خطبہ حجۃ الوداع

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 17, 2016۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    خطبہ حجۃ الوداع
    رسول ﷺ کے آخری آنسو ، جو اس امت کے غم میں بہے حجۃ الوداع کے خطبہ میں جمع ہیں ۔اس وقت دولت وحکومت کا سیلاب، مسلمانوں کی طرف امنڈ چلا آرہا تھا اور رسول ﷺ کا غم یہ تھا کہ دولت کی یہ فراوانی ،آپ کے بعد، آپ کی امت سے رابطہ اتحاد کو پارہ پارہ کر دے گی۔اسی لئے اتحاد امت کا مو ضوع اپنے سامنے رکھ لیا اور پھر دور نبوت کی توانائی اسی موضوع پر صرف فرمادی۔پہلے نہایت ہی درد انگیز الفاظ میں ، قیام اتحاد کی اپیل کی پھر فرمایا کہ " اس ماندہ طبقات کو شکایت کا موقع نہ دینا تا کہ حصار اسلام میں کو ئی شگاف نہ پڑ جائے ' پھر اسباب نفاق کی تفصیل پیش کر کے ان کی بیخ کنی کا عملی طور پر سرو سامان فرما یا ۔ پھر واضح کیا کہ جملہ مسلمانوں کے اتحاد کا مستقل سنگ اسا س کیا ہے؟ آخری وصیت یہ فرمائی کہ " ہدایت کو آئندہ نسلوں میں پھیلانے اور پہنچانے کے فرض میں کوتاہی نہ کرنا " خاتمہ تقریر کے بعد حضور ﷺ نے اپنی ذاتی سرخروئی کے لئے حاضرین سے شہادت پیش کر تے ہوئے اس طرح بار بار اللہ کو پکارا کہ مخلوق خدا کے دل پگھل گئے ، آنکھیں پا نی بن گئیں اور روحیں انسانی جسموں کے اندر تڑپ الامان الغیاث کی صدائیں بلند کر نے لگیںَ
    حمد وصلوٰۃ کے بعد خطبہ حج کا پہلا درد انگیز فقرہ یہ تھا :
    " اے لوگو! میں خیال کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں اور تم اس اجتماع میں کبھی دوبارہ جمع نہیں ہوں گے"
    اس ارشاد سے اجتماع کی غرض وغایت بے نقاب ہو کر سب کے سامنے آگئی ۔اور جس شخص نے بھی یہ ارشاد مبارک سنا تڑپ کر رہ گیا ۔
    اب اصل پیغام کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرمایا ۔
    " اے لو گو! تمہارا خون، تمہارا ننگ ونا موس ،اسی طرح ایک دوسرے پر حرام ہے ، جس طرح یہ دن ( جمعہ) یہ مہینہ ( ذی الحج ) اور یہ شہر (مکہ مکرمہ ) سب کیلئے قابل حرمت ہے ۔
    اسی نکتے پر مزید زور دے کر ارشاد فر مایا ۔
    " اے لو گو! آخر تمہیں با رگاہ ایزدی میں پیش ہونا ہے ، وہاں تمہارے اعمال کی باز پرس کی جا ئے گی ۔ خبر دار ! میرے بعد گمراہ نہ ہو جائیو کہ ایک دوسرے کی گر دنیں کا ٹنا شروع کردو"۔
    رسول پا ک ﷺ کی یہ درد مندانہ وصیت زبان پاک سے نکلی اور تیر کی طرح دلوں کو چیرتی گئی ۔ اب ان نفاق انگیز شگافوں کی طرف تو جہ دلائی ۔ جس کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ تھا ۔ یعنی یہ کہ اقتدار اسلام کے بعد غریب اور پس ماندہ گروہوں پر ظلم کیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں فر مایا ۔
    " اےلوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اپنے اللہ سے ڈرتے رہنا ۔ تم نے نام خدا کی ذمہ داری سے انہیں زوجیت میں قبول کیا ہے اور اللہ کا نام لے کر ان کے جسم اپنے لئے حلال بنایا ہے ۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ غیر کو تمہارے بستر پر نہ آنے دیں اگر وہ ایسا کریں تو تم انھیں ایسی مار مارو جو نمایاں نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ انہیں با فراغت کھانا کھلا ؤ اور با فراغت کپڑا پہنا ؤ اسی سلسلہ میں فر ما یا ۔
    " اے لوگو! تمہارے غلام ! تمہارے غلام ! جو خود کھاؤ گے وہی انہیں کھلانا ، جو خود پہنو گے ، وہی انھیں وہی پہنانا"
    عرب میں فساد و خونریزی کے بڑے بڑے موجبات دو تھے ، ادائے سود کے مطالبات اور مقتولوں کے انتقام ۔ ایک شخص دوسرے شخص سے اپنے قدیم خاندانی سود کے مطالبہ کرتا تھا اور یہی جھگڑا پھیل کر خون کا دریا بن جاتا تھا ۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا ۔ اس سے نسلابعد نسل قتل وانتقام کے سلسلے جاری ہو جاتے تھے ۔ رسول ﷺ ان دونوں اسباب فساد کو با طل فر ماتے ہیں ۔
    " اے لوگو! آج میں جا ہلیت کے تمام قواعد ورسوم کو اپنے قدموں سے پا مال کرتا ہوں ۔ میں جا ہلیت کے قتلوں کے جھگڑے ملیا میٹ کرتا ہوں ۔اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی مقتول ربیعہ بن حارث کے خون سے جسے ہذیل نے قتل کیا تھا دست بردار ہو تا ہوں۔ میں زمانہ جاہلیت کے تمام سودی مطالبات با طل قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی سود ۔ عباس بن عبد المطلب کے سود سے دست بردار ہو تا ہوں "
    سود اور خون کے قرضے معاف کر دینے کے بعد فرد عدالت نفاق کی طرف متوجہ ہوئے اور ورثہ ، نسب ، مقروضیت اور ضمانت کے تنا زعات کے متعلق فرمایا ۔
    "اب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا حق مقرر کر دیا ۔ لہذا کسی کو وارثوں کے حق میں وصیت کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بچہ جس کے بستر پر پیدا ہو ، اس کو دیا جائے اور زنا کاروں کے لئے پتھر ہے اور ان کی جواب دہی اللہ پر ہے ، جو لڑکا باپ کے سوا کسی دوسرے کا دعویٰ کرے اور غلام اپنے مولیٰ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کر ے ، ان پر خدا کی لعنت ہے عورت شو ہر کے بلا اجازت اس کا مال صرف نہ کرے قرض ادا کئے جائیں رعایت واپس کی جائے ۔ عطیات لوٹائے جائیں اور ضامن تاوان ادا کر نے کا ذمہ دار ہے "۔
    اہل عرب کے نزاع اور اسباب نزاع کا دفعیہ ہو چکا تو اس بین الاقوامی تفریق کی طرف تو جہ فرمائی جو صدیوں کے بعد عرب وعجم ، یا گورے اور کالے کے نام سے پیدا ہو نے والی تھی ۔ ارشاد فر ما یا ۔
    "اے لوگو! تم سب کا خدا بھی ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہے لہذا کسی عربی کو عجمی پر ، کسی سرخ کو سیاہ پر ، کسی سیاہ کو سرخ پر ، کوئی پیدا ئسی بر تری یا امتیاز حاصل نہ ہو گا ۔ ہاں افضل وہی ہے ھو پر ہیز گاری میں زیادہ ہو ۔ ہر مسلمان دوسرے کابھائی ہے ۔ اور تمام مسلمان ایک برادری ہیں "۔
    اتحاد اسلام کی مستقل اساس کی طرف رہنمائی فر مائی ۔
    "اے لوگو! میں تم میں وہ چیز چھوڑ چلا ہوں ۔ کہ اگر تم نے اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھا تو تم کبھی گمراہ نہ ہو گے ، وہ چیز اللہ کی کتاب قرآن ہے "۔
    اتحاد امت کے عملی پرو گرام کی طرف رہنمائی فر مائی ۔
    "اے لوگو ! میرے بعد کو ئی نبی نہیں ہے اور نہ میرے بعد کوئی نئی امت ہے پس تم سب اللہ کی عبادت کرو ، نماز پنجگانہ کی پا بندی کرو ۔ رمضان کے روزے رکھو ۔ خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکوٰۃ نکالو ۔ اللہ کے گھر کا حج کرو ۔حکام امت کے احکام مانون تا کہ اپنے اللہ کی جنت میں جگہ حاصل کر لو "۔
    آخر میں فر مایا ۔
    وانتم تسالون عنی فما انتم قاتلون

    ایک دن اللہ تعالیٰ تم لوگو ں سے میرے متعلق گواہی طلب کر ے گا ۔تم اس وقت کیا جوابدوگے ؟
    اس پر مجمع عام سے پُر جوش صدائیں بلند ہو ئیں۔
    انک قد بلغت ۔اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے تمام احکام پہنچادئے
    وادیت :اے اللہ کے رسولﷺآپ نے فرض رسالت ادا کر دیا ۔
    ونصحت: اے اللہ کے رسولﷺ آپ نے کھرے کھوٹے کا الگ کردیا۔
    اس وقت حضرو سرور عالم ﷺ کی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھی ۔ایک دفعہ آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے تھے اور دوسری دفع مجمع کی طرف اشارہ فر ماتے تھے اور کہتے جاتے تھے ۔
    اللھم اشھد : اے اللہ ۔
    اللھم اشھد : اے اللہ مخلوق خدا اعتراف سن لے۔
    اللھم اشھد: اے اللہ گواہ ہو جا۔
    اس کے بعد ارشاد فر مایا۔
    " جو لوگ مو جود ہیں وہ ان لوگوں تک جو یہاں موجود نہیں ہیں۔میری ہدایت پہنچاتے چلے جائیں ۔ ممکن ہے کہ آج کے بعض سامعین سے زیادہ پیامِ تبلیغ کے سننے والے اس کلام کی محافظت کریںَ(رسول اکرم اور خلفائے راشدین کے آخری لمحات)
    محمدداؤدالرحمن علی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں