دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از أضواء, ‏جولائی 9, 2013۔

  1. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

    دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
    کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی


    شور برپا ہے خانہء دل میں
    کوئی دیوار سی گری ہے ابھی


    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی


    تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
    ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی


    یاد کے بے نشاں جزیروں سے
    تیری آواز آرہی ہے ابھی


    شہر کی بے چراغ گلیوں میں
    زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی


    سو گئے لوگ اس حویلی کے
    ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی


    تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
    شہر میں رات جاگتی ہے ابھی


    وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی


    ناصر کاظمی

    [​IMG]
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
    شہر میں رات جاگتی ہے ابھی

    وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

    واہ واہ بہت خوب جناب
  3. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    حوصلہ آفزائی پر آپ کا بہت بہت شکریہ
  4. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب جناب:->~~ :->~~
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    ہمت آفزائی پر آپ کا بہت بہت شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں