"سجدۂ تلاوت" کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏جنوری 9, 2016۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,351
    موصول پسندیدگیاں:
    1,734
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    "سجدۂ تلاوت" کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات:

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ وہ سورت جس میں سجدہ ہوتا پڑھتے تو سجدہ کرتے ۔اور ہم لوگ بھی سجدہ کرتے ۔(بخاری ج 1ص 147،مجمع ج 2ص 286)
    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ ﷺ ہمارے درمیان قرآن پاک تلاوت فرماتے جب سجدہ کی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہتے سجدہ کرتے ۔اور ہم لوگ بھی سجدہ کرتے ۔(ابوداؤد ص 200)

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقعہ پر سجدہ کی آیت پڑھی تو تمام (سننے والوں نے) سجدہ کیا ۔(ابوداؤد ص 200،مشکوٰۃ ص94)
    حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے سورہ نجم پڑھی اور سجدہ کیا ۔اور آپ ﷺ کےپاس جو لوگ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا ۔ہاں مگر قریش کے ایک بوڑھے نے سجدہ نہیں کیا بلکہ مٹی لے کرپیشانی پر لگالی اور کہا بس یہ کافی ہے (زمین پر سر رکھنے کی ضرورت نہیں) حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے اسے بعد میں دیکھا کفر کی حالت میں قتل ہوا ،(بخاری ص 146،مسلم ، طحاوی ص 207)
    حضرت ابن عمر کا قول ہے جو سجدہ کی آیت سنے اس پر بھی سجدہ ہے ۔(ابن ابی شیبہ اعلاء ص 199 عمدۃ القاری ج 7 ص 104)
    حضرت سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ جنابت کی حالت میں سجدہ کی آیت سنے تو غسل کے بعد سجدہ کرے ۔(اعلاءص 199)

    ماخوذ از : شمائل کبریٰ ، جلد 2 حصہ ششم صفحہ160
    تالیف:مولانا مفتی محمد ارشاد قاسمی مدظلہ العالی​
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,705
    موصول پسندیدگیاں:
    809
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ داود بھائی۔مؤلف بندہ کے استاذ ہیں دو سال سے زائد عرصہ ہو ا خالق حقیقی سے جا ملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔الغزالی پر بھی اس سانحہ کی اطلاع شیئر کی گئی تھی۔
    اشماریہ اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں