ساحلِ کُولَم (جنوب ہند) میں مشہور قبر کیا صحابی کی قبر ہے؟

'تاریخ ہند' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 28, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,669
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ساحلِ کُولَم (جنوب ہند) میں مشہور قبر کیا صحابی کی قبر ہے؟
    اور
    سیرت حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ
    از:مولانا رشید احمد فریدی‏، مدرسہ مفتاح العلوم، تراج، سورت


    الحمد للّٰہ وحدہ والصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد:
    جامع شریعت وطریقت حضرت فقیہہ الامت مفتی محمودحسن گنگوہی نور اللہ مرقدہ نے ۱۴۱۵ھ میں مدرسہ مفتاح العلوم خضرآباد میل وشارم (مدراس) میں رمضان المبارک گذارا تھا۔ عیدالفطر کے چند روز بعد مدراس شہر سے ہوتے ہوئے حضرت کے مخلص داعی ․․․․ کی طلب پر ساحلِ بحر عرب کے کنارے مکان میں فروکش ہوئے، دورانِ قیام ایک دن متوسلین کا قافلہ ساحل کے ایک اور جانب ”کولم“ پہنچا جہاں ایک قدیم قبر ہے اس کے بارے میں مشہور چلا آرہا ہے کہ یہ صحابیٴ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قبر ہے۔ چنانچہ ایک بڑے بورڈ پر جلی قلم سے یہ لکھا ہوا ہے ”روضہٴ صحابیٴ رسول تمیم انصاری“ وہاں سے لوٹتے ہوئے ایک رسالہ بنام ”قصہٴ حضرت تمیم انصاری“ دیکھا تو اِس نیت سے خرید لیا کہ پڑھیں کیا واقعہ ہے اور یہاں آخر کیسے مدفون ہوئے۔( اندر سرورق پر پورا نام تمیم انصاری ابن احمد انصاری لکھاہوا ہے)

    صغیر الحجم (چھوٹا سائز) ۵۵ صفحے کا یہ رسالہ (جس میں آخر کے ۱۶ صفحات میں صاحب مزار کے حق میں پیش کئے گئے مختلف شعراء کے منظوم خراج عقیدت ہیں) جب پڑھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی اور ”حدیث الخرافہ“ یاد آگئی یہ کتابچہ اسی طرح خرافات کا مجموعہ ہے۔ عقل و فہم نے کہا کہ یہ صحابی کاواقعہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔ درمیان قصہ ایک ٹکڑا دجال اکبر سے ملاقات اور اس سے گفتگو کا بھی ہے وہ بھی حدیث شریف کے خلاف ہے اِس سے اندازہ ہوا کہ یہ سارا قصہ اُس تمیم صحابی کیلئے وضع (گھڑا) گیا ہے جن کا ایک ماہ تک سمندری سفر میں رہنا اور بالآخر کسی جزیرہ میں پہنچ کر دجال سے ملنا حدیث پاک سے ثابت ہے۔ چنانچہ اُس علاقہ میں لوگوں کا نظریہ بھی اسی طرح کا ہے کہ یہ اُسی معروف تمیم صحابی کی قبر ہے۔ پھر خیال آیا کہ حضرت تمیم رضی اللہ عنہ کی سوانح زندگی معلوم کی جائے تاکہ حقیقتِ حال ظاہر ہو اور لوگوں کو بھی باخبر کردیا جائے تاکہ کسی صحابیٴ رسول کے متعلق ایسی واہیات باتیں جو نقل و عقل کے خلاف ہیں، دل و دماغ کو ان سے صاف رکھا جائے اور ان کی عظمت و تقدس کے موافق حسن اعتقاد رکھا جائے۔

    تمیم نام کے تقریباً بیس صحابہ ہیں جن میں نو(۹) یا دس(۱۰) انصاری ہیں بقیہ غیر انصاری، مگر مشہور و معروف اِن سب میں تمیم داری ہیں۔ آپ کی پوری سیرت کتب حدیث و اسمائے رجال کی روشنی میں آئندہ صفحات میں پیش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

    کولم کے صاحب قبر حضرت تمیم داری ہرگز نہیں ہیں کیونکہ ان کی قبر فلسطین (ملک شام) میں ہے اس میں کسی محدث کا اختلاف نہیں ہے۔ اور تمیم انصاری صحابی کا ہونا بھی قابل تسلیم نہیں ہوسکتا ہے اس لئے کہ

    (۱) سرزمین ہند میں وجود صحابہ کے متعلق ایک مضبوط روایت یہ ہے پروفیسر خلیق احمد نظامی صدر شعبہ تاریخ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ لکھتے ہیں:

    ”ارضِ ہند سے عربوں کے تعلق کی ابتداء حقیقتاً اِسی خطہٴ زمین (گجرات) سے ہوئی، حضرت عمر کے عہد خلافت میں عربوں نے سواحل گجرات پر قدم رکھا کوئی تعجب نہیں کہ کچھ صحابہ بھی یہاں آئے ہوں اور اِسی سرزمین میں آسودئہ خواب ہوں“ (پیش لفظ یاد ایام، ص:۱۲)

    اور اسلامی عہد کی تاریخ کے ہر شعبے پر عمیق و وسیع صاحب نظر اور اعیان و شخصیاتِ ہند کے علامہٴ وقت حضرت مولانا حکیم سید عبدالحئی حسنی کی شہادت یہ ہے:

    ”یہ تاریخی واقعہ ہے کہ ۱۵ھ میں فاروق اعظم نے بحرین و عمان کی حکومت پر عثمان بن ابی العاص الثقفی کو نامزد کیا جن کا شمار صحابہ کرام میں تھا، انھوں نے اپنے بھائی حَکَم بن ابی العاص کو بحرین کی حکومت پر نامزد کرکے حُکم دیا کہ وہ ہندوستان پر فوج کشی کریں، آپ نے اپنی فوج کولئے ہوئے سب سے پہلے سواحل گجرات پر قدم رکھا ․․․․․ اِس حملہ میں جن سعادت مندوں کو مرتبہ شہادت نصیب ہوا ان میں غالباً وہ انفاس قدسیہ بھی تھے جنھوں نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کاجمال جہاں آرا دیکھا تھا اور آپ کی پاکیزہ صحبت و روحانی تعلیم سے مستفیض ہوچکے تھے، اِن فدائیانِ اسلام کی قدسی صورتیں اِسی سرزمین کے آغوشِ محبت گنج بے رنج کی طرح مدفون ہوئیں اگرچہ ہم کو اِس کنز مخفی کا پتہ نہیں ہے مگر یہ یقینی ہے کہ بمبئی اور بھروچ کے گرد و نواح میں یہ خزانہ سپرد خاک ہوا ہوگا۔“ (یاد ایام، ص:۴۴، نزہة الخواطر،۴/۶)

    ساحل کولم میں معین طریقہ پر صحابیٴ رسول تمیم انصاری کی قبر کا ہونا علاقہٴ مدراس (تامل ناڈو) میں عوام میں مشہور ہے اور وہ سب کچھ ہوتا ہے جو شرعاً نہ ہونا چاہئے۔ اور غالباً شہرت ہی کی بنیاد پر جناب مرزا بیگ صاحب نے ”تذکرہ قاریانِ ہند“ ص:۸۸ میں یہ جملہ درج کیا ہے:

    ”کولم میں تمیم انصاری صحابی کی قبر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت کی نعش ایک کشتی میں رکھی ہوئی ساحل پر پہنچی اور وہیں ساحل پر دفن کردی گئی، ہندوستان میں صحابی کی یہی ایک قبر ہے جو قدیم ترین ہوسکتی ہے۔“

    اور مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی نے سواحل پر مزارِ صحابہ کے ذیل میں یہ لکھا ہے:

    ”․․․․․․ صحابی تمیم انصاری کا مزار مدراس سے بارہ میل جنوب کی جانب ساحل کولم (میلاپور) میں بتایا جاتا ہے۔“ (آئینہ حقیقت نما، ص:۷۱)

    اور ممکن ہے کہ کچھ اور موٴرخین نے بھی اِسی شہرت عامہ کی وجہ سے اپنی کتاب میں اُسے جگہ دی ہو۔ مگر

    (۲) بروایت مکرمی مولاناشوکت علی صاحب بھاگلپوری زیدمجدہم استاذ حدیث مدرسہ سعادت دارین ستپون بھروچ راقم کے صدیق وخواجہ تاش کہ وہ بھی کولم کے سفر کے رفیق تھے وہاں سے واپس آکر حضرت فقیہ الامت سے ذکر کیا کہ مزار کے پاس آویزاں ایک کتبہ میں بزبان فارسی اس طرح کی باتیں لکھی ہیں: چنانچہ رسالہ میں بھی ہے من جملہ ”لوگوں نے آپ کے جسم بے جان کو غسل کے بعد کفناکر اِس تحریر کے ساتھ (یہ صحابیٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کا نام تمیم انصاری ہے ۷۵ھ) ایک صندوق میں بند کرکے سمندر کے حوالہ کردیا․․․․ یہ صندوق تقریباً چار سو سال تک سمندر میں بہتا رہا اور بحیرئہ عرب اور بحر ہند سے بہتا ہوا خلیج بنگال میں داخل ہوکر کولم کے ساحل سے آلگا۔ حاکم وقت نے اسے نکلوایا اور لب ساحل ان کو دفن کیاگیا۔“

    حضرت فقیہ الامت نے جن کی وسعت علمی و نظر عمیق اور استحضار سے اہل علم بخوبی واقف ہیں ارشاد فرمایا:

    ”تاریخ و سیرت کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں مگر اِن حالات کے کوئی صحابی نظر سے نہیں گذرے۔“

    (۳) اور حقیقت واقعہ بھی یہی ہے صحابہ کی سیرت و معرفت پر لکھی جانے والی کتب الاستیعاب فی معرفة الاصحاب لابن عبدالبر المالکی، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ لابن الاثیر الجزری، الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی وغیرہ میں قدر مشترک تمیم نامی بیس سے زائد صحابہ کرام کا تذکرہ ہے۔ ان میں حضرت تمیم ابن اوس بن خارجہ ابو رقیہ الداری مشہور صحابی ہیں۔ حسب ذیل اُن کی تفصیل یہ ہے۔

    (۱) تمیم بن السِلم بن مالک بن اوس انصاری (مولی بنی غنم)

    (۲) تمیم مولی خیراش بن الصمّہ انصاری

    (۳) تمیم بن یعابر بن قیس انصاری

    (یہ تینوں صحابہ ”بدر“ و ”احد“ کے شرکاء میں سے ہیں)

    (۴) تمیم بن الحمام انصاری (بدر میں شہید ہوئے مگر ابونعیم فرماتے ہیں کہ تمیم تصحیف ہے نام عمیر تھا۔ اسد الغابہ)

    (۵) تمیم بن نسر بن عمرو انصاری (غزوئہ احد میں شریک ہوئے۔ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ اور تمیم بن بشر دونوں ایک ہیں باپ کے نام میں اختلاف ہے۔)

    (۶) تمیم بن معبد المازنی انصاری

    (۷) تمیم بن بشر الخزرجی انصاری

    (یہ دونوں غزوئہ احد کے شرکاء میں سے ہیں)

    (۸) تمام بن عبد عمرو ابوالحسن انصاری۔ یہ صحابی کنیت سے مشہور ہیں۔

    (۹) تمیم بن زید انصاری (عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری کے بھائی ہیں اُنھیں بھی صحبت حاصل ہے)

    (۱۰)تمیم بن زید یا یزید انصاری۔

    $ اور مندرجہ ذیل تمیم نام کے اصحاب غیر انصاری ہیں:

    (۱) تمیم بن اوس بن خارجہ الداری

    (۲) تمیم بن اَسِید الخزاعی

    (۳) تمیم بن اُسید ابورفاعہ العدوی (یہ کنیت سے مشہور ہیں، اور کابل میں شہید ہوئے ہیں)

    (۴) تمیم بن جراشہ الثقفی۔

    (۵) تمیم بن حارث بن قیس القرشی السہمی۔

    (۶) تمیم بن حجر ابوالاوس الاسلمی۔

    (۷) تمیم بن ربیعہ الجہنی۔

    (۸) تمیم بن سعد التمیمی۔

    (۹) تمیم الحبشی (حبشہ سے حضرت جعفر کے ساتھ مدینہ منورہ آنے والے لوگوں میں سے ایک)

    (۱۰)تمیم بن سلمہ السُلمی الکوفی (بعض نے انہیں صحابی کہا ہے اور اکثر محدثین تابعین میں شمار کرتے ہیں)

    (۱۱) تمیم بن نُذَیر ابوقتادہ العدوی (بعض نے کہا کہ کابل میں شہید ہونے والے ابوقتادہ عدوی ہیں۔ نیز بہت سے محدثین نے ان کو تابعی بتایا ہے۔ بعض حضرات نے صحابہ میں شمار کیا ہے)

    (۱۲)تمیم بن غیلان بن سلمہ الثقفی (ان کی صحابیت بھی مختلف فیہ ہے، اکثر محدثین کے نزدیک تابعی ہیں)

    (۱۳)تمیم (غیر منسوب)

    امام بخاری نے تاریخ کبیر میں تمیم داری اور تمیم ابو رفاعہ عدوی سمیت چوبیس (۲۴) تمائم کا ذکر کیاہے۔ مذکورہ دو کے علاوہ باقی تابعین ہیں۔

    امام شمس الدین ذہبی نے میزان الاعتدال اور سیر اعلام النبلاء میں بھی کئی تمیم نامی راویانِ حدیث کا ذکر کیا ہے۔ ان میں تمیم بن احمد انصاری صحابی کا وجود تو کجا اِس نام کے تابعی بھی نہیں ہیں۔

    ابورفاعہ تمیم بن اسید العدوی کے بارے میں لکھا ہے توفی بسجستان مع عبدالرحمٰن بن سمرہ (اسدالغابہ،ج:۱، ص: ۲۹۴) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ۴۳ھ میں حضرت معاویہ نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کو دوبارہ کابل فتح کرنے کے لئے روانہ کیا، انھوں نے آس پاس کی شورشیں کچلنے کے بعد کابل کو از سر نو ۴۴ھ میں منجنیقوں کی مدد سے فتح کیا اس فتح کے دوران ایک برگزیدہ صحابی حضرت ابورفاعہ تمیم بن اسید العدوی نے کابل میں جام شہادت نوش کیا، وہیں ان کا مزار ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہاں شہید ہونے والے صحابی حضرت ابوقتادہ العدوی تھے۔ (اصابہ، حاشیہ کتاب الاسامی والکنی، ص: ۳۵، جہاد افغانستان میں سات دن، ص: ۱۸۱)

    ان میں سے کسی تمیم صحابی کے ساتھ سمندری سفر کا وہ واقعہ جو حضرت تمیم داری کو پیش آیا اور انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا (جیسا کہ حدیث پاک میں موجود ہے) نہیں ہے۔ پس کولم کے صاحب مزار کی داستانِ نامعقول از قبیل خرافاتِ جن کے سواء کچھ نہیں ہے۔ بالفرض کسی تمیم صحابی کے وہ حالات عجیبہ ہوتے تو محدثین ان کے نام کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور ذکر کرتے جیسا کہ شیخ معمر ”بابا رتن الہندی“ کہ بعض بزرگوں نے ان کے صحابی ہونے کو تسلیم کیا ہے، لیکن محققین اور محدثین ان کی تردید فرماتے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں محدثین کا قول معتبر ہے۔ چنانچہ حکیم سید عبدالحئی حسنی نے ”شیخ عبدالعزیز المکی المشہور بعبداللہ علمبردار “ جن کے متعلق بھی معمر صحابی ہونا بیان کیاگیا ہے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:

    ولیس لہ عین ولا اثر فی کتب الرجال والسیر ولم یذکرہ الحافظ ابن حجر فی الاصابة مع انہ ذکر رتن الہندی وتکلم علیہ ولم یذکرہ ابن الاثیر فی اسد الغابة ولا غیرہ من قدماء المحدثین والموٴرخین فی کتبہم وان شئتَ فاذکر قول الذہبی فی رتن او ما یصدق بصحبة رتن الا من یوٴمن بوجود محمد بن الحسن فی السرداب ثم بخروجہ الی الدنیا او یوٴمن برجعة علی وہولاء لایوثر فیہم العلاج (نزہة الخواطر،ج:۱،ص: ۱۷۴)

    البتہ ایک راوی حدیث تمیم بن احمد بن احمد البَنْدَنِیجی البغدادی کا ذکر میزان وسیر میں امام ذہبی نے کیا ہے مگر یہ نہ صحابی نہ انصاری بلکہ خیرالقرون سے کافی بعد کے ہیں، ان کی ولادت ۵۴۵ھ اور وفات ۵۹۷ھ میں ہوئی۔ ان کے متعلق میزان الاعتدال میں یہ جرح و تعدیل بھی ہے محدث متأخر کذّبہ ابن الأخصر وقواہ غیرہ ۔ اور مصنفِ نزہة الخواطر نے ایک تمیم بن زید العتبی کے بارے میں لکھا ہے کہ ہشام بن عبدالملک خلیفہ اموی کے زمانہ میں ۱۱۱ھ میں سندھ کے والی ہوئے یہاں تک کہ ضعیف وکمزور ہوکر وہیں ان کی وفات ہوئی ”ومات عن الدیبل بماء یقال لہ ماء الجوامیس وکان من اسخیاء العرب“․

    رہا رسالہ میں پیش کیاگیا قصہ اور داستانِ سفر سو اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے پر کئی شہادتیں ہیں:

    (۱) کسی صحابی بلکہ تمیم نام کے دوسرے تابعین وغیرہ سے متعلق بھی اِس قسم کے خرافات کا ذکر برائے تردید بھی اسمائے رجال کی کتابوں میں راقم کو نہیں ملا۔

    (۲) داستانِ رنج والم کی ابتداء انتہائی غیر مہذب اور بے بنیاد ہے جو ادنیٰ مومن بلکہ سلیم العقل انسان سے بھی تصور نہیں کیا جاسکتا چہ جائے کہ کوئی کامل الایمان ہو صحابی کا درجہ تو بہت ہی بلند ہے۔

    (۳) کتابچہ میں ہے کہ حضرت علی نے صاحب واقعہ کے متعلق حضرت عمر سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمیم انصاری کے ایک عجیب سفر کی پیشیں گوئی فرمائی تھی (یعنی وہی جن و پری کا افسانہ) حالانکہ یہ بالکل باطل اور اختراعی ہے۔ دلائل النبوہ جیسی کتابوں میں کہیں اس کا سراغ نہیں ہے۔

    (۴) صاحب قصہ نے اپنی پوری داستانِ سفر حضرت عمر اور حضرت علی کے سامنے بیان کی حضرت علی نے تصدیق بھی فرمائی۔ یہ بھی قطعاً غلط اور گھڑی ہوئی بات ہے کیونکہ دونوں خلفاء کی سیرت کا ایک ایک گوشہ محفوظ و منقول ہے مثلاً علامہ شبلی نعمانی کی ”الفاروق“ (اردو میں) ہی دیکھ لیجئے کس قدر شرح و بسط کے ساتھ لکھی گئی ہے، اس میں کہیں حرف غلط کے طور پر بھی مذکورہ افسانہ کا ذکر نہیں ہے۔

    (۵) کتابچہ میں ہے کہ ․․․․․ کچھ عرصہ بعد تمیم انصاری تبلیغ اسلام کے لئے مدینہ طیبہ سے نکلے پھرتے پھرتے کراچی پہنچے اور وہیں مقیم ہوگئے۔ یہ بھی بے سروپا کی باتیں ہیں۔ اس لئے کہ تنہا کسی صحابی کا ہند کی طرف سفر کرنا اور بالخصوص کراچی میں وفات تک مقیم ہوجانا کتب اسمائے رجال میں نہیں ہے اور رجال السند والہند، ص: ۱۳۰ میں قاضی اطہر مبارک پوری نے سامری مَلِک ملیبار سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے اواخر یا تیسری صدی کے اوائل میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے تبلیغ اسلام کے لئے سواحل بحر ہند ملیبار وغیرہ کا سفر کیا ان میں سے بعض کے متعلقین کولم میں مقیم ہوگئے تھے۔

    البتہ قدیم تر ہندوستان سے متصل علاقے موجودہ افغانستان کے شہر کابل میں حضرت ابورفاعہ تمیم بن اسید عدوی رضی اللہ عنہ کا مزار ہے اور یہ سعادت افغانستان کی سرزمین کو حاصل ہے۔

    رسالہ میں درج کردہ قصہ کے باطل اور اختراعی ہونے کے لئے مذکورہ شہادتیں بہت ہیں اگرچہ کتاب میں اس سے بھی زیادہ ہیں۔ پس ایسی کتاب ہرگز پڑھنے کے لائق نہیں ہے پھر اس کی اشاعت کب درست ہوسکتی ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں