دیوبند کا مسلک اعتدال

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 16, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ مضمون میں نے 2012 میں ایک ویب سائٹ پر لکھے تھے ۔ اور اس مضمون سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ لیکن یہ مضمون امیج فارمیٹ میں تھے میں یونیکوڈ میں تبدیل کرکے کہ یہاں نشر کر کررہا ہوں۔ غلطی کا احتمال میں کیونکہ میں کوئی عالم نہیں۔

    دیوبند کا مسلک اعتدال
    حضرت ابوہریرہؓ نبی کریم ؐسے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا وہ اس پر غالب آجائے گا، پس تم لوگ میانہ روی کرو اور (اعتدال سے) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ (کہ تمہیں ایسا دین ملا) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے دینی قوت حاصل کرو۔
    (صحیح بخاری،کتاب الایمان،باب الدین یسر)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو ، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔
    (مسند امام احمد بن حنبلؒ مسند عبداللہ بن عباسؓ )
    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑی فصیح اور تیز زبان سے کہنے لگے ،سنیئے جناب ! چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھتے ہیں اور جاننے بوجھنے والے سمجھدار ہیں ۔لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتاتا ہے ۔حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تو یہ چاہتا ہے کہ تجھے یہ کہدوں کہ جاتو انھیں قتل کر ڈال ۔نہیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ جا انھیں نصیحت کر اور برائی سے روک اور اگر تیری بات نہ مانیں تو اپنی راہ پکڑ۔
    (تفسیر ابن کثیر ،۷پارہ،سورۃ مائدۃ رکوع ۱۴)
    بدعت اور الحاد
    بدعت کسی نئی بات کو دین کا حصہ سمجھنے کو کہتے ہیں اور الحاد کہتے ہیں کہ جو عقائد یا اعمال دین میں ثابت ہو ان کا انکار کرنا، اسکو دین کا حصہ نہ سمجھنا۔
    یہ الحاد و بدعت دونوں گناہ انتہائی خطرناک ہیں،جو گناہ کی شکل میں نہیں بلکہ نیکی کا روپ دھار کر آئے ہیں۔ جو گناہ گناہ ہی کی شکل میں ہو اس سے توبہ کی توفیق آسان ہے ،لیکن جو گناہ نیکی کی شکل میں آئے اس سے توبہ کی توفیق سلب ہوتی ہے۔بدعتی اپنے گناہ کو گناہ نہیں بلکہ عشق رسول اور حب اولیاء اللہ کا نام دیتا ہے تو اس سے کب توبہ کرے گا۔جو شخص اپنے مرض کو ہی مثالی صحت سمجھنے لگے اسے علاج کی کب فکر ہوگی۔اسی طرح ملحد عمل بالحدیث کا نام لیتا ہے ،وہ اپنی سوچ کو عین نبی کی سوچ سمجھتا ہے ۔اپنے فہم کو معصوم عن الخطاء سمجھتا ہے جو اس کو نہ مانے اسے نبی کا منکر خیال کرتا ہے ۔وہ سمجھتا ہے کہ صحابہؓ ،مجتہدین ؒ کی سوچ میں خطا ہوتی ہے،لیکن میری سوچ نبی کی سوچ ہے جو خطا سے معصوم ہے تو وہ کب اس پر نظر ثانی کے لئے تیار ہوگا۔کوئی عشق رسول کے بہانے سنتوں کے ساتھ ساتھ بدعات پر لگا رہا ہے اورکوئی حدیث رسول کے بہانے نبی پاک کی سنتوں کو مٹا رہا ہے۔
    ۱۔
    ایک وہ ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اللہ کے برابر کر دیا اور ایک وہ ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل مقام کو بھی نہ پہچانا

    پہلا رخ
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    میری تعریف مبالغہ آمیزی کے ساتھ نہ کرنا جس طرح عیسی بن مریم علیہ السلام کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی گئیں بلکہ (میرے لئے صرف یہ کہو کہ میں )اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
    (صحیح بخاری کتاب المحاربین باب رجم الجسلی من الزنا اذااحصنت)
    ایک حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی مگر کچھ رکعات بھول گئیں کسی صحابی کے یاد دلانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یا د آیا اور پھر آپ نے فرمایا
    میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں،جس طرح تم بھولتے ہو ،میں بھی بھول جاتا ہوں،لہذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلاؤ ،اور جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو اسے چاہیے کہ صحیح حالت کے معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی پر نماز تمام کردے ،پھر سلام پھیر کر دو سجدے کرے۔
    (صحیح بخاری کتاب الصلاۃ ابواب استقبال القبلۃ باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان)
    دوسرارخ
    اب کچھ لو گ وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں مردہ تسلیم کرتے ہیں ۔اور حقیقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔
    اورجولوگ صحابہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں یہ بھی حقیقت میں حضور صلی اللہ کی شان میں ہی گستاخی ہے۔چونکہ شاگرد کی وجہ سے استاد کی پہچان بھی ہوتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو ملامت کا نشانہ نہ بنانا اس لئے کہ جس
    نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ایذاء دی(تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔
    (جامع،ترمذی،ابواب مناقب،باب فی من یسب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کو اس طریق پرمانناہے جس کا بیان حدیث کی کتابوں اورعقائد کی کتابوں میں ہے یہی راستہ اعتدال ہے
    ۲۔
    کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو صحابہ نے نہیں بھی کیا ہم وہ بھی کریں گے
    اورکچھ لوگ وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کے اقوال و افعال کو بھی حجت تسلیم نہیں کرتے

    پہلا رخ
    بحث بدعت
    بدعت کی جامع ترین تعریف یہی ہے کہ قرآن و حدیث و فقہ کی کتب میں اسکا ذکر نہ ہو۔
    تعلیم دین ،تبلیغ دین،جہادایسے امور ہیں جن کے لیے وقت کو مقرر کرنا بدعت نہیں۔مثلاًمدارس میں درس کاوقت مقرر ہو تا ہے۔
    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں تو بہت سے چیزیں ہمارے زمانے والی نہیں تھیں۔مثلاً کتب احادیث،جدید اسلحہ،سفرکرنے کیلئے جدید ٹرانسپورٹ،مسجد میں صفیں،جدید تسبیحات،سپیکر پر اذانیں،اور مسجد کے دیگر انتظامی امور۔اور بھی ایسی چیزیں تب تو یہ بھی بدعت ہوئی۔
    یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہمیں کیا حکم ملا ہے؟ اگر ان چیزوں کے استعمال سے اس حکم میں فرق آتا ہے تب تو بدعت ٹھہری ورنہ بدعت نہیں ہوسکتی۔
    صحابہ کے زمانے میں بھی حدیث لکھنے کا کام ہوتا تھا۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں عبداللہ بن عمر و کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص حدیث کی روایت نہیں کرتا،مجھ میں اور عبداللہ میں یہ فرق ہے کہ وہ حضور کی حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے اور میں زبانی یا د کرتا تھا۔
    (صحیح بخاری،کتاب العلم،باب کتابۃ العلم)
    اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کی کتابت بھی صحابہ سے ثابت ہے۔
    اب احادیث کی کتابو ں میں حدیث تو وہی ہے صرف حدیث کو جمع مختلف طریقے سے کیا گیا ہے۔
    اسی طرح جدیدتسبیح ،صرف شکل ہی بدلی ہے ورنہ صحابہ کے زمانے میں تاگہ اور گٹھلیا ں استعمال کی جاتی تھیں ۔جدید تسبیح کرنے سے مقصد تسبیح نہیں بدلا۔
    اذان سپیکر پر دینے سے مقصد اذان وہی ہے۔صحابہ کے زمانے میں اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر اذان دی جاتی تھی ،سپیکر سے مقصد نہیں بدلا۔
    مسجد میں صفوں پر نماز پڑھنے سے نماز کے طریقے میں کوئی فرق نہیں آیا۔پہلے صحابہ کنکریا ں استعمال کرتے تھے اور اب صفیں۔
    پہلے،حج ،عمرہ جہاد پر جانے کیلئے سواری کے طور پر گھوڑے ،گدھے استعمال ہوتے تھے،اور اب گاڑیاں،ہوائی جہاز،بحری جہاز استعمال ہوتے ہیں ،اس سے حج ،عمرہ،جہاد فی سبیل اللہ کے طریقے میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    اسلحہ کی بھی صرف شکل ہی بدلی ہے مقصد دشمن کو نقصان پہچانا ہے مقصد تو نہیں بدلا۔
    دوسرا رخ
    حجیت قول فعل صحابہ
    کچھ لوگ جو صحابہ کے قول فعل کو حجت تسلیم نہیں کرتے ہیں۔اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ صحابہ انسان تھے اور ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔یقینایہ بات صحیح ہے کہ صحابہ سے غلطی ہو سکتی ہے۔لیکن ہمارا ایمان اور یقین ہے کہ صحابہ سے ایسی کوئی غلطی نہیں ہوئی جس سے بعد میں آنے والی امت محمدیہ فتنہ میں مبتلا ہو۔
    قرآن و سنت کو صحابہ کے طرز پر سمجھنے میں ہی دنیا اور آخرت کی فلاح کا مدار ہے۔
    قرآنی آیت
    جن لوگوں نے سبقت کی یعنی سب سے پہلے ایمان لائے مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ انکی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیئے باغات تیار کئے ہیں جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔یہی بڑی کامیابی ہے۔
    (سورۃ توبہ آیت ۱۰۰)
    حدیث نبویؐ
    حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھوں سے آنسوں جاری اور دل کانپنے لگے۔ایک شخص نے کہا یہ تو رخصت ہونے والے شخص کے وعظ جیسا ہے۔یا رسول اللہ ﷺ آپؐ ہمیں کیا وصیت کرتے ہیں۔
    فرمایا میں تم لوگوں کو تقویٰ اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ
    ہو۔اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔خبردار (شریعت کے خلاف)نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔لہٰذا تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے گا اسے چاہیے کہ میرے اور خلفاء راشدین مہدیین (ہدایت یافتہ )کی سنت کو لازم پکڑ لو۔
    (جامع ترمذی جلد دوم ،ابواب العلم ،باب الاخذ بالسنۃ و اجتناب البدعۃ)
    حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں،میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا۔پس تم میر ے بعد دو شخصوں کی اقتداء کرنا ،ایک ابوبکرؓ،دوسرے عمرؓ
    (مرقاۃ المفاتیح،باب مناقب ابی بکر و عمر)
    صحابہ حضور کے شاگر د ہیں اور قرآن و حدیث کو سمجھنے میں تمام امت سے بڑھ کر ہیں۔ان کے فتاویٰ کے بغیر قرآن و حدیث کو نہیں سمجھا جا سکتا۔
    اسلیے دین کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے طرز پر سمجھنا ہی راستہ اعتدال ہے۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فقہا ء نے مسائل کا استنباط کرنے کے لیے صحابہ کے فتاویٰ کو بھی لیا ہے۔
    ۳۔
    ایک ہیں جو ضعیف حدیث پر بھی عمل کر لیتے ہیں ایک وہ ہیں جو صحیح حدیث کو بھی ضعیف بنا دیتے ہیں ۔

    اب کچھ لوگ ضعیف حدیث پر عمل کرلیتے ہیں یا کچھ ایسے کام کرتے ہیں جن کیلئے دلیل کے طور پر حدیثیں سناتے ہیں،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی کام سنت ہوتا تو فقہا کرام ضرور اسکو اپنی فقہ میں لکھتے ۔
    بحث سند
    حدیث کی سند کی بحث کی ابتدا کوئی سوسال پہلے نہیں بلکہ اس زمانے ہی میں شروع ہوگئی تھی جب حدیث کی مشہور کتابیں لکھیں گئیں تھیں۔ اور اسی پیش نظر آج کل کی تحقیق کے بجائے جو بحث سند پہلے ہو چکی ہے اسی کو مان لینا چاہیے۔حدیث کی سند میں ایک بات جو واضح کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کئی حدیثیو ں کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن پر کسی ایک محقق نے جرح کی اور کسی اور محقق نے تعدیل کی ۔یعنی کے رجال کے حالات میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے۔ایک محقق راوی کو ثقہ کہتاہے تو دوسرا ضعیف۔ایسے صور ت میں ایک عام آدمی کیا کرے ۔جرح کو تعدیل پر مقدم کرے۔
    احکام میں کسی حدیث سے استدلال کیلئے چار شرطیں راوی میں ہیں۔وہ یہ ہیں
    عقل ،ضبط،عدالت،اسلام
    جس حدیث کو فقہا کرام نے اپنی فقہ میں لیا ہے اس کی سند کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔کیونکہ صحاح ستہ کے مصنف بعد کے ہیں اور ان کی تصنیف کے وقت سے پہلے موطا امام محمد،موطا امام مالک،مسند امام الشافعی،مسند امام احمد بن حنبل تصنیف ہو چکیں تھیں اور صحاح ستہ میں حدیث کی سند میں راویوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
    اب جو لوگ ضعیف حدیث پر عمل کر لیتے ہیں ان کو سوچنا چاہے کہ جب ان احادیث کو کسی آئمہ کرام نے بھی اپنی فقہ میں نہیں لکھا تو ایسے کام کو کسی ضعیف حدیث سے ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
    بحث عمل فی الحدیث
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف صحیح حدیث پر عمل کرنے کا حکم نہیں دیا۔بلکہ جہاں کہیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم والے طرز پر چلنے کا حکم دیا گیا وہاں سنت کا ذکر آیا ہے کوئی ایک قرآنی آیت یا حدیث سے ہمیں حدیث پر چلنے کا حکم نہیں ملا۔اور جو صحیح حدیث کے چکر میں رہے۔وہ اپنی رائے اور عقل سے یہ کام کررہا ہے۔
    سنت اور حدیث میں بھی بہت فرق ہے۔حدیث میں تو وہ اعمال بھی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کے ساتھ مخصوص ہیں ۔جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفا ت کے وقت ۹ بیویاں چھوڑ کر گئے،اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو سونے کے بعد بھی رہتا تھا،اسی طرح ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کچھ کم رکعات پڑھائیں اور پھر صحابہ نے آپ کویاد دلایا کہ آپؐ نے کم رکعت پڑھی ہیں اور حضور ؐ نے صحابہ سے کلام کے باوجود نماز وہی سے پوری کی۔اور اسی طرح ایک دفعہ فجر کی نماز سب صحابہ اور حضور ؐ کی قضا ہو گئی تھی تو آ پؐ نے طلوع آفتاب کے بعد با جماعت نمازادا کی ۔
    حدیث کی کئی اقسام ہیں صحیح ،حسن ،مرسل،موقوف،ضعیف
    اور کونسی حدیث قابل حجت ہے اور کونسی نہیں اس کا فیصلہ ایک عام آدمی کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔
    مرسل روایا ت بعض علماء کے نزدیک حجت نہیں ،لیکن اگر مرسل روایا ت کی تائید موصول روایا ت یا کسی اور مرسل سے ہوجائے تب تو سب کے نزدیک وہ بھی قابل حجت ہے۔
    اور ضعیف حدیث بھی اس وقت قابل حجت ہوجاتی ہے جب صحابہ کے قول، فعل، عمل سے اسکی مواظبت ہوجائے۔
    بعض حدیثیں ایسی ہیں جن کے ضعیف یا حسن ہونے میں اختلاف ہے کسی ایک راوی پر تعدیل بھی ہے اور جرح بھی۔ ایسے حدیثوں کے معاملے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر جرح مفسر نہ کی ہے تب تو جرح تعدیل پر مقدم ہوگی ورنہ نہیں۔
    اگر حدیث میں بظاہر تعارض نظر آرہا ہو تو کس حدیث کو راجح سمجھنا اور کس کو مرجوح ،یہ کا م بھی فقہا ہی کر سکتے ہیں۔
    اور ایسی حدیثیں بھی محدثین نے اکٹھی کی ہیں جومتروک العمل ہیں مثلاً سجدے والی رفع یدین بالاتفاق متروک ہوچکی ہے۔
    خبر واحد سے استدلال
    ایک اور حدیث کو قبول کرنے کا بڑا معیار خبر واحد والی احادیث کو لینا ہے۔ خبر واحد سے مراد وہ احادیث ہیں جن کے راوی بہت کم ہوں چونکہ جن روایات پر عمل زیادہ ہے وہ تو خبر واحد ہونہیں سکتی جن پر عمل کم ہو ان ہی کی روایت کم ہوگی۔ اس معاملے میں جو اما م ابو حنیفہ ؒ کاجو معیار رہا ہے وہ درج ہے
    اگر خبر واحدکتاب اللہ کے عام احکامات اور واضح تشریحات کی مخالف نہ ہو،کیونکہ کتاب اللہ قطعی ہے اور خبر واحد ظنی اس لئے اس سے دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔
    حدیث خبر واحد ،حدیث مشہو ر کے بھی مخالف نہ ہو،کیونکہ حدیث مشہور خبر واحد سے زیادہ قوی ہوتی ہے۔
    کوئی خبر واحد کی حدیث اسی جیسی خبر واحد کی حدیث سے متعارض نہ ہو اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی خاص وجہ سے ایک کو دوسری پر ترجیح دیتے مثلاً ان دونوں حدیث کو روایت کرنے والے صحابیوں میں سے ایک دوسرے سے زیادہ فقیہ ہو، ایک صحابی جو جوان ہو اور دوسرا بوڑھا۔
    راوی حدیث کا عمل خود اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف ہو ایسی صور ت میں بھی اس حدیث کو ترک کر دیتے مثلاً ابو ہریرہؓ کی حدیث ،اگر کتا برتن میں منہ ڈالے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیے۔خود ابو ہریرہؓ کا فتویٰ اس حدیث کے خلاف تھا وہ عام نجاست کی طرح تین مرتبہ برتن کو دھونے کا فتویٰ ہے۔
    خبر واحد میں کوئی ایسا حکم ہے کہ جس کا تعلق عموماً لوگوں سے ہوتا ہے اور سب کو ہی اسکی ضرورت پیش آتی ہے تو ایسی صور ت میں اس حدیث کو مشہور یا متواتر ہونا چاہیے اسلئے امام صاحب ؒ اسکو ترک کرتے۔
    سلف صالحین (صحابہؓ و تابعین ؒ )میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا ہو اعتراض کرنا اسکے معتبر نہ ہونے کی دلیل ہے۔اس طرح صحابہ کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو مگر اس خبر واحد سے کسی نے استدلال نہ کیا ہو ،یہ بھی اس کے نسخ ہو نے کی دلیل ہے۔
    اس ساری بحث کے تناظر میں فقہ کے مطابق عمل فی الحدیث میں ہی خیر ہے۔اور یہی اعتدا ل کا راستہ ہے۔
    ۴۔
    ایک ہیں کہ نوافل کا درجہ ہی فرائض سے بڑھا بیٹھے اور ایک وہ ہیں جن کو فرائض کی بھی کوئی پہچان نہیں ۔

    پہلا رخ
    نفل کو نفل کے ہی درجے میں رکھنا اور فرائض ،واجبات،سنن ،مستحبات،مباحات کی پہچان کرنا اور ان پر عمل درامد ہو نا اصل ہے۔
    فقہا کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے آپ کے اعمال میں سے فرائض،واجبات ،سنن ،مستحبات کو علیحدہ کیا۔قرآن کابھی ہر حکم ایک درجہ میں ہوا ہے۔امر کا صیغہ بعض اوقات وجوب کیلئے آتا ہے جیسے اقیمو الصلوۃ کبھی استحباب کیلئے جیسے وکلو منھا واطعمو البائس الفقیر ۔کبھی اباحت کیلئے جیسے واذا حللتم فاصطادوا۔
    فرض واجب ،سنت،مستحب، مباح کی تعریف
    فرض:ایسا حکم جو دلیل قطعی سے ثابت ہو اور بلا عذر چھوڑنے والا گنہگار ہو اور اس کا منکر کافر ہو مثلاً پانچ وقت کی نمازیں۔
    واجب :ایسا حکم جو دلیل ظنی سے ثابت ہو بلاعذر چھوڑنے والا گنہگار ہو اور اسکا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ ہوگا مثلاًنماز وتر
    سنت:ایسا فعل جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپناعمل بنایا ہو
    سنت کی دو قسمیں ہیں
    سنت مؤکدہ:ایسا فعل جسے نبی ؐ نے یا صحابہ نے ہمیشہ کیا ہو اور بلاعذر نہ چھوڑا ہو اس کو جان بوجھ کر چھوڑنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔لیکن حضور ؐ کی شفاعت سے محروم ہوجائے گا ۔مثلاًفجر اور ظہر کی پہلی سنتیں
    سنت غیر مؤکدہ:وہ فعل جسے نبی ؐ یا صحابہؓ نے اکثر کیا ہو اور کبھی کبھی بلاعذر چھوڑا ہو ۔اسے سنت غیر مؤکودہ کہتے ہیں ۔مثلاً عصر اور عشاء کی پہلی چار سنتیں
    مستحب:وہ عمل ہے جس کو نبی اکرمؐ یا صحابہؓ نے کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑا ہو ،اسکا حکم یہ ہے کہ اسکو کرنے سے ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے سے گناہ نہیں ہوتا۔مثلاً نوافل وغیرہ
    مباح :وہ فعل ہے جس کے کرنے سے نہ ہی گناہ ہوتا ہے اور نہ ہی ثواب مثلاً کھانا ،پینا،سونا وغیرہ
    اب کچھ لوگ تو وہ ہیں جن کو فرائض ،واجب ،سنت ،مستحب کی بھی پہچان نہیں ہے اور وہ لوگ نوافل کو یا تو فرائض کی جگہ دے دیتے ہیں یا پھر فرائض سے بھی زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔
    فرائض ،واجب،سنت تو معین ہیں اور فقہا نے اپنی کتابوں میں لکھ دیے ہیں لیکن چونکہ مستحبات و نوافل ایسے کام ہیں جن کیلئے وقت اور مقدارکی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔مثلاً پہلے یا تیسرے کلمہ کو روزانہ پڑھنے کی ایک مقدارمقرر کر لی جائے یا نوافل کی ایک تعداد مقرر کرکے انکو روزانہ ادا کیا جائے ۔لیکن یہ نہیں کیا جا سکتا کہ نوافل پڑھنے یا ذکر کرنے کی وجہ سے فرض نماز چھوڑ دی جائے۔
    دوسرارخ
    اسی طرح کچھ لوگ تو وہ ہیں جن کو احکامات الٰہیہ کے اندر فرائض ،واجبات ،سنن ،مستحبات کی بھی کوئی پہچان نہیں ہے۔مثلاًغسل،وضو،نماز کے فرائض ،واجبات،سنن اور مستحبات۔
    یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آخر فقہاء نے انکو الگ کیوں کیا۔
    اسکی وجہ یہ ہے چند صورتوں میں صرف فرائض ،واجبات پورا کرنے سے بھی کام چل جائے گا
    مثلاً وقت کی کمی یا پانی کی کمی کی وجہ سے ،غسل اوروضو کے صرف فرائض کو پور ا کر لیا جائے
    وقت کی کمی کی وجہ سے نماز کے صرف فرائض و واجبات پور ے کرکے نماز ادا کر لی جائے
    اور ایک تیسرے بڑی وجہ ان احکامات الٰہیہ میں کسی ایک عمل کے ترک یا بھول جانے سے حکم کے پور ا ہونے یا نہ ہونے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
    مثلاً کسی اگر کوئی رکوع کی تسبیح پڑھنا بھو ل جائے ،یا درود شریف وقت کی کمی کی وجہ سے نہ پڑھے تو چونکہ یہ سنت ہے اس لیے نماز ہو جائے گی مگر ثواب میں کمی ہوگی۔
    اسی طرح امام سر ی اور جہری نماز میں فرق کرنا بھول جائے تو چونکہ یہ واجب ہے سجدہ سہو کرنے سے نماز ہو جائے گی۔
    اور اسی طرح کوئی اما م کے پیچھے رکوع میں شامل ہونے کے لئے قیام نہ کرے ،اور جب امام سلام پھیرے تو وہ بھی سلام پھیر دے تو چونکہ قیام فرض ہے اور اسکے چھوٹنے سے نماز ہی نہیں ہوگی۔
    اسلیے فرائض ،واجب ،سنن ،مستحب کی پہچان کرکے اُن کو اِن کے درجے پر رکھنا ہی اعتدال کا راستہ ہے۔
    ۵۔
    ایک ہیں جو اللہ کے ولیوں کواور انکے کشف وکرامات کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے اور ایک وہ ہیں جو اللہ کے ولیوں کواور انکے کشف و کرامات کو ہی نہیں مانتے ۔

    پہلا رخ
    اللہ کے ولی کی شان بڑی ہے اور بعض اوقا ت اللہ کے حکم سے انکے ذریعے کوئی ایسا عمل جو خلاف معمول ہوواقع ہو جاتا ہے۔لیکن اللہ کے ولیوں کے اختیار میں ان کرامات کو سمجھ لینا یہ کونسی عقلمندی کی بات ہے۔
    ْْ’’یہ خیال رہے کہ بعض اولیاء اللہ کے ہاتھوں جو کرامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی چیزیں تبدیل ہو جاتی ہیں ان کا ہمیں انکار نہیں ۔وہ خدا کی طرف سے ان پر ایک خاص فضل ہوتا ہے اور وہ بھی ان کے بس کا نہیں ہوتانہ ان کے قبضہ کا ہوتا ہے نہ وہ کوئی کاریگری ہوتی ہے اور نہ فن وہ محض خدا کے فرمان کا نتیجہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبردار اور نیکوں کاروں کے ہاتھوں اپنی مخلوق کو دکھا دیتا ہے۔‘‘
    (تفسیر ابن کثیر پارہ۲۰ ص ۴۳،سورۃقصص آٹھواں رکوع)
    دوسرارخ
    ولی اللہ کے بارے میں حدیث
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔
    (صحیح بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع)
    صحابہ کرام کی کرامات
    سعد بن ابی وقاص کی امارت میں لشکر نے دریائے دجلہ پر سے گھوڑے دوڑا دیے اور وہ پانی پر سے ایسے ہی چلے جیسے خشکی پر چلتے تھے(روایات ابو نعیم)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حرہ کی مقام پر سے جو آگ نکلی تھی اسکو بجھانے کیلیے بھیجااور وہ بے خطر آگ میں گھس گئے اور اسے بجھا کر صحیح سالم واپس آئے(اصابہ )
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران چلاچلا کر کہنا شروع کیا یا ساریہ الی جبل(ساریہ پہاڑ کی طرف جاؤ)اور اسکی آواز ایران میں لڑنے والے ایک لشکر کے سپہ سالار ساریہ کو پہنچی،پھر جب وہ پہاڑ کی طرف ہو لیے تو انکو فتح ہوئی(مشکوۃ،بیہقی)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریائے نیل کے نام خط لکھا جوکبھی کبھی سوکھ جاتا تھااور ایک ظالمانہ فعل پر جاری ہوا کرتا تھا مگر انکے خط سے سولہ ہاتھ بلند ہو ا اور اسکے بعد کبھی خشک نہیں ہوا(مشکوۃ)
    صحابہ کے ایک لشکر نے درندوں سے بھرے لشکر میں پڑاؤ کرنا تھا تو ایک صحابہ نے آواز لگائی کہ اے درندوں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں اور ہم اس جگہ اپنی بستی بسا کر آباد ہونا چاہتے ہیں لہذا تم سب یہاں سے نکل جاؤ ورنہ اس کے بعد ہم تم میں سے جس کو یہاں دیکھیں گے قتل کردیں گے،اس اعلان کے بعد سب درندے اپنے بچوں کو اٹھائے جنگل سے باہرنکل گئے۔(معجم البلدان تذکرہ قیروان)
    یہ تو صحابہ کی کرامات پر ایک سرسری نظر ڈالی گئی تھی ویسے تو اور بھی بہت سے واقعات انکی کرامات سے متعلق ہیں۔
    اللہ کے ولیوں کو بھی ماننا ہے اور انکی کرامات کوبحکم الہی ماننا ہی اعتدال کا راستہ ہے۔
    ۶۔
    ایک وہ ہیں جووسیلہ پر اتنا زور دیتے ہیں جیسے اسکے بغیر دعا قبول ہی نہیں ہوتی۔اور ایک ہیں جو اسکے بالکل ہی انکاری ہیں

    پہلا رخ
    جو لوگ وسیلہ پر اتنا زور دیتے ہیں کہ جیسے اس کے بغیر دعا ہی قبو ل نہیں ہوتی۔ان کو اس حدیث کو بھی سمجھنا چاہیے۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    جب مانگے تو اللہ سے مانگ اور اگر مدد طلب کرو تو صرف اسی سے مدد طلب کرو۔
    (جامع ترمذی جلددوم ،ابواب صفۃ القیامۃ،باب ۱۶۳)
    دوسرارخ
    وسیلہ کی جو جائز صور ت ہے اس کا بیان
    وسیلہ کی ایک جائز صور ت بھی ہے مگر اس میں اس بات کا حتی المکان احتیاط کیا جائے کہ یہ بالکل بھی نہ سمجھا جائے کہ وسیلہ کے بغیر دعا قبو ل ہی نہیں ہوگی۔درحقیقت ہم اگر کسی کا وسیلہ دربار الہی میں پیش کرتے ہیں تو ہم اس نظریے سے وسیلہ پیش کرتے ہیں کہ ’’یااللہ میرا تو کوئی عمل ایسا نہیں جس کو میں آپ کی بارگاہ عالی میں پیش کر کے اس کے وسیلے سے دعا کروں البتہ فلاں بندہ آپ کی بارگاہ میں مقبو ل ہے۔اور مجھے اس سے محبت و عقیدت کا تعلق ہے ۔پس اے اللہ آپ اس تعلق کی لاج رکھتے ہوئے ،جو مجھے آپ کے نیک بندوں سے ہے ،میری یہ درخواست قبول فرما لیجئے‘‘۔تو دراصل یہ اپنے اس تعلق کے ذریعے تو سل ہے جو اسے اللہ کے نیک اور مقبول بندوں سے ہے بلکہ میرے نزدیک اس توسل میں تواضع اور عبدیت کی شان زیادہ پائی جاتی ہے ۔کہ آدمی کو اپنے کسی عمل پر نظر نہ ہو،اور وہ اپنے کسی نیک عمل کو اس لائق نہ سمجھے کہ اسے بارگاہ خداوندی میں پیش کر سکے۔
    بہر حال تو سل کی یہ صور ت تو صحیح ہے،اور بزرگان دین سے منقول اور ان کا معمول رہی ہے۔مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ توسل کئے بغیر دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو سنتے ہی نہیں ۔اور نہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ انبیاء و اولیاء کے وسیلے سے جو دعا ء کی جائے اس کا ماننا اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے ۔
    وسیلہ مانگنے پر ایک حدیث
    انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطاب ،عباس بن عبد المطلب کے وسیلے سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر ،راوی کا بیا ن ہے کہ لوگ سیراب کیے جاتے یعنی بارش ہو جاتی۔
    (صحیح بخاری، کتاب الاستسقاء ،باب سؤال الناس الاما لاستسقاء اذا قحطوا)
    وسیلے کو ماننا اور صحیح طرز پر ماننا ہی راستہ اعتدال ہے
    ۷۔
    ایک تو کہتے ہیں کہ
    دم بدم پڑھو درود حضور بھی ہیں یہاں موجود
    اور دوسرے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حضور تو قبر میں بھی درود نہیں سنتے

    پہلا رخ
    حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو شخص مجھ پر دور سے درود بھیجتے ہیں تو وہ میرے پاس پہنچایا جاتا ہے۔
    (مشکوۃمترجم جلد اول،نمازکا بیان ،درود کی فضیلت،درود آنحضرت کے پاس پہنچتے ہیں)
    ایک اور جگہ حضرت ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    خدا کے بہت سے فرشتے زمین پر سیاحت کرنے والے ہیں جومیری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں۔
    (مشکوۃمترجم جلد اول،نمازکا بیان ،امت کا سلام فرشتے آپ تک پہنچاتے ہیں)
    دوسرارخ
    حضرت ابوالدرد اؓ روایت کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کہ جمعہ کہ دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ وہ دن حاضری کا ہے۔ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ مجھ پر جو کوئی شخص دورد پڑھتا ہے اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتی کہ وہ اس سے فارغ ہو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ وفات کے بعد بھی پیش جائے گا۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ ہاں! وفات کے بعد بھی پیش کیا جائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام طیبہ کو کھائے۔ سو اللہ تعالی کا نبی زندہ ہے۔ اس کو رزق ملتا ہے۔
    (سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ ودفنہ )
    امت کا اجماعی عقیدہ یہی ہے جیسا کہ ان احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔اور سلف صالحین کی مستقل تصانیف اس بارے میں ہیں۔مثلاً حیات الانبیاء للبہیقی،آب حیات
    اور صحیح یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجو دنہیں بلکہ اپنی قبر مبارک میں ہیں اور حیات ہیں۔اور یہی راستہ اعتدال ہے۔
    ۸۔
    ایک ایصال ثواب کے لیے مختلف دن مقرر کر بیٹھے اور ایک ہیں کہ اسکے سرے سے ہی انکاری ہیں

    پہلا رخ
    دین رواج کا نام نہیں ہے کہ جیسا رواج ہو ویسے کام کیے جائیں بلکہ جو ہمیں حکم ملا ہے ہمیں تو وہی کرنا ہے۔ایصال ثواب کرنے سے ثواب ضرور پہنچتا ہے مگر اس کے لئے دن مقرر کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ۔کسی فقہ کہ کتاب میں ایصال ثواب کرنے کے لیے دن مقرر کرنے کا مسئلہ نہیں لکھا ہے۔
    ایک بات سمجھنے کے قابل اور ہے وہ یہ کہ تیسرے دن ختم قرآن کیوں ،پہلے دن ہی کیوں نہیں ،اگر ہمارے بھائی یا باپ یا بیٹے کو کوئی داروغہ پکڑ کر لے جائے تو ہم اسی دن اس کی ضمانت کی محنت کریں گے یا تیسرے دن جائیں گے۔کیا اسی دن بھاگ دوڑ میں نہیں لگ جاتے۔یہانتک کہ جب تک ضمانت نہ ہوجائے ہمارا کھانا پینا آرام سب حرام ہو جاتا ہے۔افسوس کی بات ہے کہ جب دنیا کا داروغہ پکڑ کر لے
    جائے تو اسکی ضمانت کے لئے اسی دن ایک طوفان اور کہرام مچا دیں گے اور خدا کے گھر سے کوئی فرشتہ ہمارے کسی عزیز کو لے جائے تو تیسرے دن ایصال ثواب اور ختم قرآن کرائیں گے یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟
    میرے دوست،جتنا بھی ہوسکے اس مرنے والے کے لئے ایصال ثواب اسی روز کر دے ،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے وہاں پر جو سوال جواب ہوتے ہیں اس میں اگر مرنے والا کامیاب ہوگیاتو سب جگہ کامیاب ہواور اگر ناکام ہو تو ناکام ہی رہے گا۔
    میرے بھائی صاحب مرنے والا جب مرجائے تو آپ کی جتنی بھی طاقت ہو ایصال ثواب اسی دن کر دینا چاہیے تاکہ مرنے والے کوسوال و جواب میں آسانی ہو جائے ،اگر کوئی غریب آدمی ہو اور اسی روز نہیں کرسکتا تو یہ اور بات ہے کیونکہ وہ غریب ہے لیکن صاحب مال کو تو اسی روز کر دینا چاہیے اور عام لوگوں میں تیسرے دن کا رواج پڑا ہوا ہے وہ مذہب نہیں ہے بلکہ رواج ہے،دسواں ،بیسواں ،چالیسواںیہ رواج ہے ۔ہماری جہالت کا حال تو دیکھئے کہ جب مرنے والا تین تک اچھی طرح فرشتوں کے ہاتھوں سے پیٹا جا چکے تب اس کے بعد ایصال ثواب کرتے ہیں ۔یہ جہالت نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
    دوسرارخ
    ایصال ثواب کے بارے میں احادیث
    حضرت سعدؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ کا انتقال ہو گیا (ان کے ایصال ثواب کے لئے) کونسا صدقہ زیادہ افضل ہے۔حضور اقد س صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی سب سے افضل ہے۔اس پر حضرت سعدؓ نے اپنی والدہ کے ثواب کے لئے ایک کنواں کھدوا دیا۔
    (سنن ابوداؤد، کتاب الزکوۃٰ،باب پانی پلانے کی فضیلت)
    ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے عرض کیا ۔یا رسول اللہ میری والدہ اپنی زندگی میں میرے
    مال سے حج کرتی تھیں ،میرے ہی مال سے صدقہ دیتی تھیں،صلہ رحمی کرتی تھیں،لوگوں کی امدادکرتی تھیں ،اب ان کا انتقال ہو گیا،یہ سب کا م اگر ہم ان کی طرف سے کریں تو اُن کواِن کا ثواب پہنچے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہنچے گا۔(کنز)

    ایصال ثواب کو بھی ماننا اور اسی طرح سے ماننا اور کرنا جیسے ہمیں حکم ملا ہے یہی راستہ اعتدال ہے
    کیفی خان اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں