دشمنان اسلام کی سرکوبی کاعزم ۔۔۔۔ زنیرہ گل

'دنیا میرےآگے' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏اگست 20, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    آج کل کے حالات کے پیش نظر اور کچھ دوستوں کے نظریات کے پیش نظر اس چھوٹی سی تحریر میں مردہ اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرنا چاہتی ہوں ، ہم دیکھتے ہیں کہ کفر کے سارےمنجھے ہوئے کھلاڑی امریکہ و یورپ اور ہندوتوا کے طیش بھرے نفرت آمیز رویّوں کے ساتھ ، باطل کے سارے اوزار لے کر اور شیطان کے سارے داؤ پیچ کے ساتھ دنیا میں آج اسلام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ہلہ گلہ مچا رکھا ہے کہیں پر آقاﷺ کی ناموسِ رسالت کے سپاہیوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے جبکہ تاج برطانیہ کی ذلت پر موت کی سزا دی جاتی ہے ہمارے لیے قانون مختلف اور اپنے لیے مختلف، کہیں پر ہمارے اپنے لوگ یہ سوال لے کراٹھاتے ہیں کہ کیا مسلمان کے لیے پاکستان سے محبت ضروری ہے جبکہ ہندوتوا کے سپاہی صرف ایک بابری مسجد کی چندگز کی زمین کے لیے 400 سال سے مسلمانوں کا قتال جاری رکھے ہوۓ ہیں، امریکہ میں ایک بلنڈنگ پر حملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک عذاب بن جاتا ہے سات سمندر پار ہزاروں لاکھوں میل دور ممالک کے باسیوں کا قتال کیا جاتا ہے ڈرون حملے کیے جاتے ہیں اور خرچہ کر کے ہمارے ہی لوگ خریدے جاتے ہیں اور وہی لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور ان کے دیرینہ عزائم کو تقویت دیتے ہیں امریکہ ان کا قائد بنا ہوا ہے جو یہودی ایجنڈے پر گامزن ہے، عالمی صہیونیت انھیں ہدایت دے رہی ہے، صہیونیت زدہ مسیحیت اور عالمی صنم پرستی اپنی ظلم سے بھرپور اداؤں اور دیرینہ عزائم کو لے کر اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ سب کے سب آج اپنے سرکش دشمن یعنی اسلام پر ایک ٹوٹ پڑے ہیں۔ وہ ذلت، خواری اور جگ ہنسائی کے باوجود پشت پھیر کر نہیں بھاگ رہے اور اپنی شکست نہیں مان رہے، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہیوں یعنی مسلمانوں کو زیادہ لائق ہے کہ وہ سپرد انداز ہوں نہ ہار مانیں، نہ کمزور پڑیں نہ سستی دکھائیں اور نہ اُن کی مزاحمت سے پیچھے ہٹنے کی سوچیں ہم اپنے اندرونی خلفشار اور ذاتی عناد کو ایک طرف رکھ کر امت بن کر سوچیں اور پاکستان کو اپنے لیے قلعہ تصور کریں نا کہ بیرونی دشمنوں کی سازش کا حصہ بنیں، خود بھاگنے کے راستے تلاش کرنے کی بجائے انھیں اپنے ”بلوں“ میں چلے جانے اور اپنی ہار مان لینے پر اُنھیں مجبور کردیں۔. اور یہ تب ہوگا جب اُنھیں کاری زخم لگے گا، ان کے ضمیر کو صدمہ پہنچے گا اور جان و مال کا اتنا خسارہ انھیں لاحق ہوگا جس کے بعد انھیں زیاں کے اِحساس پر مجبور ہونا پڑے گا؛ میرے مسلم بھائیوں آپ تو مجاہدین ِ حق ہو لہٰذا بھائیو! اے جنودِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے بحروبر میں جاہلیت اور باطل کے فرزندوں سے برسرِپیکارو! تم جمے رہو، ڈٹے رہو، ثابت قدم رہو اور زخم کھاکر عذاب جھیل کر تکلیف سہہ کر حق کی پاسبانی سے پیچھے ہرگز نہ ہٹو۔ تقوی، خوفِ خدا کے ساتھ تمہاری مورچہ بندی کے سامنے کسی کا بس نہ چل سکے گا۔ مدد خداکی دین ہوتی ہے بشرط یہ کہ تم مدد کی شرط پوری کرلو۔ دشمنانِ خدا کو خوف زدہ کرنے والی تیاری، حکمت عملی اور انھیں ہزیمت دینے والی جرأت تمہارا سب سے بڑا، پہلا اور کارگر ہتھیار ہے، جس کے سامنے باطل کے پاسباں پہلے کبھی ٹھہرے ہیں نہ آج ٹھہرسکیں گے۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو اوراس کی توفیق تمہاری ہم رکاب ہو۔ آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں