دعائے انس رضی اللہ عنہ

'روز مرہ کے معمولات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏ستمبر 26, 2019۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,260
    موصول پسندیدگیاں:
    1,703
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حفاظت کی دعاؤں میں ایک بہت ہی اہم دعا

    جو حضور اکرم ﷺ نے اپنے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ کو سکھلائی تھی، اس کی برکت سے وہ ہر قسم کے مظالم اور فتنوں سے محفوظ رہے،حضرات علماء و طلباء و مبلغینِ اسلام اور تمام اہلِ اسلام صبح و شام اس دُعا کو پڑھا کریں ، اِن شاء اللہ انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی.

    ابنِ عساکر نے اپنی تاریخ میں یہ واقعہ روایت کیا ہے کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے تھے، حجاج نے حکم دیا کہ ان کو مختلف قسم کے چار سو گھوڑوں کا معائنہ کرایا جائے، حکم کی تعمیل کی گئی، حجاج نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا: فرمائیے ! اپنے آقا یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اس قسم کے گھوڑے اور ناز و نعمت کا سامان کبھی آپ نے دیکھا؟ فرمایا: بخدا! یقینا میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدرجہا بہتر چیزیں دیکھیں اور میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: جن گھوڑوں کی لوگ پروَرِش کرتے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں :
    ایک شخص گھوڑا اس نیت سے پالتا ہے کہ حق تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا اور دادِ شجاعت دے گا، اس گھوڑے کا پیشاب، لید، گوشت پوست اور خون قیامت کے دن تمام اس کے ترازوئے عمل میں ہوگا۔
    دُوسرا شخص گھوڑا اس نیت سے پالتا ہے کہ ضرورت کے وقت سواری کیا کرے اور پیدل چلنے کی زحمت سے بچے (یہ نہ ثواب کا مستحق ہے اور نہ عذاب کا)
    تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کی پروَرِش نام اور شہرت کے لئے کرتا ہے، تاکہ لوگ دیکھا کریں کہ فلاں شخص کے پاس اتنے اور ایسے ایسے عمدہ گھوڑے ہیں ، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
    حجاج! تیرے گھوڑے اسی قسم میں داخل ہیں ، حجاج یہ بات سن کر بھڑک اُٹھا اور اس کے غصّے کی بھٹی تیز ہوگئی اور کہنے لگا: اے انس! جو خدمت تم نے حضور اکرم ﷺ کی کی ہے اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا، نیز امیرالموٴمنین عبدالملک بن مروان نے جو خط مجھے تمہاری سفارش اور رعایت کے بابت لکھا ہے، اس کی پاسداری نہ ہوتی تو نہیں معلوم کہ آج میں تمہارے ساتھ کیا کر گزرتا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ تجھ میں اتنی ہمت ہے کہ تو مجھے نظرِ بد سے دیکھ سکے، میں نے حضور اکرم ﷺ سے چند کلمات سن رکھے ہیں ، میں ہمیشہ ان ہی کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کی برکت سے مجھے نہ کسی سلطان کی سطوت سے خوف ہے، نہ کسی شیطان کے شر سے اندیشہ ہے، حجاج اس کلام کی ہیبت سے بے خود اور مبہوت ہوگیا، تھوڑی دیر بعد سر اُٹھایا اور (نہایت لجاجت سے) کہا: اے ابو حمزہ! وہ کلمات مجھے بھی سکھادیجئے! فرمایا: تجھے ہرگز نہ سکھاوٴں گا، بخدا! تو اس کا اہل نہیں ۔
    پھر جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے وصال کا وقت آیا، آبان جو آپ کے خادم تھے، حاضر ہوئے اور آواز دی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا چاہتے ہو؟ عرض کیا: وہی کلمات سیکھنا چاہتا ہوں جو حجاج نے آپ سے چاہے تھے مگر آپ نے اس کو سکھائے نہیں ، فرمایا: ہاں ! تجھے سکھاتا ہوں ، تو ان کا اہل ہے۔ میں نے حضور اکرم ﷺ کی دس برس خدمت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس حالت میں ہوا کہ آپ ﷺ مجھ سے راضی تھے، اسی طرح تو نے بھی میری خدمت دس سال تک کی اور میں دُنیا سے اس حالت میں رُخصت ہوتا ہوں کہ میں تجھ سے راضی ہوں ، صبح و شام یہ کلمات پڑھا کرو، حق سبحانہ وتعالیٰ تمام آفات سے محفوظ رکھیں گے۔
    70435472_2165240383768569_7311638662695878656_n.jpg
    محمد شفیق نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں