سرخی جو اُفق پر چھانے لگی

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از بنت حوا, ‏دسمبر 6, 2013۔

  1. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan

    مولانا شمس الرحمان معاویہ اور دیگر شہھداء ناموس صحابہ کے نام
    پڑھیں اور شئیر کریں


    سرخی جو اُفق پر چھانے لگی
    مقتل سے صدا پھر آنے لگی
    پھر ظلم کے شعلے بھڑک اٹھے
    دھرتی کے ذرے سُلگ اُٹھے

    ایسے میں جبر کے نیزے نے
    ممتا کا کلیجہ چاک کیا
    پھر حق کے ٹھیکے داروں نے
    پھر حق کا دریا پاٹ دیا

    یہ ظلم ہوا کیوں اے لوگو
    وہ قتل ہوا کیوں اے لوگو

    سچائی سے چاہت جرم ہے کیا
    حق گوئی کی دعوت جرم ہے کیا
    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تو میرا جھنگوی مجرم ہے
    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تومیرا ایثار مجرم ہے
    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تو میرا فاروقی مجرم ہے

    گر جرم کہو گے تم اس کو
    میرا اعظم مجرم ہے
    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تو میرا حیدری مجرم ہے

    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تو میرا "" شمس الرحمان "" مجرم ہے

    گر جرم کہو گے تم اس کو
    تو مجرم گننا مشکل ہین
    ہیں خنجر محدود بہت
    ہاں سینے گننا مشکل ہیں

    دو چار نہیں دس بارہ نہیں
    یہاں شہدا گننا مشکل ہیں

    جذبوں کے چراغوں سے روشن
    ہمیں اپنے آپ کو رکھنا ہے
    ہے رات کی تاریکی تو کیا
    ہمیں صبح کی چاہت رکھنا ہے

    جس صبح پہ مر مٹنے کے لئے
    سو جھنگوی اور بھی آئیں گے

    جس صبح پہ مر مٹنے کے لئے
    سو اعظم و حیدری اور بھی آئیں گے
    جس صبح پہ مر مٹنے کے لئے
    سو شمس اور بھی آئیں گے

    اس صبح کی خاطر اے لوگو
    ہم جانیں اپنی لٹائیں گے
    کبھی جھکتے نہیں ہیں صحابہ والے
    ہم باطل کو یہ بتائیں گے

    سرخی جو اُفق پر چھانے لگی
    مقتل سے صدا پھر آنے لگی
    پھر ظلم کے شعلے بھڑک اٹھے
    دھرتی کے ذرے سُلگ اُٹھے

اس صفحے کو مشتہر کریں