1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    سحور وافطار
    </td>
    </tr>

    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد عدیل غزالی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    روحانی ترقی کے خواہش مندوں میں اکثر غلو اور دقت پسندی کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے یعنی وہ دینی کاموں کا موں میں ہر موقع پر ذیادہ تکلیف اور مشقت ہی کا راستہ اختیار کر نا چاہتے ہیں،اور پھر ان کو دیکھ دیکھ کر دوسروں کی نظروں میں بھی دینداری اور خدا رسی کا معیار ان کا یہی طرز عمل قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک ایسی چیز کو جو شرعاً مقصود ومطلوب نہیں ہوتی مقصود شرعی سمجھا جانے لگتا ہے اور اسی کا نام تحریف ہے ، دوسرا ضرر اس کا یہ ہو تا ہے کہ جمہور عوام اپنے ان " اکابر مذہب " اور پیشوانِ دین کو دیکھ دیکھ کر دینداری صرف ان کے اس غالبانہ طرز عمل میں منحصر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے میں جب اس مشکل طریقہ پر چلنے کی ہمت نہیں پاتے تو نا چار دینی سعادتوں سے اپنی محرومی پر قناعت کر کے اپنے لئے خالص دنیا دارانہ زندگی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ۔ گز شتہ ملتوں کی تاریخ اس قسم کے مفاسد سے بھری پڑی ہے ۔
    روزہ میں بالخصوص ،اس قسم کے غلو اور دقت پسندی کا شاید دوسرے تمام دینی اعمال واشغال سے زیادہ خطرہ تھا ،اس لئے اس بارہ میں متعدد ایسے احکام دیئے گئے جن سے اس خطرہ کا سد باب ہو سکے ۔
    (الٖف ) سوم وصال ستے (یعنی اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے کہ درمیان میں رات کو مطلقاً کچھ نہ کھا یا جائے ) امت کو منع فر مایا گیا ۔
    (ب) روزہ کے وقت کو طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب کے وقت تک محدود کرکے صبح صادق سے کچھ پہلے ( سحر میں ) اور غروب آفتاب کے وقت ( افطار میں ) کچھ کھانے پینے کی صرف اجازت نہیں بلکہ تر غیب دی گئی ۔
    (ج) سحری میں دیر سے کھانے اور افطار میں عجلت کر نے پر زور دیا گیا اور اس میں زیادہ ثواب رکھا گیا ہے یہ سب " یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر " اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے ، تم کو مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا ) کی تفسیر ہے ۔
    اس بارے میں آنحضرت ﷺ کے ارشادات یہ ہیں ۔
    (۱) حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: " سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں بر کت ہے "( بخاری ومسلم وغیرہ)
    (۲) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: " سحری کھایا کرو تا کہ دن میں رو زہ رکھنے کی طاقت حاصل ہو اور قیلولہ کیا کرو "( یعنی دوپہر کو کچھ سو لیا کرو ) تاکہ رات کو اُٹھنے میں اس سے مدد ملے ۔( ابن ماجہ ،ابن خزیمہ ، بیہقی )
    (۳) حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فر مایا :سحری کھانا سراسر بر کت ہے ،اس کو نہ چھوڑا جائے چاہے پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا جائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فر ماتے ہیں اور فر شتے ان کے لئے دعا کر تے ہیں ( احمد )
    (۴) حضرت سہیل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: میری امت کے لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں ( بخاری ، مسلم ، تر مذی )
    (۵) حضرت یعلیٰ بن مرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: تین چیزیں اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں (۱) افطار میں دیر نہ کرنا (۲) سحری میں تاخیر کرنا (۳) نماز میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یعنی دست بستہ کھڑا ہو نا ۔
    ان تینوں باتوں میں چونکہ عبدیت اور اپنی محتاجی ونیاز مندی کا خاص طور سے اظہار ہے ، غالبا اس لئے یہ تینوں باتیں اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، نماز میں دست بستہ کھڑا ہونے میں تو عبدیت کی شان ظاہر ہے اور سحری تاخیر سے کھانا اور افطار میں عجلت کرنا بھی مالک کی نعمت اور اس کے رزق کے لئے اپنی طمع اور محتاجی ظاہر کر نے والی ایک ادا ہے اور یہ بھی عبدیت کی خاص شان ہے ؎
    گر طمع خواہد زمن سلطان دیں
    خاک بر فرق قناعت بعد ازیں

    اور اس کے بر عکس سحری میں دیر کا اور افطار میں عجلت کا اہتمام نہ کرنا ایک طرح سے اپنی قوت اور بر داشت کی نمائش اور اللہ کے رزق سے استغناء کی ایک صورت ہے یا کم ازکم اس میں اس کا شائبہ ہے نیزا س میں غلو اور دقت پسندی کا بھی خطرہ ہے اس سے امت کی حفاظت کا بہت اہتمام کیا گیا ہے ۔ واللہ اعلم باسرار دینہ
    (برکات رمضان: حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ )
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں