زبان کی حفا ظت آخری قسط

'افکارِ قاسمی شمارہ 6: مئی 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مئی 14, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    محب الفقرا صوفی عبد الصمد صاحب حفظہ اللہ
    خلیفہ ومجاز بیعت : محبت الامت شاہ محمد اہل اللہ صاحب
    دامت برکاتہم العالیہ پرنامبٹ۔انڈیا
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    زبان کی حفاظت (آخری قسط)
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    مذاق اور دل لگی :
    مذاق ودل لگی کرنے اور ذیادہ ہنسنے ہنسانے سے قلب مردہ ہو جاتا ہے اور وقار جاتا رہتا ہے ۔ اورایسا شخص لوگوں کی نظر میں حقیر ہو جاتا ہے اور اس سے بسا اوقات کینہ وعداوت بھی پیدا ہو جاتا ہے اور نور معرفت میں تا ریکی آجاتی ہے ۔ایسا شخص مرنے کے بعد تحت الثریٰ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔
    مذاق اور دل لگی سے مرادلغو باتوں اور کاموں میں وقت صرف کرنا اور کسی کی ہجو پر ہنسنا ،کسی کی پریشانی اور مصیبت کا مذاق اڑانا ۔بعض لوگ خواہ مخواہ قہقہ لگانے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔اور کسی کی فحش کلامی پر بھی مزہ لیتے ہیں ۔اور کسی کی تذلیل کرنے میں اس سے خوش ہو تے ہیں ۔ان امور سے دل مردہ ہو جاتا ہے ۔مذاق ایسا پاکیزہ ہوکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔
    ( حضرت سیدنا حضور ﷺ کا مزاح ایک بوڑھی عورت کا جنت میں نہ جانے کا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت سیدناحضور ﷺکے ساتھ کھجور کی دعوت پر دستر خوان پر مزاح وغیرہ)
    غیبت کے شرعی دلائل :
    وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًااَیُحِبُّ اَحَدَکُمْ اَنْ یَّاکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتاً فَکَرِھْتُمُوْہ۔( پ ۶۲،آیت ۱۴ آیت ۱۲)
    اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے ۔کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اس کو تو تم ناگوار سمجھتے ہو
    حضرت سیدنا حضور ﷺنے ارشاد فر مایا کہ :نہ آپس میں حسد کرو، نہ باہم بغض رکھو ،اور نہ تم میں سے بعض بعض کی غیبت کریں ۔ اور اللہ کے بندے بھائی ہو جائو۔
    حضرت سیدنا حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ : غیبت سے بچو ،اس لئے کہ غیبت زنا سے سخت تر ہے ۔
    اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی زنا کرے تو بہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فر مادے تو اس گناہ سے نجات پا جاتا ہے ۔ لیکن غیبت کا گناہ اس وقت معاف نہیں ہو تا جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے ۔جس کی غیبت کی گئی ہو ۔
    حضرت سیدنا حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ : جو شخص اپنے بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے درپے ہوتا ہے اور جس شخص کے عیب کے درپے اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کرتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فر مائی کہ جو شخص غیبت سے تو بہ کر کے مرے گا ۔ وہ جنت میں سب کے بعد داخل ہو گا ۔اور جو توبہ کے بغیرمرے گا وہ سب سے پہلے دوزخ میں جائے گا۔
    حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیدنا حضور ﷺ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔اور ارشاد فر مایا کہ جب تک میں اجازت نہ دوں کوئی شخص افطار نہ کرے۔ چنانچہ لوگوں نے روزہ رکھا ۔شام ہو ئی لوگ ایک ایک کر کے آتے اور افطار کر نے کی اجازت لے کر واپس جاتے ۔ایک شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری دو لڑکیوں نے بھی دن بھر روزہ رکھا تھا ۔وہ آپ ﷺ کے پاس آنے سے شرماتی ہیں ۔اگر اجازت ہو تو وہ بھی افطار کرلیں۔آپ ﷺنے اس سے اعراض فرمایا۔اس نے پھر اجازت مانگی ۔آپ ﷺ نے اعراض فر مایا ۔وہ شخص واپس چلا گیا کچھ دیر بعد دوبارہ آیا اور عرض کیا بخدا وہ دونوں بھوک کی وجہ سے مر نے کے قریب ہیں ۔آپ ﷺ نے حکم دیا ۔انہیں میرے پاس لے آئو ۔وہ دونوں بھی حاضر ہو ئیں ۔
    آپ (ﷺ)نے ایک پیالہ منگایا اور ایک لڑکی سے فر مایا کہ اس میں قئے کر۔اس نے قئے کی ، پیالہ خون اور پیپ سے بھر گیا ۔اس کے بعد دوسری سے قئے کر ائی اس نے بھی خون اور پیپ کی قئے کی ۔آپ (ﷺ) نے ارشاد فر مایا ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے روزہ رکھا اور حرام کی ہوئی چیزوں سے افطار کیا ۔ایک دوسرے کے پاس بیٹھ گئی اور دونوں لوگوں کا گوشت کھانے لگیں۔
    حضرت سیدنا حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ : سود کا وہ درہم جسے آدمی حاصل کرتا ہے اللہ کے نزدیک گناہ ہو نے میں چھتیس (۳۶) زنا سے بڑھ کر ہے ۔اور سود سے بھی بڑھ کر مسلمان کی آبرو ہے ۔
    ایک روایت ہے کہ دو آدمی مسجد کے دروازے پر نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے ایک مخنث جس نے اپنی حرکت چھوڑ دی تھی ادھر سے گزرا وہ دونوں آدمی کہنے لگے اس میں مخنث ہونے کا اثر اب بھی باقی ہے ۔اتنے میں جماعت کھڑی ہو گئی ۔وہ دونوں اندر جاکر نماز پڑھنے لگے ۔نماز کے دوران انہیں خیال ہوا کہ مخنث کے بارے میں انہیں ایسی بات نہ کہنی چاہئے تھی ۔ نماز کے بعد وہ لوگ حضرت عطا کے پاس آئے اور واقعہ بیان فر مایا ۔آپ نے انہیں دوبارہ وضو کر نے اور نماز پڑرھنے کا حکم دیا ۔اور یہ بھی فر مایا کہ اگر روزے سے تھے تو اس کی بھی قضا کریں ۔
    وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃ ( پ ۳۰ ۔۲۹ آیت ۱)
    بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو پس پست عیب نکالنے والا ہو ۔
    حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ عذاب قبر کے تین حصے ہیں (۱) ایک تہائی غیبت کی وجہ سے
    (۲) ایک تہائی چغلخوری کی وجہ سے (۳)ایک تہائی پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ۔
    حضرت سیدنا حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ :جس شخص کے سامنے کسی مومن کی تذلیل کی جائے اور وہ اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھنے کے با جود مدد نہ کرے قیامت کے روز اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائیگا ۔
    اور ارشاد فر مایاکہ جو شخص اپنے بھائی کی عزت کا اس کے پس پست دفاع کرے اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ قیامت کے روز اس کی حفاظت فر مائے ۔
    بولنا کیسا ہے:
    بعض لوگ بولنے کو ضروری سمجھتے ہیں ۔ جہاں ضرورت بھی نہ ہو بول پڑتے ہیں ۔ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ بول( بات کرنا) بُول ہوتا ہے ( یعنی پیشاب) جب نکل جاتا ہے بسترہ نا پاک ، کپڑے نا پاک ، خود بھی نا پاک ِ چار پائی نا پاک ۔ جب تک اندر تھا پاک تھی سلامتی تھی ۔ ملفوظات حکیم الامت ج ۱ص ۳۵۳
    کثرتِ کلام:
    آ ٓجکل لوگ کثرت کلام کو بہتر سمجھتے ہیں ۔ لیکن حدیثوں میں اس کی مذمت معلوم ہو تی ہے ایک حدیث میں ہے ـ ان اللّٰہ یبغض البلیغ من الرجال(تر مذی شریف)
    ( اللہ تعالیٰ بلیغ لوگوں کو پسند نہیں فرماتے)
    یہاں بلیغ سے مراد وہ نہیں جو اہل معانی کی اصطلاح میں ہے بلکہ بلیغ سے مراد وہ شخص ہے جو بے تکلف بولتا چلا جائے ۔
    حضرت شیخ عطارؒ فر ماتے ہیں کہ:
    زیادہ باتیں کرنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے خواہ وہ باتیں در عدن کی ہی ہوں۔
    حضرات عارفین کو اس کا مشاہدہ شب وروز ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک کلمہ سے قلب سیاہ ہو جاتا ہے اس کے متعلق تجربہ یہ ہے کہ میں اس لفظ سے بھی شر ما جاتا ہوں کیونکہ در پردہ اس میں اپنے عارف ہو نے کا دعویٰ ہے اور میں ان کی خاک پا بھی نہیں ہوں بس یوں کہئے کہ تجربہ کاروں سے سنا ہے کہ ضروری گفتگو دن بھر ہوتی ہے تو اس سے قلب پر ظلمت کا اثر نہیں ہوتا ۔اگر ایک میوہ فروش دن بھر ہزاروں مرتبہ پکارتا پھرے اس کے قلب میں ظلمت نہیں آئیگی کیونکہ بضرورت ہے اور بے ضروت ایک جملہ بھی زبان سے نکل جائے تو دل ساہ ہو جاتا ہے ۔ اور یہی مراد بلیغ سے ہے جو کہ حدیث میں وارد ہوا ہے ۔ حضرت شیخ عطارؒ کے قول کا یہی مطلب ہوا کہ بے ضرورت باتیں کرنے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ جو بے ضرورت باتیں کرے گا اور بے تکلف بے سوچے گفتگو کرے کیونکہ ایسا وہی شخص کر سکتا ہے جو بے فکر ہو اور جس کے دل کو فکر لگا ہوا ہو وہ بے تکلف گفتگو نہیں کر سکتا ۔ ( مواعظ حکیم الامت ص۴۴ ج ۱۱)
    زبان کے گناہ :
    مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہ رَقِیْب عَتِیدٌ (سورہ ق آیت نمبر ۸۱)
    ترجمہ: وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر اس کے پاس میں ایک تاک لگانے والا تیار ہے ــ۔
    لیکن بوجہ غفلت کے خیال نہیں ہوتا ،انسان جو کچھ منہ سے نکالتا ہے اللہ تبارک تعالیٰ کے یہاں سب حرف بحرف لکھا جاتا ہے ۔اور اعضاء سے اتنے گناہ نہیں سرزد ہوتے جتنے زبان کرتی ہے ۔
    وجہ یہ ہے کہ اور سب گناہوں میں کچھ دقت ومشقت بھی ہوتی ہے کچھ مقدمات واسباب بھی ہوتے ہیں بخلاف زبان کے گناہ کے اس میں کچھ مشقت وخرچ نہیں ۔
    اور گناہوں کی صورت نمایا ں ہوتی ہے ۔ مثلاً بد کاری کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے چلتا پھرتا ، بات کرتا معلوم ہوگا اس طرح شراب وغیرہ کے آثا رمعلوم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن زبان کا کوئی اثر معتد بہ نہیں معلوم ہوتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ نے زبان کو دو قسم کی باتوں کے لئے استعمال کرنے کے واسطے پیدا کیا ہے:
    (۱) جن کے کرنے کے واسطے پیدا کی گئی ہے ۔اور دوسری (۲) جن سے زبان کو بچنا چاہئے
    حق تعالیٰ نے زبان کو طاعت وعبادت کے واسطے پیدا کیا ہے ۔ جیسے چمچہ کو فیرنی دودھ کے واسطے بنایا گیا ہے بجائے اس کے کوئی اس سے غلاظت اٹھانے لگے تو اس شخص کو سبھی احمق سمجھیں گے حالانکہ زبان کے چمچہ سے ہم ہروقت غیبت جھوٹ جمع کر رہے ہیں فرق اس قدر ہے کہ چمچہ ایک لوٹے پانی سے پاک وصاف ہو سکتا ہے ۔ لیکن وہ غلاظت جو ہم نے زبان کے چمچہ سے جمع کی ہے سات سمندروں کے پانی سے بھی دھل نہیں سکتی ۔
    جھوٹ:
    اکثر باتیں جو زبان سے نکلتی ہیں بری ہیں صبح سے شام تک اس میں بڑا مشغلہ ہے ایک بڑی مہلک چیز جھوٹ ہے بعض لوگ جھوٹ بو لنے پر بھی ا پنے آ ٓ ٓپ کو مضطر ومجبور سمجھتے ہیں جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ جھوٹ کا جھوٹ ہو نے کا علم سامنے مخاطب کو معلوم ہو جائیگا یا حاکم کو معلوم ہو جائیگا تو اس جھوٹ سے باز بھی آجاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا اتنا بھی خیال نہیں با ت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہمارے دل میں سچی نہیں ہے جب دیکھا کہ دنیا کا کوئی نقصان نہیں ہوتا تو دین کا کام کر لیا جہاں چار پیسے کا نقصان ہو اتو فوراً چھوڑ بیٹھے کیا یہی دنیداری ہے اصلی ضرورت کا شریعت نے خود لحاظ فر ما دیا ہیاور بعض موقعوں پر جھوٹ بو لنے کی اجازت دیدی ہیمثلاً دو آدمیوں میںرنجش ہے یہ ان کی صلح کرانے کی غرض سے اگر کوئی جھوٹ بولے تو جائز بلکہ ثواب ہے اسی طرح میاں بیوی کی رنجش کو ختم کر نے کے لئے رضامند کر نے کے لئے جھوٹ بولنے کی اجازت دیدی ہے ۔
    جب تمہاری ماں تم کسی چیز کے نہ کھانے کو کہتی ہے تو رُک جاتے ہو جب ماں سے یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ تمہارے نفع کی چیز کو ضرورت کے وقت تم کو نہ دے تو اللہ تعالیٰ تو ماں سے بد رجہا ذیادہ شفیق ہیں تمہارے نفع کی چیزوں سے تم کو کیوں روکتے جس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر شریعت نے اجازت فر مائی ہے ۔ مگر ضرورت وہی ہے جس کو شریعت نے ضرورت سمجھا ۔
    جھوٹ تین قسم کا ہو تا ہے :
    انسان کثرت کے ساتھ جھوٹ بو لتا ہے تو ایک وز اللہ کے یہاں جھوٹوں کے دفتر میں اس کا نام درج کر لیا جاتا ہے ۔ جیسے اقوال میں جھوٹا ہوتا ہے اسی طرح افعال میں بھی ہوتا ہے مثلاً کوئی شخص لوگوں کو دکھلانے کو خیرات کرے اور ثواب کی نیت نہ ہو تو وہ فعلاً جھوٹا ہے جھوٹ میں جس قدر خداع وفریب ذیادہ ہوگا اس کا گناہ بھی ذیادہ ہوگا۔
    جھوٹ تین قسم کے ہیں:
    (۱) ایک وہ جس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو بلکہ اصلاح ہو جائے یہ جائز ہے
    (۲) دوسرا وہ یہ کہ دوسروں کو ضرر پہنچے یہ حرام ہے ۔
    (۳) تیسری وہ جس میں نہ کوئی ضرر ہو نہ نفع ہو یہ لغو ہے ۔
    اس کو بھی چھوڑنا چاہئے کیونکہ اس سے دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔
    غیبت کی کدورت :
    علاوہ ازیں جھوٹ کے ایک زبان کا گناہ غیبت ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کے پیچھے ایسی بات کہی جائے جس سے اس کی تو ہین ہو یہ خواہ برائی اس کی ذات کے متعلق ہو یا اس کی کسی چیز کا عیب ہو ، مکان یا گھوڑے یا کپڑے کی مذمت بھی عیب میں شامل ہے لیکن افسوس کہ اس میں ذرا بھی احتیاط نہیں کوئی وقت ایسا نہیں جس میں دو چار لوگوں کی غیبتیں نہ کرتے یا سنتے ہوں۔(مواعظ حکیم الامت جلد ۴۱ ص ۱۰۲)
    کم گوئی کے فائدے:
    حدیث شریف میں ہے من سکت سلم ( ترمذی شریف)
    جو چپ رہا اس نے نجات پائی ۔ ایک شہزادہ حدیث کی کتاب پڑھا کرتا تھا جب یہ حدیث پڑھی استاد سے کہا جناب بس میں آگے نہیں پڑھتا ۔ جب اس پر عمل کر لوں گا اس وقت آگے چلوں گا اور اسی وقت سے بولنا چھوڑ دیا بادشاہ کو بڑی فکر ہوئی سمجھے کہ لڑکے کو آسیب ہو گیا ہے عامل اور تعویذ گنڈا کرنے والے جمع ہوئے سب نے تدبیریں کیں اطباء بھی جمع ہوئے یہ رائے ہوئی کہ ان کو شکار میں لے چلنا چاہئے وہاں تفریح ہو گی ، طبیعت درست ہوجا ئیگی چنانچہ گئے اور شکاری تیر اور بندوق لے کر چلے کہ اس سے شائد تفریح ہو شکاری جانوروں پر تیر چلانے لگے اتفاق سے ایک جھاڑی کے پیچھے ایک تیتر چھپ رہا تھا وہ بولا بولتے ہی اس کے تیر لگا ، شہزادہ یہ دیکھ کر بولا کہ کمبخت نہ بولتا نہ مارا جاتا ۔
    شہزادہ کی اتنی بات سن کر مبارک باد ی کا غل پڑ گیا بادشاہ کو خبر ہوئی با دشاہ نے پھر چاہا ، شہزادہ کچھ بولے مگر نہ بولا بادشاہ نے حکم دیا کہ باندھ کر اس کو مارو معلوم ہوتا ہے کہ قصداً نہیں بولتا ہے غرض مار پڑنا شروع ہوئی شہزادہ دل میں کہتا تھا کہ ایک دفعہ بولنے سے تو مجھ پر یہ آفت آئی ہے اگر پھر بولوں گا تو جانے کیاہوگااس کے بعد تمام عمر کسی سے نہیں بولا ۔
    وقعی ذیادہ گناہ ہم لوگوں سے اسی زبان کی بدولت ہوتے ہیں خصوصاً عورتوں کو تو اس قدر شوق بولنے کا ہے کہ جب بیٹھیں گی وہ چرخہ چلائیں گی کہ ختم نہیں ہوگا خدا جانے ان کی باتیں اتنی لمبی کیوں ہوتی ہیں اور جب یہ باتوں میں مشغول ہو جاتی ہیں تو ان کی حالت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بس یہ باتوں کوہی مقصود اصلی سمجھتی ہیں ۔ وہ مزے لے لے کر کرتی ہیں کہ ترس ترس کر ان کو یہ دولت ملی ہے ( مواعظ حکیم الامت جلد ۱ س۵۹)
    فضول بات :
    فر ماتے ہیں حضرت سیدنا حضور ﷺ ا من حسن اسلام المرء تر کہ مالا یغیہ (ترمذی شریف)
    ترجمہ: اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول میں آدمی نہ پڑے جاہل آدمی کا جواب دینا فضول میں ہے ۔
    آدمی کا جواب دینا فضول میں ہے :
    کیونکہ اس کا حاصل کیا اگر جواب دے ہی دیا اور اس کو ساکت ہی کردیا تو کتنی رکعت کا ثواب ملا اپنا جو اصلی کام تھا خواہ مخواہ اس کا حرج کیا جاہل کو تو اس کی بات کا جواب بھی نہ دے ۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ وَقُلْ یٰعِباَدِیْ یَقُوْلُوالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ الشَّیْطٰانَ یَنْزَ غُ بَیْنَھُمْ( یعنی کہدیجئے میرے بندوں سے کہ وہ بات کیا کریں جو اچھی ہو ) مطلب یہ ہے کہ بُری بات کے جواب میں بُری بات نہ کہیں ، شیطان چاہتا ہے کہ ان میں لڑائی کرادے ، سبحان اللہ کیسی تعلیم ہے اور اس بڑھ کر لیجئے فر ماتے ہیں ۔وَلَا تَسُبُّوا لَّذِیْنَ یَدْ عُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسَبُّواللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ
    ( یعنی مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا مت کہو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ۔
    ان سب تعلیمات کا حاصل یہی ہے کہ اپنے کام میں لگو ، فضول جھگڑوں میں نہ پڑو ، بری بات کے جواب میں بری بات مت کہو یہ بھی فضول حرکت ہے ۔
    زبان نسواں :
    البتہ ہماری عورتوں میں ایک تھوڑی سی کسر ہے اگر وہ مٹ جائے تو یہ سچ مچ حوریں بن جائیں گی وہ کسر کیا ہے ؟ کہ ان کی زبان نہایت خراب ہے ،ان کی زبان وہ اثر رکھتی ہے جیسے بچھو کا ڈنک کہ ایک ذرا سی حرکت میں آدمی بلبلا جاتا ہے ۔
    اکبرنہ دب سکے کبھی برٹس کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے ) مواعظ حکیم الامت جلد ۲ ص ۱۸۸)

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو زبان کی آفتوں سے حفاظت فر مائے۔
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں