خواتین کے تنہا سفر کرنے کے حوالے سے روایت

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏ستمبر 15, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    خواتین کے تنہا سفر کرنے کے حوالے سے بالعموم جس روایت کو پیش کیا جاتا ہے وہ اس طرح ہے:

    ’’کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن تک کے سفر کے لیے نہ نکلے۔‘‘
    (بخاری رقم1036)

    اس روایت کی بنیاد پر ہمارے ہاں یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ خواتین تنہا سفر کے لیے نہیں نکل سکتیں چاہے وہ حج کا ہی سفر کیوں نہ ہو۔ہمارے نزدیک اس روایت میں کسی شرعی یا دینی حکم کا بیان نہیں ۔ اس میں خواتین کی ناموس اور عصمت کی حفاظت کے پیش نظر سد ذریعہ کی نوعیت کی ایک ہدایت دی گئی ہے ۔ایک خاتون اُس دور کے حالات میں جب تنہا سفر کے لیے نکلتی تو اس بات کا اندیشہ تھاکہ قافلے میں کسی قابل اعتماد محرم کے بغیر سفر کرتے ہوئے ، کسی سرائے ، مہمان خانے میں ٹھہرنے کے دوران یا ایسے کسی اور موقع پر اس کی عصمت پرحرف آ سکتا ہے ۔یہ صورت حال اگر آج بھی ہو تو خواتین کو یہی مشورہ دیا جائے گا کہ وہ محرم کے بغیر سفر نہ کریں ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں