادراک سننے اعمال کے پیش ہونے اور زیارت کنندہ کے سلام کا جواب دینے میں برابر اور یکساں ہیں اس میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور صلحا ءکی کوئی تخصیص نہیں ہے"(تسکین ص 95 طبع اول)
    کیا "تسکین الصدور" کے اس انتہائی غلط عقیدہ کو آپ مانتے ہیں؟ اگر جوان "ہاں " میں ہو تو میرے ان اشکالات کا حل فرمائیں؟
    (1) کیا اس دنیا کی زندگی میں انبیاء کرام علیہم السلام اور عام مومن اور کافر کا" علم" برابر ہوتا ہے؟
    (2)کیا اس دنیا کی زندگی میں انبیاء کرام علیہم السلام اور عام مومن اور کافر کا "شعور" برابر ہوتا ہے؟
    (3)کیا اس دنیا کی زندگی میں انبیاء کرام علیہم السلام اور عام مومن اور کافر کا"ادراک" برابر ہوتا ہے؟
    (4)کیا اس دنیا کی زندگی میں انبیاء کرام علیہم السلام اور عام مومن اور کافر کا "اعمال کا پیش ہونا " برابر ہے؟
    اگر زندگی میں یہ چیزیں برابر نہیں مرنے کے بعد برابر کیسے ہو گئیں؟
    (5)وفات کے بعد انبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد مبارکہ محفوظ و سلامت ہوتے ہیں اور عام مومن اور کافرکے جسم کے سلامت ہونے کی شریعت میں کوئی قطعی دلیل نہیں ؟پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ نبی اکرم کا جسم مقدس سلامت اور کافر اور مومن ک کا جسم سلامت نہیں تو یہ دونوں سلام کا جواب دینے میں برابر کیسے ہوئے؟
    (6) اپ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہم صرف انبیاء کرام کی حیات و سماع کے قائل ہیں جب کہ شیخ سرفراز صفدر صاحب فرماتے ہیں کہ کہ ان پانچ چیزوں میں عام مومن اور کافر کے ساتھ "انبیاء کرام اور صلحاء کی کوئی تخصٰص نہیں؟؟؟
    بات تو صاف ہے کہ آپ لوگ صرف انبیاء کرام کی حیات و سماع کے قائل نہیں بلکہ اسی طرح کی ہر کافر ومومن کو ،سماع،ادارک،شعور،علم،زیارت کندہ کے سلام کا جواب دینے میں انبیاء کرام کے برابر سمجھتے ہیں؟؟؟
    اگر یہ عقیدہ غلط ہے تو یہ کیسی تحقیقی کتاب ہے؟؟؟
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. روشنی

    روشنی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    [...خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ھیں ... ]

    قارئین! سماع_موتی کےباطل عقیدےکا رد صرف سورہ نمل اور فاطرکی آیتوں پرھی موقوف نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات جوبیان کرتی ھیں کہ مردےقیامت کےدن ھی دوبارہ زندہ کیئےجائیں گےاس گمراہ کن عقیدے کا رد کرتی ھیں-کیونکہ سماع کیلئے حیات شرط ھے،اورجب مردے قیامت سے پہلےزندہ ھی نہیں ھونگےتو پھرسننےسنانےکاسوال ھی پیدا نہیں ھوتا-ملاحظہ ھو: ‏‎)‎البقرةآیت 28، مومنون آیت16،مومن آیت11...)اب رھی مردوں گےسننےکاعقیدہ رکھنےوالوں کی یہ کنفیوژن کہ اگرمردےنہیں سنتےتو پھرصالح اور شعيب عليهماالسلام نے اپنی مردہ قوم سےکیوں مخاطب ھوئے.؟ اسکاجواب یہ ھےکہ جب اصول متعین ھےکہ مردے قیامت سےپہلےزندہ نہیں ھونگےاور بغیر زندگی کےسننےکاسوال ھی پیدا نہیں ھوتا تو اب اسطرح کی آیت یاحدیث جس میں مردہ یاجماد (پتھر،بت وغیرہ) سےکلام کیاگیاھواسےسننے پرھرگز محمول نہیں کیاجائیگا- جیسےعمررضی الله عنه کاحجراسود سےکلام کرنا،ابراھیم عليه السلام كا بتوں سےکلام کرنا یا صالح اورشعيب علیهماالسلام کااپنی مردہ قوم سےمخاطب ھونا وغیرہ....البتہ معجزےکی بات الگ ھےکیونکہ معجزہ معمول نہیں ھوتا- جیسےقلیب بدرکےمردوں کا نبی عليه السلام کی بات سننا- [عن عبدالله بن عمر....انهم الآن يسمعون مااقول]_ حدیث میں"الآن" کا لفظ واضح کررھاھےکہ قلیب بدرکےمردوں کاسنناخاص اس وقت تھا ھر وقت نہیں،اورانس رضی الله عنه سےاس واقعہ کو روایت کرنےوالےان کےشاگرد ‏ قتادة رحمه الله کےالفاظ بخاری لائےھیں "احياهم الله" ترجمه:‏‎ ‎الله نےانہیں زندہ کردیا-ظاھرھےقبل ازقیامت زندہ ھونا معجزہ ھےمعمول نہیں- غورطلب نکتہ یہ ھےکہ اگرصحابه "میت" کے سننےکےقائل ھوتےتو قتادہ رحمه الله کو یہ وضاحت کرنےکی ضرورت ھی پیش نہ آتی ___لہذا ثابت ھواکہ جوسننامانتےتھےوہ بطورمعجزہ مانتےتھےعام نہیں.اور عائشہ رضی الله عنھااورعبدالله بن عمررضی الله عنهما کےمابین اختلاف اس واقعےکےمعجزہ ھونےیا نہ ھونےمیں ھی تھا نہ كہ مطلق سماع موتی میں .....امت کی بدنصیبی کہ ان تمام تر تفصیلات کےباوجود اکابرین دیوبند،بریلوی اور اہلحدیث نےعلمی فریب کاری کےذریعےھرمردے کو زندہ اورسننےوالا قرار دیکر معجزے کو معمول بنادیا-
    نتیجتا" قرآن کےبیان کردہ عام قانون دو زندگی دو موت سےصرف قلیب بدر کےمردے ھی نہیں بلکہ تمام مردے مستثنی‎(exempted)‎‏ ھوگئے اب قرآن کی وہ آیت جس میں دو زندگی دو موت کاقانون بیان ھواھےمحض تلاوت کیلئےھےاسکا اطلاق‎ (implement)‎‏ قبرمیں مدفون کسی مردہ لاشے پرنہیں ھوگا____کیونکہ ان سب کا عقیدہ ھےکہ " دفن کےبعد ھرمردہ لاشہ دفناکرجانےوالوں کےجوتوں کی چاپ سنتا ھے"__
    قارئین! جسطرح معجزےکا انکارالله کی قدرت کا انکارہےویسےہی معجزےکومعمول بنانا الله کےقانون کا انکار اورمذاق ہے،چنانچہ الله کےقانون کا صریح انکارکرنےاورمذاق اڑانےکا خمیازہ یہ الله کےعذاب کی شکل میں صدیوں سےبھگت رھےھیں اور آخرت کا ابدی عذاب الگ ھے-
    (نوٹ) اس موضوع پرتفصیلی مطالعےکیلئے ڈاکٹرعثمانی رحمةالله عليه کےکتابچے"عذاب_برزخ" اور"ایمان_خالص، دوسری قسط کامطالعہ فرمائیں
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 15, 2017
  17. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    342
    موصول پسندیدگیاں:
    216
    صنف:
    Male
    میری سمجھ میں صرف یہ نہیں آتا کہ جب اس مسئلہ کو امام الانبیاء ﷺ اور ان کے خیر القرون صحابہ کرام و تابعین رحمہم اللہ نے دین و اسلام کا مدار نہیں سمجھا تو آج ہم اس مسئلہ پر اتنی بحث کیوں کرتے ہیں؟
    یہ ان عقائد میں سے ہے جو نہ تو مکمل قطعی ہیں اور نہ مکمل ظنی۔ نہ ان کا بالکلیہ انکار ممکن ہے اور نہ بالکلیہ اثبات۔ تو ایسی صورت میں جتنا اثبات قرآن و حدیث سے ہوتا ہے اتنا ہی کرنا چاہیے اور جتنا انکار ہوتا ہے اتنا ہی کرنا چاہیے۔
    اگر ایک جانب آیت انک میت ہے تو دوسری جانب حدیث الانبیاء احیاء ہے۔ اور ان دونوں میں دنیوی زندگی میں تو منافات ہے کہ ایک ہی شخص زندہ بھی ہو اور مردہ بھی لیکن برزخ کی زندگی میں کوئی منافات نہیں۔ کیا ہم برزخ اور اس کی کیفیات کو مکمل جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اپنی عقل کے گھوڑے کیوں دوڑاتے ہیں؟؟
    سب سے مناسب اور درمیانی راستہ یہ ہے کہ جتنی موت ثابت ہے ہم اسے بھی مانتے ہیں اور جتنی حیات ثابت ہے ہم اسے بھی مانتے ہیں اور ان دونوں کی کیفیت کو اللہ پاک کے سپرد کرتے ہیں کہ وہ بخوبی جاننے والا ہے۔

    یہ یاد رہنا چاہیے کہ عقیدے کے میدان میں عقل و فلسفے نے امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رحمہما اللہ (ثم من تبعہما) کے سوا سب کو گمراہ کر دیا تھا حالانکہ ان میں زمخشریؒ جیسے اعلی دماغ بھی تھے، تو پھر ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔
    ایمان "اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان آمنوا بربکم" کے جواب میں "آمنا" کہنے کا نام ہے۔ "کیف" کی قید تو ایمان کے سلب کی پہلی سیڑھی ہے۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں