دستور العمل

'افکارِ قاسمی شمارہ 7 جون 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 5, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    دستور العمل
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    داؤد الرحمن علی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    ارشادات: حضرت حکیم الامت الشاہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ۔
    وہ دستورالعمل جو دلوں سے پَردے اٹھاتا ہے۔ جس کے چند اجزاء ہیں، ایک تو کتابیں دیکھنایا سُننا، دوسرے مسائل دریافت کرتے رہنا، تیسرے اہل اللہ کے پاس آتے جاتے رہنا، اور اگر ان کی خدمت میں، آمدورفت نہ ہو سکے، تو بجائے ان کی صحبت کے، ایسے بزرگوں کی حکایت و ملفوظات ہی کا مطالعہ کرتلیا کرو، یا سُن لیاکرو۔ اور اگر تھوڑی دیر ذکراللہ بھی کرلیا کرو، تو یہ اصلاح قلب میں بھت ہی مُعین ہے۔ اور اسی ذکرکے وقت میں سے کچھ قدت محاسبہ کے لیئے نکال لو، جس میں اپنے نفس سے اس طرح باتیں کیا کرو کہ:

    “ اے نفس ایک دن دنیا سے جانا ہے،موت بھی آنے والی ہے، اُس واقت یہ مال ودولت یہیں رہ جائے گا۔ بیوی بچے سب تجھے چھوڑ دیں گے،اور اللہ تعالٰی سے واسطہ پڑے گا۔ اگر تیرے پاس نیک اعمال زیادہ ہوئے تو تو بخشا جائے گا۔ اور اگر گناہ زیادہ ہوئے تو تجھے جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا۔ جو برداشت کے قابل نہیں، اس لیے تو اپنے انجام کو سوچ اور آخرت کے لیے کچھ سامان کر، عمر بڑی قیمتی دولت ہے، اس کا رائیگاں برباد مت کر۔ مرنے کے بعد تُو اس کی تمناکرے گا۔ کہ کاش مَیں کچھ نیک اعمال کرلوں جس سے مغفرت ہو جائے، مگر اس وقت تجھے یہ حسرت مفید نہ ہوگی ۔ پس زندگی کو غنیمت سمجھ کراس وقت اپنی مغفرت کا سامان کرلے۔“
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں