روزے قدیم مذاہب میں

'ماہنامہ افکار قاسمی شمارہ نمبر 8، 2013 ماہ رمضان ن' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 20, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    روزے قدیم مذاہب میں
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد قاسمی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    اے ایمان والو! تم پر روزے فر ض کئے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں عجب نہیں کہ تم متقی بن جاؤ(سورہ بقرہ)
    روزہ اہم ترین ترین عبادت ہے اللہ سبحانہ تعالی کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ۔روزہ صرف ظاہری بھوک وپیاس کا نام نہیں ہے بلکہ یہ درحقیقت دل اور روح کی بھوک اور پیاس کا نام ہے
    اسلام میں روزے کی فرضیت ہجری دو میں ہوئی ہے جبکہ روزے کا تصور ہندو مذہب ،یہودیت اور عیسائیت میں پہلے سے ہے مولانا عبد الماجد دریا آبادی اس آیت کی تفسیر میں فر ماتے ہیں " :روزہ کسی نہ کسی صورت میں تو دنیا کے تقریبا ہر مذہب اور ہر قوم میں پا یا جاتا ہے ۔جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا بر نا ٹیکا طبع چہارم جلد 9 صفحہ 106 اور جلد 10 صفحہ 193 سے ظاہر ہے ۔ چناچہ شریعت موسوی میں روزہ ایک اہم جزء ہےروزہ تعمیل ارشاد خداوندی میں تزکیہ نفس ،تربیت جسم دونوں کا ایک بہترین دستور العمل ہے ۔تفسیر ماجدی جلد 1 ص88
    ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا ": روزہ رکھو تندرست رہا کرو گے ( طبرانی)
    روزہ کے مقصد بیان کر تے ہوئے حضرت امام غزالی فر ماتے ہیں کہ " آدمی اخلاق الٰہیہ میں سے ایک اخلاق کا پر تو اپنے اندر پیدا کرے جس کو صمدیت کہتے ہیں ،وہ امکانی حد تک فرشتوں کی تقلید کرتے ہوئے خواہشات سے دست کش ہوجائے ،اس لئے کہ فرشتے بھی خواہشات سے پاک ہیں اور انسان کا مرتبہ بہائم سے بلند ہے ،نیز خواہشات کے مقابلہ کیلئے اس کو عقل وتمیز کی روشنی عطا کی گئی ہے ۔البتہ وہ فرشتوں سے اس لحاظ سے کم تر ہے کہ خواہشات اکثر اس پر غلبہ پا لیتی ہیں اور اس کو ان سے آزاد ہو نے کے لئے سخت مجاہدہ کرنا پڑتا ہے ، چنانچہ جب وہ اپنی خواہشات کی رو میں بہنے لگتا ہے تو اسفل سافلین تک جا پہنچتا ہے اور جانوروں کے ریوڑ سے جا ملتا ہے اور جب اپنی خواہشات پرغالب آجاتا ہے تو اعلیٰ علیین اور فر شتوں کے آفاق تک جا پہنچتا ہے ۔(احیاء العلوم)
    صاحب تفسیر حقانی فر ماتے ہیں کہ:اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل کتاب کے یہاں بھی روزے واجب تھے چناچہ توراۃ کی تیسری کتاب کے 16باب درس 29 اور باب 23 درس 27 ،29 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں پر ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو کفارہ کا روزہ رکھنا واجب تھا ، کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو کوئی اس روز روزہ نہ رکھے گا اپنی قوم سے منقطع ہو جائے گا اور اعمال حواریان کے 9 باب درس 9 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی بھی یہ روزے رکھا کرتے تھے علاوہ ازیں اس کے چالیس روز تک کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزے رکھے تھے جیسا کہ کتاب خروج کے 24 باب سے معلوم ہوتا ہے اور کتاب دانیال کے باب دس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام نے تین ہفتے کے روزے رکھے تھے اور اول کتاب السلاطین کے 19 باب 8 درس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت الیاس علیہ السلام کوہ حوریب کو گئے تھے تو انہوں نے چالیس دن روزے رکھے تھے اور انجیل متی کے 4 باب اور انجیل لوقا کے 4 باب درس 2 سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب کہ وہ بیابان میں تھے چالیس دین کے روزے رکھے تھے ۔علاوہ ا زیں بائبل کے مختلف مقامات سے اور بھی روزے رکھنا اہل کتاب کا ثابت ہے اور اسی لئے اب بھی یہود اور متدین نصاری میں روزے رکھنے کا دستور ہے ۔ ( تفسیر حقانی)
    انسائیکلو پیڈیا بر نا ٹیکاکا مضمون نگار روزہ ( فاسٹنگ) لکھتا ہے : روزہ کے اصول اور طریقے گو آب وہوا ، قومیت تہذیب اور گرد وپیش کے حالات کے اختلاف سے بہت کچھ مختلف ہیں ، لیکن بہ مشکل کسی ایسے مذہب کا نام ہم لے سکتے ہیں جس کے مذہبی نظام میں روزہ مطلقا تسلیم نہ کیا گیا ہو:
    گو کہ روزہ ایک مذہبی رسم کی حیثیت سے ہر جگہ موجود ہے :
    ہندوستان کو سب سے زیادہ قدامت کا دعویٰ ہے لیکن برت یعنی روزہ سے وہ بھی آزاد نہیں ، ہر ہند ی مہینہ گیارہ بارہ کو بر ہمنوں پر“ا کاوشی“ کا روزہ ہے ، اس حساب سے سال میں چوبیس روزے ہوئے ، بعض بر ہمن “کا تک کے مہینہ “میں ہر دوشنبہ کو روزہ رکھتے ہیں ، ہندو جوگی چلہ کشی کرتے ہیں ، یعنی چالیس دن تک اکل وشرب سے احتراز کرتے ہیں ، ہندوستان کے تمام مذاہب میں جینی دھرم میں روزہ کے سخت شرائط ہیں ، چالیس چالیس دن تک کا ان کے یہاں روزہ ہوتا ہے ، گجرات ودکن میں ہر سال جینی کئی کئی ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ،قدیم مصریوں کے ہاں بھی روزہ دیگر مذہبی تہواروں کے شمول میں نظر آتا ہے ، یونان میں صرف عورتیں تھمو فیریا کی تیسری تاریخ کو روزہ رکھتی ہیں ، پارسی مذہب میں گو عام پیروؤں پر روزہ فرض نہیں لیکن ان کی الہامی کتاب کی آیت سے ثابت ہو تا ہے کہ روزہ کا حکم ان کے ہاں مو جود تھا ، خصوصاً مذہبی پیشواؤں کیلئے پنجسالہ روزہ ضروری تھا ۔
    یہودیوں میں بھی روزہ فر یضہ الٰہی ہے حضرت موسی علیہ السلام نے کوہ طور پر چالیس دن بھوکے پیا سے گزارے (خروج 34۔38) چنانچہ عام طور سے یہود حضرت مو سی علیہ السلام کی پیروی میں چالیس دن روزہ رکھنا اچھا سمجھتے ہیں ، لیکن چالیس دن کا روزہ ان پر فرض ہے ، جو ان کے ساتوں مہینہ ( تشرین ) کی دسویں تاریخ کو پڑتا ہے اور اسی لئے اس کو عاشورہ ( دسواں ) کہتے ہیں ،یہی عاشورہ کا دن، وہ دن تھا جس میں حضرت موسی علیہ السلام کو تورات کے دس احکام عنایت ہوئے تھے اسی لئے تورات میں اس دن کے روزہ کی نہایت تاکیدآئی ہے ،اس کے علاوہ یہودی صحیفوں میں اور دوسرے روزوں کے احکام بھی بتصریح مذکور ہیں ۔
    عیسائی مذہب میں آکر بھی ہم کو روزوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے ، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی چالیس دن تک روزہ جنگل میں رکھا ۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام جو گویا حضرت عیسیٰ کے پیشرو تھے وہ بھی روزہ رکھتے تھے اور ان کی امت بھی روزی دار تھی ۔( سیرت النبی ج 5)
    جیسا کہ معلوم ہوا ہندوستان کے تمام دھرم میں روزہ کا تصور پایا جاتا ہے اور ان کے یہاں سخت شرائط ہیں گویا روزہ کی اہمیت وافادیت غیر مسلم کے یہاں بھی مسلم ہے چنانچہ چندر گپت موریا کے وزیر باتدبیرچانکیہ جی مہاراج کی مشہور تصنیف “ارتھ شاشتر “میں اس کا قول ہے کہ : میں نے بھوکا رہ کر جینا سیکھا ہے اور بھوکا رہ کر اڑنا سیکھا ہے ۔میں نے دشمنوں کی تدبیروں کو بھوکے پیٹ سے الٹا کیا ہے ۔
    فیروز زار نے گاندھی جی کے بابت لکھا ہے وہ روزے کے قائل تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لیتا ہے اور کاہل کسل مند جسم نہ دنیاکا اور نہ ہی مہاراج کا ۔اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم ازکم خوراک دو اور روزے رکھو سارا دن جاپ الاپو اور پھر شام کو بکری کے دو دھ سے روزہ کھولو۔

    پروفیسر مور پالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کہتے ہیں کہ اگر اسلام اپنے مانے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف یہی روزے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی ۔
    بالکل سچ ہے ع: مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی میری۔صلی اللہ علیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم[/size]
    </td>
    </tr>
    </table></div>
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    مولانا قاسمی صاحب ! مفصل حوالہ جات کے ساتھ روزے کی اہمیت اغیار کی نظر میں بیان کرکے آپ نے توماشاء اللہ
    جدیدتخلیق و تزیین کا مظاہرہ کیاہے۔ اللہ آپ کو اپنی شان کے مطابق جزائے عظیم عطافرمائے۔آمین۔​
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,651
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    آمین۔ مولاناہمت افزائی کا شکریہ
  4. شکیل یونس

    شکیل یونس وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    147
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید پوسٹ پر قاسمی صاحب کو مبارکباد پیش کر تا ہو ں
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید تحریر ہے
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں