رقابتیں نہیں ....... قرابتیں

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زوہا, ‏جون 9, 2011۔

  1. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    ایک بچی پیدا ہو کر اس دنیا میں آتی ہے تو فطری طور پر اسے بنے بنائے چند رشتے ملتےہیں کسی کی بیٹی کسی کی پوتی ، کسی کی نواسی ، کسی کی بھانجی ، کسی کی بھتیجی اور کسی کی بہن، ان تمام رشتوں سے بچی تا حیات محبتیں سمیٹتی ہے-
    وقت گزرتا ہے اور یہی بچی عورت کے روپ میں کسی کی بیوی ، کسی کی سوکن ، کسی کی بہو ، کسی کی بھاوج ، کسی کی دیورانی ، کسی کی جیٹھانی اور کسی کی نند کے رشتوں میں ڈھلتی ہے- یہ وہ رشتے ہیں جس میں رقابتیں اپنے عروج میں رہنا چاہتی ہیں - یہی وہ آگ ہے جس کا الاو سینے میں بھڑکتا رہتا ہے، کبھی حسب معمول دہکتا رہتا ہے اور کبھی آتش فشاں کی مانند پھوٹ پڑتا ہے-
    زمانہ اپنی رفتار رو کے بغیرایک انگڑائی لیتا ہے اور یہ عورت ماں کا روپ دھار لیتی ہے- یہی وہ رشتہ ہے جس میں عورت کی اصل شکل چھپی ہوئی ہے ، یہی وہ ناتا ہے جس میں عورت اپنے اصل خدوخال میں نظر آتی ہے-
    یہی وہ تعلق ہے جس میں عورت کی اصک آب وتاب اپنے جوبن پر ہوتی ہے یہی وہ قرابت ہے جس میں عورت کا اصل جلوہ مسحورکن رہتا ہے یہی وہ نسبت ہے جس میں عورت کا اصل انداز لائق تقلید ہوتا ہے
    عفوو درگزر ، صبر و تحمل ، برداشت و بردباری، جودوسخا، عطا و بخشش، چشم پوشی وصرف ونظر ،
    ایثار و قربانی یہی وہ صفات ہیںجو انسانی زندگی میں امن قائم کرتی ہیں-
    یہی وہ خوبیاں ہیں جو گھر کو جنت نظیر بناتی ہیں یہی وہ بڑائیاں ہیں جو قرابت داروں کو قریب تر کرتی ہیں یہی وہ جواہر ہیں جو گھرانے کو دیدہ زیب بناتے ہیں یہی وہ ہیرے ہیں جن سے خاندان جگمگاتا ہے یہی وہ تصویریں ہیں جن کو نطاروں کو آنکھیں ترستی ہیں ، یہی وہ تاثیریں ہیں جو دل موہ لیتی ہیں ماں ان تمام کمالات کامجسم پیکر ہوتی ہے-
    بچپن میں اپنے تمام متعلقہ رشتوں سے محبتیں سمیٹنے والی بچی ماں بن کر اپنی اولاد میں محبتیں بکھیرنے والی عورت نہ جانے کیوں زندگی کے آخری اسٹیشن پر ( ساس کے روپ میں ) رقابتیں ہی جمع کرنے لگ جاتی ہے- کیا ایسی عورت نے دنیا کے حسن کو گہنا نہیں دیا؟ کیا اس عورت کی وجہ سے زندگی کی خوبصورتی ماند نہیں پڑ گئی؟ کیا اس عورت کے ہاتھوں حیات رسوا نہیں ہو رہی؟
    مگر نہیں! اس عورت کی ایک جنبش ان رقابتی رشتوں کو بھی قرابتی رشتوں میں بدل سکتی ہے- جس انداز سے بچپن میں محبتیں سمیٹتی ہے جس شان سے ممتا محبتیں بکھیرتی ہےبس اسی آن بان سے تمام رشتوں میں محبت کی افشاں چھڑکنی ہے جو فطرت کے بھی عین مطابق ہے اور انسانی طبیعت سے بھی قریب ہے- جس دن عورت نے اپنے طبقے میں یہ اطوار اپنا لئے ، یقین جانئے اسی دن مردوں لا تعلقی بھی تعلق سے بدل جائے گی-
    اللہ تعالٰی ہمیں معاشرہ میں اسلامی اقدار کو پروان چڑھانے کی توفیق سے نوازیں ( آمین
    محمد یوسف صدیقی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,952
    موصول پسندیدگیاں:
    988
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کسی نے ایک خاتون سے سوال کیا دنیا کی سب سے زیادہ خوش نصیب خاتون کا نام بتائیے۔
    جواب دیا: حضرت حوا علیھا السلام ۔
    سائل: خوش نصیبی کی وجہ؟
    خاتون :جو انکی ساس نہ تھیں۔

    بحرکیف ایک مفید مراسلہ ہے اللہ کرے مراسلہ نگار کی ساس رقابتیں جمع کر نیوالی نہ ہو ں ۔پڑھنے والو آمین ضرور لکھنا!
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,952
    موصول پسندیدگیاں:
    988
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کسی نے ایک خاتون سے سوال کیا دنیا کی سب سے زیادہ خوش نصیب خاتون کا نام بتائیے۔
    جواب دیا: حضرت حوا علیھا السلام ۔
    سائل: خوش نصیبی کی وجہ؟
    خاتون :جو انکی ساس نہ تھیں۔

    بحرکیف ایک مفید مراسلہ ہے اللہ کرے مراسلہ نگار کی ساس رقابتیں جمع کر نیوالی نہ ہو ں ۔پڑھنے والو آمین ضرور لکھنا!

اس صفحے کو مشتہر کریں