ذہنی کنکر

'اردو نثر' میں موضوعات آغاز کردہ از دیوان, ‏جولائی 19, 2017۔

  1. دیوان

    دیوان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    40
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    صنف:
    Male
    کبھی تو آپ کو بھی یہ تجربہ ہوا ہو گا کہ جوتے میں ایک کنکر گھس گیا جو بعض اوقات چاول کے دانے سے بڑا نہیں ہوتا لیکن آپ کے لیے دو قدم چلنا دشوار کر دیتا ہے۔ آپ کی فوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس سے نجات حاصل کی جائے۔ آپ فورا رک جاتے ہیں۔ ماحول سے بے پرواہ جوتا پیر سے نکالتے ہیں اس کنکر کو جھاڑ دیتے ہیں۔ آپ نے غور کیا کہ جوتا اتارنا، کنکر جھاڑنا بلکہ بعض اوقات موزہ اتار کر اس کنکر سے جان چھڑانا یہ سب کچھ اس طور سے ہوتا کہ اس میں آپ کا اپنا اختیار کم و بیش غیرموجود ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس معمولی کنکر نے آپ کو پریشان کرڈالا ہے اور آپ کے لیے چلنا پھرنا دشوار کردیا ہے۔

    یہ کنکر تو ہم نکال دیتے ہیں لیکن کئی کنکر ایسے ہیں جو ہماری زندگیوں میں گھسے ہوتے ہیں اور جس طرح جوتے میں گھسا ہوا کنکر ہمارے قدم روک لیتا ہے اسی طرح ہمارے اندر گھسے ہوئے کنکر بلکہ کنکروں کی وجہ سے ہمیں زندگی کے سفر میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہے لیکن شاید ہی کوئی شخص اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ان کنکروں سے جان چھڑائے اور اپنی زندگی کو پرسکون بنائے۔ عمر گزر جاتی ہے لیکن یہ ذہنی کنکر انسان اپنی جان کے ساتھ لگائے رہتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کی زندگی کی تلخیاں، اس میں پڑی ہوئی الجھنیں جو ان کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہیں یہ اصل میں ان روحانی کنکروں کے لگائے ہوئے زخم ہیں۔

    یہ کنکر کیا ہیں؟ یہ روحانی امراض ہیں۔ جن کی جڑیں ہمارے نفس کے اندر ہیں۔ حسد کو لے لیجیے بلاوجہ کی چیز لیکن جس سے حسد وہ چاہے سامنے نہ ہو لیکن انسان کو بے چین کر رہا ہے ۔ وہی جوتے میں گھسے ہوئے کنکر کی طرح۔ کبر کو لیجیے کسی کے پاس اپنے سے بہتر چیز دیکھ لی تو ہو گئی پریشانی شروع۔ اپنی نظروں سے خود کو گرا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے ایسا انسان۔ ذات کا یہ کنکر بے چین کیے دے رہتا ہے اس کو۔

    ان کنکروں کواپنی ذات سے نکالے بغیر ہماری زندگی ظاہر میں کتنی ہی خوشگوار ہوجائے لیکن وہ پرسکون نہیں ہوسکتی اسی طرح جس طرح مہنگے سے مہنگا خریدا ہوا جوتا اندر موجود کنکر کی وجہ سے ہم کو راحت پہنچانے کی بجائے اور بے چین کر ڈالتا ہے۔ اور چین اسی وقت ملتا ہے جب وہ کنکر نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنی ذات میں چھپے ہوئے کنکر جب تک چن چن کر نکال نہیں دیے جائیں گے سکون و عافیت ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ بلکہ خواب تو بعض اوقات سچے ثابت ہوتے ہیں لیکن زندگی کو خوشگوار بنانے کا خواب کبھی سچا ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اپنی ذات میں ڈوب کر اس میں پوشیدہ کنکر جھاڑ نہ دیے جائیں چاہے آپ دولت کے انبار جمع کرلیں۔ اتنے بڑے انبار کہ ان کی چوٹی آسمانوں کو چھو لے۔
    قد افلح من تزکی (الاعلی: 14)
    یقینا فلاح پاگیا جس نے تزکیہ کیا
    میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,644
    موصول پسندیدگیاں:
    133
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    واللہ بھت خوب لکھامگرمضمون نگارکانام نہیں ہے تومزہ ادھوراہے
    محمد نبیل خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. دیوان

    دیوان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    40
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    صنف:
    Male
    محترم مفتی صاحب، السلام علیکم،
    پسند فرمانے کا شکریہ !
    محمد جاوید یوسف دیوان
    محمد نبیل خان نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,524
    موصول پسندیدگیاں:
    724
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کیا ہی صوفیانہ اور حقائق پر مبنی کلام ہے۔جزاک اللہ ۔اہل اللہ کی یہی تو تعلیم ہے۔ع: اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغِ زندگی۔
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    5,973
    موصول پسندیدگیاں:
    1,558
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب۔ماشاءاللہ۔جزاک اللہ
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. ارشاد احمد غازی

    ارشاد احمد غازی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    57
    موصول پسندیدگیاں:
    30
    صنف:
    Male
    جزا ک اللہ واقعی ماحول سے بے پرواہ ہو کر جوتا ہاتھ میں لے لیتا ہے آدمی بہت شاندار
  7. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,579
    موصول پسندیدگیاں:
    762
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

اس صفحے کو مشتہر کریں