رمضان قدم بہ قدم،احتیاط اور عمل

'ماہنامہ افکار قاسمی شمارہ نمبر 8، 2013 ماہ رمضان ن' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 30, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    رمضان قدم بہ قدم،احتیاط اور عمل
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    مولوی مجیب الرحمن منصور
    خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کراچی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    رمضان نام کی وجہ تسمیہ
    رمضان کریم اللہ رب العزت کی طرف سے مومنین کے لیے ایک انمول اور انوکھا تحفہ ہے،یہ قمری مہینوں سے نواں مہینہ ہے۔اس کی وجہ تسمیہ حدیث میں یہ آئی ہے فانھاترمض الذنوب یہ رمض سے مشتق ہے اور رمض کے معنی لغت عربیہ میں جلادینے کے ہیں۔ چونکہ اس مہینے میں یہ خصوصیت ہے کہ مسلمانوں کوگناہوں سے پاک صاف کردیتاہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کا پورا احترام اور اس کے اعمال کا اہتمام کیا جائے اس لیے اس کا نام رمضان ہوا۔
    روزے داروں کی ایک بہترین فضیلت
    حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے بہشتی زیور حصہ نمبر تین میں حدیث نقل فرمائی جس میں روزہ داروں کی ایسی فضیلت ہے کہ جب قیامت کے دن حساب کتاب ہوگا تو روزہ داروں کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں دستر خوان بچھوائیں گے اور روزہ دار لوگ میدانِ محشر کی گرمی اور حساب کی پریشانی سے محفوظ عرش کے سائے میں پلائو بریانی کھارہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی شاندار مہمانی ہوگی اور قیامت کے دن جس کو عرش کا سایہ مل جائے گا اُس کا حساب نہیں ہوگا کیونکہ جہاں حساب ہوگا وہاں سایہ نہ ہوگا اور جہاں سایہ ہوگا وہاں حساب نہ ہوگا کیونکہ سایۂ رحمت میں بلانا اور ضیافت کرنا یہ مہمان کا اعزاز ہے اور دنیا میں بھی کوئی میزبان اپنے معزز مہمان سے یہ سلوک نہیں کرتا کہ دعوت کے بعد اُس سے حساب کتاب لے یا اُس کو تکلیف دے تو اللہ پاک تو ارحم الراحمین ہیں، اُن کی رحمت سے بعید ہے کہ عرش کا سایہ دے کر پھر حساب کتاب کی پریشانی اور دوزخ کے عذاب میں مبتلا کریں۔ اس لیے ان شاء اللہ تعالیٰ روزہ داروں کی اور سایۂ عرش پانے والوں کی جنت پکی ہے۔
    فدیہ کا مسئلہ

    کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت کمزور ہوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں،پھر اگر دیندار ڈاکٹر نے کہہ دیا ہو کہ آپ کے لیے روزہ مضر ہے تو وہ مضان گذر جانے کے بعد دو سیر گندم کی قیمت روزانہ اکٹھی دے دیں لیکن پیشگی دینے سے روزہ کا فدیہ ادا نہیں ہوگا۔
    کفارہ قسم کا مسئلہ

    ایسے ہی قسم کا کفارہ ہے۔ کسی نے قسم توڑ دی تو دس مسکین کو کھانا کھلائے یا دس مسکین کو دو سیر گندم فی کس قیمت ادا کرے۔ مگر دس مسکین کو الگ الگ دے۔ اگر ایک مسکین کو دے گا تو ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوگا۔ اگر مسئلہ نہیں جانتا اور ایک مسکین کو بلایا اور کہا کہ بھئی! میں نے قسم توڑ دی ہے، تم یہ دو سیر گندم کے حساب سے دس دن کی قیم تمثلاً ڈھائی سو روپے لے لو تو ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوا۔ اس لیے چاہے اُسی مسکین کو دو مگر دس دن تک دو سیر گندم کی قیمت یومیہ دیتے رہو اور اگر آپ کو جلدی ہے، ایک ہی دن میں کفارہ دینے کا شوق ہے تو دس مسکین کو تلاش کرلو اور اگر مسکین نہ ملتے ہوں تو کسی متقی عالم کے مدرسہ میں دو جو شریعت کے مطابق کفارہ ادا کرے گا ۔ ورنہ اگر جوش میں نادانی سے ایک ہی مسکین کو دے دیا تو ایک دن کا ادا ہوگا اور قیامت کے دن نو دن کا مواخذہ ہوگا۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کو مسئلہ معلوم نہ تھا۔ وہاں یہ سوال ہوگا کہ مسئلہ پوچھا کیوں نہیں؟ کوئی روڈ پر موٹر نکالے اور ٹریفک پولیس چالان کردے اور یہ کہے کہ صاحب! مجھے اس قانون کا پتہ نہیں تھا تو پولیس والا کہے گا کہ روڈ پر کیوں موٹر نکالا، پہلے قانون سیکھو، تب روڈ پرآئو۔ اب رُوٹ پر آگئے تو اخروٹ پیش کرو چالان کا، تم تو بالکل رنگروٹ معلوم ہوتے ہو۔
    پیشہ ور بھکاریوں کوکفارہ، فدیہ وغیرہ دینا جائز نہیں

    چوراہوں پر جو مسکین نظر آتے ہیں یہ مسکین نہیں، ان کے بینک اکائونٹ ہوتے ہیں، یہ باقاعدہ گروپ ہوتا ہے، ان کا باقاعدہ ٹھیکہ ہوتا ہے، اس لیے اپنے صدقات، خیرات مدارس میں دیجئے۔ آپ کو ڈبل ثواب ملے گا۔ آپ کا واجب بھی ادا ہوجائے گا اور صدقہ جاریہ بھی ہوگا۔
    ایک اچھی فضیلت، عرش کا سایہ

    رمضان شریف کی یہ ایک ہی فضیلت کافی ہے کہ روزہ داروں کی عرش کے سائے میں اللہ میاں کی طرف سے دعوت ہوگی کہ تم لوگوں نے میری وجہ سے اپنے پیٹ کو تکلیف دی ہے لہٰذا اب قیامت کے دن اطمینان سے کھائو جبکہ سب گرمی سے پسینہ میں شرابور حساب دے رہے ہیں اور تم کو ہم میدانِ محشر کی گرمی سے نکال کر سایۂ عرش میں بریانی کھلارہے ہیں۔ تمہاری دعوت ہورہی ہے۔ کتنی مبارک ہمت تھی جس سے تم نے دنیا میں روزہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمت دے۔
    روزہ داروں کے لیے دو خوشیاں

    حدیث پاک میں ہے کہ روزہ داروں کو دو خوشیاں ہیں، ایک دنیا میں افطار کے وقت اور دوسری قیامت کے دن جب وہ اپنے رب سے ملاقات کریں گے۔ افطار میں روزہ دار کو اتنا مزہ آتا ہے کہ روزہ خور اس سے محروم ہوتا ہے۔ افطاری کے وقت روزہ دار اور غیر روزہ دار کے چہرے سے پہچان لوگے۔ اگر کسی نے روزہ نہیں رکھا لیکن پھر بھی ٹھونس رہا ہے کہ یار دہی بڑا کون چھوڑے تو اُس کا چہرہ بتادے گا کہ اس ظالم نے روزہ نہیں رکھا۔ روزہ دار کے چہرہ پر ایک نور ہوتا ہے، ایک چمک ہوتی ہے لیکن افطاری کی دعوتوں کی وجہ سے جماعت کی نماز چھوڑنا جائز نہیں۔ کہیں افطار کی دعوت ہو جس کا نام افطار پارٹی ہے وہاں سموسہ، دہی بڑا وغیرہ کی ڈش اور فش ہوتی ہے لہٰذا کبھی بھی افطاری کے لیے جماعت کی نماز مت چھوڑو۔ تھوڑی سی کھجور وغیرہ سے افطاری کرکے پانی پی لو۔ مسجد میں جماع سے نماز پڑھ کے آئو اور اطمینان سے کھائو۔ جلدی جلدی کھانے میں مزہ بھی نہیں اور دعوت والے سے پہلے ہی طے کرلو کہ بھئی! ہم جماعت سے نماز پڑھیں گے، پھر آپ کے افطار کا جتنا بھی سامان ہوا ہم سمیٹنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے تاکہ میزبان بھی خوش ہوجائے ورنہ بے چارہ درے گا کہ اتنی محنت سے پکوایا اور یہ سب جارہے ہیں، جماعت سے نماز پڑھنے۔ اس لیے اُس سے پہلے ہی وعدہ کرلو کہ ابھی جماعت پڑھ کر آتے ہیں، پھر آکے خوب کھائو، چاہے عشائیہ نہ کھائو، افطاریہ ہی کھالو لیکن افطاری میں اتنا ہوس سے اور ہبک کے کھانا کہ جس سے سجدے میں حلق سے دہی بڑا نکلنے لگے جائز نہیں۔ کود تو سجدہ میں جاتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ اکبر اللہ بڑا ہے، اُدھر دہی بڑا کہہ رہا ہے کہ میرا نام دہی بڑا ہے، پہلے میں نکلوں گا۔ اتنا کھانے کی ضرورت کیا ہے۔ اتنا کھائو کہ تراویح پڑھ سکو یہ نہیں کہ کھاکے نیند آگئی اور عشاء اور تراویح غائب یا کھٹی ڈکار آرہی ہے، چورن کھارہے ہیں اور سیون اَپ پی رہے ہیں۔ اتنا کھائو جتنی بھوک ہے جو ہضم کرلو۔ معدے کو تکلیف دینا بھی حرام ہے۔
    رمضان کی برکات سے محروم کرنے والی دو بیمایاں وگناہ

    میرے مرشد ، مجدد زمانہ عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں کہ رمضان کی اگر برکت حاصل کرنی ہے تو دوتباہ کن گناہوں اور بیماریوں سے بچنا ہوگا۔
    (۱) بدنظری

    لہٰذا رمضان میں خصوصاً بدنگاہی سے بچو۔ دو بیماریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے انسان روزہ کی برکات سے محروم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک یہی بدنظری ہے جس کی میں تفسیر پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بدنظری کو مردوں کے لیے بھی حرام فرمایا ہے اور خواتین کے لیے بھی حرام فرمایا ہے یعنی جہاں یَغُضُّوْا ہے کہ مردوں کو چاہیے کہ نظر بچائیں وہیں یَغْضُضْنَ بھی ہے کہ خواتین پر بھی فرض ہے کہ اپنی نظر کی حفاظت کریں۔
    تفسیر وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ
    لیکن وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ فرمایا اور یَصْنَعُوْنَ صنعت سے ہے اور صنعت کہتے ہیں مصنوع کو جیسے طرح طرح کی مصنوعات۔ جدہ میں یہ اشکال ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یَصْنَعُوْنَ کیوں نازل فرمایا۔ نظربازی بھی تو فعل ہے، عمل ہے پھر یَفْعَلُوْنَ اور یَعْمَلُوْنَ اللہ تعالیٰ نے کیوں نازل نہیں فرمایا، یُصْنَعُوْنَ نازل فرمایا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا! یہاں کوئی کتاب نہیں ہے مگر اے کتاب کے نازل کرے والے! آپ یہاں بھی ہیں لہٰذا اس کا جو مفہوم آپ کے نزدیک ہو میرے دل میں عطا فرمائیے۔ فوراً دل میں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ پھر یہاں کراچی آکر تفسیر روح المعانی دیکھی تو جدہ میں جو مضمون دل میں عطا ہوا تھا وہی تفسیر روح المعانی میں ملا کہ نظرباز کے چہرے کے مختلف ڈیزائن بنتے ہیں۔ کبھی اوپر دیکھتا ہے، کبھی نیچے دیکھتا ہے، کبھی داہنے دیکھتا ہے، کبھی بائیں کبھی آگے کبھی پیچھے اور اس طرح اُس کے چہرہ کی مختلف ڈیزائن اور صنعتیں بنتی رہتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ کہ ہم تمہاری مختلف قسم کی صنعتوں کو اور چہرے کی مصنوعات اور بناوٹوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کہ تمہاری آنکھیں کبھی نیم باز ہوتی ہے، آدھی کھلی اور آدھی بند مارے شرم کے اور کبھی بہت زیادہ کھلی ہوں گی، کبھی گوشہ سے داہنی طرف دیکھے گا، کبھی بائیں طرف، کبھی کالا چشمہ لگا کر دیکھے گا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ بڑے میاں کدھر دیکھ رہے ہیں ۔
    برکاتِ رمضان سے محروم کرنے والی دوسری بیماری
    (۲) غیبت

    اب دوسرا مرض جو رمضان میں بہت زیادہ مضر غیبت ہے۔ غیبت کرنے والا اپنی نیکیوں کا مال منجنیق میں رکھ کر مثلاً کراچی سے کلکتہ بھیج رہا ہے، ڈھاکہ بھیج رہا ہے، دبئی بھیج رہا ہے۔ جس کی غیبت کررہا ہے وہ چاہے دبئی کا ہو، ڈھاکہ کا ہو، کلکتہ کا ہو، مدارس کا ہو، بمبئی کا ہو، غیبت کرنے والے کی نیکیاں اُس کے اعمالنامہ میں جارہی ہیں جس کی غیبت کررہا ہے، اس لیے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بتائو! مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ہم مفلس اُس کو سمجھتے ہیں جو غریب مسکین ہو۔ فرمایا نہیں۔ مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نیکیاں روزہ، نماز، تلاوت، حج، عمرہ وغیرہ لے کر آئے لیکن غیبت سے نہیں بچا جس کی وجہ سے اُس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کی اُس نے غیبت کی ہے اور جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو جس کی غیبت کی ہے اُس ک گناہ اُس کے سر پر لاد دیئے جائیں گے جس کے نتیجہ میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    غیبت کے زنا سے اشد ہونے کی وجہ اور معافی کی اچھی تدبیر

    اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ غیبت کا گناہ زنا سے اشد ہے۔
    {اِلغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا الخـ}
    (مشکوۃ باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)
    صحابہ نے پوچھا زنا سے کیوں اشد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زناکار اپنے زنا سے اگر معافی مانگ لے تو معافی ہوجائے گی۔ جس کے ساتھ زنا کیا ہے، اس سے معافی مانگنا ضروری نہیں ہے۔ زنا کو اللہ نے اپنا حق رکھا ہے۔ یہ حق العباد نہیں ہے لیکن غیبت حق العباد ہے۔ جس کی غیبت کی ہے جب تک اُس سے معافی نہیں مانگے گا، یہ گناہ معاف نہیں ہوگا بشرطیکہ جس کی غیبت کی ہے، اُس کو اطلاع ہوجائے۔ جب تک اُس کو اطلاع نہیں ہوئی، اُس وقت تک اُس سے معافی مانگنا ضروری نہیں۔ مثلاً ایک آدمی نے یہاں بیٹھ کر لاہور والے کی غیبت کی اور اُس کو خبر نہیں ہے۔ پھر اُس کو خط لکھنا یا لاہور جاکر معافی مانگنا یہ بالکل عبث ہے، بے کار ہے بلکہ ناجائز ہے کیونکہ خواہ مخواہ آبیل مجھے مار والی بات ہے۔ وہ سوچے گا کہ یار تم کیسے آدمی ہو کہ غیبت کرتے ہو! دیکھنے میں ایسے پیارے دوست بنے ہوئے ہو، لہٰذا جس کو اطلاع نہ ہوئی ہو، اُس معافی مت مانگو نہ خط نہ وہاں جاکر۔ بس جس مجلس میں غیبت کی ہو وہاں کہہ دو کہ مجھ سے نالائقی ہوگئی، وہ مجھ سے بہتر ہیں، اُن کی خوبیوں پر افسوس میری نظر نہیں گئی۔ جیسے مکھی زخم پر ہی بیٹھتی ہے، سارا جسم اچھا ہے، اُس کو نظرانداز کرتی ہے اور صرف گندی جگہ پر بیٹھتی ہے۔ اسی طرح ہزاروں خوبیوں کو نظرانداز کرکے میں نے اُن کے ایک عیب کو دیکھا اور کیا معلوم انہوں نے اُس سے بھی توبہ کرلی ہو اور اللہ کا پیار حاصل کرلیا ہو اور تین دفعہ قل ھو اللہ شریف پڑھ کر بخش دو بلکہ صبح وشام کے جو معمولات میں نے بتائے ہیں وہ پڑھ کر روزانہ اللہ تعالیٰ سے کہہ دو کہ میں نے زندگی میں جس کی غیبت کی ہو، ستایا ہو یا مارا ہو، ان سب کا ثواب اے اللہ! اُن کو دے دے اور اُن کو یہ ثواب دکھاکر قیامت کے دن راضی نامہ کرادینا۔ ماں باپ کو بھی اس میں شامل کرلو۔ بزرگوں کا اس میں اختلاف ہے کہ ثواب تقسیم ہوکر ملے گا یا ہر ایک کو پورا ملے گا۔ مثلاً تین دفعہ قل ھو اللہ کا ثواب اگر سو آدمیوں کو بخشا کیا سو حصہ لگے گا، بانٹا جائے گا، تقسیم ہوگا؟ مگر حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق یہی ہے جس کو حکیم الامت نے نقل کیا ہے کہ ثواب تقسیم نہیں ہوگا، سب کو برابر ملے گا۔ سورئہ یٰسین شریف پڑھ کر بخشو تو ایک قرآن پاک کا ثواب ہر ایک کو پورا پورا ملے گا چاہے بے شمار آدمیوں کا بخشو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے یہ قریب ہے۔
    کفارہ غیبت کی دلیلِ منصوص

    تو غیبت کے متعلق بہت بڑے بڑے علماء بھی اس مسئلہ سے واقف نہیں ہیں۔ وہ یہی کہیں گے معافی مانگنا پڑے گی کہ یہ حق العباد ہے، بندوں کا حق ہے لیکن حکیم الامت کا یہ مضمون الطرائف و الظرائف میں، میں نے خود پڑھا ہے کہ جس کی غیبت کی ہے جب تک اُس کو اطلاع نہ ہو اُس سے معافی مانگنا واجب نہیں ہے بلکہ بعض وجہ سے جائز بھی نہیں ہے کیوکہ اس سے اُس کا دل بُرا ہوگا کہ یار! تم اچھے خاصے دوست بن کر میری غیبت کررہے تھے تو یہ اذیت پہنچانا ہوگا کیونکہ اُس کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میری غیبت کی گئی ہے لہٰذا جب تک اطلاع نہ ہو اُس سے معافی مانگنا واجب نہیں بلکہ مندرجہ بالا طریقہ سے اس کی تلافی کرنا کافی ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
    {اِنَّ مِنْ کَفَّارَۃِ الْغِیْبَۃَ اَنْ تَسْتَغْفِرَ لِمَنِ اغْتَبْتَہٗ تَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلَہٗ}

    (مشکٰوۃ باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)

    غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اُس کے لیے استغفار کرے۔ محدثین نے لکھا ہے کہ یہ اسی صورت میں ہے جب اُس کو اطلاع نہ ہوئی ہو یا اُس کا انتقال ہوگیا ہو۔ ہاں! اگر اطلاع ہوگئی تو اب اُس سے معافی مانگنا واجب ہے۔ جب تک معافی نہیں مانگوگے یہ گناہ معاف نہیں ہوگا۔ میرے مرشد حضرت والا رحمت اللہ علیہ جب یہ راز بیان فرماتے تھے توبڑے بڑے علماء حضرت والا قدس سرہ کا شکریہ ادا کرتے تھے۔
    اللہ تعالی ہمیں کاحقہ رمضان کریم کا احترام نصیب فرمائے اور اس میں احتیاطی تدابیر یعنی گناہوں سے جان لڑاکر بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
    والسلام
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں