رمضان کے مہینے کو اس کے مسنون اعمال میں گذارنا زیادہ افضل ہے

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 14, 2016۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,592
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    رمضان کے مہینے کو اس کے مسنون اعمال میں گذارنا زیادہ افضل ہے
    شیخ الا سلام حضرت مفتی تقی عثمانی دامت بر کاتہم فرماتے ہیں " دین کا فہم بھی اسی کو کہتے ہیں کہ کس وقت کیا عمل جائے ؟ کون سا عمل افضل ہو گا ؟ مثال کے طور پر رمضان المبارک میں اعتکاف کا زمانہ آگیا ،اب اعتکاف کا سارے سال میں وہی مو قع ہوتا ہے "جس میں اعتکاف مسنون ہوتا ہے ، احیاء لیلۃ القدر کا سارے سال میں وہی مو قع ہو تا ہے کوئی شخص کہے کہ اعتکاف اور لیلۃ القدر کے احیاء کو چھوڑ کر جہاد کو چلو ، کیو نکہ یہ افضل ہے ، تو اس کا یہ کہنا اس لئے درست نہیں ہو گا کہ جہاد کا عمل دوسرے وقت میں انجام دیا جا سکتا ہے ، بخلاف اعتکاف کے کہ یہ ا یک خاص وقت کے ساتھ مخصوص ہے اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی فضیلت کو حاصل کی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے بعض بھائی اعتکاف کے زمانے میں کہتے ہیں کہ چلو چلہ کیلئے ، جب حاجی حج کو جاتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ حرم میں ایک لاکھ کاثواب ہے اور وہاں ( تبلیغی جماعت ) میں اُنچاس کروڑ کا ثواب ملے گا ، تو یہ تقابل صحیح نہیں ہے ، اس لئے کہ وقت وقت کی بات ہے ۔ اعتکا ف کے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اعتکاف کیا جائے ، جب کی دعوت تبلیغ کا کام دوسرے وقت میں انجام دیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح ایک آدمی ساری عمر تمنائیں کر کرکے حرم میں گیا ہے اس کے لئے تقا ضا یہ ہے کہ جتنا ہو سکے اپنا وقت حرم میں گذارے ، تبلیغ کا کام دوسرے وقت میں کر سکتا ہے (ماہنامہ تکبیر مسلسل)
    ابن عثمان نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں