روزہ فقہی سمینار میں کرایہ داری ،حق وراثت پر مفتیان اکرام کا اظہار خیال

'افکارِ قاسمی شمارہ 7 جون 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 3, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    2 روزہ فقہی سمینار میں کرایہ داری ،حق وراثت پر مفتیان اکرام کا اظہار خیال
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    مراسلہ۔احمد قاسمی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    پلاٹنگ ، رئیل اسٹیٹ میں زمینوں کی خرید ورفروخت کی رائج بعض صورتیں کرایہ میں حق وراثت اور کرایہ داری میں ڈپازت جیسے آج کل کے بڑے سوالات پر دارالعلوم دیوبند ، ندوۃ العلماء ، جامعہ قاسمیہ مرادآبادسمیت ملک بھر کے نامور مفتیان کرام وفقہا ء نے متفقہ طور پر فیصلہ کر کے ان کاروبار سے جڑے لاکھوں مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کی ہے ۔ مساجد اور اوقاف کی زمینوں پر کرایہ داروں کے نا جائز قبضے اور زمینوں کی خرید وفروخت میں غبن اور دھوکہ دہی کے عام معاملات کی وجہ سے یہ سولات کافی اہم ہو گئے تھے ۔ جمعیۃ العلماء ہند کے ادارہ مباحث فقہیہ کے زیر اہتمام دو روز تک ان مسائل پر کافی بحث ومباحثہ ہوئے ۔ طویل کرایہ داری میں کرایہ پر لیا گیا مکان یا دکان کرایہ دار کے مرنے کے بعد بھی ان کے ورثا کے ذریعے قبضہ جمالینے پر کئی علماء نے تشویش کا اظہار کیا ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹی مولانا محمود مدنی نے اس موضوع پر ا ظہار خیال کرتے ہو ئےکہا کہ طویل کرایہ داری کی وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور بڑی تعداد مکان مالکوں کی ایسی ہے جن کی حق تلفی کرایے داروں کی طرف سے ہو رہی ہے لہذا مالک اور کرایے دارکو ایک حیثیت میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔
    اس تناظر میں اوقاف اور مساجد کی جائدادوں کی کرایہ داری کے ساتھ ہو رہے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا مدنی نے مفتیان کرام سے اپیل کی کہ طویل کرایہ داری کے تحفظ حق، زیادتی اور نا انصافی کومد نظر رکھ کر ہی کسی تجویز پر غور کریں اس پہلو پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی ، مفتی سعید احمد پالن پوری اور مولانا عتیق بستوی نے بھی یکساں طور سے تشویش کا اظہار کیا۔ ملک کے موجودہ قوانین ،برٹش دور میں جاری کرایے کے حوالے سے مولانا نیاز احمد فاروقی ایڈو کیٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ برٹش حکومت نے مسلم زمین داروں اور مالکوں کو ان کی جائداد سے محروم کر نے کے لئے جو حربے اپنائے ان میں سے کرایہ داری قانون بنانے کا معاملہ ہے اس تعلق سے کئی امور زیر بحث آئے ۔ مفتیوں کی طرف سے اختلافی آرا ء کا بھی اظہار کیا گیا ۔ متفقہ طور پر رائے بنانے کے مقصد سے سات نفری کمیٹی تشکیل دی گئی ۔کرایہ داری کا مسئلہ جہاں تفصیل سے زیر بحث آیاو ہیں گزشتہ نشستوں میں زیر بحث موضوعات کے سلسلے میں تشکیل کردہ کمیٹیوں نے جو تجاویز پیش کیں ، وہ بھی زیر بحث آئیں ۔اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

    زمینوں کی خرید وفروخت کی رائج بعض صورتوں کے متعلق تجویز میں ان نکات کو متفقہ طور پر سامنے لا یا گیا:
    (۱) اگر خریدار مقررہ مدت میں پو ری قیمت ادا کر دے تو یہ عقد بلا شبہ لازم ہو جائیگا اور خریدار کے تمام تصرفات صحیح اور معتبر ہوں گے اور اس زمین سے حاصل شدہ نفع بھی اس کے لیے حلال ہو گا۔
    (۲) اگر خریدار متعینہ مدت میں بائع کو قیمت ادا نہ کر سکا لیکن اس نے زمین میں کوئی تصرف بھی نہ کیا ، مثلا اس کو کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت نہیں کیا تو مدت مقررہ پوری ہوتے ہی سابقہ معاملہ کا لعدم ہو جائیگا اور شروع میں دی گئی رقم اسے واپس کر نی ہو گی۔
    (۳) البتہ اگر فریقین اس مدت تو سیع کر نے پر راضی ہوں تو یہ از سر نو معاملہ سمجھا جائے گا۔
    (۴) متعینہ مدت میں پوری قیمت تو ادا نہیں کی البتہ بعض قیمت ادا کر دی ہے اور اس دوران کوئی مالکانہ تصرف بھی نہیں کیا ہے تو بھی وقت گزرتے ہی یہ عقد کالعدم ہو جائے گا اور خریدار نے بائع کو جو قیمت ادا کرد ی ہے وہ اسے واپس کر نی ہوگی ،بائع کیلئے اسے ضبط کرنا جائز نہیں ہے۔
    (۵) اگر متعینہ مدت میں پوری قیمت ادا نہیں ہوئی لیکن خریدا ر نے زمین میں مالکانہ تصرف کرتے ہوئے اس زمین کا کوئی حصہ دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دیا تو ایسی صورت میں خریدار کے تصرف کی وجہ سے یہ عقد لازم ہو جائیگا اور خریدار پر طئے شدہ باقی رقم کی ادائیگی فی الفور ضروری ہو گی ،اب اگر خریدار قیمت کی ادائیگی میں ٹال متول کرے تو بائع کو اختیار ہو گا کہ وہ باقی ماندہ حصہٗ زمین میں سے اپنی بقیہ رقم کے بقدر زمین وصول کر لے۔
    (۶) اگر کسی وجہ سے بیع اول فسخ ہوا اور اس دوران مشتری اول نے کسی تیسرے شخص سے وعدہ بیع کے ضمن میں کوئی رقم لے رکھی ہو تو صرف اسی قدر رقم واپس کر نی ہو گی جو مشتری اول نے اس سے لی ہے ، اس سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں ہے۔
    (۷) چونکہ عام طور پر مقررہ وقت پر پوری قیمت ادا نہ ہو نے کی صورت میں عقد لازم ما ننے کی شکل میں مشتری کی طرف سے قیمت کی ادا ئیگی میں ٹال مٹول کا اندیشہ واقعی ہے جس میں بائع کا کھلا ہوا ضرر ہے ،اس لئے شریعت کی روشنی میں اس طرح کے معاملات میں بے غبار شکل یہ ہے کہ بائع اول شروع میں مشتری کے ہاتھ بیع قطعی نہ کرے بلکہ معاملہ وعدہ بیع کے درجہ میں رکھے اور خریدار کو دلال یا وکیل سمجھے ، پھر جس قدر حصہ میں آگے بیع ہو تی ہے اسی قدراس کا نفاذ ہو تا رہے ،اس صورت میں وقت پر قیمت ادا نہ ہونے کی صورت میں فساد یا لزوم کچھ نہ ہو گا اور درمیانی شخص ( بلڈر وغیرہ) کو جو نفع ملے گا وہ اس کی دلالی یا وکالت کی اجرت شمار ہو گی اور عرف عام ہو نے کی وجہ سے اس نفع میں جہالت مفضی الی النزاع نہ ہوگی ۔

    جبکہ دوسرے موجوع طویل مدتی کرایہ کے مکانوں اور دکانوں میں وراثت سے متعلق تجویزمیں یہ طئے کیا گیا کہ:
    (۱) کرایہ دار کو شرعی اصول کی روشنی میں حقیقی مالک کے درجہ میں نہیں رکھا جا سکتا ، بلکہ وہ صرف کرایہ داری کے زمانہ میں اس ملکیت سے انتفاع کا حق رکھتا ہے بیع وشرع کا حق نہیں رکھتا۔
    (۲) اگر کرایہ داری کی مدت متعین ہو تو مقرر ہ وقت گزرنے پر عقد اجارہ خود بخود ختم ہو جائیگا ، اب یا تومالک سے صراحتا یا دلالۃ نیا عقد کیا جائے یا مالک کے مطالبہ پر جائیداد خالی کر دی جائے اس صورت میں مالک کی مرضی کے بغیر کرایہ دار کا جبری قبضہ جائز نہیں ہے ، بلکہ صریح ظلم ہے۔
    (۳) طویل مدتی کرایہ داری کی وجہ سے اگر چہ کرایہ دار کو مالکانہ حقوق حاصل نہ ہوں گے لیکن بعض صورتوں جیسے پٹہ دوامی یا اس کے مشابہ میں کرایہ داروں کو حق قرار حاصل ہو گا اور مالک کو بلا کسی عذر شرعی کے معاملہ کو فسخ کر نے کا اختیار نہ ہو گا (۴)جن صورتوں میں کرایہ دار کو شرعا کرایہ داری بر قرار رکھنے کا استحقاق ہو ان صورتوں میں اس کی وفات کے بعد تمام ورثاء کے حق میں یہ استحقاق رہے گا،، کسی ایک وارث کو یہ حق نہ ہو گا کہ وہ اپنے نام کرایہ داری منتقل کرا کے دوسروں کو محروم کردے۔
    (۵) نیز اس صورت میں اگر حق اجارہ داری سے دست برداری کے بدلہ کوئی معاوضہ حاصل کیا جاتا ہے تو اس میں حسب اصول شرع تمام ورثاء حق دار ہوں گے۔
    کرایے داری میں ڈپازٹ سے متعلق تجویز میں کہا گیا ہے کہ
    (۱) کرایہ داری میں ڈپازٹ کا لین دین جائز ہے
    (۲) ڈپازٹ کی یہ رقم قرض ہے
    (۳) مالک جائیداد کے لئے ٖڈپازٹ کی رقم استعمال کرنا جائز ہے
    (۴) ڈپازٹ کی رقم کے ساتھ کرایہ میں متعارف کرایہ سے بہت بہت زیادہ کمی ؀ کل فرض جر نفعا فھو ربوٰ؀ کے تحت داخل ہو کر نا جائز ہے
    (۵) ڈپازٹ کی رقم زکوٰۃ میں قرض کے سب احکام جاری ہوں گے ۔

    اس موقع پر فقہی اجتماع کے تناظر میں مختلف باتوں پر صدر جمیعۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری ، مولانا نعمت اللہ اعظمی ، اور مفتی سعید پالن پوری نے اپنے صدارتی کلمات میں موجودہ حالات میں مسائل کے حل کی ذمے داری علماء اور مفتیان کرام کو ادا کر نی ہوگی۔
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں