سبق نمبر۱: سورۃ الفاتحہ(ہشت روزہ کورس)

'تفسیر القرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از qureshi, ‏جنوری 31, 2017۔

  1. qureshi

    qureshi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    292
    موصول پسندیدگیاں:
    209
    جگہ:
    Afghanistan
    دارلعرفان منارہ چکوال میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے سالکین کی تعلیم وتربیت کے لئےکچھ کورس ترتیب دئیے گئے ہیں جو ہر سالک کے لئے ضروری ہیں۔ان کورسزز میں ہشت روزہ کورس بھی شامل ہےقرآن پاک کی یہ تفسیر اکرام التفاسیر امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی کی بیانیہ تفسیر سے لی گئی ہےانشاء اللہ کوشش کرونگا کہ یہ ہشت روزہ کورس یہاں مکمل شئیر کروں تا کہ احباب اس سے استفادہ کر سکے ۔اکرام التفاسیر انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف میں بھی موجود ہے )
    سبق نمبر۱: سورۃ الفاتحہ
    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝
    شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
    الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ۝۱ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۲ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝۳
    تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو سب عالموں کے پروردگار ہیں۔ بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ انصاف کے دن کے مالک ہیں۔
    اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۝۴ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۵
    ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم کو سیدھے راستے پر چلائیے۔
    صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۝۶ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ۝۷
    ان لوگوں کے راستے پر جن پر آپ نے انعام فرمایا۔ سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پر آپ نے غضب کیا اور نہ گمراہوں کی۔

    سورۃ فاتحہ قرآن حکیم کی سب سے پہلی سورۃ ہے۔ ایک بات یاد رکھیئے کہ نزول قرآن اور ترتیبِ قرآن یہ دو چیزیں ہیں۔ قرآن کریم چونکہ اللہ پاک نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم اور محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا تو اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ قرآن کی ساری آیات کسی نہ کسی خاص واقعہ کے صادر ہونے پر نازل ہوئیں۔ اس کا فائدہ دو طرح سے ہو، اس کی دو حکمتیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں، اس میں اور کتنی حکمتیں ہیں یہ اللہ کریم کے علم میں ہے۔ ایک حکمت یہ ہے کہ جو بات کسی واقعہ کے ساتھ مربوط ہو جاتی ہے جب وہ واقعہ یاد آتا ہے وہ بات بھی یاد آجاتی ہے تو اس طرح سے ہر واقعہ کے ساتھ آیات کی تعین ہو گئی کہ فلاں واقعہ پر فلاں آیت اتری تھی۔ دوسرا یہ فائدہ ہوا کہ ہر واقعہ نے آیت کے معنی مقرر کر دیے کہ واقعہ یہ ہوا تھا، مسئلہ یہ پیدا ہوا تھا اس کا اس آیت کریمہ سے جواب دیا گیا اور اس کو حضور اکرمﷺ نے ان معنوں میں اپنے شاگردوں کو سمجھایا اور صحابہ نے اس پر کس طرح عمل کیا اور حفظِ قرآن کا فائدہ بھی دے گیا۔ کسی واقعہ کے ساتھ آیت کے مربوط ہونے اس کے معنی کی تعین کر دی۔ قرآن کا نزول الگ بات ہے اور ترتیبِ قرآن الگ بات ہے۔ نزولِ قرآن واقعات کے ساتھ مربوط ہے۔ اس میں بہت سی حکمتوں میں سے دو حکمتیں یہ ہیں کہ واقعہ کی یاد آیت کی یاد کا سبب بن گئی اور واقعہ کے واقعات آیت کے معنی مقرر کرنے کا سبب بن گئے۔
    دوسری حکمت ہے قرآن حکیم کی ترتیب۔ اس پر بڑے اعتراض ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیے کہ قرآن جب نازل ہونا شروع ہوا تب ہی لکھا جانا بھی شروع ہو گیا اور اس کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے سیدنا فاروق اعظم؄ کے ایمان کے واقعہ میں اکثر پڑھا بھی اور سنا بھی ہوگا کہ جب وہ اپنی بہن کے گھر تشریف لے گئے تو اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔ جو صحابی انہیں پڑھا رہے تھے، ان کے پاس لکھے ہوئے اوراق پر قرآن حکیم موجود تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن نزول کے ساتھ ہی ضبط تحریر میںلایا جانے لگا۔ تو جب نزول کے ساتھ ہی وہ لکھا جانے لگا تو یقیناً اس کی ترتیب بھی اسی اللہ کے حکم سے بنی جس نے اسے نازل کیا۔ نبی کریمﷺ نے اسے لکھنے کا حکم دیا جو آیت کسی واقعہ پر نازل ہوتی تھی اس کا ربط اس واقعہ کے ساتھ الگ سے ہے لیکن اسے کہاں لکھا جائے گا یہ بھی اللہ کے حکم سے اللہ کے رسولﷺ فیصلہ فرماتے تھے۔
    کچھ آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جو قرآن کے آخر میں ملتی ہیں، کچھ مدینہ منورہ میںنازل ہوئیں یہ شروع میں ملتی ہیں۔ کچھ سفر میں،کچھ حضر میں،تیئس برس مسلسل نازل ہوتا رہا۔ لیکن قرآن جس ترتیب سے اللہ کے علم میں تھا، جس ترتیب سے لوح محفوظ میں ہے، جس ترتیب سے رب اسے بندوں تک پہنچانا چاہتا تھا، اسی ترتیب سے اللہ کے حکم کے مطابق اسے لکھا گیا۔
    تو سب سے پہلے فاتحہ الکتاب یعنی کتاب اللہ کا دروازہ ہے۔ اسے کتاب اللہ میں سبعاً من المثانی کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یعنی سات وہ آیات جو بہت زیادہ پڑھی جاتی ہیں، بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے جب اللہ جل شانہ نے اسے کتاب کا دروازہ قرار دیا ہے تو یقیناً دروازہ کھولنے سے اندر کے سارے حقائق کی ایک جھلک آدمی کے سامنے آجاتی ہے۔ تو یہ ایک طرح سے قرآن حکیم کا پورا نچوڑ اور خلاصہ بھی ہے۔
    حضرت فرمایا کرتے تھے کہ سارے قرآن کا حاصل سورۃ فاتحہ میںموجود ہے۔ سورۃ فاتحہ کا سارا حاصل بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم میں موجود ہے۔ بسم اللہ شریف کا سارا حاصل پہلی ”ب“ کے ایک نقطے میں ہے۔ اصطلاحِ لغت میںاسے تلبس کہتے ہیں یعنی لپٹنا، چمٹنا، ساتھ لگ جانا۔ تو یہ ”ب“ جو ہے یہ اسم کے ساتھ مل کر اس میں مدغم ہو گئی، تلبس ہو گیا۔ اس میں ”ب“ کو اور اسم کے ”الف “کو الگ کوئی نہیں کرتا اور ”ب“ اور ”سین“ مدغم ہو جاتے ہیں۔ یعنی یہ اس طرح ملتی ہے کہ اسی کا حصہ بن جاتی ہے تو اسے بائے تلبس کہتے ہیں۔ یعنی اس کے ساتھ لپٹ جانے والی، اس کا لباس بن جانے والی، اس میںفنا ہو جانے والی۔ تو آپ فرماتے تھے کہ قرآن حکیم کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اللہ کی ذات میںڈوب جائے، فنا ہو جائے باقی نہ رہے۔ اللہ رہے بندہ نہ رہے۔
    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم۝ یہ وہ آیت مبارکہ ہے جو قرآن حکیم میںہر سورت سے پہلے لکھی ہوئی ہے۔ اس بات میںمفسرین کی دو آراء ہیں۔ بعض کے نزدیک ہر سورۃ میں بسم اللہ شریف باقاعدہ نازل ہوتی تھی اور بعض حضرات کے نزدیک نزول تو اس کا ایک ہی بار ہوا لیکن اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہر سورۃ اسی سے شروع کی جائے گی۔ سورۃ توبہ بسم اللہ شریف سے شروع نہیں کی گئی اس لئے کہ بسم اللہ رحمت الٰہی کی نوید ہے اور سورۃ توبہ کی ابتدا ہی اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی بدکار کفار یا مشرکین سے برأت سے شروع ہوتی ہے، بیزاری سے شروع ہوتی ہے، علیحدہ ہونے سے شروع ہوتی ہے۔ اس لئے اس کے شروع میں بسم اللہ شریف نہیں دی گئی۔ بعض تراجم میںکچھ کلمات لکھے ہوئے ملتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اعوذ باللّٰہ من النار۔ اعوذ باللّٰہ من العذاب اللّٰہ یا کہ اللہ کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بسم اللہ کے قائم مقام پڑھے جائیں لیکن مفسرین کے نزدیک اس کی کوئی سند نہیں۔ اگر کوئی اس طرح سے پڑھتا ہے تو ایسا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہاں اگر اسے پڑھنا ضروری سمجھا جائے تو وہ درست نہیں ہوگا کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ جہاں بسم اللہ نہ پڑھنے کا حکم ہے وہاں نہ پڑھنا ہی بہتر ہے۔
    دینی حکم پر عمل کے بارے میں ہمیں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ مثلاً سفر میں ہیں تو کوئی کہے کیا فرق پڑتا ہے کہ چار رکعت پڑھ لیں۔ تو چار رکعت پڑھنے سے دو بھی ادا نہیں ہوتیں اس لئے کہ اللہ کا حکم ہے دو رکعت پڑھنے کا، قصر کرنے کا حکم ہے۔ آپ نہیں کریں گے تو جیسے فجر کی دو رکعتیں ہیں اور کوئی کہے میں بڑا فارغ ہوں، میں چار پڑھ لوں تو چار پڑھنے سے دو بھی نہ ہوں گی۔ مقصد خواہ مخواہ پڑھنا نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو کرنے کارب کریم نے حکم دیا وہ کیا جائے۔ جیسے کرنا رسول اللہﷺ نے سکھایا ہے ویسے کیا جائے۔ یہ سورۃ شروع ہوتی ہے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمO اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ رحمٰن وسیع تر معنوں میں آتا ہے لیکن وہ معنی وقتی اور لمحاتی ہوتے ہیں۔ رحیم میںوہ وسعت نہیں ہوتی لیکن اس میں دوام ہوتا ہے۔ عربی گرائمر کی اصطلاحیں ہیں جس طرح رحمٰن کے وزن پر عطشان بہت زیادہ پیاسا۔ عطش پیاس کو کہتے ہیں۔ عطشان اگر کہیں گے تو بہت بڑی مراد ہوگی کیونکہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے لیکن پیاس ہمیشہ تو نہیں رہتی مٹ جاتی ہے۔ لیکن رحیم، حکیم اور علیم فعیل کے وزن پر آتا ہے۔ اب اگر کوئی حکیم ہے تو یہ اس کی صفت دائمی ہے۔ اگر کوئی علیم ہے تو اس کی صفت دائمی ہے۔ اگر کوئی کریم ہے تو اس کی صفت دائمی ہے۔ اسی طرح رحیم دوام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
    تو اس میں مفسرین نے جو رسول اللہﷺ سے نقل فرمایا وہ یہ ہے کہ رحمٰن وسیع تر معنوں میں ہے اور رحمانیت کا اظہار عالم دنیا میں ہوتا ہے۔ دنیا میں اگر کوئی اس کی اطاعت کرتا ہے تو بھی روزی پاتا ہے، نافرمانی کرتا ہے تو بھی روزی پاتا ہے۔ گناہ کرتا ہے تو مہلت پاتا ہے، توبہ کرتا ہے تو قبولیت کا دروازہ کھلا پاتا ہے۔ زندگی کی بے شمار نعمتیں آنکھیں، کان، حواس خمسہ، بے شمار مال و دولت، حکومت و اقتدار، اولاد اہل و عیال، دوست، یہ ساری چیزیں بدکار بھی، نافرماں بھی، منکر بھی، مشرک اور کافر بھی پاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ دنیا رحمانیت باری کا مظہر ہے۔ لیکن چونکہ دنیا ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے اس لئے یہاں رحمانیت کا اظہار فرمایا گیا۔ یہ رحمتِ الٰہی کا ایک پہلو ہے جس میں بہت زیادہ وسعت ہے۔ جس سے مومن بھی فائدہ اٹھاتا ہے، کافر بھی فائدہ اٹھاتا ہے نیک بھی فائدہ اٹھاتا ہے، بدکار بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ سورج اگر کسی نبی، کسی صحابی، کسی بڑے ولی اللہ کو تپش بخشتا ہے، روشنی دیتا ہے تو کافر و بدکار، فرعون و نمرود و ہامان کو بھی دیتا ہے۔ یہ وسعت ہے رحمانیت کی۔ یہ رحمت الٰہی کا وہ پہلو ہے جسے رحمٰن یا رحمانیت کہا جاتا ہے اور اسی لیے کہا جاتا ہے ”الرحمٰن لدنیا والرحیم للاخرۃ“۔ آخرت میں رحمت الٰہی ایمان کے ساتھ متعلق ہو جائے گی، ایمان کے ساتھ مشروط ہو جائے گی۔ ایمان والوں کے لئے تو اس میں پہلے سے بھی زیادہ فراوانی ہو گی، پہلے سے بھی زیادہ وسعت ہوگی، پہلے سے بھی زیادہ انعامات ہوں گے لیکن بغیر ایمان کے دنیا سے جانے والا اس سے قطعاً محروم ہو جائے گا۔ تو ان معنوں میںوہ اتنی وسیع نہ رہی جتنا اسی رحمت الٰہی کا وہ وسیع تر پہلو جس سے کافر و بدکار بھی مستفید ہوتے تھے دنیا کی روزی پاتے تھے۔ لیکن آخرت اللہ کی رضا مندی، آخرت کی روزی، آخرت کے انعام ایمان کے ساتھ مقید و مشروط کر دیے گئے۔تو فرمایا گیا ”الرحمٰن لدنیا والرحیم للاخرۃ“ دنیا کے لئے رحمانیت ہے اور آخرت کے لئے رحیمیت ہے۔
    اَلْحَمْدُ لِلہِ ابتدا ہوتی ہے فنائے تام سے۔ فنا کہتے ہیں اپنی ذات کی نفی کرنا۔ کسی بھی شے کی نفی اس کی فنا ہوتی ہے۔ فرمایا اَلْحَمْدُ لِلہِ سب خوبیاں، سب کمال،صرف اللہ کے لئے ہیں۔ سورج میںروشنی ہے یا چاند میںچاندنی ہے، ہوائوں میںروانی ہے یا بارش میں آب رسانی ہے، زمین پر روئیدگی ہے یا پھلوں میں مٹھاس ہے، پھولوں کی خوشبو ہے یا دنیا و آخرت کارنگ و بو ہے، کوئی بھی نعمت ہے، میں ہوں میرا وجود ہے، میرا علم ہے، میری طاقت ہے، میری حکومت ہے، میری سلطنت ہے، میرا اقتدار ہے، میری دولت ہے۔ فرمایا تیرا کچھ بھی نہیں۔ جسے بھی تو کمال سمجھتا ہے، جسے بھی تو خوبی سمجھتا ہے، وہ تیری ہے نہ کسی اور کی، صرف اللہ کی ہے۔
    پھر رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۝۱ اس لئے کہ سارے جہانوں کو سب کچھ اسی نے دیا ہوا ہے۔ تیرے پاس ہے، میرے پاس ہے یا سلطان و امیر کے پاس ہے۔ کسی کے پاس علم ہے یا طاقت، دولت ہے یا درع و تقویٰ ہے یا نیکی اور پارسائی تمام کمال بندے کے نہیں ہیں۔پھول کی خوشبو پھول کی نہیں ہے، نظر پھول میں آتی ہے، کمال اس کا ہے۔ طاقت سلطان کے ہاتھ میں ہے لیکن ہے اس کی۔ کوئی خوبی کسی کے پاس ہے کوئی کسی کے پاس، اس لئے کہ وہ رب العلمین ہے۔ رب ہوتا ہے ہر وقت ہر شے کی ہر ضرورت پوری کرنے والا۔ اولاد کی تربیت ہوتی ہے کہ بتدریج اس کی ضروریات کو بااحسن طریق پورا کر کے اسے پروان چڑھانا۔ اللہ سارے جہانوں کا رب ہے، ہر شے کی ہر ضرورت ہر وقت پوری کر کے اسے کمال کی طرف لئے جا رہا ہے۔ تو جب سارے جہان کو سارے کمال بھی وہاں سے بٹ رہے ہیں تو پھر سب کے پاس جو کچھ بھی ہے، ادھار ہوا، سب کے پاس امانت ہوئی، ذاتی تو کسی کا کچھ بھی نہ ہوا۔ ساری خوبیاں صرف اللہ کی ہیں کہ وہ رب ہے سارے جہانوں کا۔
    الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝۲ دنیا میں اگر منکر کے پاس کچھ ہے تو اس کی رحمانیت کی عطا ہے، آخرت میں اگر کسی نیک اور صالح کے پاس کچھ ہے تو وہ اس کی رحیمیت کی عطا ہے۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۝۳ وہ نتائج پیدا کرنے میں خود مختار ہے۔ یہ وہ ترجمہ ہے جو کہیں لکھا ہوا نہیں ہوتا لیکن یہ آیہ کریمہ کا مفہوم ہے، یہ لفظی ترجمہ نہیں ہے۔ یَوْمِ الدِّیْنِ سے مراد جزا و سزا کا معین دن۔ لیکن جزا اور سزا کے دو اور رخ ہیں۔ ایک وہ جو فوراً ملتی ہے جیسے پانی پیتے ہیں، پیاس بجھ جاتی ہے لیکن اس کٹورے کا حساب میدانِ حشر میں بھی ہوگا۔ ہم گرمی سے، جنگل سے، صحرا سے آتے ہیں راستے میں درخت ہے سائے میںکھڑے ہو جاتے ہیں، فوراً سکون مل جاتا ہے یہ فوری نتیجہ ہے۔ لیکن حضور اکرمﷺ نے فرمایا اگر کسی نے اس طرح کھڑے ہو کر سائے سے استفادہ تو کیا لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہیں کہا تو پوچھا جائے گا کہ سایے کا لطف تو لے لیا مگر میرا نام لینا بھول گئے، سایہ پیدا کرنے والے کو یاد کرنا بھول گئے اتنا تو کہہ دیتے کہ تیرا شکر ہے میرے لئے سایہ بھی پیدا کر دیا۔ تو جس دن وہ نتیجہ ہوگا اسے یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے ہیں۔ اس دن کا مالک اس لئے کہا کہ دنیا میں تو عارضی اور وقتی طور پر حکومت و سلطنت کے دعوے دار انسان بھی ہیں۔ کسی کو فرشتوں میں بڑی طاقت نظر آتی ہے، کوئی دنیا کو بڑا طاقت ور مانتا ہے، کسی کو دیوی اور دیوتائوں میں بڑی قوت نظر آتی ہے، کوئی دریائوں کے پانیوں اور سمندروں کی گہرائیوں اور بجلی کی طاقتوں میں بڑی قوت مانتا ہے لیکن وہ دن ایسا ہوگا کہ کوئی غلطی سے بھی کسی دوسرے میں کوئی طاقت نہیں مانے گا کہ ہر کافر و مومن کہے گا کہ ساری حکومت صرف اللہ کی ہے۔ یعنی سلطنت باری کا ایسا اظہار ہوگا کہ بڑے بڑے منکر، فرعون جیسے کافر بھی پکار اٹھیں گے کہ ہم غلطی پر تھے حکومت و سلطنت صرف تیری ہے۔
    سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
    حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری
    اِیَّاکَ نَعْبُدوُ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن۝۴ یہاں سورۃ فاتحہ نے بڑا خوبصورت موڑ لیا ہے۔ بندہ آپ سے بات کر رہا تھا، اللہ میں تیرے نام سے شروع کرتا ہوں، تو رحمٰن بھی ہے، رحیم بھی ہے، سارے جہانوں کا پالنے والا بھی تو ہی ہے، جزا و سزا اور نتائج پیدا کرنا یہ تیری قدرت کاملہ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ تنہا تھا واحد متکلم تھا پھر ایک دم جمع کے صیغے میں چلا گیا۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ ایک بندہ ان سب میں خود کو شامل کر لیتا ہے جنہوں نے ازل سے لے کر ابد تک اللہ کے حضور سر جھکانا ہے۔ اس میں فرشتے بھی ہیں، حاملین عرش بھی ہیں، اس میں اللہ کے نبی اور رسول بھی ہیں، اس میں اللہ کے برگزیدہ بندے، صحابہؓ تابعین اور اولیاء اللہ بھی ہیں۔ جس کسی کا سر اللہ کی بارگاہ میں جھکتا ہے، اس جماعت میں شامل ہے۔ اکیلے کی کیا حیثیت بنتی ہے، اس کا سجدہ کس قابل ہوگا، اس کی عبادت میں کتنا خلوص ہوگا، اچھا ہوگا یا کمزور ہوگا، اس میں کتنی خامیاں ہیں۔ تو اللہ نے یہ سکھایا کہ خود کو تنہا نہ رکھ، اس جم غفیر میں شامل ہو جا جو کبھی اللہ کی رحمت سے محروم نہیں رہتا، تو بھی محروم نہیں رہے گا، برستی بارش میں نکل جا۔ فرمایا اِیَّاکَ نَعْبُدُ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اس ہم میں ہر وہ ہستی شامل ہے جس نے اللہ کی عبادت کی ہے۔
    اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن اور ہم سب کو تجھی سے مدد کی توقع اور امید ہے۔ ہم اپنی ساری ضرورتیں، ساری حاجات صرف اور صرف تیرے سامنے رکھتے ہیں اس لئے کہ دینا صرف تیرا کام ہے، باقی سب تو خود لینے والے ہیں، ہمیں کیا دیں گے۔ اس لئے انبیاء ہمیشہ بندے کو اللہ کی معرفت دیتے آئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے کسی سے دال روٹی کا وعدہ نہیں کیا۔ رسول اللہﷺ کا یہ نعرہ نہیں تھا کہ میں تمہیں روٹی دوں گا، کپڑا دوں گا، مکان دوں گا۔ نہیں بلکہ تمہیں اللہ کے حضور پہنچا دوں گا۔ فرمایا جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اپنے رب سے مانگو۔ تو جب ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد بھی چاہتے ہیں تو ہم سب کو وہ سیدھا راستہ دکھا جو سیدھا تیری بارگاہ تک آتا ہے جس میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہے۔
    اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۝۵ ہمیں بالکل کھرا اور سیدھا راستہ دکھا۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۝۶ ان لوگوں کا راستہ جن پر ہمیشہ تیرے انعامات ہوتے رہے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، ان جیسا عقیدہ عطا فرما، ان جیسا عمل عطا فرما، ان جیسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔
    غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ ایسے لوگوں کی راہ پر نہ چلانا جن پر تیرے غضب نازل ہوئے۔ ان گناہوں سے، ان غلط عقائد سے، ان برے کاموں سے مجھے بچا لے جن کے کرنے والوں سے تو ناراض ہو جائے۔ جن سے تو ناراض ہو گیا، جن پر تیرا غضب ہوا ان کے پاس تو باقی کچھ نہیں بچا۔
    وَلَاالضَّآلِیْن۝۷ اور ایسے لوگوں کی راہ سے بھی مجھے بچا لے جو رستہ ہی بھول گئے۔ نتیجہ دونوں کا ایک ہے لیکن صورتیں دو ہیں۔ غضب کو دعوت دینے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو احکام الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔ جیسے کوئی کہتا ہے میں نبوت کو نہیں مانتا، میں آخرت کو نہیں مانتا، میں اللہ کی کتاب کو نہیں مانتا، یہ ہوتا ہے مغضوب جس نے غضب الٰہی کو دعوت دی۔ اس کی مثال مفسرین کے نزدیک یہودی ہیں جنہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم نبی کریمﷺ کو نہیں مانیں گے۔ اگرچہ ہمیں پتہ ہے کہ نبی؈ سچے ہیں لیکن ہماری قوم میں سے نہیں آئے اس لیے ہم نہیں مانیں گے، یہ مغضوب ٹھہرے۔ عیسائی مثال بن گئے گمراہی کے کہ انہوں نے عظمت الٰہی کا، اللہ کی کتاب کا، اللہ کے نبی؈ کی نبوت کا اقرار کیا لیکن اپنے ا
    نداز سے۔ جس طرح اللہ نے ماننے کاحکم دیاتھا اس طرح نہیں۔ اپنی طرز کے اس میں راستے پیدا کر لیے کہ ہم اللہ کو جیسا وہ منواتا ہے، ویسا نہیں مانتے بلکہ اپنی پسند سے مانتے ہیں۔ اللہ کے نبی؈ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ یہ ان کی پسند تھی، اللہ نے ویسا ماننے کا حکم نہیں دیا تھا۔ تو دین میں احکام کا انکار، ضروریاتِ دین کا انکار غضبِ الٰہی کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ کوئی کہے کہ یہ میں مانتا ہی نہیں کہ نماز پڑھنا ضروری ہے۔ یہ ہے غضب کو دعوت دینا۔ لیکن کوئی نماز تو پڑھے لیکن اپنے ڈھب سے پڑھنا چاہے، جیسے حضورﷺ نے سکھایا ویسے نہ پڑھے اور اگر وہ سمجھے کہ اس طرح زیادہ ثواب ہے تو یہ گمراہی ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے جینے اور مرنے کے بہت سارے کاموں میں بہت سے رواجوں کو اپنا رکھا ہے۔ شادی میں یا کسی کی وفات پر بے شمار ایسی رسومات نظر آتی ہیں جو دین کا حصہ نہیں ہیں لیکن انہیں دین بنا لیا گیا ہے۔ اگر کوئی ان رسومات کو ترک کرے تو سمجھا جاتا ہے یہ اچھا مسلمان نہیں ہے، تو یہ گمراہی ہے۔ ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اللہ سے دعا بھی کی جائے اور اس کے ساتھ کوشش بھی کی جائے۔ خود تلاش کریں کہ کون کون سی چیزیں سنت ہیں، مامور بہ ہیں، ان کو اپنائیں۔ کتنی سنتیں ایسی ہیں جو لاعلمی میں عدم توجہی کی بناء پر ہم سے چھوٹ جاتی ہیں اور کتنے رواج اور رسومات ہیں جو ہم نیکی سمجھ کر اپنا لیتے ہیں اور وہ گمراہی کا سبب بن جاتی ہیں۔
    تو یہ وہ جامع اور بہترین دعا ہے کہ جو بندہ نماز کی ہر رکعت میں سب سے پہلے پڑھتا ہے۔ باقی قرآن پڑھنے میں اجازت ہے کہ کہیں سے تین آیات پڑھ لے لیکن اس کا پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی۔ اس کی اتنی تاکید کی گئی ہے کہ اس سورۃ کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے۔ چار فرائض پڑھ رہے ہیں تو آخری دو رکعت میں صرف یہی سورۃ پڑھی جائے گی۔ دوسری سورتیں چھوڑی جا سکتی ہیں لیکن اگر یہ چھوٹ جائے گی تو نماز نہیں ہوگی۔ اگلا سارا قرآن حکیم اس کا جواب ہے، اسی دعا کا جو ہمیں سورۃ فاتحہ میں رب العزت نے سکھائی۔ اس کے فضائل میں حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی تو شیطان خاک پر، مٹی میں لوٹ رہا تھا اور سر پر بھی خاک ڈالتا تھا۔ کہتا تھا کہ جو مسلمان یہ الفاظ اللہ کے حضور کھڑا ہو کر کہے گا، بھلا میرے قابو کب آئے گا، میں اس کا کیا بگاڑ سکوں گا۔
    مزیدمطالعہ کے لئے تفسیر اسرار التنزیل اور اکرم التفاسیر ملاحظہ فرمائیں۔
    ٭ ٭ ٭​

اس صفحے کو مشتہر کریں