رومیٔ دوراں کا سانحۂ ارتحال ۔۔۔ لطیف الرحمن لطف :: پیامبر :: ٹائپنگ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 14, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    رومیٔ دوراں کا سانحۂ ارتحال
    لطیف الرحمن لطف


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    (3)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    رومیٔ دوراں کا سانحۂ ارتحال
    لطیف الرحمن لطفؔ
    یہ آج سے تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے کی بات ہے کہ اپنے ایک عزیز اور محسن سے ملنے جامعہ اشرف المدارس گلشن اقبال جانا ہوا، جو اس وقت وہاں درجہ موقوف علیہ میں زیر تعلیم تھے اور میں کالج کے سیکنڈ ایئر کا طالب علم۔ مدرسہ کے گیٹ پر ادھیڑ عمر کے گھنی ڈاڑھی اور سپاٹ مونچھوں والے ایک شخص سے ملاقات ہوئی، جس نے تھانوی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا۔میں نے اس سے اپنے عزیز کے بارے میں دریافت کیا تو ایک طالب علم کو ساتھ کیا جو مطلوبہ کمرے تک لے گیا۔ اپنے میزبان سے حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے کہا ہ گیٹ پر ایک بڑے مولان صاحب سے ملاقات ہوئی جو بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے اور یہاں تک آنے میں میری رہنمائی کی۔ وہ ہنس کر بولے، وہ کوئی مولانا نہیں، مدرسہ کے چوکیدار ہیں۔ میں نے حیرت سے کہا چوکیدار؟ انہوں نے کہ ہاں! ہمارے یہاں ایک بڑے ولی اللہ ہیں، ان کی صحبت کے نتیجے میں یہاں کے چوکیدار اور ملازمین بھی علماء کی وضع قطع اور ان کی صفات کے حامل ہیں۔ میں نے پوچھا ان بزرگ کی زیارت کی کوئی سبیل ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کا بیان ان کا ہوگا، جب تک ٹھہر جاؤ، بیان بھی سنوگے اور زیارت کا شرف بھی حاصل ہوگا۔
    بندہ بیان کے مقررہ وقت سے پہلے ہی مسجد کی اگلی صف میں جاکر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک انار جیسے نکھرے اور نورانی چہرے، سفید اور چمکتی ڈاڑھی والے نہایت ہی خوش شکل بزرگ آکر ممبر پر بر اجمان ہوئے۔ میری نگاہیں زندگی میں پہلی مرتبہ کسی ایسے پرنور چہرے سے دوچار ہوئی تھی کہ بس انہیں دیکھنے کو ہی جی چاہ رہا تھا اور اس منظر سے آنکھیں ہٹانا میرے لیے ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ عفت و حیا کے پانی سے دھلی صاف شفاف آنکھیں سلطنتِ دل پر تسلط جمائے جارہی تھیں۔ غضب یہ تھا کہ چہرہ جتنا پرکشش ہے باتیں بھی اتنی ہی سحر انگیز۔ زرخیز قلوب کا تو کیا، میرے بنجر دل پر بھی ان باتوں کا دھیرے دھیرے اثر ہونے لگا تھا۔ بزرگ ولی اللہ بننے کے تین اعمال کا ذکر فرمارہے تھے، یعنی ایک مشت ڈاڑھی رکھنے، شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے اور نظر کی حفاظت کرنے کی تلقین ہورہی تھی۔ میں نے اسی وقت ڈاڑھی رکھنے کی نیت کرلی اور باقی دو باتوں پر عمل کا بھی اپنا سا ارادہ کرلیا۔ اس سے قبل میرے وہ عزیز مجھے مدرسہ میں داخلہ لینے کی ترغیب دیتے آرہے تھے، اس بیان نے مزید کام آسان کردیا اور میں نے طے کرلیا کہ اگر پڑھنا ہے تو اسی مدرسے میں پڑھنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے درس نظامی کی تکمیل کی توفیق نصیب ہوئی جن میں سے چار سال کے لیل و نہار اسی حضرت کے مدرسے کے پرنور ماحول میں گزرے۔
    یہ حضرت تھے مولانا حکیم اختر رحمۃ اللہ علیہ۔ چار سال حضرت والا کے بیانات اور مجالس میں شرکت کی سعادت حاصل رہی۔ اس دوران حضرت کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ حضرت والا کے سینے میں عشق الٰہی کا ایک آتش فشاں تھا، جس کی جھلک ان کے بیان میں بھی نظر آتی تھی۔ ہم نے آج تک کسی بزرگ کا اس قدر عشقِ الٰہی میں ڈوبا ہوا بیان نہیں سنا، جس طرح حضرت حکیم صاحب کا ہوتا تھا۔ مجلس میں بیٹھے بیان سننے والے پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوتی بلکہ بسا اوقات حضرت اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس انداز میں بیان فرماتے کہ منہ میں پانی آجاتا اور دل بے ساختہ پکار اٹھتا کہ کاش ہمیں بھی اللہ کے قرب کی وہ حلاوت نصیب ہوجائے جو ان جیسے اولیاء کو حاصل ہے۔ بسا اوقات فرماتے ”عشقِ مجازی میں اپنی عمر برباد کرنے والے ظالمو! کس طرح تمہیں عشقِ الٰہی کا لطف سمجھاؤں، کسی کو لاکھ سمجھایا جائے کہ شامی کباب یوں لذیذ ہوتا ہے وہ اس کی لذت سے آشنا نہیں ہوسکتا، ہاں اگر کباب لاکر اس کے منہ میں ڈالا جائے تو عش عش کر اٹھے گا، تم بھی اگر اللہ کے قرب کی لذت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہو تو اللہ کا بن کر دیکھو“ بعض اوقات اشک بار ہوکر فرماتے ”میں اس لامحدود ذات کی محبت کو اپنے محدود الفاظ کے ذریعے تمہارے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔“
    آج کل طلبہ، فضلاء اور دین کی طرف آنے والے افراد میں معاشی تنگی برداشت کرنے کی اہلیت ناپید ہوتی جارہی ہے، بعض لوگ اپنی معاشی حالت کا اکابر کی موجودہ حالت کے ساتھ موازنہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں کے پاس اتنے وسائل اور اتنا وسیع حلقہ احباب ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟ اس بارے میں حضرت فرمایا کرتے تھے ”بزرگوں کے حال کو مت دیکھو کہ مال کی فراوانی ہے اور خدام ہر وقت خدمت میں مصروف ہیں، بلکہ ان کے ماضی کو دیکھو، انہوں نے ایک طویل عرصے تک مشقت اور مجاہدے کی زندگی گزاری ہوتی ہے، پھر جاکے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسائشوں کے دروازے کھولے ہوتے ہیں اور تم بغیر کسی محنت، مشقت اور مجاہدے کے ان جیسی زندگی گزارنا چاہتے ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔“
    دینی مدارس میں عام طور پر شعبۂ حفظ کے مقابلے میں شعبۂ کتب، اس کے اساتذہ اور طلبہ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے قولاً یا کم از کم عملاً۔ حضرت حکیم صاحب اپنے شیخ مولانا شاہ ابرابر الحق ؒ (ہردوئی) کی طرح اس رجحان کے سخت خلاف تھے۔ درس گاہوں میں کارپٹ بچھانے اور واٹر کولر لگانے سمیت تمام سہولتوں کی فراہمی میں شعبۂ حفظ کو مقدم رکھنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ اصل کام یہی ہے۔ جب کہ کتابیں پڑھنے پڑھانے کا مقصد بھی قرآن فہمی ہے، وہ بذات خود مقصود نہیں۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے کہ بعض مدرسوں میں حفظ و ناظرہ کی درس گاہوں میں دریاں تک نہیں بچھی ہوتیں اور کتابوں کی درسگاہیں عمدہ قالینوں سے آراستہ ہوتی ہیں۔
    آپ معاشرے بلکہ دین دار طبقے میں اذان دینے کے عمل کو معمولی سمجھنے کے رجحان کے بھی سخت خلاف تھے۔ اس بناء پر اپنی تن درستی کے دنوں میں وقتاً فوقتاً مسجد میں آکر خود اذان دیتے تاکہ طلبہ اور متعلقین کو اس عمل کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ ہوسکے۔ آپ اپنی مرفہ حالی کے باوجود اسراف کے سخت خلاف تھے۔ بیان یا مجلس کے دوران بلا ضرورت کوئی پنکھا چلتا ہوا یا کوئی بلب جلتا ہوا دیکھتے تو فوراً ٹوک دیتے اور بند کرنے کا حکم دیتے۔ خود عبادت گزار ہونے کے باوجود اپنے متعلقین کو کثرت عبات سے زیادہ ترکِ گناہ کی تلقین کرتے اور فرماتے ”فرائض، واجبات اور سنتوں کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرنے والا اس شخص سے بہتر ہے جو نوافل اور ذکر و اذکار تو کثرت سے کرتا ہے لیکن گناہوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا۔“ اللہ تعالیٰ حضرت والا کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات کی پیروی کرنے اور اپنے موجودہ بزرگوں کی قدرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    رومیٔ دوراں کا سانحۂ ارتحال
    لطیف الرحمن لطفؔ
    یہ آج سے تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے کی بات ہے کہ اپنے ایک عزیز اور محسن سے ملنے جامعہ اشرف المدارس گلشن اقبال جانا ہوا، جو اس وقت وہاں درجہ موقوف علیہ میں زیر تعلیم تھے اور میں کالج کے سیکنڈ ایئر کا طالب علم۔ مدرسہ کے گیٹ پر ادھیڑ عمر کے گھنی ڈاڑھی اور سپاٹ مونچھوں والے ایک شخص سے ملاقات ہوئی، جس نے تھانوی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا۔میں نے اس سے اپنے عزیز کے بارے میں دریافت کیا تو ایک طالب علم کو ساتھ کیا جو مطلوبہ کمرے تک لے گیا۔ اپنے میزبان سے حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے کہا ہ گیٹ پر ایک بڑے مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی جو بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے اور یہاں تک آنے میں میری رہنمائی کی۔ وہ ہنس کر بولے، وہ کوئی مولانا نہیں، مدرسہ کے چوکیدار ہیں۔ میں نے حیرت سے کہا چوکیدار؟ انہوں نے کہ ہاں! ہمارے یہاں ایک بڑے ولی اللہ ہیں، ان کی صحبت کے نتیجے میں یہاں کے چوکیدار اور ملازمین بھی علماء کی وضع قطع اور ان کی صفات کے حامل ہیں۔ میں نے پوچھا ان بزرگ کی زیارت کی کوئی سبیل ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کا بیان ان کا ہوگا، جب تک ٹھہر جاؤ، بیان بھی سنوگے اور زیارت کا شرف بھی حاصل ہوگا۔
    بندہ بیان کے مقررہ وقت سے پہلے ہی مسجد کی اگلی صف میں جاکر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک انار جیسے نکھرے اور نورانی چہرے، سفید اور چمکتی ڈاڑھی والے نہایت ہی خوش شکل بزرگ آکر ممبر پر بر اجمان ہوئے۔ میری نگاہیں زندگی میں پہلی مرتبہ کسی ایسے پرنور چہرے سے دوچار ہوئی تھی کہ بس انہیں دیکھنے کو ہی جی چاہ رہا تھا اور اس منظر سے آنکھیں ہٹانا میرے لیے ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ عفت و حیا کے پانی سے دھلی صاف شفاف آنکھیں سلطنتِ دل پر تسلط جمائے جارہی تھیں۔ غضب یہ تھا کہ چہرہ جتنا پرکشش ہے باتیں بھی اتنی ہی سحر انگیز۔ زرخیز قلوب کا تو کیا، میرے بنجر دل پر بھی ان باتوں کا دھیرے دھیرے اثر ہونے لگا تھا۔ بزرگ ولی اللہ بننے کے تین اعمال کا ذکر فرمارہے تھے، یعنی ایک مشت ڈاڑھی رکھنے، شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے اور نظر کی حفاظت کرنے کی تلقین ہورہی تھی۔ میں نے اسی وقت ڈاڑھی رکھنے کی نیت کرلی اور باقی دو باتوں پر عمل کا بھی اپنا سا ارادہ کرلیا۔ اس سے قبل میرے وہ عزیز مجھے مدرسہ میں داخلہ لینے کی ترغیب دیتے آرہے تھے، اس بیان نے مزید کام آسان کردیا اور میں نے طے کرلیا کہ اگر پڑھنا ہے تو اسی مدرسے میں پڑھنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے درس نظامی کی تکمیل کی توفیق نصیب ہوئی جن میں سے چار سال کے لیل و نہار اسی حضرت کے مدرسے کے پرنور ماحول میں گزرے۔
    یہ حضرت تھے مولانا حکیم اختر رحمۃ اللہ علیہ۔ چار سال حضرت والا کے بیانات اور مجالس میں شرکت کی سعادت حاصل رہی۔ اس دوران حضرت کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ حضرت والا کے سینے میں عشق الٰہی کا ایک آتش فشاں تھا، جس کی جھلک ان کے بیان میں بھی نظر آتی تھی۔ ہم نے آج تک کسی بزرگ کا اس قدر عشقِ الٰہی میں ڈوبا ہوا بیان نہیں سنا، جس طرح حضرت حکیم صاحب کا ہوتا تھا۔ مجلس میں بیٹھے بیان سننے والے پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوتی بلکہ بسا اوقات حضرت اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس انداز میں بیان فرماتے کہ منہ میں پانی آجاتا اور دل بے ساختہ پکار اٹھتا کہ کاش ہمیں بھی اللہ کے قرب کی وہ حلاوت نصیب ہوجائے جو ان جیسے اولیاء کو حاصل ہے۔ بسا اوقات فرماتے ”عشقِ مجازی میں اپنی عمر برباد کرنے والے ظالمو! کس طرح تمہیں عشقِ الٰہی کا لطف سمجھاؤں، کسی کو لاکھ سمجھایا جائے کہ شامی کباب یوں لذیذ ہوتا ہے وہ اس کی لذت سے آشنا نہیں ہوسکتا، ہاں اگر کباب لاکر اس کے منہ میں ڈالا جائے تو عش عش کر اٹھے گا، تم بھی اگر اللہ کے قرب کی لذت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہو تو اللہ کا بن کر دیکھو“ بعض اوقات اشک بار ہوکر فرماتے ”میں اس لامحدود ذات کی محبت کو اپنے محدود الفاظ کے ذریعے تمہارے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔“
    آج کل طلبہ، فضلاء اور دین کی طرف آنے والے افراد میں معاشی تنگی برداشت کرنے کی اہلیت ناپید ہوتی جارہی ہے، بعض لوگ اپنی معاشی حالت کا اکابر کی موجودہ حالت کے ساتھ موازنہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں کے پاس اتنے وسائل اور اتنا وسیع حلقہ احباب ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟ اس بارے میں حضرت فرمایا کرتے تھے ”بزرگوں کے حال کو مت دیکھو کہ مال کی فراوانی ہے اور خدام ہر وقت خدمت میں مصروف ہیں، بلکہ ان کے ماضی کو دیکھو، انہوں نے ایک طویل عرصے تک مشقت اور مجاہدے کی زندگی گزاری ہوتی ہے، پھر جاکے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسائشوں کے دروازے کھولے ہوتے ہیں اور تم بغیر کسی محنت، مشقت اور مجاہدے کے ان جیسی زندگی گزارنا چاہتے ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔“
    دینی مدارس میں عام طور پر شعبۂ حفظ کے مقابلے میں شعبۂ کتب، اس کے اساتذہ اور طلبہ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے قولاً یا کم از کم عملاً۔ حضرت حکیم صاحب اپنے شیخ مولانا شاہ ابرابر الحق ؒ (ہردوئی) کی طرح اس رجحان کے سخت خلاف تھے۔ درس گاہوں میں کارپٹ بچھانے اور واٹر کولر لگانے سمیت تمام سہولتوں کی فراہمی میں شعبۂ حفظ کو مقدم رکھنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ اصل کام یہی ہے۔ جب کہ کتابیں پڑھنے پڑھانے کا مقصد بھی قرآن فہمی ہے، وہ بذات خود مقصود نہیں۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے کہ بعض مدرسوں میں حفظ و ناظرہ کی درس گاہوں میں دریاں تک نہیں بچھی ہوتیں اور کتابوں کی درسگاہیں عمدہ قالینوں سے آراستہ ہوتی ہیں۔
    آپ معاشرے بلکہ دین دار طبقے میں اذان دینے کے عمل کو معمولی سمجھنے کے رجحان کے بھی سخت خلاف تھے۔ اس بناء پر اپنی تندرستی کے دنوں میں وقتاً فوقتاً مسجد میں آکر خود اذان دیتے تاکہ طلبہ اور متعلقین کو اس عمل کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ ہوسکے۔ آپ اپنی مرفہ حالی کے باوجود اسراف کے سخت خلاف تھے۔ بیان یا مجلس کے دوران بلا ضرورت کوئی پنکھا چلتا ہوا یا کوئی بلب جلتا ہوا دیکھتے تو فوراً ٹوک دیتے اور بند کرنے کا حکم دیتے۔ خود عبادت گزار ہونے کے باوجود اپنے متعلقین کو کثرت عبات سے زیادہ ترکِ گناہ کی تلقین کرتے اور فرماتے ”فرائض، واجبات اور سنتوں کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرنے والا اس شخص سے بہتر ہے جو نوافل اور ذکر و اذکار تو کثرت سے کرتا ہے لیکن گناہوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا۔“ اللہ تعالیٰ حضرت والا کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات کی پیروی کرنے اور اپنے موجودہ بزرگوں کی قدرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں