رمضان کس طرح گزاریں؟

'ماہنامہ افکار قاسمی شمارہ نمبر 8، 2013 ماہ رمضان ن' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 29, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    رمضان کس طرح گزاریں؟
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    محمد ارمغان
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    حضرات مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک ولی ساز مہینہ ہے، یعنی اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ انسان کو اپنا بندہ بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مہینہ فرمایا ہے۔ گیارہ مہینوں کے دوران ہماری رُوحانیت میں جو کمی واقع ہوئی ہے اور ربِ کریم کے ساتھ جو تعلق کمزور پڑا ہے اور قرب میں جو دُوری آئی ہے، یہ ماہِ مبارک اس کمی، کمزوری اور دُوری کو ختم کرنے کیلئے ہے، دِلوں پر جو زنگ لگ گیا ہے اس کی صفائی کیلئے یہ مہینہ عطا کیا گیا ہے۔ حضراتِ عارفین اور اہلِ تجربہ کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے معمولات و مشاغل پورے سال کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مختصراً یہاں چند معمولات ذکر کیے جاتے ہیں ان کا اہتمام کیجئے:
    رمضان المبارک کے معمولات:
    ٭………دُنیاوی، کاروباری اور ملازمتی مصروفیات کم کر کے اور غیر ضروری تعلقات ختم کر کے زیادہ سے زیادہ ماہِ مبارک کی برکتیں و رحمتیں حاصل کرنے کا عہد کریں، گیارہ مہینے کام دھندے میں گزارے ہیں اب اس ایک مہینہ کو خالص اللہ کیلئے وقف کریں۔
    ٭………اخبار بینی وغیرہ جیسے مباح کاموں میں بھی وقت کم سے کم لگائیں، اور ویڈیو، ٹی وی دیکھنے اور گانے سننے سے بہت بچیں۔ المختصر یہ کہ اپنے قیمتی لمحات کو فضول کاموں میں ضائع ہونے سے بچائیں
    ٭………صدقِ دِل سے تمام گناہوں پر اشکِ ندامت بہا کر توبہ کریں۔
    ٭………نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کریں۔
    ٭………نوافل یعنی اشراق، چاشت، اوّابین، صلوٰۃ التسبیح، تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد اور تہجد کا معمول بنائیں۔ اور اگر آپ کے ذُمہ قضاء نمازیں ہیں تو ان کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔
    ٭………تلاوتِ قرآنِ کریم کا زیادہ سے زیادہ معمول بنائیں، کیونکہ اس مہینہ کو قرآنِ مجید سے بہت خاص مناسبت ہے۔
    ٭………جن چار کاموں کے متعلق حضور ﷺ نے تاکید فرمائی ہے اس کا خاص طور پر اہتمام کریں، یعنی کلمہ طیبہ و استغفار کی کثرت اور جنت کی طلب اور آگ سے پناہ مانگنا، ان چاروں چیزوں کے حصول کیلئے اسلاف نے ایک وظیفہ بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہے:
    لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ نَسْئَلُكَ الْجَنَّۃَ وَ نَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّارِ

    اس کے علاوہ درُود شریف اور دیگر اذکار و تسبیحات سے چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو تَر رکھیں۔
    ٭………دُعاؤں کا بہت اہتمام کریں دن ہو یا رات، ہر وقت مانگیں اور سب کیلئے مانگیں۔ مناجاتِ مقبول کی ایک منزل روزانہ پڑھ لیا کریں۔
    ٭………نفلی صدقات کی کثرت کریں۔
    ٭………گناہوں سے خصوصی طور پر بچیں۔
    ٭………صبر و شکر اور اکرامِ مسلم کا اہتمام رکھیں، نفلی عبادات کی وجہ سے حقوق العباد میں ہرگز کوتاہی نہ کی جائے۔
    ٭………لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثہ سے بہت بچیں، اگر کبھی ایسی صورتحال پیش آ جائے تو کہہ دیں کہ میرا روزہ ہے۔
    ٭………اخیر عشرہ کی پانچوں طاق راتوں میں بقدر استطاعت مسنون طریقے پر شب بیداری کریں۔
    ٭………اہل اللہ کی صحبت اور کتبِ دینیہ کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ سیرتِ رسول اکرم ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حالات مبارکہ اور اکابرینِ اُمت کی سوانح عمریاں، مواعظ، ملفوظات وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے۔ بہت سے حضرات کہتے ہیں کہ رُغبت نہیں، کچھ کہتے ہیں کہ رُغبت ہے مگر فرصت نہیں، لیکن ماہِ مبارک میں عموماً سب حضرات عبادات وغیرہ کیلئے کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالتے ہیں تو اس نکالے ہوئے وقت میں سے کچھ وقت کتبِ دینیہ کے مطالعہ میں لگائیے، ان شاء اللہ العزیز یہ تھوڑا سا وقت بھی نفع سے خالی نہ رہے گا۔
    ٭………مشائخ نے روزہ کے آداب میں چھ امور تحریر فرمائے ہیں کہ روزہ دار کو ان کا اہتمام ضروری ہے:
    (۱)نگاہ کی حفاظت(۲)زبان کی حفاظت (۳)کان کی حفاظت (۴)باقی اعضاء بدن کی حفاظت کرنا (۵)افطار کے وقت حلال مال سے بھی اتنا زیادہ نہ کھانا کہ شکم سیر ہو جائے (۶)روزہ کے بعد اس سے ڈرتے رہنا بھی ضروری ہے کہ نہ معلوم یہ روزہ قبول ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح ہر عبادت کے ختم پر۔……… یہ چھ چیزیں عام صلحاء کیلئے ضروری بتلائی جاتی ہیں، خواص اور مقربین کیلئے ان کے ساتھ ایک ساتویں چیز کا بھی اضافہ فرماتے ہیں کہ (۷)دِل کو اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف بھی متوجہ نہ ہونے دے۔
    اگر ماہِ مبارک ان باتوں کے التزام سے گزاریں گے تو ان شاء اللہ العزیز دِل کی حالت ضرور بدلے گی، دُنیا کی فنائیت محسوس ہو کر اس سے بے رُغبتی پیدا ہو گی اور فکرِ آخرت پیدا ہو گی اور سکونِ قلب کی دولت ملے گی۔ آخر میں قارئین سے عاجزانہ درخواست ہے کہ رمضان المبارک کے مخصوص اوقات میں جب آپ اپنے لیے دُعا فرمائیں تو اس سیاہ کار کو بھی شامل فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے اور اہل اللہ کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے، آمین۔
    ....٭....
    </td>
    </tr>
    </table></div>
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سبحان اللہ۔ آپ نے کمال کردیا ارمغاں بھائی
    رمضان کے معمولات پلس اور مائنس دونوں
    کما حقہ ذکر کرکے آپ نے مضمون کو چار چاند لگادیے۔
    اللہ آپ کو جزائے اتم عطا فرمائے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں