دریا بہ حباب اندر

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏فروری 11, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مجھے اب تک کی زندگی میں سب سے پسندیدہ کلام جویادبھی ہے اورگنگنانے میں ایک خاص کیف بھی محسوس ہوتاہے خواجہ نصیرچراغ دہلوی کاہے جوپیش خدمت ہے۔اصل کلام فارسی میں ہے اردوترجمہ میری طرف سے ہے۔
    مخدوم العارفین حضرت مخدوم شاہ نصرالدین روشن چراغ دہلوی ۱۱؍ربیع الاول ۶۹۴ھ؁ کو صبح صادق کیوقت پیدا ہوئے اوربتاریخ ۱۸؍رمضان ۷۵۷ئ؁ وصال ہوا مزاراقدس موضع چراغ دہلی میں ہے حضرت مخدوم العارفین آفتاب عالم اورآفتاب معرفت تھی آٹھویں صدی ہجری کے علمائے کرام اورفضلائے ذوالکرام میں اُن کو اعلیٰ مرتبہ حاصل تھا اُن کے معاصرین نے اس حقیقت کا اعتراف کیاتھا کہ حضرت مخدومؒ کی ذات گرامی دُنیائے معرفت کیلئے ایک عظیم ترین ظہورمعارف تھی ربیع الثانی ۷۳۷ کی ایک دلنواز رات میں حضرتؒ پرایک عالم وجدوکیف طاری ہوا اوراس مبارک وقت میں حضرتؒ نے یہ اشعار لکھے:
    بے کارم و باکارم مدبہ حساب اندر
    میں بیکار بھی ہوں اورباکاربھی ہوں جس طرح حساب میں مدہے
    ٭
    گویا نم و خاموشم چوں خط بہ کتاب اندر
    اورمیں بولتا ہوں اورخاموش بھی ہوں جسطرح کتاب میں خط ہے
    ٭
    از منطق وازحکمت جز عشق نہ فہمیدم
    منطق اورحکمت سے میں نے عشق کے سوانہیں سمجھا
    ٭
    چند انکہ نظر کردم شبہا یہ کتاب اندر
    جتنا کہ میں نے راتوں کو کتاب میں نظرکی
    ٭
    اے زاہد ظاہر بیں ! از قرب چہ می پُرسی
    اے ظاہر پرست زاہد! قرب حق کے سلسلہ میں مجھ سے کیاپوچھتا ہے
    ٭
    او در من ومن دروے چوں بوبہ گلاب اندر
    وہ میرا مالک میرے اندر ہے اورمیں اُسکے اندر ہوں جس طرح خوشبوگلاب کے اندرہے
    ٭
    گہ شادم وگہ غمگین از حالِ خودم غافل
    میں کبھی خوش ہوں اورکبھی غمگین ہوں اپنے حال سے غافل ہوں
    ٭
    گویم ومی خندم چوں طفل بہ خواب اندر
    میں کبھی ہنستا ہوں جس طرح بچہ خواب میں روتا ہے اورہنستا ہے
    دریا روداد چشم لب ترنہ شود ہرگز
    میری آنکھ سے ایک دریا رواں ہے لیکن میرے لب ترنہیں ہوتے
    ٭
    ایں رمز عجائب بیں لب تشنہ بہ آب اندر
    اس عجیب نکتہ پرغور کیجئے کہ میں دریا میں رہ کرتشنہ لب ہوں
    ٭
    درسینہ نصیرالدین جز عشق نمی گنجد
    اس فقیر نصیرالدین کے سینہ میں غش الٰہی کے سوا کچھ نہیں
    ٭
    ایں طرفہ تماشابیں دریا بہ حباب اندر
    کیا طرفہ تماشا ہے کہ دریا حباب کے اندر ہے
    ٭
  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    RE: دریا حباب اندر

    بے کارم و باکارم مدبہ حساب اندر
    گویا نم و خاموشم چوں خط بہ کتاب اندر
    از منطق وازحکمت جز عشق نہ فہمیدم
    چند انکہ نظر کردم شبہا یہ کتاب اندر
    اے زاہد ظاہر بیں ! از قرب چہ می پُرسی
    او در من ومن دروے چوں بوبہ گلاب اندر
    گہ شادم وگہ غمگین از حالِ خودم غافل
    گویم ومی خندم چوں طفل بہ خواب اندر
    دریا روداد چشم لب ترنہ شود ہرگز
    ایں رمز عجائب بیں لب تشنہ بہ آب اندر
    درسینہ نصیرالدین جز عشق نمی گنجد
    ایں طرفہ تماشابیں دریا بہ حباب اندر
  3. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: دریا حباب اندر

    جزاک اللہ خیرا
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  5. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ جناب

اس صفحے کو مشتہر کریں