خیابان امین پارک لاہور

'دنیا میرےآگے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏اکتوبر 9, 2020۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,569
    موصول پسندیدگیاں:
    1,785
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    خیابان امین پارک لاہور
    تحریر:محمدداؤدالرحمن علی
    دوپہر کا وقت تھا ہمارے دوست ہمارے ہاں آوارد ہوئےہم نے خوش دلی سے جناب کا استقبال کیا کھانے کا وقت تھا ہمیں بھوک بھی زوروں کی لگی تھی ہم نے اپنے دوست سے پوچھا کھاناتناول فرمائینگے؟کہنے لگے میں زراہ نہاکر تازہ دم ہولوں پھر دیکھتے ہیں۔جناب نہاکر تازہ دم ہوئے تو کہنے لگے کام ہے زرا چلو میرے ساتھ ہم نے بھوک کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے کہا جناب کھانا کھالیتے ہیں پھر چلتے ہیں کیونکہ ہم نے صبح ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے بھوک بہت لگی ہے کھانا بھی تیار ہے کھاکر چلتے ہیں ۔ہمارے دوست نے ہماری بات کو یکسر رد کرتے ہوئے ساتھ چلنے کا حکم صادر کردیا اور باہر کی طرف چلدیے۔اب ہم بچارے کیا کرتے جناب کاحکم سن کربھوک کی شدت کے ساتھ جناب کے ساتھ روانہ ہوئے۔راستے میں ہلکی پھلکی گپ شپ ہوتی رہی،تقریبا آدھ پونہ گھنٹہ کی مسافت طے کرنے کے بعد جناب نے ایک گھر کے سامنے اپنی سواری کی بریک لگائی اور گھر کی بیل بجائی دروازہ کھلا اندر جانے کی اجازت لی اور اندر کی طرف روانہ ہوگئے ہم سوچ رہے تھے اوپر سے بھوک اور جناب نے یہاں لاکر کھڑا کردیااب پتہ نہیں کتنی دیر لگائینگے اس سے پہلے ہماری سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا کہ ہماری سماعتوں سے جناب کی آواز ٹکرائی اب یہاں کھڑے رہو گئے یا اندر بھی آنے کی زحمت فرمائینگے ہم نے سوچ کا دائرہ توڑتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھا دیے جیسے ہی ہم مہمان خانہ میں پہنچے تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ جناب کے بڑے بھائی اور ایک دو دوست بھی موجود تھے خیر سلام دعا کے بعد ہم بیٹھ گئے تو ہمیں بوتل پیش کی گئی اور ہم نے اپنے دوست کی طرف گھورا اور اشارہ دیا بھوک شدید ہے اور تم بوتل کی تلقین کررہے ہو جناب نے بھی کہ دیا بوتل تو پینی پڑے گی نہ چاہتے ہوئے بھی پی گیاکچھ دیر کے بعد ہم نے دوست صاحب کوکہا کہ آصف یار جو کام ہے کرو اور چلتے ہیں کہنے لگا یار صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہےہم کڑوا گھونٹ پی کر رہ گئے۔کچھ ہی دیر مزید گزری تھی کہ ہمارے سامنے کی ٹیبل کو لوازمات سے بھر دیا گیا اور ہمیں ٹیبل کی طرف آنے کی دعوت ملی تو ہم بھی مسکراتے ہوئے ٹیبل کے ساتھ کرسی پر براجمان ہوگئے جب نظر دوڑائی تو سارے ہمارے پسندیدہ پکوان بنے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر بھوک اور بڑھ گئی کھانا خوب سیرہو کرکھایا اور آصف کا شکریہ ادا کرتے ساتھ کہا سیدھا کہنا تھا آج تمہیں اپنا پسندیدہ کھانا کھلاؤں گا میرا بلڈ پریشر ہائی کرنے کی کیا ضرورت تھی کہنے لگا میں دیکھنا چاہتا تھا تم کتنا برداشت کرسکتے ہو میں نے کہا ہوجاتی نا بھوکی انتہاء پھر بتاتے کتنا برداشت ہے۔خیر کھانا کھانے کے بعد جب باہر آئے تو میں نے دوستوں سے کہا یہاں قریب پارک ہے آؤ وہاں چلتے ہیں سب نے مصروفیات کی وجہ سےاجازت چاہی تو آصف اور میں پارک کی طرف چلدیے۔
    کچھ سفر طے کرنے کے بعد آصف نے کہا کون سی پارک جانا ہے میں نے پارک کا نام لیا تو ساتھ ہی آصف نے ایک معقول مشورہ دیاکہ جہاں آپ کہ رہے ہیں وہاں جانے کا فائدہ نہیں کیونکہ پارک بند ہونے کا وقت قریب ہے،جاتے جاتے وقت پورا ہوجانا ہے اس طرح وہاں جانے کا فائدہ نہیں بلکہ اس وقت ہم جہاں کھڑے ہیں یہاں سے کچھ مسافت پر خیابان امین پارک ہے وہاں چلتے ہیں ۔مجھے آصف کا مشورہ معقول لگا اور ہم خیابان امین پارک کی طرف چلدیے۔
    خیابان امین لاہور کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جو بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب واقع ہے ۔اسی سوسائٹی کے اندر ایک خوبصورت پارک بنایا گیا ہے۔تقریبا دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم خیابان امین پارک پہنچ چکے تھے یہ ایک وسیع و عریض پارک ہے ۔ پارک کے مین پوائنٹ سے جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے ایک خوبصورت شاہکار نے ہمارا استقبال کیا ۔گول دائرے میں ستون بنائے گئے تھے اور ستونوں کے نیچےمختلف نقشونگار کیا گیا تھا جو ستون کو اور حسین بنا رہے تھے درمیان میں ایک فوارہ لگایا گیا تھا جو منظر کو اور حسین بنا رہا تھا۔
    k1.PNG
    پارک میں داخل ہوتے ساتھ ایک حسین منظر

    اس جگہ سے دوارستے نکلتے ہیں ایک راستہ دائیں جانب اور ایک راستہ بائیں جانب جب ہم نے نگاہ دوڑائی تو ہمیں دائیں جانب ایک تالاب نظرآیاتو ہم تالاب کی جانب چلدیے۔ تالاب کے دو حصے تھے ایک حصہ قدرے چھوٹا اور ایک حصہ قدرے بڑا تھا ۔قدرے چھوٹے حصہ میں ہمیں بطخیں تیرتی ہوئی نظر آئیں اور کچھ دانا چُگ رہی تھیں ان دونوں تالابوں کے درمیان ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت پُل بنایا گیا ہے ۔اس پُل کی مدد سے آپ پارک کے دوسرے حصے کی جانب جا سکتے ہیں یاپھر آپ یہاں کھڑے ہوکر دونوں تالابوں کو دیکھ سکتے ہیں اور پارک میں آپ نگاہ دوڑا سکتے ہیں۔
    k2.PNG
    تالاب کامنظر


    پُل کراس کرکے جب ہم آگے بڑھے تو ہمیں وہاں ایک چھوٹا سا چڑیا گھر نظر آیا ۔ہم چڑیاگھر کی طرف بڑھے تو پہلا پنجرہ جو ہمیں نظر آیا اس میں شتر مرغ تھے۔پنجرہ کافی بڑا تھا لیکن ہمیں وہاں دو ہی شتر مرغ نظر آئے جو اس وقت کھانا کھانے میں مصروف تھے۔بچے ان شتر مرغ کو دیکھ کر خوب انجوائے کررہے تھے۔ جیسے ہی پنجرے کے قریب پہنچا تو شتر مرغ صاحب نے ایسا گھورا جیسے ہم اُن کا کھانا اٹھاکر بھاگ جائینگے،ہم نے شتر مرغ کو تسلی دی ہم آپ کی فقط زیارت کو آئے ہیں ،ہم جو سمجھانا چاہتے تھے شاید شتر مرغ صاحب نے ہماری بات کو سمجھتے ہوئے اپنا کھانا تناول کرنا شروع کردیا۔

    شتر مرغ صاحب کی زیارت اور ان سے گفتگو کے بعد ہم نے اگلے پنجرے میں نگاہ دوڑائی تو ہمیں بہت سارے چھوٹے چھوٹے خوبصورت سے ہرن نظر آئے کچھ گھاس کھارہے تھے اور کچھ اپنی مستی میں مست نظر آرہے تھے اور بارش کی وجہ سے پنجرے میں پانی آجانے کی وجہ سے کچھ نالاں بھی نظر آرہے تھے،پنجرے کے قریب جانا ہمارے لیے ممکن نہ تھا ورنہ ان کو تسلی دے آتے کہ آج کل یہاں بارشیں بہت ہیں جس کی وجہ سے آپ کی پنجرے میں پانی آگیا۔ خیر ہرن کے پنجرے کے ساتھ مور کا پنجرہ موجود تھا پنجرے کے درمیان ایک لکڑی لگائی گئی تھی جس پر ایک مور اپنے پر پھیلائے مزے سے براجمان تھا اور موسم کا لفط اٹھا رہا تھے جب ہم نے مزید غور فرمایا تو یہ بات آشکارا ہوئی کہ مور صاحب اکیلے نہیں بلکہ دو چار اور بھی ہیں جو مستیاں فرما رہے ہیں جو مور صاحب کی کسی دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں چھوٹے بچے پنجرے کے ساتھ بڑے مور صاحب کو تنگ کرنے کی کوشش میں تھے لیکن شاید جناب مزاق کے موڑ میں نہیں تھے اس لیے دوسرے مور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور بچے بھی ان کے ساتھ کھیل کر ہلہ گلہ کیے ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ ہنس رہے تھے۔مور کے پنجرے کے ساتھ ایک چھوٹا سا پنجرا اور بھی تھا جس میں دیسی مرغا اور مرغیاں تھیں،مرغا سر تو اپنے آپ کو کسی سلطنت کا باد شاہ سمجھ رہے تھے اور یوں ٹہل رہے تھے جیسے کوئی بڑے ملک کا بادشاہ اپنی رعایا کا حال چال پوچھنے نکلا ہو۔چڑیا گھر کے ساتھ کی بچوں کے کھیلنے کے لیے کچھ کھلونے موجود ہیں،بچے چڑیا گھر کی سیر کی بعد جھولوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔
    k8.PNG
    چڑیا گھر اور پارک کا منظر

    پارک کے تمام راستوں کو دونوں اطراف سے خوبصورت پودوں کے ساتھ سجاگیا تھا اور پودوں کو خوبصورتی کے ساتھ کاٹا گیا تھا۔پارک میں آپ کو بیٹھنے کے لیےجگہ جگہ آپ کو خوبصورت بنچ نظر آتے ہیں جن پر بیٹھ آپ پارک کے مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

    k9.PNG
    پارک کا ایک ٹریک


    پارک میں چلتے ہوئے اچانگ ایک پودے کو دیکھ کر میں رُک گیاآصف مجھ سے آگے تھا میں نے اسے آواز دی تو وہ میری طرف واپس آگیا آکر کہنے لگا کیا بات ہے؟ میں نے اسے کہا آصف اگر تم تھک گئے ہو تمہارے لیے میں نے ایک عظیم الشان کرسی دریافت کرلی ہے کہنے لگا کون سی کرسی دریافت کرلی؟ میں نے کہا یہ دیکھو جب اس نے دیکھا تو وہ بھی حیران رہ گیاکیونکہ اس پودے کو اس انداز سے کاٹاگیا تھا کہ پہلی نظر میں وہ ایک صوفہ لگتا تھا ،یا پھر ایک کرسی نما نظر آتی ہے۔
    ہم دونوں کاریگر کی کاریگری کی تعریف کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔​

    k15.PNG
    کرسی جس پر آپ اپنی ذمہ داری پر تشریف رکھ سکتے ہیں۔

    اب ہم پارک کے اس ٹریک پر موجود تھے جہاں مقامی لوگ سیر کرتے ہیں ٹریک کا کچھ حصہ پارک کے بڑے تالاب کے ساتھ آتا ہے اس جگہ انہوں نے درخت اس حساب سے لگائے ہیں کہ وہ آپ کے اوپر چھتری بن جاتے ہیں یعنی ٹریک کے دونوں جانب درخت ہیں اوپر سے اُن دونوں کو ملا دیا گیا ہے اور اس انداز سے کاٹاگیا ہے کہ جیسے وہ ایک چھتری ہو۔

    k11.PNG
    واکنگ ٹریک
    پارک کے کونے پر دکان بھی موجود ہے جہاں سے آپ اشیاء خردونوش خرید کر اپنی سیر کامزہ دوبالا کرسکتے ہیں۔پارک کی ایک طرف وسیع و عریض خوبصورت مسجد بھی موجود ہے جہاں آپ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو سکتے ہیں۔

    k14.PNG
    مسجد کا داخلی دروازہ

    موسم کافی سہانا ہوچکا تھا آسمان پر بادل اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا جو ہماری سیر کا مزہ دوبالا کررہی تھی وقت کا علم ہی نہ ہوا کہ مغرب کی اذان ہوگئی اور ہم نماز کے بعد گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔​

    منسلک کردہ فائلیں:

    • k1.PNG
      k1.PNG
      فائل سائز:
      1.4 MB
      مناظر:
      2
    • k2.PNG
      k2.PNG
      فائل سائز:
      1.5 MB
      مناظر:
      2
    • k3.PNG
      k3.PNG
      فائل سائز:
      1.9 MB
      مناظر:
      0
    Last edited: ‏اکتوبر 9, 2020
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں