دنیا کی عمر

'آؤ باتیں کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 21, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India

    دنیا کی عمر

    مجوسیوں کے نزدیک ان کے نبی زر تشت بن اسبیحان سے سکندر کے زمانے تک ۲۸۰ برس گزرے ہیں جبکہ سکندر کا دور حکومت صرف چھ سال رہا ہے ۔وہ سکندرسے لے کر اُرد شیر کے دور حکومت تک ۵۱۷ سال بتاتے ہیں اور ارد شیر کے زمانے سے سنِ ہجری تک ۵۶۴ سال کا عرصہ بتاتے ہیں ۔اسی طرح ھبوط آدم سے لے کر ہجرت نبی کریمﷺ تک ۶۱۲۶ سال بنتے ہیں ھبوط آدم سے طوفانِ نوح تک ۲۲۵۶ اور طوفان نوح سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی ولادت تک ۱۰۷۹ سال ہوئے ۔اس حساب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ظہور ۸۰ سال گزر جانے تک(جب آپ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے تبّہ تشریف لے گئے تھے اس کے بعد آپ کے مصر سے خروج سے حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت تک چار سال اور بڑھا لیجئے) یہی وقت بیت المقدس کی ابتدائی بنیاد رکھنے کا ہے ۔گویا یہ درمیانی عرصہ ۶۳۶ سال کا ہوتا ہے اور بنائے بیت المقدس سے سکندر کے دورِ حکومت کا درمیانی فصل ۷۱۷ سال ہوا ،اسی طرح سکندر کے دور سے حضرت مسیح کی ولادت کا درمیانی عرصہ ۳۶۹ سا ل ہوااور ولادت مسیح سے ولادت رسول کریم ﷺ تک ۵۲۱ سال کا عرصہ گزرا ۔رسول کریم ﷺ کی ولادت اور جناب مسیح کے درمیانی عرصے میں جب حجرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے صلیب سے بچا کر اپنی طرف اٹھایا اس وقت آپ کی عمر شریف ۳۸ سال تھی اور اس وقت سے جناب رسول کریم ﷺ کی وفات تک ۵۴۶ سال کا عرصہ گزرا تھا جب کہ جناب مسیح علیہ السلام کی بعثت نبوت اور نبی کریم ﷺ کی ہجرت کا درمیانی عرصہ ۵۹۶ سال ہوتا ہے ۔ اس طرح حساب لگایا جائے تو زمانۂ ذوالقرنین سے وفات نبی کریم ﷺ تک ۹۵۳ سال کا عرصہ گزرا تھا ۔اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے وقت سے حضرت محمد ﷺ کے وقت تک ایک ہزار سات سو دو سال چھ مہینے اور دس دن ہوئے تھے ۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہزار سات سو بیس سال چھ ماہ اور دس دن ہو ئے تھے۔

    اور حضرت نوح علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ تک تین ہزار سات سو بیس سال دس دن ہو ئے ہیں ۔ الغرض مذکورہ با لا قول کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر اُترنے سے لے کر بعثت نبوی تک تاریخی لحاظ سے دنیا ک عمر کے اعداد وشمار ہیں جو مجموعی طور ہر چار ہزار آٹھو سو گیارہ سال چھ ماہ دس دن ہوتے ہیں ۔اس لحاظ سے اب تک یعنی ۳۳۲ ہجری تک جو خلاف متفقی با للہ اور اس کے دیار مصر رَقّہ آنے کا زمانہ ہے دنیاکی مجموعی عمر پا نچہزار ایک سو پینسٹھ (۵۱۶۵)سال ہوئی۔ ( تاریخ المسعودی ج ۲۔

    نوٹ :اب ۱۴۳۶ ھجری میں کل مجموعی عمر ۶۲۶۹ سال ہوئی۔واللہ اعلم۔

    محمدداؤدالرحمن علی اور اشماریہ .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    اور یہ پڑھ کر مجھے اپنی عمر زیادہ ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔:D
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حوالہ کا بھی وہی حشر ہوا ۔:cool:
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں