روزنامہ اسلام کراچی میں خبریں اور علمائے کرام کی جانب سے تعزیتی پیغام

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 21, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    روزنامہ اسلام کراچی میں خبریں اور علمائے کرام کی جانب سے تعزیتی پیغام​


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    (3)
    [​IMG]
    (4)
    [​IMG]
    (5)
    [​IMG]
    (6)
    [​IMG]
    (7)
    [​IMG]
    (8)
    [​IMG]
    (9)
    [​IMG]
    (10)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پیر، روزنامہ اسلام، ۲۳؍ رجب ۱۴۳۴ھ مطابق 3 جون 2013ء
    عالم ربانی مولانا حکیم محمد اختر انتقال کرگئے، انا للہ وانآ الیہ راجعون
    ٭2000ء میں فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے بستر علالت پر تھے‘ انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی‘ عمر 90 سال تھی‘ شریعت وطریقت دونوں پر رسوخ حاصل تھا
    ٭1924ء میں یوپی (ہندوستان) میں پیدا ہوئے‘ کراچی میں خانقاہ‘ مدرسہ اور کئی مساجد قائم کیں‘ تصوف کے چاروں سلسلوں میں مجاز بیعت تھے‘ دینی خدمات کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا
    کراچی (مصور چودھری+اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد90 سال کی عمر میں اتوار کو کراچی میںعصر و مغرب کے درمیان انتقال کرگئے، ان کی نماز جنازہ آج (پیر کو ) صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔ مولاناشاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گائوں اٹھیہہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے، آپ کی دو بہنیں تھیں۔ ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی، شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے اور پھر جوانی میں عالم دین کا کورس مکمل کیا۔ مولانا حکیم اختر نے ابتدا ء میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سیّد بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔ بعد ازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے جہاں ان کے مدرسہ میں جوانی میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہر دوئی میں مولانا شاہ ابرارالحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ جن تین بزرگوں سے خلافت ملی وہ تینوں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء تھے۔ تصوف کے چاروںسلسلوں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سے منسلک تھے۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد 1954ء یا1955ء میں پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا جس میں 5000 سے زاید طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان کی مواعظِ حسنہ پر مشتمل چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد150 سے زاید ہے۔ مولانا نے ’’معارف مثنوی‘‘ کے نام سے مثنوی مولانا مرحوم کی شرح لکھی جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے، دیگر کتابوں کے بھی اردو، سندھی، عربی، پشتو، بنگلا، برمی، جرمن، فرنچ، انگریزی، روسی اور دیگر کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں، مولانا کی نگرانی میں الاختر ٹرسٹ قائم ہوا تاہم بعد ازاں امریکا نے جن چند اداروں پر پابندی عاید کی ان میں الاختر ٹرسٹ بھی شامل تھا۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقہ کے معروف کرکٹر عبداللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی گزشتہ دن عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا کی نماز جنازہ آج (پیر کو) صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔
    ۔
    مولانا کی کتابوں کا 7 زبانوں میں ترجمہ ہوا
    ٭تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 کے لگ بھگ، آڈیوکیسٹیں، سی ڈیز موجود
    ٭مثنوی مولانا روم کی بے مثال تشریح لکھی، ’’ فیضان محبت‘‘ کے نام سے مجموعہ کلام بھی چھپا
    کراچی ( نمایندہ خصوصی ) مولانا شاہ حکیم محمد اختر نہ صرف روحانی بزرگ تھے بلکہ بہترین مصنف اور اردو زبان کے قادر الکلام شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔ تصوف اور معرفت آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ آپ نے مثنوی مولانا روم کی معارف مثنوی کے نام سے معرکۃ الآراء شرح لکھی۔ ان کے اردو کلام کا مجموعہ’’ فیضان محبت ‘‘ بھی موجود ہے۔ ان کی کتابوں کی چھپائی کا کام مسلسل جاری رہتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت آپ کی تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 سے زاید ہے۔ آپ کے بیانات آڈیوکیسٹوں، سی ڈیز پر بھی دستیاب ہیں جبکہ آپ کی کتابوں کا دنیا کی 7 زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔
    ۔
    کئی ممالک میں ہزاروں خلفاء و مریدین موجود ہیں
    ٭بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ ودیگر شامل ہیں
    ٭مولانا نے دین اسلام کی تبلیغ کے لیے خود بھی کئی ممالک کا دورہ کیا
    کراچی ( نمایندہ خصوصی ) مولانا حکیم محمد اختر کے خلفاء اور مریدین ہزاروں کی تعداد میں ہیں جبکہ ان کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلاہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلفاء اور مریدین بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور برما سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔ مولانا حکیم محمد اختر نے دین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں کئی ممالک کا دورہ کیا تاہم زندگی کے آخری ایام میں صحت کی خرابی کے سبب یہ سلسلہ موقوف ہوگیا تھا۔
    ۔
    نماز جنازہ حسب وصیت صاحبزادہ حکیم محمد مظہر پڑھائیں گے
    کراچی (اسٹاف رپورٹر ) مولانا حکیم محمد اختر فالج کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا علاج گلشن اقبال خانقاہ امدادیہ اشرفیہ ہی میں ہوتا تھا جہاں وہ آخری وقت تک مقیم رہے۔ ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ ان کے بیٹے حکیم محمد مظہر پڑھائیں گے۔ مولانا مرحوم کے لواحقین میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں، اہلیہ کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔
    ۔
    مولانا حکیم اختر کی وفات قومی سانحہ ہے، علامہ اورنگزیب فاروقی
    ٭حضرت شیخ کی جدائی سے عالم اسلام یتیم ہوگیا، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اہلسنّت والجماعت
    کراچی(اسٹاف رپورٹر)حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ عالم اسلام کے بہت بڑے روحانی بزرگ تھے۔حضرت شیخ کی جدائی سے عالم اسلام یتیم ہوگیا ہے۔دنیا بھر کے جید علماء کرام، صوفیاء کرام اور مشائخ عظام کے علاوہ مذہبی طبقے کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ان خیالات کا اظہار اہلسنّت و الجماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ اورنگزیب فاروقی نے مرکز اہلسنّت سے جاری بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ حضرت حکیم محمد اخترصاحب ؒ کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، ان کے اصلا حی مواعظ و بیانات سے لاکھوں لوگ دین کی طرف راغب ہوئے اور آج حضرت شیخ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔اس موقع پر انہوں نے ہنگو میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے نومنتخب رکن فرید خان شہید کے قتل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ فرید خان شہید اہلسنّت و الجماعت کے دیرینہ ہمدرد تھے۔ انہوں نے حکومت سے فرید خان شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ فرید خان شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ہنگو کے حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
    ٭٭٭
    مولانا حکیم اختر کی رحلت افسوسناک سانحہ ہے، پیر عزیزالرحمن ہزاروی
    ٭%امت ایک مشفق مربی اور رہبر شریعت سے محروم ہوگئی، مولانا فضل الرحمن خلیل
    ٭مولانا ظہور علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور مولانا عبدالعزیز کا اظہار تعزیت
    اسلام آباد (نمایندہ خصوصی) انصارالامہ پاکستان کے سربراہ و دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمن خلیل، پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ولی کامل مولانا حکیم محمد اختر ؒ کی رحلت عالم اسلام کے لیے افسوسناک سانحہ ہے، مولانا کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پُر نہیں ہوسکے گا، امت ایک مشفق مربی اور رہبر شریعت سے محروم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کے دوران ولی کامل مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم عظیم روحانی رہنما سے محروم ہوگئی، ان کی موت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پر نہیں کیا جاسکے گا۔ دریں اثناء پیر عزیزالرحمن ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز نے اپنے تعزیتی بیان میں مولانا حکیم محمد اخترؒ کی رحلت کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرتؒ سچے عاشق رسول تھے، انہوں نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
    ٭٭٭٭
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,290
    موصول پسندیدگیاں:
    1,707
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پیر، روزنامہ اسلام، ۲۳؍ رجب ۱۴۳۴ھ مطابق 3 جون 2013ء
    عالم ربانی مولانا حکیم محمد اختر انتقال کرگئے، انا للہ وانآ الیہ راجعون

    ٭2000ء میں فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے بستر علالت پر تھے‘ انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئی‘ عمر 90 سال تھی‘ شریعت وطریقت دونوں پر رسوخ حاصل تھا
    ٭1924ء میں یوپی (ہندوستان) میں پیدا ہوئے‘ کراچی میں خانقاہ‘ مدرسہ اور کئی مساجد قائم کیں‘ تصوف کے چاروں سلسلوں میں مجاز بیعت تھے‘ دینی خدمات کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا
    کراچی (مصور چودھری+اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد90 سال کی عمر میں اتوار کو کراچی میں عصر و مغرب کے درمیان انتقال کرگئے، ان کی نماز جنازہ آج (پیر کو ) صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔ مولاناشاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گاؤں اٹھیہہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے، آپ کی دو بہنیں تھیں۔ ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی، شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے اور پھر جوانی میں عالم دین کا کورس مکمل کیا۔ مولانا حکیم اختر نے ابتدا ء میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سیّد بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔ بعد ازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے جہاں ان کے مدرسہ میں جوانی میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہر دوئی میں مولانا شاہ ابرارالحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ جن تین بزرگوں سے خلافت ملی وہ تینوں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء تھے۔ تصوف کے چاروں سلسلوں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سے منسلک تھے۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد 1954ء یا1955ء میں پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا جس میں 5000 سے زاید طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان کی مواعظِ حسنہ پر مشتمل چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد150 سے زاید ہے۔ مولانا نے ’’معارف مثنوی‘‘ کے نام سے مثنوی مولانا مرحوم کی شرح لکھی جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے، دیگر کتابوں کے بھی اردو، سندھی، عربی، پشتو، بنگلا، برمی، جرمن، فرنچ، انگریزی، روسی اور دیگر کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں، مولانا کی نگرانی میں الاختر ٹرسٹ قائم ہوا تاہم بعد ازاں امریکا نے جن چند اداروں پر پابندی عاید کی ان میں الاختر ٹرسٹ بھی شامل تھا۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقہ کے معروف کرکٹر عبداللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی گزشتہ دن عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا کی نماز جنازہ آج (پیر کو) صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔
    ۔
    مولانا کی کتابوں کا 7 زبانوں میں ترجمہ ہوا
    ٭تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 کے لگ بھگ، آڈیوکیسٹیں، سی ڈیز موجود
    ٭مثنوی مولانا روم کی بے مثال تشریح لکھی، ’’ فیضان محبت‘‘ کے نام سے مجموعہ کلام بھی چھپا
    کراچی ( نمایندہ خصوصی ) مولانا شاہ حکیم محمد اختر نہ صرف روحانی بزرگ تھے بلکہ بہترین مصنف اور اردو زبان کے قادر الکلام شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔ تصوف اور معرفت آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ آپ نے مثنوی مولانا روم کی معارف مثنوی کے نام سے معرکۃ الآراء شرح لکھی۔ ان کے اردو کلام کا مجموعہ’’ فیضان محبت ‘‘ بھی موجود ہے۔ ان کی کتابوں کی چھپائی کا کام مسلسل جاری رہتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت آپ کی تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 سے زاید ہے۔ آپ کے بیانات آڈیوکیسٹوں، سی ڈیز پر بھی دستیاب ہیں جبکہ آپ کی کتابوں کا دنیا کی 7 زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔
    ۔
    کئی ممالک میں ہزاروں خلفاء و مریدین موجود ہیں
    ٭بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ ودیگر شامل ہیں
    ٭مولانا نے دین اسلام کی تبلیغ کے لیے خود بھی کئی ممالک کا دورہ کیا
    کراچی ( نمایندہ خصوصی ) مولانا حکیم محمد اختر کے خلفاء اور مریدین ہزاروں کی تعداد میں ہیں جبکہ ان کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلاہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلفاء اور مریدین بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور برما سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔ مولانا حکیم محمد اختر نے دین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں کئی ممالک کا دورہ کیا تاہم زندگی کے آخری ایام میں صحت کی خرابی کے سبب یہ سلسلہ موقوف ہوگیا تھا۔
    ۔
    نماز جنازہ حسب وصیت صاحبزادہ حکیم محمد مظہر پڑھائیں گے
    کراچی (اسٹاف رپورٹر ) مولانا حکیم محمد اختر فالج کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا علاج گلشن اقبال خانقاہ امدادیہ اشرفیہ ہی میں ہوتا تھا جہاں وہ آخری وقت تک مقیم رہے۔ ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ ان کے بیٹے حکیم محمد مظہر پڑھائیں گے۔ مولانا مرحوم کے لواحقین میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں، اہلیہ کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔
    ۔
    مولانا حکیم اختر کی وفات قومی سانحہ ہے، علامہ اورنگزیب فاروقی
    ٭حضرت شیخ کی جدائی سے عالم اسلام یتیم ہوگیا، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اہلسنّت والجماعت
    کراچی(اسٹاف رپورٹر)حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ عالم اسلام کے بہت بڑے روحانی بزرگ تھے۔حضرت شیخ کی جدائی سے عالم اسلام یتیم ہوگیا ہے۔دنیا بھر کے جید علماء کرام، صوفیاء کرام اور مشائخ عظام کے علاوہ مذہبی طبقے کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ان خیالات کا اظہار اہلسنّت و الجماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ اورنگزیب فاروقی نے مرکز اہلسنّت سے جاری بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ حضرت حکیم محمد اخترصاحب ؒ کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، ان کے اصلا حی مواعظ و بیانات سے لاکھوں لوگ دین کی طرف راغب ہوئے اور آج حضرت شیخ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔اس موقع پر انہوں نے ہنگو میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے نومنتخب رکن فرید خان شہید کے قتل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ فرید خان شہید اہلسنّت و الجماعت کے دیرینہ ہمدرد تھے۔ انہوں نے حکومت سے فرید خان شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ فرید خان شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ہنگو کے حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
    ٭٭٭
    مولانا حکیم اختر کی رحلت افسوسناک سانحہ ہے، پیر عزیزالرحمن ہزاروی
    ٭%امت ایک مشفق مربی اور رہبر شریعت سے محروم ہوگئی، مولانا فضل الرحمن خلیل
    ٭مولانا ظہور علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور مولانا عبدالعزیز کا اظہار تعزیت
    اسلام آباد (نمایندہ خصوصی) انصارالامہ پاکستان کے سربراہ و دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمن خلیل، پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ولی کامل مولانا حکیم محمد اختر ؒ کی رحلت عالم اسلام کے لیے افسوسناک سانحہ ہے، مولانا کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پُر نہیں ہوسکے گا، امت ایک مشفق مربی اور رہبر شریعت سے محروم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کے دوران ولی کامل مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم عظیم روحانی رہنما سے محروم ہوگئی، ان کی موت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پر نہیں کیا جاسکے گا۔ دریں اثناء پیر عزیزالرحمن ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، قاضی عبدالرشید، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی اور خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز نے اپنے تعزیتی بیان میں مولانا حکیم محمد اخترؒ کی رحلت کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرتؒ سچے عاشق رسول تھے، انہوں نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
    ٭٭٭٭
  4. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    @[مجیب منصور] بھائی!
    اس کی کمپوزنگ مکمل کر دیجئے۔7نمبر سے 10نمبر تک کے صفحات رہتے ہیں۔
    @[محمدداؤدالرحمن علی] بھائی!
    آپ نے اس كی تصحيح كيوں كر دی ابھی یہ نامكمل هے؟
  5. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جو کمپوزنگ کے لیے رہتے تھے وہ احقر نے کر لیے ہیں، اس لیے کوئی بھائی نہ کرے۔
  6. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماشاء اللہ ایدک اللہ،احسنت اخی

اس صفحے کو مشتہر کریں