1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    رمضان
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    مفتی جسیم الدین شرر
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدیً۔ الآیة:
    ترجمہ: رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔
    ماہ رمضان رحمتوں، برکتوں اور سعادتوںکا مہینہ ہے۔ خود لفظ رمضان بھی برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے حرف حرف میں برکت ہے۔
    رمضان کے پانچ حروف ہیں۔ ر-رضوان اللہ (یعنی اللہ کی خوشنودی) ہے۔ م-محبة اللہ یعنی اللہ کی محبت ہے۔ ض-ضمان اللہ کا ہے یعنی اللہ کی ذمہ داری، الف-الفت کا ہے اور ن-نور اور نوال مہربانی اور بخشش کا ہے۔ یعنی اللہ کے اولیاء اور صلحاء اور ابرار کے لیے بخشش اور عزت کی طرف اشارہ ہے۔ کیوں کہ رمضان اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے ایک نام ہے۔ علماء کا خیال ہے کہ قرآن میں ”شهر رمضان“ کا لفظ آیا ہے اور حدیث شریف میں ماہ رمضان کے لیے ”شهر الله“ (اللہ کا مہینہ) آیا ہے۔ اس لیے آیت میں رمضان سے مراد اللہ ہے۔ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اپنے اجداد سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (سیدھے سیدھے) لفظ رمضان نہ کہرو بلکہ اس کے نسبت کے ساتھ کہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کی نسبت فرمائی ہے اور شهر رمضان فرمایا ہے۔
    تمام مہینوں میں رمضان کی مثال ایسی ہے جیسے سینہ میں دل یا انسانوں میں انبیاء کرام یا شہروں میں حرم مکہ، مکہ مکرمہ ایسی بابرکت جگہ ہے جس کے اندر ملعون دجّال داخل نہ ہوسکے گا۔
    ماہِ رمضان میں سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ انبیاء گنہگاروں کی سفارش کرتے ہیں۔ ماہِ رمضان بھی گنہگاروں کی سفارش کرے گا۔ دل کی صفائی، معرفت اور ایمان و نور سے ہوتی ہے۔ اسی طرح ماہ رمضان کی زینت قرآن پاک سے ہوتی ہے۔ ماہ رمضان میں جس شخص کی مغفرت نہیں ہوئی اس کی مغفرت کے لیے اور کونسا مہینہ ہوگا جس میں وہ بدنصیب بخشا جائے گا۔ اس کو چاہیے کہ فوراً توبہ کرے اور اپنی مغفرت کی دعا کرے۔
    حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ماہ رمضان المبارک کی تین راتوں میں صحیفے نازل کیے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت ماہ رمضان کے جمعہ کی راتوں میں نازل ہوئی، حضرت داود علیہ السلام پر زبور ماہ رمضان المبارک کی اٹھارویں شب کو اتاری گئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل ماہِ رمضان کی تیرہ تاریخ کو اتری اور رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید رمضان المبارک کی چودہویں تاریخ کو اترا۔ اس بارے میں مشہور قول یہ ہے کہ چودہویں شعبان یعنی شب برات (لیلة مبارکة) میں پورا قرآن نازل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نزول کا آغاز رمضان کی ستائیسویں شب قدر (لیلة القدر) سے ہوااور تئیس سال کے عرصے میں وقفے وقفے سے (لتقراءه الناس علیٰ مُکثٍ) حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نبی اکرم ﷺ پر اترتارہا۔
    تمام آسمانی کتابوں کا نزول انسانوں کی ہدایت کے مقصد سے ہوا۔ خود کلامِ پاک کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے۔ ہدیً للناس وبیّنٰت من الہدی والفرقان۔۔ ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور حق و باطل کے درمیان فرق کردینے والا ہے۔ (سورہ بقرہ)

    جس مہینے میں تمام آسمانی کتابیں اتاری گئی ہوں اس سے زیادہ بابرکت دوسرا مہینہ نہیں ہوگا اگر کوئی اس کی قدر ہی نہ کرے تو اور بات ہے۔
    نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایاتھا کہ جب تک میری امت ماہِ رمضا کی حرمت باقی رکھے گی وہ رسوا نہیں ہوگی۔ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! رسوائی کیسی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان میں جس نے حرام عمل کیا یا کوئی گناہ کیا، شراب پی لی یا زنا کیا اس کا رمضان (کوئی روزہ) قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور آئندہ سال تک اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور آسمان والوں کی لعنت ہوگی۔ اگر اس عرصہ میں وہ مر جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کی کوئی نیکی قبول نہ ہوگی۔
    تمام آدمیوں میں حضرت آدم علیہ السلام سردار ہیں، تمام عرب والوں کے نبیٔ اکرم سردار، فارسی والوں کے سردار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، سب رومیوں کے سردار حضرت صہیب رومی رضی اللہ، حبشیو کے سردار حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اسی طرح تمام بستیوں میں مکہ مکرمہ کو سرداری حاصل ہے، وادیوں میں وادیٔ بیت المقدس کو حاصل ہے، دنوں کا سردار یوم الجمعہ ہے، راتوں میں شب قدر کو سرداری حاصل ہے، کتابوں میں قرآن کریم کو، سورتوں میں سورہ بقرہ کو، سورہ بقرہ میں آیت الکرسی کو، سب آیتوں میں سرداری و بزرگی حاصل ہے۔ پتھروں میں حجر اسود کو تمام پتھروں میں بزرگی حاصل ہے اور چاہ زمزم کو ہر کنویں سے افضلیت حاصل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہر عصا سے بر تر تھا اور جس مچھلی کے شکم میں حضرت یونس علیہ السلام رہے تھے وہ تمام مچھلیوں میں افضل تھی، حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی تمام اونٹنیوں میں افضل تھی اور اسی طرح براق ہر گھوڑے سے افضل تھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی تمام انگوٹھیوں میں برتر و افضل تھی اور ماہ رمضان تمام مہینوں کا سردار اور ان سے بزرگ و افضل ہے۔
    اس کے استقبال کے لیے جنت سال بھر آراستہ کی جاتی ہے۔ ماہ رمضان کی پہلی ہی رات جنت کے دروزے امت محمدیہ کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، سرکش شیطانوں کو قید کرکے زنجیروں میں جکڑ کر سمندر کے گردابوں میں پھینک ید اجاتا ہے تاکہ حبیب خدا ﷺ کی امت کے روزوں کو خراب نہ کرنے پائیں، ماہِ رمضان کی ہر رات میں اللہ تعالیٰ تین مرتبہ فرماتا ہے کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کا سوال پورا کروں؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کو توبہ قبول کروں، کیا کوئی مغرت کا طالب ہے کہ میں اس کو بخش دوں، ماہ رمضان کے ہر روز افطار کے وقت ہزاروں دوزخی دوزخ سے آزاد کردیئے جاتے ہیں اور آخری دن آتا ہے تو اول تاریخ سے آخری تاریخ تک مجموعی طور پر جتنے افراد دوزخ سے آزادی پچکے ہیں ان کی تعداد کے برابراس آخری روز آزاد کیے جاتے ہیں۔
    جو بندۂ مؤمن خواہ مرد ہو یا عورت اس ماہ کی راتوں میں نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہر سجدے کے عوض ایک ہزار سات سو نیکیاں لکھتا ہے۔ اس ماہ کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے پورے انتیس یا تیس روزے فرض فرمائے ہیں اور اس مہینے کی راتوں می عبادت کو افضل قرار دیا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں ایک نیکی یا ایک فرض کا ثواب ایسا ہے جیسے دوسرے مہینوں میں ستر فرض کا ثواب۔
    یہ مہینہ صر کا ہے اور صبر کابدلہ جنت ہے اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کا رزق بڑھادیا جاتا ہے، جو کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتے ہیں اور جہنم کے عذاب سے آزادی عطا کرتے ہیں. روزہ دار کے ثواب کم بھی نہیں کیا جاتا اور افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب بھی ملتا ہے. اس کا اول حصہ )شروع کے دس دن( رحمت ہے درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے.
    ماہِ رمضان کی خاص عبادت روزہ ہے جس کی فرضیت قرآن کریم سے ثابت ہے۔ احادیث مبارکہ میں جس کی تاکید ہے۔ جس نے جان بوجھ کر بلاعذر ماہِ رمضان کا ایک روزہ چھوڑدیا وہ زندگی بھر بھی روزہ رکھے تو چھوٹے ہوئے روزے کی قضا اور اس کا ثواب حاصل نہیں کرسکتا۔
    اللہ تعالیٰ کی شفقت ومہربانی پر قربان جائیے کہ اس نے ہر حال میں سب پر روزہ رکھنا ضروری قراار نہیں دیا۔ بیماروں اور مسافروں اور حیض و نفاس والی عورتوں کو رخصت دیدی کہ وہ بعد میں اپنے چھوڑے ہوئے روزے پورے کرلیں۔
    روزے کی نیت سے طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب (سورج ڈوبنے) تک کھانے پینے اور ہم بستری سے رکے رہنے اور ان کو چھوڑ دینے کا نام روزہ ہے، یہ پچھلی امتوں پر بھی فرض تھا ماہِ رمضان المبارک کی دوسری عبادت پہلی تاریخ پہلی تاریخ سے تراویح پڑھنا ہے۔ تراویح پورے مہینے بیس رکعت پڑھی جاتی ہے۔ تراویح میں ختم قرآن بھی علاحدہ سنت ہے۔
    تمام اہل سنت والجماعت تراویح بیس رکعت کے قائل ہیں اس میں کسی بھی امام (ابو حنیفہ، شافعی، مالک و احمد) کا اختلاف نہیں، رہ گئے غیر مقلد اہل حدیث وہ اہل سنت والجماعت سے خارج گمراہ اور بدعتی ہیں، اہل حدیث علماء (اصلی) بھی بیس رکعت تراویح پڑھتے پڑھاتے تھے جس زمانہ میں غیر مقلدوں نے آٹھ رکعت تراویح کا فتنہ کھڑا کیا مشہور اہل حدیث عالم میاں نذیر حسین دہلوی نے اپنے شاگرد سے اس کی رد میں ایک رسالہ لکھ کر شائع کرایا تھا۔ آٹھ رکعت تراویح پر اصرار کرنا غلطی ہے تراویح کتنی رکعتیں پڑھی جائیں۔ حضور ﷺ سے منقول نہیں جب کہ امام ابن تیمیہ نے فتاویٰ ان تیمیہ ج 2 ص 46 میں، علامہ شوکانی غیر مقلد نے نیل الاوطار ج 3 ص 46 میں، علامہ وحید الزمان غیر مقلد نے نزل الابرار ج 1 ص 126 میں، نواب صدیق حسن خان غیر مقلد نے الانتقاد الرجیح ص 61 میں اور میر نور الحسن غیر مقلد نے عرف الجاری میں اعتراف کیا ہے۔
    اہل سنت والجماعت کی دلیل حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ہے جو حدیث کی کاب مصنف عد الرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیس رکعت پڑھی تھی۔
    اہل سنت والجماعت کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 15ھ میں بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی میں اسی وقت سے بیس رکعتیں تراویح پڑھی جانے لگیں۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت جابر کے علاوہ حضرت عثمان و علی اور بے شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے بھی 20 رکعات کی مخالفت نہیں کی۔
    کوئی بھی فرد یا قوم صحابہ کرام سے زیادہ متقی، باایمان اور پاک باز ہونے کا دعویٰ کرے وہ کذّاب،بدعتی اور گمراہ ہے۔
    رمضان کا ایک خاص عمل اعتکاف ہے، آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور پوری امت مسلمہ کو ماہِ رمضان کی کی رحمتیں، برکتیں اور سعادتیں عطا کرے۔
    آمین
    </td>
    </tr>
    </table></div>
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    @[احمدقاسمی] بھائی اس کی تصحیح کرلیں۔ اور عنوان بھی لکھ دیں۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,651
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مسلسل ایک ہی مضمون ہے “رمضان عنوان“ کے تحت ۔انشاء اللہ مفتی صاحب خود ہی تصحیح فر مائیں گے ۔بہت بہت شکریہ۔
  4. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مفتی جسیم صاحب جزاک اللہ عمدہ تخلیق ہے

اس صفحے کو مشتہر کریں