درس قرآن

'افکارِ قاسمی شمارہ 6: مئی 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مئی 14, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    درسِ قرآن
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد قاسمی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعلمُوۡنَ
    ترجمہ:اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی بیجا حرکت کر بیٹھتے یا اپنے ہی حق میں ظلم کر ڈالتے ہیں تو اللہ کو یاد کر لیتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کر نے لگتے ہیں۱ ؎اور اللہ تعالیٰ کے سواکون ہے جو گناہوں کو بخشتا ہو اور (لوگ) اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے درآنحالیکہ وہ جان رہے ہیں ۲؎
    تفسیر:۱؎(قاعدہ شرعی کے مطابق) اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً فاحشۃ کا اطلاق ہر گناہ کیلئے عام ہے یہاں مراد وہ برائی ہے جو کسی دوسرے کے ساتھ کی جائے یعنی کسی حق عبد میں کوتاہی ہو جائے ـالفاحشۃ مطلق علی کل معصیۃ (قرطبی) اصل الفحش مجاوزۃالحد فی السوء (روح) الفاحشۃ لذنب الذی فیہ (بحر) او ظلموا انفسھم یعنی حقوق اللہ کا اطلاف اگر ان سے ہو جائے ـ ظلم النفس ما بین العبد وبین ربہ (بحر) ذکروا للہ کا اشارہ اس طرف ہے کہ نا فر مانیاں ان سے پورے قصد وتعمد کے بعد خباثت نفس کی بنا پر سرزد نہیں ہوا کرتیں بلکہ احکام الہی کا ذہول ان کے ذہن سے وقتی طور پر ہو جاتا ہے ۔آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ گاہ گاہ لغزشوں کے صادر ہوتے رہنا قرب وتعلق مع اللہ کے منافی نہیں ۔اصل اور مقدم شئے ہر غلطی وکوتاہی کی تلافی اور تدارک کی فکر اور اسکی مناسب تدبیر ہے ۔فاستغفروا۔استغفار صحیح ومعتبر وہی ہے جو محض زبان سے نہیں دل کی حسرت وندامت کے ساتھ اور اس عزم کے ساتھ ہو کہ اب وہ گناہ دوبارہ نہیں ہونے پائے گاورنہ اگر ہاتھ میں تسبیح چل رہی ہے اور دل بدستور گناہوں سے لذت لے رہا ہے تو اکابر نے کہا ہے کہ یہ استغفار خود قابل استغفار ہے اور عجب نہیں کہ ایسے استغفار کا شمار استہزا میں ہو جائے۲؎( یعنی اپنی غلطی پر جان بوجھ کر ہر گز جمے نہیں رہتے ) ومن ایغفر الذنوب الا اللّٰہ ۔یہ تنبہ ہے اس پر کہ گناہوں کی معافی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کسی نبی ، ولی ، فرشتہ وغیرہ کے ہاتھ میں نہیں اور اس میں خصوصیت کے ساتھ رد ہے اس مسیحی عقیدہ کا کہ گناہوں کی معافی مسیح بلکہ ان کے نائبوں کے اختیار میں ہےملاحظہ ہو انجیل ـ جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے میںتمہیں بھیجتا ہوں ،اور یہ کہہ کر ان پھونکا اور ان سے کہا کہ روح القدس کو لو ،جن کے گناہ تم بخشو ان کے بخشے گئے اور جن کے گناہ تم قائم رکھو ان کے قائم رکھے گئے ہیں (یو حنا ۲۰۔۲۴۔(تفسیر ماجدی)
    اقوال مفسرین: (۱) امام ابن جریرؒ۔ابن منذرؒ جابر بن زید سے اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت سدی سے نقل کیا ہے کہ یہاں فاحشہ سے مراد بدکاری ہے ۔
    (۲) امام عبد الرزاق ،بن حمید اور ابن جریر نے حضرت ثابت بنانی ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو ابلیس بہت رویا ۔
    (۳) امام ابن ابی الدنیا نے تو بہ میں اور بیہقی نے حضرت ابنعباس رضی اللہ عنہما ست روایت نقل کی ہے کہ ہر گناہ جس پر ایک آدمی اصرار کرتا ہے تو وہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے اور جس گناہ سے انسان تو بہ کر لے وہ بڑا نہیں رہتا ۔
    خلاصہ:اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار کے لئے جس طرح گناہ پر ندامت ضروری ہے اسی طرح ترکِ گناہ کا عزم بھی لازم ہے خواہ آئندہ یہ عزم ترک ٹوٹ جائے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا جس نے استٖغفار کیا اس نے اصرار نہیں کیا خواہ دن میں لوٹ لوٹ کر ستر بار (گناہ ) کیا ہو۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایاگناہ پر قائم رہتے ہوئے استغفار کر نے والا ایسا ہے جیسے کوئی اپنا رب سے استہزاء کر رہا ہو۔
    مسئلہ: صغیرہ گناہوں پر جم جانا کبیرہ ہو جاتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا استغفار کے ساتھ کوئی کبیرہ کبیرہ نہیں رہتا ۔اورا صرار کے ساتھ کوئی صغیرہ صغیرہ نہیں رہتا ( بلکہ کبیرہ ہو جاتا ہے ۔تفسیر مظہری)
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں