خواب غفلت

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏جنوری 13, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ستمبر ۱۹۵۹ ء کے وسط میں جب اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ روس نے بارہ ستمبر کو جو راکٹ (لیونک نمبر۲)فضامیں چھوڑاتھا وہ سات ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتارسے چل کر چونتیس گھنٹہ میں چاند پر پہنچ گیا تو بہت سے قدامت پرستوں کو جدت پسندوں کی زبان سے اس قسم کے فکرے سن نے پڑے منکرین کے نزدیک یہ خداکی تردید کا اتنا بڑ ا ثبوت تھا کہ ماسکو ریڈیونے اعلان کیا کہ ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اسکو کہیں خدانہیں ملا اسی طرح کی باتوں سے بہت سے سادہ لوح متأثر ہوگئے حالانکہ راکٹ کا چاند تک یا کسی اور سیارہ تک جانا سائنسی نقطہ نظرسے صرف نظام فطرت سے ایک امکان کو استعمال کرنا ہے یہ امکان نیوٹن کے زمانے میں معلوم ہوگیاتھا مگرا س کے لئے اس حد تک کوشش کہ اس کو قابل عمل بنایاجاسکے مخصوص اسباب کے تحت اب ہوسکی ہے اس طرح راکٹ کی اڑان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیامیں جوامکانات رکھدئے ہیں اور جن کو ہمارے لئے اس طرح مسخر کردیاے کہ اہم ان کو استعمال میں لاسکیں ان کوانسان استعمال میں لایاہے یہ صرف سخرلکم مافی السمٰوات والارض کی ایک تصدیق ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
    جو شخص ٹامس ہارڈی (۱۹۲۸۔۱۸۴۰)کی کہانیاں خالی الذہن ہوکر پڑھے گا وہ بلا شبہ کہنے لگے گا کہ اس دنیامیں آدمی بے رحم قسمت کے ہاتھ میں محض کھلونا ہے کائنات پرکشش تو ہے مگروہ کسی معنی میں ہماری ہمدرد نہیں ہے فطرت کے ساتھ فرد کی جدوجہد ایک نہایت غیر مساوی فریق کے ساتھ افسوس ناک جنگ کے سوا اور کچھ نہیں اگرخدا کی قسم کی کوئی چیز یہاںموجود ہے تو وہ بالکل اعتنائی کے ساتھ بے بس انسان کی مصیبتوں کا محض خاموش تماشہ دیکھ رہاہے مگر دنیا کے بارے میں یہ بھیانک تصور اس وقت پیدا ہوتاہے جب ہم آخرت کونہ مانیں آخرت کو ماننے کے بعد صورت حال بالکل بدل جاتی ہے کیونکہ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور آدمی یہاں اچھا بر ادونوں قسم کا عمل کرنے کے لئے آزاد ہے اس لئے صرف موجودہ دنیاکے پیش نظر اس کی معنویت کا فیصلہ نہیں کیاجاسکتا اس کی معنویت سمجھ نے کے لئے ضرور ی ہے کہ دوسری دنیاکو ملاکر اسے دیکھاجائے۔
    نظریہ ارتقاء کے وجود میںآنے کے بعدیہ بات کثرت سے دہرائی گئی ہے کہ حیاتیاتی عمل اب کسی مادرائے فطرت کے ذریعہ کی موجودگی کا تقاضا نہیںکرتا دوسرے لفظوںمیںزندگی کے مسئلے کو سمجھ نے کے لئے کسی باشعور خداکو ماننے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو صرف چند مادی طاقتوںسے خودبخود حاصل ہونے والا ایک نتیجہ ہے جو خاص طورپر تین ہے ۔
    یعنی توالد وتناصل کے ذریعہ مزید ندگیوں کا پیداہونا پیدا شدہ نسل کے بعض افراد میں کچھ فرقوں کا اور پھر ان فروق کا ظہور پشت ہاپشت میںترقی کرکے مکمل ہوجانا اس طرح ڈار ون کے انتخاب طبعی کے اصول کا خیاتیاتی مظاہر پر انتباق اس کو ممکن اور ضروری بنادیتاہے کہ زندگی کی نشونماء کی خداکی کار فرمائی کے تصور کو بالکل ترک کردیاجائے ۔
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب ۔ مفید تحریر ہے
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    مفید تحریر پیش کرنے پر آپ کا شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں