سالگرہ ۔۔۔ ہم کیا کر رہے ہیں؟

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏دسمبر 9, 2012۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    فقیہ العصر مفتیٔ اعظم حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ:۔
    سالگرہ منانا ایک قبیح رسم ہے اس کا ترک واجب ہے، اصل سالگرہ تو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اپنی زندگی کا احتساب کیا جائے اپنے اعمال کے بارے میں سوچا جائے کہ جنت کی طرف لے جار ہے ہیں یا جہنم کی طرف۔ (احسن الفتاویٰ:۸؍۱۵۵)۔
    آج کل عوام تو عوام کچھ اہلِ علم بھی ایسی رُسومات میں شامل ہو رہے ہیں جو زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں، ان رسوماتِ باطلہ میں سے ایک ’’سالگرہ‘‘ بھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سالگرہ یہود و نصاریٰ کی ایجاد کردہ رَسم ہےان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں میں بھی مروّج ہو گئی، جو کئی ایک خرافات و ممنوعات و منہیات کو شامل ہونے کی بناء پر واجب الاحتراز ہے۔ سالگرہ منانا چاہے پیدائش کی ہو چاہے شادی کی، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اور اسلام غیروں کی مشابہت سے منع کرتا ہےاس لیے قابلِ ترک ہے۔ ایسے ہی تحفہ دینا اچھی بات ہے لیکن سالگرہ کی بناء پر دینا بدعت ہے۔
    ہمارے یہاں مختلف فورم پر رُکن کی تاریخ پیدائش پر بھی مبارک باد پیش کی جاتی ہے اور کوئی تحفے (تصویری شکل میں) پیش کرتا ہے، علمائے کرام جو عوام الناس کے لیے مقتداء کا مقام رکھتے ہیں، کا بھی اس کام میں شامل ہوجانا ایک غلط چیز کو تقویت دینا ہے جس سے بُرائی اور بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ عوام اپنے علماء کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اس کو اپنے لیے حجت سمجھتے ہیں۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا کہ ہم لوگ ایک بدعت کو ختم کرنے نکلتے ہیں اور دس سنتیں ختم کر کے آتے ہیں یعنی بُرائی میں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔ سالگرہ کی خوشی ایک بے معنی خوشی ہے۔ احقر نے اپنے ایک عزیز کو ایک مرتبہ لکھا تھا کہ:۔
    آہ! انسان سوچتا ہے کہ مَیں بڑا ہو گیا مگر حقیقت میں وہ چھوٹا ہوا، کیونکہ انسان زندگی کی طرف نہیں بلکہ موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سالگرہ مناتے وقت یہ سوچو کہ مَیں نے سفرِ آخرت کی کتنی تیاری کر لی ہے؟ ہم لوگ خوشی مناتے ہیں مگر بھائی! یہ وقت خوشی منانے کا نہیں بلکہ غم کا وقت ہے کہ ہائے افسوس! میری اتنی زندگی گزر گئی اور مَیں نے سفرِ آخرت کی تیاری نہیں کی۔ خوشی وہ منائے جو تیاری کر چکا ہو۔ پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
    ایماں چو سلامت بہ لب گور بریم
    احسنت بریں چُستی و چالاکیٔ ما​
    جب میں ایمان کو سلامتی کے ساتھ قبر میں لے جاؤں گا تب اپنی چُستی و چالاکی کی تعریف کروں گا۔ اس وقت اپنی تہجد و نوافل پر خوش ہوں گا کہ الحمدللہ میں کامیاب ہو گیا۔
    احقر کا مقصد کسی پر تنقید نہیں بلکہ ایک اہم مسئلہ کی طرف نشاندہی کرنا ہے اور یہ انفرادی معاملہ نہیں بلکہ اجتماعی بات ہے کہ سب اس کی لپیٹ میں آ رہےہیں کوئی کسی صورت میں اور کوئی کسی صورت میں، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ میری تحریر سے کسی کو بے شک اختلاف ہو سکتا ہے اور وہ کھلے دَل سے تبصرہ کر سکتا ہے مگر میری بات کا غلط رنگ نہ لیا جائے، مقصد صرف ایک خاموش بُرائی کے بڑھنے کی طرف توجہ دِلانا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں